پی جے تھامس کی ذلت بھری وداعی

سنتوش بھارتیہ
سی وی سی یعنی چیف ویجلنس کمشنر کے خلاف سپریم کورٹ نے اپنی رائے ظاہر کر دی اور یہ سپریم کورٹ کی رائے نہیں، یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ ان کی تقرری ناجائز ہے۔سپریم کورٹ کے اس فیصلہ سے ،جس کمیٹی نے ان کو منتخب کیا، جس میں وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور اپوزیشن لیڈر سشما سوراج تھیں۔ اس کی کارکردگی پر ضرور سوال اٹھتاہے ، کیوں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے سشما سوراج کی رائے پر توجہ نہیں دی۔سیاست میں اس طرح کا رویہ یا کارکردگی زیادہ سمجھداری بھری نہیںہے، اس لئے سمجھداری بھری نہیں ہے، کیونکہ جہاں صرف تین لوگ ہوں اور تینوں میں سے ایک اگر بہت مضبوط ردعمل دے رہا ہو، یا بہت سخت احتجاج درج کرا رہا ہو تو اس کی مخالفت کو اسی نظریہ سے دیکھنا چاہئے جس سے اپنی مخالفت کو دیکھتے ہیں۔ اگر اس نظریہ سے کام کرتے تو سپریم کورٹ سے حکومت کو بے وقوفی بھری ڈانٹ نہ کھانی پڑتی،کیونکہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں ایک لائن یہ بھی کہی ہے ، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کا کیا ہوا فیصلہ بہت سمجھداری بھرا نہیں ہے۔پی جے تھامس بیوروکریٹک سرکل میں ایک اچھے افسر کے ناطے جانے جاتے ہیں۔ ان کے خلاف کیرل میں ایک کیس تھا۔ دہلی میں جب وہ راجا کے ساتھ سکریٹری تھے،اس وقت بہت سارے فیصلے ہوئے۔ پی جے تھامس کا کہنا تھا کہ فیصلے ان کے وقت میں نہیں ہوئے لیکن فیصلے ان کے وقت میں ہوئے یا نہیں یہ بحث کا سوال نہیں، سوال یہ ہے کہ ان سے پہلے فیصلے ہوئے ہوں، یا ان کے سامنے فیصلے ہوئے ہوں پی جے تھامس کو ان تمام فیصلوں کی خوبیوںاورنقص کے بارے میں علم تو تھا۔اس لئے وہ اس میں شامل تو مانے ہی جائیں گے۔ انھوں نے اس میں احتجاج درج نہیں کرایا، کوئی نوٹ نہیں لکھا۔ وہ اس مسئلہ کو اپنے وزیر ، وزیر اعظم یا کیبنٹ سکریٹری کے پاس نہیں لے گئے مگر پی جے تھامس نے ایک اڑیل  بیوروکریٹس کی طرح سلوک کیا اور انھوں نے کہا کہ جب میں غلط نہیں ہوں تو میں کیوں استعفیٰ دوں اور دوسرا غلط کام انھوں نے یہ کیا کہ انھوں نے کہا کہ جب پارلیمنٹ کے 250سے زیادہ ممبران کے خلاف الزامات ہیں اور وہ استعفیٰ نہیں دے رہے ہیں یا ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیںہو رہی ہے تو میں کیوں استعفیٰ دوں۔ لیکن وہیں پی جے تھامس یہ بھول گئے کہ اسی الزام میں ان کے وزیر رہے اے راجا نہ کو نہ صرف مستعفی ہونا پڑا بلکہ وہ جیل بھی گئے، الزام ثابت نہیں ہوا، مجرم نہیں ہیں راجا آج بھی۔ جب تک کورٹ انہیں مجرم ثابت نہیں کرتا، لیکن استعفیٰ تو انہیں دینا ہی پڑا الزامات کی بنا پر ۔ویسے ہی الزام کو لے کر مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ اشوک چوان کو استعفیٰ دینا پڑا ۔ وہ بھی مجرم نہیں ہیں، کیونکہ ابھی تک ان کے خلاف جرم ثابت نہیں ہوا ہے۔ اس لئے یہ دلیل جمہوریت میں نہیں چلتی ہے۔ پی جے تھامس نے اپنی ہوشیاری کہیںیااپنی بیوقوفی انھوں نے مرکزی حکومت کو مصیبت میں ڈالا۔ جب الزام تراشیوں کا دور شروع ہوا اور سپریم کورٹ نے سخت تبصرہ کیا۔پی جے تھامس کو اپنے تجربہ سے یہ جان لینا چاہئے تھا کہ سپریم کورٹ کیا فیصلہ دینے والا ہے۔ اگر پی جے تھامس استعفیٰ دے دیتے یا پہلی بار سی وی سی بننے کے بعد جب ان کے اوپر الزام لگا تھا وہ استعفیٰ دے دیتے تو شاید ان کی اتنی کرکری نہیں ہوتی ۔ دراصل یہ کرکری پی جے تھامس کی کم ہوئی ہے اور ملک کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ، ملک کے وزیر داخلہ چدمبرم اور محترمہ سونیا گاندھی کی زیادہ ہوئی ہے۔سونیا گاندھی اورچدمبرم کو تھوڑی زیادہ ہوشیاری برتنی چاہئے تھی۔ وہ ہوشیاری اس لئے برتنی چاہئے تھی کیونکہ اتفاق سے دونوں ہی ایک مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ پی جے تھامس بھی اسی مذہب کے ہیں۔ ہمارا ہندوستان برادریوں میں، مذہب میں تقسیم ہے اور جب کوئی ایسا معاملہ ہوتا ہے جس میں مذہب اور برادری ایک ہوں تو ہندوستان میں بہت سارے لوگ شک کرنے لگتے ہیں۔ جیسا پی جے تھامس نے کیا ویسا ہی ایک افسر اور کر چکا ہے۔ اس افسرکا نام لالی ہے۔لالی ،پرسار بھارتی کے سی ای او تھے، یہ آئینی عہدہ ہے اور لالی کو لگتاتھا کہ کوئی بھی ان کے خلاف کچھ نہیں کر پائے گا۔جب لالی کے خلاف الزام عائد نہیں ہوئے تھے۔یہ سال بھر پہلے کی بات ہے۔ لالی وزیر اعظم منموہن سنگھ کے نام کا اور سردار، سکھ ہونے کا سیدھا فائدہ اٹھاتے تھے۔لالی نے بیسوںایسے لوگوں سے کہا کہ وزیر اعظم نے مجھے بلایا، وزیر اعظم نے مجھ سے یہ بات کی۔ وہ وزیر اعظم سے اپنی نزدیکی اس حد تک ثابت کرتے تھے کہ ان کے وزیر، پرسار بھارتی کے ممبران اور ان سے ملنے جانے والے ایسے لوگ جو ایماندار ہوتے تھے وہ دہل جاتے تھے، دہشت میں مبتلا ہو جاتے تھے۔لالی نے ایک ماحول سا بنا دیا تھا جس میں انھوں نے بالواسطہ طور پر مذہب کا سہارا لیا۔ میں سردار، وزیر اعظم بھی سردار یعنی میں سکھ، وہ بھی سکھ، ہم دیر رات ملتے ہیں، حکمت عملی بناتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ باقی لوگ ہمیشہ لالی سے سہمے رہتے تھے۔ منموہن سنگھ کو اس کے لئے مبارکباد دینی چاہئے کہ انھوں نے لالی کے خلاف نہ صرف صدر جمہوریہ سے برخاستگی کا آرڈر سائن کروایا بلکہ لالی کے خلاف سی بی آئی تفتیش اور مقدمہ چلانے کی اجازت بھی دی۔منموہن سنگھ کو میں دوبارہ کہتا ہوں کہ انہیں اس کے لئے مبارکباد دینی چاہئے۔ ہندوستان میں اور خصوصاً جو ہمارا جمہوری نظام ہے اس میں اس ذہنیت کو یاد کر کے جہاں لوگ مذہب اور برادری کو کسی بھی چیز کے ساتھ بآسانی جوڑ دیتے ہیں۔ جہاں پر مختلف مذاہب کے لوگ ہوں، حکمرانوں کو بہت ہی ہوشیاری سے کام لینا چاہئے اور مزید مستعدی سے کام لینا چاہئے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس میں پھنسے ہوئے ہوں نہ ، لوگ ان کا نام اس میں جوڑ دیں کیونکہ جمہوریت میں کیا سامنے دکھائی دیتا ہے، اس کا بہت اثر پڑتا ہے۔ یہی پی جے تھامس کے مسئلہ میں ہوا۔ یہاں چدمبرم، تھامس اور سونیا گاندھی تینوں ایک ہی مذہب کو ماننے والے، دوسری طرف لالی اور سردار منموہن سنگھ ایک ہی مذہب کو ماننے والے۔ میںاپنے مذہب یا برادری کا کوئی آدمی غلط ہی ہوگا اس کی بات نہیں کہتا۔ میں صرف اتنا کہتا ہوں کہ وہ آدمی صحیح ہو یا غلط، اور اگر صحیح ہو تب تو اور مزید ہوشیاری برتنی چاہئے کہ ان فیصلوں سے خود کو علیحدہ کر لینا چاہئے۔ اس سلسلہ میں ابھی حال ہی میںاڑیسہ میں ہوئی ایک دوسری طرح کی واردات کا ذکر کرنا چاہوں گا۔اڑیسہ میں ونیل کرشنا جو آئی اے ایس افسر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ تھے ان کا مائونوازوں نے اغوا کر لیا۔ مائونوازوں نے اغوا کیا، حکومت میں پریشانی پیدا ہو گئی کہ کیا کریں، سیاسی لوگوں نے یہ دبائو بنایا کہ وہ لوگ مل کر کر کوئی راستہ نکالیں ، لیکن وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک نے ایک عقلمندی بھرا فیصلہ لیا۔ ان کو لگا کہ اگر ہم کانگریس یا بی جے پی کے لوگوں کے ساتھ مل کر کوئی فیصلہ لیتے ہیں اور کہیں ونیل کرشنا کو مائونوازوں نے مار دیا تو پورے ملک کے آئی اے ایس افسر ایک ہو جائیں گے اور مرکزی وزیر داخلہ ان کی حکومت کو برخاست کر دیں گے۔ انھوں نے کیا قدم اٹھایا۔ انھوں نے کہا کہ آئی اے ایس برادری کے لوگ مل کر اس کا فیصلہ لیں۔ مطلب انھوں نے اپنے چیف سکریٹری کو اس میں شامل کر دیا۔ اڑیسہ کی اینٹائر بیوروکریسی اس میں شامل ہو گئی اور ان لوگوں نے ایک فیصلہ لیا۔ نوین پٹنائک نے اس سے خود کو بالکل الگ رکھا۔ان لوگوں نے ایک فیصلہ لیا۔ ان لوگوں نے جو فیصلہ لیا ۔ اس فیصلہ کے تحت مائونوازوں کے مطالبات تسلیم کئے گئے اور کرشنا وہاں سے رہا کئے گئے۔یہ بات دیگر ہے کہ اڑیسہ حکومت کو اب یہ ڈر ہے کہ کرشنا کے نظریہ اور مائونوازوں کے نظریہ دونوں میں کہیں کوئی تار جڑتا ہے۔دوسرے الفاظ میں کرشنا مائونوازوں سے ہمدردی رکھتے تھے اور خاص کر کرشنا کے سسر مائونوازوں کے رابطہ میں تھے۔یہ غلط نہیں ہے کیونکہ مائونواز کسی دوسرے ملک سے نہیں آئے ہیں، مائونواز ہمارے ہی ملک کے ، ہمارے ہی نظام کے ستائے ہوئے فاقہ کشی،بے روزگاری، بیماری اور غریبی کے مارے ہوئے ہیں۔ ان میں تعلیم نہیں ہے، وہاں صحت نہیں ہے،وہاں سڑکیں نہیں ہیں۔ ایسی جگہوں کے رہنے والے لوگ جو اڑیسہ اور چھتیس گڑھ میں ہیں وہ لوگ دھیرے دھیرے ہتھیار اٹھا رہے ہیں۔ اس نظام کے خلاف، اس سسٹم کے خلاف جو انہیں کچھ نہیں دیتا۔ان سے ہمدردی رکھنا غلط بات نہیں ہے۔ ہم سب ان سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ اس ملک کا بہت بڑا دانشمند طبقہ بھی ان سے ہمدردی رکھتا ہے۔بیوروکریسی میں بڑا طبقہ ہے جو ان سے ہمدردی رکھتا ہے۔ ہمدردی رکھنا حالانکہ کافی نہیں ہے لیکن ہمدردی نہ رکھنا بھی ایک جرم ہے۔وزیر اعلیٰ نے جہاں یہ ایک اچھا قدم اٹھایا کہ انھوں نے پورا فیصلہ بیوروکریسی پر چھوڑ دیا وہیں اس وقت کے وزیر اعلیٰ کو دوسرا قدم اٹھانا چاہئے۔ ان کو اڑیسہ کے وکاس ماڈل کو دوبارہ نئے سرے سے طے کرنا چاہئے۔ اس لئے طے کرنا چاہئے کیونکہ اگر ان مسائل کو بنیادی طورپر سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو یہ آگ اور بھڑکے گی۔ آج ایک ڈی ایم پکڑا گیا ، حکومت کو مطالبات تسلیم کرنے پڑے۔ کل ڈی آئی جی پکڑا جائے گا، ڈائریکٹر جنرل پکڑا جائے گا، وزیر پکڑا جائے گا، وزیر اعلیٰ کابھی اغوا کیا جا سکتا ہے۔ یہ صرف اڑیسہ کے بہانے میں ملک کے تمام وزرائے اعلیٰ اور انتظامی افسران سے کہتا ہوں کہ آپ اگر خود نہیں بدلیں گے توآپ اور آپ کے بچے ان لوگوں کے چنگل میں پھنس جائیں گے جو لوگ فاقہ کشی، بیماری اور غریبی ، بے روزگاری سے لڑ رہے ہیں۔کل کوئی مرکزی وزیر بھی اغوا کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک خطرے کی گھنٹی ہے اور اس خطرے سے لڑنے کے لئے پورے کے پورے سیاسی نظام اور سیاسی نظام کو چلا نے والے لوگ فوراً اپنے دماغ کی کھڑکی کھولیں۔آپسی اختلافات کو ایک طرف کر کے ملک میں کھڑا یقین کا مسئلہ، ترقی کا مسئلہ ، کچھ نہ ملنے کا مسئلہ،اکیلے ہونے کا مسئلہ۔ ان مسائل سے لڑنے کیلئے ایک نیا منصوبہ بنائیں جس سے اپنے ہی ملک کے لوگ جو فاقہ کشی، بیماری، غریبی، بیکاری سے پریشان ہیں اور جو 60سے70فیصد کے آس پاس لوگ ہیں۔ وہ لوگ خود کو اس ملک کا شہری ماننے کی کم سے کم ذہنی حالت میں آ سکیں۔یہ بہت ضروری ہے نہیں تو اڑیسہ جیسی وارداتیں دہرائی جائیں گی۔دوسرے حکومت ہند کو یہ سوچنا چاہئے کہ سپریم کورٹ اگر کچھ کہتا ہے یا اشارہ کرتا ہے تو اسے وہ یہ مان کر نہ ٹال دے کہ یہ مینج کیا جا سکتا ہے۔ اب سپریم کورٹ آزاد سپریم کورٹ ہے۔ پہلے یہ آزاد نظر نہیں آتا تھا۔ سپریم کورٹ اس کو باہر نہیں دکھاتاتھا۔ اب سپریم کورٹ یہ دکھانے لگا ہے کہ ہم آزاد ہیں نہیں ،آزاد دکھنا بھی چاہتے ہیں۔ حکومت کو اپنے تمام فیصلے بہت سوچ سمجھ کر کرنے چاہئیںاگر وہ نہیں کرتی ہے تو وہ پوری سرکاری مشنری کے اوپر سے لوگوں کے یقین کے سامنے سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *