!نتیش صاحب: بہار کی سیاست میں یو ٹرن نہیں ہوتا

ڈاکٹر منیش کمار
بہار کے عوام نے تاریخی اور ناقابل یقین مینڈیٹ دیا۔ انتخابی نتائج سے بہار کے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ پورے ملک میں بہار ان نتائج کی وجہ سے موضوع بحث بنا رہا ۔ چاروں طرف نتیش کمار اور بہار کے عوام کے قصیدے پڑھے گئے۔ نتیش کمار کو بہار کے عوام نے وزیراعلیٰ سے وزیراعظم کا دعویدار بنا دیا۔ بہار کے عوام کو جو کرنا تھا، وہ تو کردیا، لیکن سوال یہ ہے کہ اس رائے عامہ کا نتیش کمار نے کس طرح استعمال کیا۔ وزیراعلیٰ نے عوامی رائے سے کیا سبق لیا۔ بہار کو بہتر بنانے کے لیے نتیش کمار نے کیا کیا نئے اقدامات کیے؟
کسی بھی وزیراعلیٰ کی پہلی چنوتی کابینہ کے انتخاب کی ہوتی ہے۔ یہ چنوتی اس لیے ہے کیوںکہ کابینہ کے ڈھانچے سے اس بات کے اشارے ملتے ہیں کہ حکومت آنے والے پانچ سالوں میں کیا کرنے والی ہے۔ عوام سے جڑے لیڈران، کارکنان اور دانشور قسم کے لوگ اگر کابینہ میں جگہ پاتے ہیں تو یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ حکومت اچھی اسکیمیں بنائے گی۔ ایمانداری سے اسکیموں کو نافذ کرے گی۔ اگر کابینہ میں ایسے لوگ ہوں جو داغی ہوں، دبنگ ہوں یا پھر جن کی شبیہ مجرمانہ ہو تو یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ حکومت عوام کے لیے نہیں بلکہ کچھ نجی مفادات کے لیے کام کرے گی۔ ہروزیراعلیٰ پر ایسے لوگوں کو وزرا بنانے کا دباؤ رہتا ہے، کیوںکہ کوئی وزیراعلیٰ یہ نہیں چاہتا کہ اس کی کابینہ میں داغی قسم کے لوگ ہوں۔ نتیش کمار ایماندار شبیہ والے لیڈر ہیں۔ ملک کے عوام انہیں اب مستقبل کے وزیراعظم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ بہار کے عوام ان سے امید لگائے ہوئے ہیں، لیکن بہار کی موجودہ کابینہ نتیش کمار کی شبیہ اور عوام کی رائے کے ٹھیک برخلاف ہے۔ اگر نتیش کمار کی کابینہ میں تقریباً آدھے لوگ داغی ہوں، ان پر مجرمانہ معاملہ چل رہا ہو تو اسے کیا کہا جائے۔
بہار میں کل 30 کابینی وزراء ہیں۔ ان میں سے 14 وزراء ایسے ہیں، جن کے خلاف مجرمانہ کیس چل رہے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پبلک ہیلتھ اینڈ انجینئرنگ کے وزیر چندر موہن رائے اور کوآپریٹیو وزیر رام دھار سنگھ ،یہ دونوں ایسے وزراء ہیں، جن کے پاس پین کارڈ بھی نہیں ہیں۔ اب پتہ نہیں یہ کیسے اپنا ٹیکس ادا کرتے ہونگے یا پھر ادا کرتے بھی ہیں یا نہیں۔ یہ حقائق ہمارے نہیں ہیں۔ یہ خود ان وزراء کے ذریعہ جمع کیے گئے حلف ناموں میں درج ہیں، جنہیں الیکشن کمیشن میں جمع کرایا گیا ہے۔ جب ان وزراء نے خود الیکشن کمیشن میں یہ قبول کیاہے تو اس پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ جن 14 وزراء کے خلاف مجرمانہ معاملے درج ہیں، ان میں سے کسی پر قتل کا معاملہ چل رہا ہے تو کسی پر چوری اور لوٹ مار کا کیس چل رہا ہے۔ کئی وزراء پر دھوکہ دہی اور فساد بھڑکانے کا بھی معاملہ ہے۔ گوتم سنگھ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وزیر ہیں۔ ان کے خلاف دو معاملے ہیں۔ ان پر اقدام قتل اور چوری کے علاوہ 11 الزامات ہیں۔ جنتادل یو کے پھلوا شریف سے ممبراسمبلی شیام رجک فوڈ اینڈ سول سپلائی کے وزیر ہیں،ان کے خلاف بھی دو معاملے ہیں۔ ان پر بھی اقدام قتل اور فساد بھڑکانے کے علاوہ 4الزامات ہیں۔ سارن سے بی جے پی کے ممبراسمبلی جناردن سنگھ سگریوال ریاست کے لیبر ریسورس کے وزیر ہیں،ا ن کے خلاف 5 معاملے زیر التوا ہیں۔ بہار کے اربن ڈیولپمنٹ اینڈ پلاننگ کے وزیر پریم کمار پر بھی ایک مجرمانہ معاملہ درج ہے۔ پریم کمار گیا سے بی جے پی کے ٹکـٹ پر الیکشن جیتے ہیں۔ گنا اور آب پاشی کے وزیر اودھیش پرساد کشواہا پر تو چوری کا الزام ہے۔ یہ پپرا کے ممبراسمبلی ہیں۔ اسی طرح ٹرانسپورٹ کے وزیر برشین پٹیل، پنچایتی راج کے وزیر ہری پرساد شاہ، صنعت اور قدرتی آفات کی وزیر رینو کماری پر ایک ایک الزام ہے، جو الیکشن سے متعلق ہیں۔ اسی طرح آرٹ اینڈ کلچر کے وزیر پروفیسر سکھڈا پانڈے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر شاہد علی خان کے خلاف بھی عدالت میں ایک ایک معاملہ درج ہے۔ سیتا مڑھی کے ممبراسمبلی سنیل کمار عرف پنٹو ریاست کے سیاحتی وزیر ہیں۔ ان کے خلاف 3 معاملے درج ہیں۔ بی جے پی کے نندکشور یادو سڑک تعمیرات کے وزیر ہیں۔ ان کے خلاف 4 مجرمانہ معاملے ہیں۔ بھاگل پور کے ممبر اسمبلی اشونی کمار چوبے ریاست کے ہیلتھ منسٹر ہیں، ان کے خلاف بھی کل تین مجرمانہ معاملے ہیں۔ کوآپریٹیو وزیر رام دھار سنگھ کے خلاف 5 مجرمانہ معاملے ہیں۔ یہ فہرست یہیں ختم نہیں ہوتی ہے۔ مذکورہ اطلاعات 30 میں سے 25 کابینی وزراء کے حلف ناموں کی بنیاد پر ہے۔ کئی اور وزراء پر مجرمانہ معاملے ہوںگے۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ یہ ملزم ہیں۔ بہار کے یہ کابینی وزراء مجرم ہیں یا نہیں، یہ عدالت فیصلہ کرے گی۔ عوام اور عدالت کے فیصلے میں ایک بڑا فرق ہوتا ہے۔ عدالت ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے۔ عوام چہرہ دیکھتے ہیں۔ بہار کے عوام نے لالو یادو کا چہرہ دیکھا۔ نتیش کمار کا چہرہ دیکھا اور فیصلہ کردیا۔ اگر بہار کے لوگ ثبوت دیکھتے تو 80 فیصد سڑکیں دکھائی دیتیں جو نہیں بنیں۔ رات کے اندھیرے میں بجلی ڈھونڈتے جو صرف دن بھر میں چند گھنٹے رہتی ہے۔ ثبوت ڈھونڈتے تو پینے کے صاف پانی کا ٹھکانہ پوچھتے۔ بہار کے عوام نے نتیش کمار کا چہرہ دیکھا، ایک امید دیکھی، اب نتیش کمار کو بہار کے عوام کی امیدوں اور آرزؤں کو پورا کرنے کا وقت ہے۔
بہار کے عوام نے بی جے پی اور جنتا دل یو کی حمایت میں تو ووٹ دیا، لیکن دونوں ہی پارٹیوں نے داغیوں، دبنگوں اور مجرموں کو ٹکٹ دے کر عوام کی حمایت کا مذاق اڑا دیا۔ جنتا دل یو کے 114 ممبراسمبلی ہیں۔ ان میں سے 58 پر مجرمانہ معاملے درج ہیں اور 43 ممبر اسمبلی ایسے ہیں، جن پر سنگین الزامات ہیں۔ بی جے پی کے 90 ممبر اسمبلی ہیںجن میں سے کل 58 ممبر اسمبلی پر مجرمانہ معاملے چل رہے ہیں اور ان میں سے 29 ایسے ہیں جن پر سنگین الزامات ہیں۔ لالو یادو کی راشٹریہ جنتادل میں بھی مجرمانہ شبیہ والے ممبران اسمبلی ہیں۔ اس پارٹی کے اعداد و شمار دینے کی ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ بہار کی سیاست میں مجرموں کو پالنے پوسنے اور فروغ دینے میں آر جے ڈی کی حکومت کا اہم کردار رہا ہے۔ بہار کے عوام نے 15 سال کے غنڈہ راج سے نمٹنے کے لیے ہی نتیش کمار کو منتخب کیا تھا۔نتیش کمار کی گزشتہ حکومت نے مجرمین پر قابو بھی پایا ۔جو خونخوار مجرم تھے، انہیں فاسٹ ٹریک کورٹ کے ذریعہ سزا دلائی گئی، ان کا انکاؤنٹر بھی کیا، تاجروں اور دکانداروں کو رنگ داروں سے نجات ملی، بہار کے عوام کو دن دہاڑے لوٹ مار سے نجات مل گئی، عوام نے نتیش کمار کو اس کا انعام بھی دے دیا۔ اب جب یہ سامنے آتا ہے کہ اسمبلی میں 241 میں سے 141 ممبران اسمبلی کے خلاف مجرمانہ معاملے درج ہیں تو ایسے مینڈیٹ کا کیا مطلب رہ جاتا ہے۔ دونوں ہی پارٹیوں نے مجرمانہ شبیہ والے لیڈروں کو ٹکٹ دینے میں کوتاہی نہیں برتی۔ یہی وجہ ہے کہ 2005 میں تقریباً 50 فیصد ممبران اسمبلی پر مجرمانہ مقدمے چل رہے تھے تو اس بار ایسے ارکان میں 9 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان مجرمانہ شبیہ والے لیڈروں کو بہار کے عوام نے ہی منتخب کیا ہے۔ یہ بات صحیح بھی ہے ۔ لیکن کیا سیاسی پارٹیوں نے اپنے پرچار میں بہار کے عوام کو یہ بتایا تھا کہ ان کے امیدواروں پر لوٹ، قتل، اغوا اور چوری کے الزامات ہیں۔ عوام کو سیاسی بالغ النظری سے لیس کرنا سیاسی پارٹیوں کا کام ہے۔ بہار الیکشن میں حصہ لینے والی سبھی پارٹیوں نے مجرموں کو ٹکٹ دے کر عوام کے سامنے کوئی متبادل نہیں دیا۔ نتیش کمار سے یہ شکایت ہے کہ وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے وہ عوام کے جذبات اور آرزوؤں کو سمجھ نہیں پائے۔ بہار کے عوام نتیش کمار کا چہرہ دیکھ کر ووٹ دے رہے تھے، پارٹی یا امیدواروں کو نہیں۔ پھر بی جے پی اور جنتادل یو نے مجرمین کو ٹکٹ دے کر سیاست میں جرائم کو فروغ دیا ہے۔ جرم کو پوری طرح سے ختم کرنے کی پہلی شرط ہی یہی ہے کہ جرم اور مجرموں کو سیاسی تحفظ نہ ملے۔ اگر مجرمانہ کردار والے لوگوں کا اسمبلی پر ہی قبضہ ہوجائے تو جرم کیسے ختم ہوگا؟ اسی سوال کا جواب وزیراعلیٰ نتیش کمار کو دینا ہے۔ نتیش کمار سے لوگوں کو اس لیے امیدیں بندھیں، کیوں کہ ان سے پہلے جہاں حکومت کا وجود نہیں تھا، وہاں انہوں نے حکومت کو قائم کیا۔ دن دہاڑے جرم کرنے والے بے خوف اور بے لگام مجرموں کا خاتمہ کیا۔ مجرموں کے خلاف جب عدالت میں روزانہ سنوائی ہوئی اور سزا ہونے لگی تو لوگوں کا یقین بیدار ہوا۔ لوگوں کو لگا کہ ریاست میں قانون کی بالا دستی ہے۔ اس بار الیکشن جیتنے کے بعد نتیش کمار نے بدعنوانی کے خلاف مہم چھیڑی ہے۔ نئے نئے تجربات ہورہے ہیں۔ ایم ایل اے فنڈ کو ختم کرکے بدعنوانی پر لگام لگانے کی اچھی کوشش ہوئی ہے۔ وزراء اور افسران کو اپنی جائیدادوں کی معلومات عام کرنے سے بھی بہار کو فائدہ ہوگا۔ وزراء اور افسران کو فروری تک اپنی جائیدادوں کو عام کرنا ہے۔ وزراء کی معلومات اب انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ نتیش کمار کی ایک نئی پہل یہ ہے کہ افسران کے خلاف معاملہ ملنے پر اب ان کی ملکیت ضبط کر لی جائے گی۔یہ بدعنوانی سے نمٹنے کا مقبول و کارگر طریقہ ہے۔اب افسران غلط کام کرنے سے بچیں گے۔سمجھنے والی بات یہ ہے کہ بدعنوانی، جرائم، کالابازاری، افراتفری سب ایک تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک بھی حکومت میں اپنی پیٹھ بناتا ہے تو دوسری بیماریاں خود بخود پیدا ہو جاتی ہیں۔کسی ایک کو نشانے پر لینے سے کام نہیں چلنے والا ہے۔اگر پوری سرکاری مشینری کو سدھارنا ہے تو بدعنوانی، جرائم، کالابازاری، اراضی مافیا اور دلالوں سے ایک ساتھ لڑنا ہوگا۔
بہار میں پہلے مجرموں کا بول بالا ہوا تو ایک کے بعد ایک دوسری بیماریوں نے سرکار کو اپنے جال میں پھانس لیا۔ نتیجہ سرکاری مشینری ہی بیکار ہو گئی۔ آج وہ خطرہ پھر سے نظر آنے لگا ہے۔بہار اسمبلی اور بہار کی کابینہ میں مجرمانہ شبیہ والے لوگ اکثریت میں آگئے ہیں۔نتیش کمار اگر بہار کی چہار سو ترقی چاہتے ہیںتو ایسے لوگوں کو بہار کی سیاست سے باہر کرنا ہوگا۔مسئلہ یہ ہے کہ جب بھی سیاسی جماعتوں سے مجرموں کو دور رکھنے کے لیے کہا جاتا ہے تو اس پر دلیلوں کا دور شروع ہو جاتا ہے۔ہندوستان میں کسی کو مجرم اس وقت تک نہیں مانا جاتاجب تک عدالت میں اسے سزا نہ مل جائے۔یہ قانون کا نظریہ ہے، لیکن جمہوریت میںاخلاقیات کے پیمانے الگ ہوتے ہیں۔ہندوستان کی سیاست میں اخلاقیات کے لیے کوئی جگہ نہیں بچی ہے۔اس کے باوجود بھی کانگریس پارٹی کے کئی لیڈروں کو وزیر کی کرسی خالی کرنی پڑی۔اے راجا ابھی ملزم ہیں، قصوروار نہیں ہیں لیکن انہیں استعفیٰ دینا پڑا۔
پچھلی حکومت کا کام تو اب تاریخ بن چکا ہے۔بہار کے عوام کو نتیش کمار کے اگلے قدم کا انتظار ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اگلا قدم کیا ہو سکتا ہے۔مجرمانہ شبیہ والے لیڈر جنتا دل یونائیٹڈ، بھارتیہ جنتا پارٹی، کانگریس، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، راشٹریہ جنتا دل اور لوک جن شکتی پارٹی میں بھی ہیں۔نتیش کمار کی حکومت کے لیے یہ ضروری ہے کہ ایک فاسٹ ٹریک کورٹ بنا کر سبھی ارکان اسمبلی اور وزیروں کے کیسوں کو تین مہینوں کے اندر نمٹائے۔جن ارکان اسمبلی کا جرم ثابت ہو جائے انہیں جیل بھیج دیا جائے۔ان کی رکنیت معطل کر دی جائے اور جو بری ہو جائیں ان کا سیاست میں خیر مقدم کیا جائے۔ یہی نتیش کمار کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ بہار نہ تو تمل ناڈو ہے، نہ ہریانہ ، نہ پنجاب ہے اور نہ ہی کوئی ایسا صوبہ جہاںعوام انتخابات میں ایک کے بعد دوسری پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع دیتے ہیں۔بہار کے عوام نے نتیش کمار کو سر پر بٹھایا۔ اب نتیش کمار کی ذمہ داری ہے کہ وہ بہار کے عوام کی امیدوں کے مطابق کام کریں اور بہار کو جرائم و بدعنوانیوں سے پاک کریں۔نتیش جی بہار کی سیاست میں یو ٹرن نہیں ہوتا ہے!

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *