!پولس کے کردار پر سوال

سنتوش بھارتیہ
رادھیکا تنور ہمارے درمیان نہیں ہے لیکن اس کو لے کر اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلوں میں کافی بحث ہو رہی ہے، لکھا جا رہا ہے۔ رادھیکا کا قتل ہو گیا۔ رادھیکا کا قتل جس چیز کے اوپر اشارہ کرتا ہے، وہ یہ ہے کہ ہمارا سسٹم اور سسٹم میں بھی خصوصاً وہ حصہ جو پولس سے جڑا ہوا ہے اب بیکار ہو چکا ہے۔میں ایک چیزبہت ادب سے کہنا چاہتا ہوں کہ پورے پولس محکمے کو چلانے والے برسراقتدار اور اپوزیشن لیڈران کو یہ سوچنا پڑے گا کہ ڈھیل کہاں دی گئی اورکسجگہ تبدیلی کی ضرورت ہے، پولس کی ٹریننگ میں، پولس کی نفسیات یا پولس کے رویہ میں۔ جس کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔ آج سے تیس یا چالیس سال قبل یہ الزام عائد ہوا کہ پولس والے خود ڈکیتی ڈلواتے ہیں اور تیس سال قبل جسٹس آنند نرائن ملا نے لکھا تھا کہ اس ملک کا سب سے منظم جرائم پیشوں کا گروہ اگر کوئی ہے تو وہ پولس ہے ۔ ہو سکتا ہے جسٹس ملا نے کچھ زیادہ کہہ دیا ہو لیکن وہ دور زیادہ نہیں ہے، زبان بھلے ہی کسی کی سمجھ میں نہ آئی ہو ، پولس نے ڈھیل دینی شروع کی، جرائم کرانے شروع کئے، رشوت لینا شروع کی۔ اب رفتہ رفتہ صورتحال یہاں پہنچ گئی ہے کہ لوگوں کو پولس کے اوپر بھروسہ تو رہا ہی نہیں، وہ پولس کو کہیں بھی خریدنے کی چیز مان رہے ہیں اور پولس کے اوپر کہیں پر بھی وہ وار کر سکتے ہیں۔ اب کہیں پر بھی جہاں چارپانچ پولس والے نہیں ہیں ،پہلے چار پانچ پولس والے نہیں جاتے تو وہاں پر پولس کا کوئی اثر ہی نہیں ہوتا۔ پہلے ایک حولدار جاتا تھا اور پورا گائوں اکٹھا ہو جاتا تھا ۔ ایک حولدار کو آتے دیکھ کر چور اور ڈکیت بھاگ جایا کرتے تھے۔ یہ بہت دنوں کی بات نہیں ہے یہ چالیس پچاس سال پہلے کی بات ہے، لیکن چونکہ آزادی کے بعد ہمارے لیڈران نے جو اقتدار پر قابض رہے  انھوں نے پولس میں کوئی اصلاح ہی نہیں کی۔ پولس ٹریننگ میں کوئی اصلاح نہیں کی،ان کی نفسیاتی ٹریننگ نہیں ہوئی۔ ہر جگہ پیسے کی لوٹ مچ گئی۔ پولس نے اس میں بڑا کردار ادا کیا۔نتیجتاً آج پولس کا اثر ہی ختم ہو گیا ہے ۔ پولس کی کسی رپورٹ کو چاہیں وہ کتنی صحیح کیوں نہ ہو لوگ شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔پولس کے کسی بھی ایکٹ کو لوگ شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لیکن پولس کے لوگوں سے اگر بات کریں تو ان کی بھی ایک دلیل ہے ۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ آپ ہمیں اچھے ہتھیار نہیں دیتے،آپ ہمیں اچھی ٹریننگ نہیں دیتے، آپ ہمیں اچھی رہائش کی سہولت فراہم نہیں کرتے، آپ ہمیں اچھی تنخواہ نہیں دیتے اور آپ ہم سے امید کرتے ہیں کہ ہم 24گھنٹے ڈیوٹی کریں ۔24گھنٹے کی ڈیوٹی کے بعداگر پولس اہلکاروں کو کہیں ایمرجنسی کال کے لئے جانا پڑے تو کہیں پر بھی کوئی انتظام نہیںہے۔ کئی مقامات پر پولس والے سنیماہال کے باتھ روم کا استعمال کرتے ہیں۔ان کے کھانے کا کوئی انتظام نہیں ہے ، اگر وہ کہیں ڈیوٹی پرہیں تو ان کے پاس کھانا نہیں پہنچ پاتا ۔پھر وہ کیا کرتے ہیں ،کسی خوانچے والے کو پیٹتے ہیں،کسی مٹھائی والے سے پیسے لیتے ہیں اور لوٹ مار کرتے ہیں۔ میرا اپنا تجربہ ہے کہ علی گڑھ میں فساد چل رہے تھے۔یہ وی پی سنگھ کے زمانہ کی بات ہے۔میں ان فسادات کی رپورٹنگ کر رہا تھا۔ ایک جگہ پی اے سی کا ٹرک جا رہا تھا۔ایک بچے نے چڑھانے کے لئے انگوٹھا دکھایااور پھر اچانک پورا پی اے سی اہلکاروں سے بھراٹرک اتر کر اس بچے کو پیٹنے لگا۔میں نے دوڑ کر اس بچے کو بچایا اور ان لوگوں سے پوچھا کہ تم لوگ اس طریقہ سے کیوں اس بچے کو پیٹ رہے ہو، تھوڑا مسکرا کر بھی کہہ سکتے تھے، تو ایک سپاہی جس کو شاید یہ لگا کہ یہ کوئی افسر ہوگا جو اتنی ہمت کے ساتھ پی اے سی کے بیچ میں آ گیا، نے کہا کہ کل سے کھانا تو ملا نہیں اور مسکرانے کی بات کرتے ہیں۔پولس والوں کے حالات کے اوپر حکمراں توجہ نہیں دیتے ، پولس کی ٹریننگ پر حکمراں توجہ نہیں دیتے، پولس کی نفسیات پر حکمراں توجہ نہیں دیتے۔حکمرانوں کا نام میں اس لئے لے رہا ہوں کیونکہ فیصلہ وہ کرتے ہیں جو اقتدار میں ہیں۔ نتیجتاً جب کوئی بھی واردات ہو جاتی ہے، پولس اخبار یا چینل پر آکر ایک بیان دے دیتی ہے،لیکن وہ جرائم کیسے روکے اس کا کوئی راستہ نہیں نکال پاتی ہے؟ کیونکہ پولس کی اپنی ساکھ ختم ہو گئی ہے۔اب پولس کے اوپر حملے ہونے لگے ہیں، رائفلیں چھینی جانے لگی ہیں اور خبر تو یہ ہے کہ بہت ساری جگہوں پر پولس والے اس لئے جرائم پیشوں کو پیسے دیتے ہیں کہ ان کے اوپر کوئی حملہ نہ کرے، اتنی خطرناک صورتحال ہے۔مجھے نہیں معلوم کہ بنگلہ دیش اور پاکستان کی پولس کیسی ہے؟حالانکہ وہ بھی ہمارے ہی ملک کا حصہ رہے ہیں۔وہاں کی پولس کی کہانی بھی یہاں سے کچھ الگ نہیں ہوگی،لیکن ہمارے ملک کی پولس جو دنیا کے تیسرے سب سے بڑے ملک کی پولس مانی جاتی ہے اب کیسوں کو حل نہیں کر پاتی، مجرم کو تلاش نہیں کر پاتی۔جو بڑی جانچ ایجنسیاں ہیں وہ بھی کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ پاتیں،لیکن چار سال ،پانچ سال، چھہ سال تک بے گناہ جیل میں بند رہتا ہے،پھرکبھی فیصلہ اس کے حق میں ہوتا ہے، لیکن وہ پانچ سال اس کو کوئی نہیں لوٹاپاتا۔ اگر ایک چیز نافذ کر دی جائے کہ جو بھی پولس والا کسی کو پکڑتا ہے اگر وہ آدمی بے قصور ثابت ہو تو اس پولس والے کی جتنی بھی پنشن یا ریٹائرمنٹ کی سہولیات ہیں ، وہ تمام سہولیات چھین لی جائیں اور وہ اس آدمی کو دے دی جائیں، جس کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے، جس کوغلط الزام میں پولس نے گرفتار کیا تھا اور جس افسر نے یہ کیا ہو اس کے اوپر یہ جرمانہ لگایا جائے۔ دراصل پولس میں مکمل اصلاح کی ضرورت ہے۔ اگر یہ اصلاح نہیں ہوگی اور دہلی کی وزیر اعلیٰ یہ کہیں گی کہ دہلی میں خواتین محفوظ نہیں ہیں۔ابھی دوسری ریاست کے وزرائے اعلیٰ نہیں کہہ رہے لیکن بہت ساری ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ یہ کہنے لگیں گے کہ ہمارے یہاں کے شہری محفوظ نہیں ہیں، ہم کیا کریں؟ تو کیا کریں ہر شہری کے پیچھے ایک پولس کی بھرتی ہو، ایک پولس اہلکار ہو۔ضرورت اس بات کی ہے کہ جو پولس کمیشن بنے اور پولس کو لے کر جو بھی اصلاح کی باتیں کی جا رہی ہیں ان اصلاحات کو بلاتاخیر نافذ کرنے کا قدم اٹھانا چاہئے ۔ یہ قدم اگر اٹھے گا تو رادھیکا جیسے کیس شاید کم ہوں، لوگوں کے قتل کم ہوں، لوگوں میں کچھ ڈر بیٹھے۔جس کو کہتے ہیں کہ پولس کو اپنا اثر دوبارہ قائم کرنا ہوگا اور اگرپولس یہ نہیں کرتی ہے، حکمراں یہ نہیں کرتے ہیں تو ہمیں یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں ہے کہ حقیقت میں اس وقت تو کچھ لوگوں کو یہ بات معلوم تھی پر اب زیاد تر لوگ آنند نرائن ملا کی وہ لائن دہرانے پر مجبور ہو جائیں گے کہ پولس اس ملک کا سب سے بڑامنظم جرائم پیشہ گروہ ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *