لگتا ہے کانگریس پر رام دیو کے الزامات صحیح ہیں

ڈاکٹر منیش کمار
سیاست اور روحانیت میں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ روحانیت انسان کو خاموش کردیتی ہے، جبکہ سیاست میں خاموشی سب سے بڑا گناہ ثابت ہوتا ہے۔بابارام دیو کے حملے کے بعد کانگریس پارٹی روحانیت کی طرف چلی گئی ہے۔اس نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔یہ خاموشی کسی منصوبہ یا حکمت عملی کا حصہ نہیں ہے بلکہ خوف کا نتیجہ ہے۔ بابا رام دیو اور ان کے حامیوں نے بلیک منی کی آڑ میں گاندھی کنبہ پر حملے کیے۔ ان لوگوں نے الزام لگا یا کہ راہل گاندھی کو روس کی خفیہ ایجنسی کے جی بی سے پیسے ملتے ہیں۔راجیو گاندھی نے سوئس بینک میں بلیک منی جمع کی۔کانگریس حکومت نے قطروچی کے بیٹے کو انڈمان نکوبار میں تیل کی کھدائی کا ٹھیکہ دیا۔بلیک منی جمع کرانے والوں میںمرکزی وزیر ولاس راؤ دیشمکھ اور سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمد پٹیل کا نام لیا گیا۔ان الزامات کے جواب میںپارٹی نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔لگتا ہے بابارام دیو سے کانگریس پارٹی ڈر گئی ہے۔
در اصل یہ معاملہ اروناچل پردیش میں شروع ہوا۔بابا کے کیمپ میں کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ ننونگ ایرنگ موجود تھے۔بابا رام دیو اپنے کیمپوں میں یوگ کے ساتھ ساتھ سیاست کی باتیں کرتے ہیں۔ بابا نے گاندھی کنبہ پر کچھ تبصرہ کیا تو کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے اس کی مخالفت کی۔بابا کا الزام ہے کہ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے انہیں بلیڈی انڈین کہا۔وہاں میڈیا تھا، کیمرے تھے، اس پورے معاملہ کا ویڈیو انٹر نیٹ پر بھی موجود ہے۔واقعہ کے بعد بابا رام دیو کا بیان بھی ہے لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ ممبر پارلیمنٹ نے جو کچھ کہا اس کا ویڈیو کہیں نظر نہیں آیا۔ننونگ ایرنگ صفائی دیتے رہے کہ انہوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کہالیکن تیر کمان سے نکل چکا تھا۔بابا رام دیو اور کانگریس کی جنگ شروع ہو چکی تھی۔اس کے فوراً بعد کانگریس کے سرگرم جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ نے مورچہ سنبھالا۔ بابا رام دیو کی کانگریس کے خلاف بیان بازی اور گاندھی کنبہ پر الزام لگانے کی مذمت کی اور بابا کی دولت کا حساب مانگ لیا۔دگوجے سنگھ نے کہا کہ بابا رام دیوکے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے اس کا بھی حساب انہیں دینا چاہئے؟معاملے نے طول پکڑا۔بابا رام دیو ایک فائل کے ساتھ ہر ٹی وی چینل پر نظر آنے لگے۔وہ فائل پتانجلی ٹرسٹ کے انکم ٹیکس ریٹرن کی تھی۔اچانک دگوجے سنگھ بھی خاموش ہو گئے۔ کا نگریس کا حملہ بند ہو گیا، لیکن رام د یو نے نئے سرے سے حملہ شروع کردیا۔دہلی کے رام لیلا میدان میں بابا نے ریلی کی۔بدعنوانی کے خلاف لڑنے والے چہروں کو اسٹیج پر بلایا۔کانگریس پر ایک سے بڑھ کر ایک الزام لگانے شروع کئے۔ الزامات بھی ایسے کہ جنہیں سن کرملک کے تباہ ہونے کا ڈر پیدا ہو جاتا ہے۔ان الزامات کے جواب میں کانگریس نے کچھ بھی نہیں کہا۔کسی لیڈر نے کوئی جواب یا رام دیو پر کوئی حملہ نہیں کیا ؟حیرانی کی بات یہ ہے کہ دگوجے سنگھ نے بھی خاموشی اختیار کر لی۔کانگریس کے کئی لیڈروں سے بات چیت کے دور ان یہ سمجھ میں آیا کہ کانگریس کے ہر لیڈر کو بابار ام دیو اور ان کے ساتھیوں کے ذریعہ لگائے گئے الزامات کے بارے میں جانکاری ہے۔پھر ایسا کیاہوا،ایسا کیا حکم دیا گیا،ایسا کیا فیصلہ لیا گیا کہ کانگریسی لیڈروں کی پوری منڈلی میں ایک بھی ایسا نہیں ہے جس نے با با کے خلاف منہ کھولا ہو۔بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔کانگریس کے سینئر لیڈر ستیہ ورت چترویدی نے یہ کہہ کر چونکا دیا کہ پارٹی کے جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ کا بیان ان کا نجی بیان ہے، کانگریس پارٹی کو اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔
اس کا مطلب تو یہ ہے کہ جو ستیہ ورت چترویدی کہہ رہے ہیں وہی پارٹی کا فیصلہ ہے، یہی سونیا گاندھی کا فیصلہ ہے۔بابا رام دیو کے الزامات پر کانگریس میں بحث ہوئی۔ایک حکمت عملی بنی۔یہ طے کیا گیا کہ بابا رام دیو کو نظر اندازکیا جائے۔رام لیلا میدان کی ریلی میں کانگریس پر جو الزام لگا اس سے کانگریس میں افراتفری مچ گئی۔ جس طرح کے الزامات لگائے گئے وہ بالکل آر ایس ایس اسٹائل کے الزامات تھے۔ بلیک منی سے یہ معاملہ سونیا گاندھی تک چلا گیا۔
کانگریس کے کچھ لیڈران نے سونیا گاندھی کو یہ سمجھا دیا کہ دگوجے سنگھ کی وجہ سے ہی بابا رام دیو الزامات لگا رہے ہیں۔ دگوجے سنگھ اگر منہ نہیں کھولتے تو بابا رام دیو نہیں بولتے۔کچھ کانگریسی لیڈران تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ دگوجے سنگھ نے جان بوجھ کر بیان دیا۔مطلب یہ کہ اس تنازعہ کے لیے دگوجے سنگھ ہی ذمہ دار ہیں۔ان لیڈران نے سونیا گاندھی کو ڈرایا کہ رام دیو کو ہم نے ہی ایشو دے دیا۔ ہم پہلے سے ہی گھوٹالوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ منموہن سنگھ کی حکومت ٹھیک سے کام نہیں کر پا رہی ہے۔ مہنگائی ہے، ایسے میں بابا رام دیو سے ٹکرانا ٹھیک نہیں ہے۔ پھر سونیا گاندھی کو یہ سمجھایا گیا کہ کانگریس کے کچھ لیڈر بابا رام دیو کو خواہ مخواہ بڑا بنا رہے ہیں۔ بے وجہ ہم بابا رام دیو کو خطرہ سمجھ رہے ہیں۔ یہ بھی سمجھایا گیا کہ اگر کانگریس پارٹی کوئی رد عمل دیتی ہے تو بابا رام دیو ملک میں گھوم گھوم کر کانگریس کے خلاف بیان بازی کریں گے۔ بابا رام دیو کے ساتھ عوامی حمایت ہے۔ اس لئے پارٹی کو نقصان ہو سکتا ہے۔ سوابھیمان تحریک کی بدعنوانی کے خلاف لڑائی میں صرف کانگریس نشانہ پر آجائے گی،اس لئے بابا رام دیو کے الزامات کا جواب نہ دے کر ہی اس معاملہ کو ٹھنڈا کیا جا سکتاہے۔ پارٹی کی اسی میں بھلائی ہے۔ پانچ ریاستوں میں انتخابات بھی ہیں۔ کانگریس پارٹی بابا رام دیو سے ڈر گئی اوراس نے بابا رام دیو کے الزامات پر خاموشی بھی اختیار کر لی۔دگوجے سنگھ کے بیان کو ان کا ذاتی بیان قرار دیا گیا۔
اس واقعہ سے کانگریس پارٹی کی ذہنیت اور سیاست دونوں ہی اجاگر ہو گئیں۔کانگریس کے سینئر لیڈران میں دایاں بازو میں یقین رکھنے والوں کی اچھی خاصی تعداد ہے،یہ باتون بھی ہیں،ان کا دبدبہ بھی ہے۔ کانگریس کے اسی دایاں بازو پرست گروپ نے ایک طرف سونیا کو ڈرایا، دوسری طرف راہل گاندھی کو بھی دبایا گیا کہ وہ دگوجے سنگھ سے کنارا کریں۔ دراصل یہ لوگ رام دیو کو موقع دینا چاہتے ہیں کہ وہ ملک میں گھوم گھوم کر کارکنان کی بڑی فوج کھڑی کر لیں۔ کانگریس کے جواب دینے یا نہ دینے سے رام دیو خاموش ہونے والے تو ہیں نہیں۔جب سے پارلیمانی انتخاب شروع ہوئے ہیں تب سے بلیک منی کے معاملہ کولے کر رام دیو نے ہنگامہ شروع کیا۔ اس ہنگامے سے پہلے بھی وہ کانگریس کے خلاف بول رہے تھے۔ اب جب لڑائی آمنے سامنے کی ہو گئی ہے تو ان کاحملہ مزید تیز ہو گیا ہے۔ کانگریس میں ایک دوسرا طبقہ بھی ہے جو بابا رام دیو سے دودو ہاتھ کرنا چاہتا ہے۔بابا کے خلاف الزامات پر جانچ کروانا چاہتا ہے۔ ان کے ہر الزام کا جواب دینا چاہتا ہے،لیکن کانگریس کی یہ کمیونسٹ لابی خاموش ہے،شاید ان کا وجود نہیں ہے، اگر ہیں بھی تو معلوم نہیں کس ماند کے اندر بیٹھے ہیں۔ تنظیم میں ان کا دبدبہ ختم ہو گیا ہے۔ انہیں ہم اب کہہ سکتے ہیں کہ وہ کانگریس کے ختم لوگوں میں سے ہیں۔کچھ ممبران پارلیمنٹ نے پارٹی میں اپنا نمبر بڑھانے کے لئے رام دیو کے نارکو ٹیسٹ کی بات ضرور کہی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ پارٹی کی طرف سے نہیں بلکہ ایک ممبر پارلیمنٹ ہونے کے ناطہ یہ مطالبہ کر رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی اپنے ہی ممبران پارلیمنٹ کے مطالبہ پر بھی خاموش ہے۔
کانگریس کے لیڈران نے ایک تو سونیا کو ڈرایا اوردوسرے دگوجے سنگھ کوراہل گاندھی سے دور کرنے کی چال چلی۔ راہل گاندھی نے سونیا سے بات کرنے کی کوشش کی۔سمجھنے والی بات یہ ہے کہ راہل گاندھی بابارام دیو سے خاموشی سے ملے۔ وہ خاموشی سے ملنے ہریدوار بھی جاتے ہیں،خاموشی سے اس لئے کیونکہ تب میڈیا نہیں جاتا، کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا، تب بابا پریس کو نہیں بلاتے۔کئی کانگریسی لیڈر دبی زبان میں یہ کہتے ہیں کہ بابا رام دیو کی شروعات میں کانگریس نے ہی مدد کی، سرکاری خزانہ مہیا کرایا۔ اس وقت کانگریس کے لیڈران کو یہ لگا کہ بابا رام دیو اگر پارٹی بنا لیتے ہیں تو بی جے پی کا ہی ووٹ کاٹیں گے۔بابا رام دیو کی سیاست سے کانگریس پارٹی کو ہی فائدہ ہوگا۔ بابا رام دیو کے خلاف جب دگوجے سنگھ نے بیان دیا تو دایاں بازوکی لابی پریشان ہو گئی۔بابا نے دگوجے سنگھ جیسے لیڈران کو راہل گاندھی سے الگ کرنے کی بھی کوشش کی، تاکہ راہل گاندھی کے ارد گرد بھی دایاں بازو کے حامل لوگوں کا مجمع لگ جائے۔آج کی تاریخ میں راہل گاندھی سیاسی معاملہ میں دگوجے سنگھ کی بات سنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دگوجے سنگھ کے ایک بیان نے بابا رام دیو کو اتنا پریشان کر دیا کہ انھوں نے کھلے عام سونیااور راہل گاندھی پر حملہ کر دیا۔
دگوجے سنگھ کانگریس کے سب سے پروایکٹیو جنرل سکریٹری ہیں،راہل گاندھی کے نزدیکی ہیں۔ پارٹی میں ان کی اہمیت اس لئے ہے کیونکہ وہ واحد ایسے لیڈر ہیں جو کانگریس کا مسلم چہرہ بن کر ابھرے ہیں۔ آج کی تاریخ میں دگوجے سنگھ کے علاوہ کوئی دوسرا لیڈر نہیں ہے جس پر مسلمان بھروسہ کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی تنظیموں سے ان کا رابطہ ہے۔گانگریس پارٹی دگوجے سنگھ کے ذریعہ ہی مسلم تنظیموں سے بات چیت کرتی ہے۔ ایک اور خاصیت یہ ہے کہ کانگریس میںدگوجے سنگھ کے علاوہ آر ایس ایس سے لڑنے والا کوئی بے خوف لیڈر نہیں ہے۔آر ایس ایس کے خلاف بیان بازی ہو، دہلی کے بٹلہ ہائوس میںاعظم گڑھ کے طلبا کا انکائونٹر ہو، بھگوا دہشت گردی کی مخالفت ہو، ہر جگہ دگوجے سنگھ مسلمانوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔بابا رام دیو اور کانگریس کی لڑائی کی جڑ میں دگوجے سنگھ ہیں۔اگر دگوجے سنگھ کو پارٹی نظر انداز کرتی تو مسلمانوں کے ایجنڈے سے دور ہوتی ہوئی نظر آتی۔سمجھنے والی بات یہ ہے کہ دگوجے سنگھ مسلمانوں کے مسائل کو اٹھاتے ضرور ہیں، لیکن ان مسائل کو جنہیں ہم جذباتی کہہ سکتے ہیں۔ بہتر تو یہ ہوتا کہ دگوجے سنگھ سچر کمیٹی کی رپورٹ اور رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کے لیے جدو جہد کرتے تو مسلمانوں کی پریشانی کم ہوتی۔اصلیت یہ ہے کہ مسلمانوںکوگمراہ کرنے میں کانگریس نے کبھی کوئی کمی نہیں کی ہے اور دگوجے سنگھ بھی یہی کر رہے ہیں۔
کانگریس کی تاریخ رہی ہے کہ پارٹی میں کبھی بھی اخلاقی طہارت کوئی ایشو ہی نہیں رہا ہے۔یہ بہت بڑی خوبی بھی ہے اور کمزوری بھی کہ کانگریس میں الگ الگ نظریات کے لوگ ایک ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔آپس میں وقار کی جنگ لڑتے رہے ہیں۔ کانگریس کی قیادت ایسے لوگوں نے بھی کی ہے جوہندو سبھا کے لیڈر ہوا کرتے تھے۔ مہاتما گاندھی اعتدال پسند تھے تو جواہر لعل نہرو اور سبھاش چندر بوس کا جھکائو بایاں بازو کی جانب تھا۔سبھاش چندر بوس کی کانگریس کے دایاں بازو میں یقین رکھنے والوں نے ہی مخالفت کی تھی۔ اندرا جی ہمیشہ آر ایس ایس سے لڑتی تھیں۔راجیو گاندھی کے وقت میں آر ایس ایس سے یہ لڑائی کمزور پڑ گئی۔جب راجیو گاندھی کو412سیٹیں ملی تھیں تب آر ایس ایس نے کانگریس کی مدد کی تھی۔کانگریس پارٹی کا رول بابری مسجد-رام جنم بھومی تنازعہ میں داغدار رہا ہے۔ گجرات میں کانگریس سافٹ ہندوتو پارٹی بھی انہی لیڈروں کی وجہ سے بن گئی ہے۔کانگریس کا یہی طبقہ سچر کمیٹی اور رنگناتھ کمیشن رپورٹ پرکارروائی کرنے میں آڑے آتا ہے۔ گزشتہ15سالوں میں جب سے منموہن سنگھ وزیر خزانہ ہوئے ہیںتب سے پارٹی میں دایاں بازو کے حامل افراد کا عمل دخل بڑھ گیا ہے۔کام کرنے کا طریقہ بدل گیا ہے،ان ایکشن کو ایکشن سمجھ لیا ہے،فیصلہ نہیں لینا بھی فیصلہ بن گیا ہے،خاموشی جواب بن گئی ہے۔آج نہرو اور اندراگاندھی کی پارٹی کا عالم یہ ہے کہ رام دیو اور ان کے معاونین نے کانگریس پر الزامات کی بوچھار کر دی ہے اور پارٹی نے جواب نہ دینا ہی سب سے صحیح جواب مان لیا ہے۔پانچ ریاستوں میں انتخابات ہو رہے ہیں۔ ان انتخابات میں بدعنوانی سب سے اہم ایشو ہے۔بلیک منی کو لیکر عوام میں بے چینی اور غصہ ہے۔یہ بھی ایک وجہ ہے کہ کانگریس بابا رام دیو سے ٹکر لینے کی ہمت نہیں کر پائی۔
سیاست بھی عجب کھیل ہے۔ یہ کبھی کبھی سب سے طاقتور کو سب سے کمزور اور سب سے کمزور کو سب سے طاقتور بنا دیتی ہے۔ کانگریس کے پاس حکومت ہے، حکومت کے پاس تفتیشی ایجنسیاں ہیں، تفتیشی ایجنسیوں کے پاس طاقت ہے پھر بھی پورا کنبہ خاموش ہے۔رام دیو اور ان کے ساتھیوں کے ذریعہ عائد کردہ الزامات اگر غلط ہیں تو کانگریس کو یہ خاموشی توڑنی چاہئے۔اگر آپ خاموش رہے تو لوگ یہی سمجھیں گے کہ بابا اور ان کے ساتھیوں نے جو الزامات لگائے وہ سچ ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ بابا جی بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ ان کو جو خیرات ملتی ہے وہ کہیں بلیک منی تو نہیں ہے۔بابا جی سے میری یہی گزارش ہے کہ سب کو ایک لاٹھی سے نہ لپیٹا کریں اور سوچ سمجھ کر بیان دیا کریں۔کیا سرمایہ کار سب کانگریس میں ہیں اور ان کے ساتھ کوئی سرمایہ کار نہیں ہے؟ کوئی غریب آدمی انہیں خیرات دیتا ہے کیا؟
دگوجے سنگھ

یہ ذاتی جھگڑا ہے دونوں کا، پارٹی کا اس سے کوئی لینا دینا نہیںہے۔دگوجے سنگھ نے متعدد بار ایسے بیانات دئے ہیں، جن کو پارٹی نے کہا ہے کہ یہ ان کے ذاتی بیانات ہیں، ذاتی سوچ ہے۔ یہ بابا اور دگوجے سنگھ کے درمیان کی بات ہے، کانگریس اور بابا کے درمیان کی نہیں ہے۔
ستیہ ورت چترویدی

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *