سائنس اور اسلام میں کوئی تضاد نہیں

……گزشتہ سے پیوستہ
وصی احمد نعمانی
اگرچہ یہ بات بالکل درست ہے کہ سائنس اور مذہب کے درمیان تعلق کسی بھی ایک جگہ یا ایک وقت میں یکساں نہیں رہا ہے، مگر یہ ایک امرواقعہ ہے کہ کسی توحید پرست مذہب میں کوئی ایسی تحریر موجود نہیں ہے، جو سائنس کو رد کرتی ہو، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں چرچ کے حکم کے مطابق سائنسی علوم کا حصول اور اس کی جستجو گناہ قرار پائی تھی۔ سائنسی علوم چرچ کے حکم سے مسترد کردئے گئے اور ان کا حصول جرم قرار پایا۔ زندہ جلا دینے کے ڈر سے بہت سے سائنس داں جلاوطنی کرنے پر مجبور کردئے گئے۔ یہاں تک کہ ان میں سے بعض کو توبہ کرنا پڑی اور اپنے رویہ کو تبدیل کر کے معافی کا خواستگار ہونا پڑا۔ مشہور سائنس داں ’’گلیلیو‘‘ پر اس لیے مقدمہ چلا کہ اس نے اس نظریہ کو مان لیا تھا جو زمین کی گردش کے بارے میں ’’کوپرنکس‘‘ نے پیش کیا تھا۔ بائبل کی ایک غلط تاویل کے نتیجہ میں ’’گلیلیو‘‘ کو سزا دی گئی۔ دیکھیے ’’بائبل، قرآن اور سائنس‘‘ از ڈاکٹر مورس بوکائلے صفحہ 20-21 ۔ حالانکہ تمام انبیاء کسی نہ کسی تکنیک میں ماہر تھے۔ حضرت نوح کی کشتی سازی، حضرت سلیمان کے تعمیراتی کارنامے، حضرت داؤد کی زرہ سازی تاریخ سے ثابت ہے، اسی لیے قرآنی شواہد ثابت کرتے ہیں کہ سائنس کی موجد اسلام کی ’’مواحدانہ‘‘ تہذیب ہے۔ مصر، بابل، یونان اور روما کی مشرکانہ تہذیبیں ہرگز سائنس کی موجد نہیں ہیں۔ یونانی، محسوسات اور تجربہ کی دنیا سے کس قدر بیگانہ تھے، اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ ارسطو دوبیویوں کا شوہر ہونے کے باوجود لکھتا ہے کہ ’’عورت کے منہ میں 38 دانت اور مرد کے منہ میں 32 دانت ہوتے ہیں۔‘‘ جو حقائق کے بالکل بر خلاف ہے۔ دوسری طرف علوم کی تحقیق کے لیے تجربات پر اعتماد کرنا عربوں نے دنیا کو سکھایا ہے۔ سائنس عربوں کا سب سے عظیم الشان عطیہ ہے۔ جس نے یوروپ اور اس کی ہمنوا تہذیب کو یکسر بدل دیا اور بے حد دھنی کردیا۔ عرب کی تہذیب نے یوروپ کے شب و روز کو بدل کر سائنسی اور تجرباتی دنیا سے آگاہ کیاا ور یوروپ کو اس پر ناز رہا ہے جب کہ اسلام مخالفین یہ افواہ اڑاتے رہے ہیں کہ اسلام سائنس اور علوم جدید کا مخالف ہے۔ اس کے ثبوت میں وہ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ بیسویں صدی سائنس کے ایجادات و انکشافات و ترقی کی صدی ہے، اس لیے موجودہ ترقی یافتہ دور میں چودہ سو سال پرانا نظام اسلام قابل عمل نہیں ہے۔ گویا ان کے خیال میں اسلام اور سائنس دو متضاد چیزیں ہیں اور ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ اسی وجہ سے اسلام کے مخالفین اس کے ماننے والوں کو رجعت پسند اور خود کو ترقی پسند بتاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اسلام کا تعلق صرف مسجد اور خانقاہ سے ہے۔ روزمرہ کی زندگی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن یہ ناعاقبت اندیش بھول جاتے ہیں کہ ہر معقول آدمی یہ تسلیم کرتا ہے کہ ’’یقینی علم دو ذریعوں سے حاصل ہوتا ہے ایک وحی اور دوسرا سائنس۔ حضرت آدمؑ جو سطح زمین پر پہلے انسان ہیں، کو ان دونوں ذرائع سے علم دیا گیا۔ ایک طرف ان کو پیغمبر بنایا گیا اور وحی کا یقینی علم دے کر دنیا میں اتارا گیا اور دوسری طرف چونکہ ان کو اس دنیا میں وقت گزارنا تھا اور اللہ کی نیابت جیسے اہم فریضے کو انجام دینا تھا، اس لیے ان کے لیے سائنسی علوم کے سرچشمے بھی کھول دئے گئے، ان دو ذرائع کے علاوہ ’’یقینی‘‘ علم کے کسی تیسرے ذریعہ کو نہ اسلام تسلیم کرتا ہے اور نہ سائنس۔ علم الاسماء کی تعلیم سے مراد یہی سائنس کی تعلیم ہے۔‘‘ اللہ نے آدم کو فرشتوں کے مقابلہ امتحان میں کامیاب ہونے کے لیے تمام موجودات کا علم عطا کردیا تھا اور حضرت آدمؑ نے تمام اشیاء کے نام ان کی تمام خصوصیات کے ساتھ خدا کے سامنے ارشاد فرمائے تھے۔ اسی علم اسماء کو ہم آج کی جدید سائنس کے نام سے جانتے ہیں۔ گزشتہ مضمون میں یہ بات آچکی ہے کہ اللہ نے آدمؑ کو تمام علوم عطا کردیے اور سکھایا اور بقول شیخ الہند مولانا محمود الحسن صاحب آدمؑ نے ان تمام چیزوں کے نام ان کی خصوصیت، صناعی اور ان کے تمام لوازمات کے ساتھ فرشتوں کے سامنے پیش فرما دئے۔ ان تمام اشیاء کے نام اور وضاحت آج جدید سائنس کی بنیاد کہے جاسکتے ہیں۔
اس لیے یہ سوچنا یا دعویٰ کرنا کہ اسلام اور سائنس میں تضاد ہے یا دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے اور یہ کہ اسلام ایک قدیم مذہب ہے، جو موجودہ زمانہ کی ضرورتیں پوری نہیں کرسکتا ہے۔ ایسا کہنا یا سوچنا غلط ہے اور بے بنیاد ہے، کیوں کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مولانا مودودی جدید سائنس کے حوالہ سے لکھتے ہیں ’’قدیم زمانے میں لوگوں کے لیے آسمان زمین کے رتق وفتق اور پانی سے ہر زندہ چیز کے پیدا کیے جانے اور تاروں کے ایک ایک فلک میں تیرنے کا مفہوم کچھ اور تھا۔ موجودہ زمانے میں طبیعیات، حیاتیات اور علم ہیئت کی جدید معلومات نے ہمارے لیے ان کا مفہوم کچھ اور کردیا ہے اور نہیں کہہ سکتے کہ آگے چل کر انسان کو جو معلومات حاصل ہونی ہیں، وہ ان الفاظ کے کن معانی پر کیا روشنی ڈالیںگی۔‘‘ (دیکھیے تفہیم القرآن جلد سوئم، سورہ الانبیائ، حاشیہ 35 )
دوسرے لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سائنس بذات خود قرآنی آیات میں پنہاں سائنسی رموز کو سمجھ کر اور پتہ لگا کر اپنے کو سرخرو محسوس کرتی رہے گی اور خدا کی کرشمہ سازیوں کو بیان کرکے دھنی ہوتی رہے گی۔ قرآن کریم کی آیات میں پنہاں بے شمار رموز سائنسی تحقیق اور ریسرچ سے آشکار ہوتے رہیںگے۔ دانشوروں کا ماننا ہے کہ ’’یوروپ کو قرآن نے سائنسی، معاشیاتی، سیاسی، معاشرتی اور ادبی تصورات دئے، یہی وجہ ہے کہ انگریزی زبان میں تقریباً ایک ہزار عربی الاصل الفاظ رائج ہیں اور کئی ہزار ان کے مشتقات ہیں۔‘‘ کیوں کہ عربی زبان میں دستیاب سائنسی اور تحقیقی علوم سے یوروپ نے خود کو بے پناہ مستفیض کیا تھا۔
ہارورڈ یونیورسٹی’’تمدن کی کہانی‘‘ میں کہا گیا ہے کہ ’’اہل مغرب نے کوشش کی ہے کہ وہ قرآن اور اس کے اصولوں کو مسخ کر کے، توڑ مروڑ کر، غلط بیانی اور غلط تعبیر کر کے اور غیر صحیح شکل میں پیش کریں جب کہ ’’تاریخ انسانیت‘‘ کا کہنا ہے کہ ’’قرآن کے بغیر جدید یوروپی تمدن قطعاً نہ ابھرتا اور بغیر قرآن کے یہ وہ رخ اختیار نہ کرتا جس نے یوروپ کو اس قابل کیا کہ وہ ارتقاء کے تمام پہلوؤں اور ادوار پر سبقت لے گیا۔‘‘
یہ خیال کیا جاتا ہے کہ’’اگر قرآن نہ ہوتا تو جدید یوروپی تہذیب پیدا ہی نہیں ہوئی ہوتی اور یہ قطعی اور یقینی ہے کہ یوروپی تہذیب ایسی نوعیت اختیار نہ کرسکتی جس کی وجہ سے وہ ارتقا کی تمام ماقبل منزلوں سے آگے بڑھ گئی ہے، کیوں کہ اگرچہ یوروپ کی نشو و نما کا کوئی ایک پہلو ایسا نہیں ہے، جس میں ثقافت اسلامی کے قطعی اثر کا سراغ نہ مل سکے، لیکن اس کا نہایت واضح اور مہتم بالشان ثبوت یہ ہے کہ یوروپ میں وہ قوت پیدا ہوگئی جو دنیائے حاضر کی اعلیٰ ترین امتیازی قوت اور اس کی کامیابی کا سب سے بڑا سرچشمہ ہے یعنی طبعی سائنس اور سائنسی روح ہے۔‘‘ اور یہ سب کچھ یوروپ کو دستیاب ہوا قرآن کے شیدائیوں کے تحقیقی کاموں سے۔ یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ دنیائے اسلام کے فرماں روا، بغداد، شیراز، قرطبہ، دمشق وغیرہ کے حکمراں ذہنی ثقافت کے لازوال خزانوں اور ان کی مسرتوں کو اپنے درباروں کی بہترین شوکت و عظمت خیال کرتے تھے۔ اس امر کی کوئی مثال نہ پہلے موجود تھی، نہ اب تک ہے کہ کسی وسیع سلطنت کے طول و عرض میں حکمراں طبقے اتنے بڑے پیمانے پر حصول علم کی مجنونانہ خواہش سے سرشار ہوگئے ہوں۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حصول علم ان کے لیے زندگی کا خاص مقصد بن گیا۔ خلیفہ تھے، کتب خانے تھے، رسد گاہیں تھیں، وہ اپنے امور سلطنت اور فرصت کے مشاغل سے غفلت برت لیتے تھے، لیکن اہل علم کے خطبات کو سننے اور ان سے مسائل سائنس و ریاضی کے متعلق مذاکرات کرنے میں ہرگز کوتاہی نہیں کرتے۔ مسودات، مخطوطات و نباتاتی نمونوں سے لدے ہوئے کارواں بخارا سے دجلہ تک اور مصر سے اندلس تک رواں دواں رہتے تھے۔ صرف کتابوں اور معلومات کے حصول کی خاطر دنیا کے تمام حصوں میں سفیر بھیجے جاتے، ہر مسجد کے ساتھ ایک مدرسہ ملحق ہوتا تھا۔ حکمراں اور امراء کتب خانوں کے قیام، مدارس کے لیے اوقاف کے انتظامات اور عرب طلباء کے لیے وظائف کے اہتمام میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانا چاہتے تھے۔ اہل علم کو بلاامتیاز رنگ و نسل و مذہب دوسرے سب لوگوں کو فوقیت دی جاتی تھی۔ ان پر دولت و ثروت اور اعزازات کی بارش کردی جاتی تھی، وہ ولایتوں کے حاکم مقرر کردئے جاتے۔ جب خلفاء کسی سفر یا مہم پر روانہ ہوتے تو اہل علم کا ایک گروہ اور کتابوں سے لدے ہوئے اونٹوں کی قطار ہمراہ ہوتی۔ یہ دبدبہ اور جستجو کا عالم کہ حصول علم کے لیے سلطنت کے تمام ذرائع وقف کردیے جاتے تھے۔ تحقیق و ریسرچ پر بے پناہ دولت خرچ کی جاتی تھی۔ یوروپی کتب خانوں میں سائنس، فنون اور تمام جدید خیالات، تحقیقات، دریافتوں اور دائرۃ المعارف سے متعلق عربی کے ابتدائی مخطوطات لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں۔ یہ سب کے سب متفقہ طور پر یہ اعلان کرتے ہیں کہ ’’8ویں صدی(عیسوی) سے 500 سال بعد تک عربی، یوروپ کی زبان تھی اور قرآن وہاں کا ضابطہ حیات رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ عربی، نوع بشر کی سائنسی زبان رہی ہے۔ تمام کتابیں عربی میں لکھی جاتی تھیں۔ یوروپی حضرات جو تکمیل علم کرنا چاہتے تھے انہیں عربی سیکھنی پڑتی تھی۔ (دیکھیے: برٹش ریسرچ صفحہ 4 ، باب 1 ) ’’اس طرح قرآن اپنی روشنی غیر محسوس طریقہ سے اور خاموشی کے ساتھ تمام یوروپ میں پھیلا رہا تھا۔ قرآن کی واضح مثال اور عملی نمونہ یوروپ کی بے چین طبیعتوں میں جوش و ولولہ پیدا کر رہا تھا۔‘‘ یہ قرآن کا عظیم معجزہ تھا جسے پوری دنیا نے محسوس کیا۔ 12 ویں صدی کے فضلاء یوروپ کی سوانح عمریوں سے پتہ چلتا ہے کہ تقریباً ان سب نے قرآنی ضابطۂ حیات کو اپنا لیا تھا۔ (ملاحظہ فرمائیں: امریکن ریسرچ، صفحہ 124 )
اسی طرح جرمن ریسرچ ’’قرآن کی تفاسیر اور انشائ‘‘، ’’جدید تحقیقات‘‘ از پروفیسر ہارٹ وگ ہرشفیلڈ کا بیان ہے کہ ’’قرآن تمام علوم و فنون کا سرچشمہ تھا۔ کبھی کوئی قوم اس سرعت سے تہذیب و تمدن کی جانب نہیں بڑھی، جس سرعت کے ساتھ قرآن کے ذریعہ عربوں نے ترقی کی۔ جہاں تک قائل کرنے کی قوت، فصاحت و بلاغت اور انشاء کا تعلق ہے،ا س میں کوئی چیز بھی قرآن تک نہیں پہنچتی۔ قرآن فطرت اور اس میں ہونے والے عمومی واقعات پر غور و فکر کرنے اور اس کا گہرا مطالعہ کرنے پر بہت زور دیتا ہے۔‘‘ کائنات کی نشانیوں میں خدا کو پالینے کی ترغیب دیتا ہے۔
امریکن اور برٹش ریسرچز کے مطابق’’حاملین قرآن نے کولمبس سے پانچ سو سال پہلے امریکہ کو دریافت کرلیا تھا۔ انہوں نے (حاملین قرآن نے) سب سے پہلے ہوائی جہاز بنایا ان کا نام ابن فرناس تھا(888 ء میں) اس طرح ابن ہیشم نے (903 ئ) میں دور بین ایجاد کی۔ ابن ماجہ نے بحری قطب نما ایجاد کیا۔ جس سے کھلے سمندروں میں سفر کرنا ممکن ہوسکا اور فن جراحی کو ترقی دی اور آلات جراحی بنائے۔ ابوالقاسم نے 936 ء میں عربی اعداد یعنی نوہندسوں اور صفر کو رواج دیا۔ جس سے ریاضیات میں زبردست انقلاب رونما ہوگیا۔ کاغذ سے روئی بنانے کا فن دریافت کیا اور طباعت کے کام کی ابتدا کی۔ 750 عیسوی میں بھاری ترشوں، درپیمائی، ہیئتی آلات، رسد گاہوں، گردش کرنے والے ارضی کروں، ماسکونی ترازو، کیمیاوی آلات، کروی اصطرلابوں، مشاہداتی ہیئت کو جنم دیا، اسی طرح ’’بحرالکاہل، بحر اوقیانوس، بحر ہند سے گزرنے والے تمام سمندری راستوں کو دریافت کیا اور ا س کے نقشے بنائے۔ جوہری نظریے کو رواج دیا۔ نظریۂ ارتقا دریافت کیا۔ تجارت و کار و بار کے اصول، سیارات و ثوابت کی نورپیمائی۔ اعلیٰ درجے کے ٹھیک ٹھیک ناپنے کے آلات، گھنٹے، گھڑیاں، گشتی شفاخانے رائج کیے۔ نظام دیا، رات کے نمونے تیار کیے۔ ابن عباس نے 880 عیسوی میں پتھر سے شیشہ بنانے اور حرارت سے مرغیاں پیدا کرنے کی مشین ایجاد کی۔‘‘ واشنگٹن کے ’’کارنیجی ریسرچز‘‘ نے تحریر کیا ہے کہ ’’ہم قرآن سے سائنس کا تعلق قائم کیے بغیر اس کی (سائنس) صحیح فہم تک کیسے رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔‘‘ (دیکھیے کارنیجی ریسرچز واشنگٹن، ص 18)
اسی طرح برٹش ریسرچ باب دوم صفحات 40-138 میں ذکر کیا گیا ہے کہ یونان کے لوگ نہیں بلکہ حاملین قرآن جدید سائنس کے موجد تھے۔ دنیا اس غلط فہمی میں مبتلا تھی، لیکن حالیہ تحقیقات سے یہ ناقابل تردید حقیقت سامنے آئی ہے کہ قرآن نے معروضی قسم کی تحقیقات اور تجرباتی معلومات کو اپنے ماننے والوں کے لیے لازمی قرار دیا ہے۔ یونانیوں نے بعض نظریات قائم کیے تھے، لیکن تجرباتی معلومات کو عمومیت کا درجہ دینا یونانی مزاج کے لیے قطعاً ایک بیگانہ شے تھی۔‘‘
شکاگو یونیورسٹی ہسٹری کا بیان ہے’’انسانی تجربہ اور زندگی کا بمشکل ہی ایسا کوئی گوشہ ہوگا جہاں قرآن نے مغربی روایت کو مالا مال نہ کیا ہو۔ سائنس، مشروبات، جڑی بوٹیاں، ادویہ، اسلحہ و نقابت، صنعت و حرفت، تجارت، نقاشات و ایجادات، بحری ٹیکنیک اور جملہ اقسام کا فنی ذوق اور خوش اطواری وہیں سے حاصل ہوئیں۔‘‘
گویا کہ قرآن اور اسلامی تعلیمات سائنس کا سرچشمہ بھی اور اس کا سرپرست اعلیٰ بھی ہے۔
حوالہ جات
1 – قرآن کریم
2 – سائنس اور تہذیب و تمدن، ڈاکٹر حافظ میاں حقانی قادری
3 – سائنس خدا کے حضور میں، طارق اقبال سوہدروی
4 – قرآن اور جدید سائنس، ڈاکٹر حشمت جاہ وغیرہ
(جاری)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *