لیبیائی عوام اپنے حاکم سے حالت جنگ میں

رضوان عابد

عالمی اور خاص طور پر امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ لیبیا کی صورتحال روزبروز سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کا کہنا ہے کہ کرنل قذافی کی حکومت کی طرف سے عوام کو بتادیا گیا ہے کہ وہ گھروں میں رہیں اور سڑکوں پر آنے کی غلطی نہ کریں کیونکہ جو لوگ انہیں سڑکوں پر لا رہے ہیں وہ استعمار کے ایجنٹ اور لیبیا کے دشمنوں میں سے ہیں۔ اس لئے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت کے خلاف کھڑے ہونے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ عالمی میڈیا کے مطابق اب تک عوامی مظاہروں میں فائرنگ اور کارروائیوں کے نتیجہ میں 600افراد سے زیادہ ہلاک اور ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔
لیکن لیبیا کے نمبر ایک اخبار کا کہنا ہے کہ عالمی اخبارات نے یکطرفہ اقدامات اور رپورٹس کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ یہ بات خود مانیٹرکی جا سکتی ہے کہ کرنل قذافی کی حکومت کے خلاف کئے جانے والے مظاہروں سے کہیں بڑے وہ جلوس ہیں جو کہ لیبیائی صدر حکومت کے حق میں لگا تار نکالے جا رہے ہیں۔ ایک طرف لیبیائی شہر بن غازی میں سیکورٹی فورسیز کی طرف سے بھرپور کریک ڈائون کیا گیا جس میں مظاہرین پر تشدد کیا گیا ۔ اخبار کا اپنی تازہ رپورٹ میں کہنا ہے کہ شہرالبیضاء میںدو سیکورٹی اہلکاروں کو پھانسی دینے والوں کو نہیں بخشا جائے گا۔ میڈیا کے مطابق البیضاء ، بن غازی، طرابلس اور دیگر کئی علاقوں کی بجلی پانی اور گیس کی سپلائی روک دی گئی ہے اور انٹرنیٹ پر بھی مکمل طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔تمام سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ صدر قدافی اور انقلاب دو ایسی چیزیں ہیں کہ جن کے قریب آنے والوں کو سوچنے کا موقع بھی نہیں ملے گا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔ ہفتہ کے روز جہاں بن غازی اور البیضاء شہروں میں مظاہرین پر زبردست کریک ڈائون کیا گیا اور ّسیکڑوں گرفتاریاں ہوئیں وہیں طرابلس میں صدر قذافی کی حمایت میں ایک عظیم الشان ریلی نکالی گئی۔ ریلی کی قیادت قذافی کے بیٹے برگیڈیئر سعدی القذافی کر رہے تھے۔ یہ بھی سچ ہے کہ جہاں امریکہ، سویٹزرلینڈ اور لندن میں صدر قذافی کے خلاف مظاہرے ہوئے وہیں لندن کے ہالینڈ پارک میں کرنل قذافی کے حق میں ایک زبردست ریلی نکالی گئی اور اس ریلی میں امریکہ اور مغرب کے خلاف زبردست نعرے بازی کی گئی۔
لیبیائی تجزیہ نگار نبیل الملکی کا کہنا ہے کہ لیبیا کی صورتحال کو امریکہ اور مغربی میڈیا زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے بیان کر رہے ہیں۔ حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ لیبیا میں عوام تنگ دستی یا جبر کا شکار نہیں ہیں۔ بن غازی شہر میں ہونے والے جمعہ اور ہفتہ کے مظاہروں میں مظاہرین دو حصوں میں بنٹے دکھائی دئے۔ ایک گروہ تو چاہتا تھا کہ قذافی حکومت چھوڑیں اور دوسروں کا ماننا تھا کہ وہ لیبائی صدر کے خلاف نہیں ہیں۔ حکمراں وہی رہیں بس تھوڑی سیاسی گھٹن اور آزادی عوام کو دے دی جائے۔
عالمی و عرب کے غیر جانبدار تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ احتجاج خونی رخ اختیار کرتا جا رہا ہے۔ میڈیا منظم سیکورٹی فورسز اور خود صدر قذافی کا مزاج انتقامی ہے۔ ماہرین اس سے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ لیبیائی صدر کسی بھی قیمت پر احتجاج کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سارا فساد امریکہ کا بویا ہوا ہے جو مسلسل لیبیائی عوام کو ورغلا رہے ہیں۔لیبیائی صدر ہمیشہ امریکہ اور اس کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں یہ سلسلہ تقریباً 30سال سے چل رہا ہے۔ یہ بات آن ریکارڈ ہے کہ امریکی سابق صدر رونالڈ ریگن لیبیائی صدر قدافی کی تنقید سے اس قدر عاجز آئے کہ کرنل قذافی کو پاگل جانور قرار دے دیا۔
دوسری جانب لیبیائی اخبار الفجر اور الجمہوریہ الیوم نے انکشاف کیا ہے کہ لیبائی سیکورٹی فورسز اور انٹیلی جنس کی خصوصی ٹیموں نے ایک ایسے غیر ملکی گروہ کا پردہ فاش کرتے ہوئے درجنوں گرفتاریاں کی ہیں،جو حالیہ امن مظاہروں کو پرتشدد بنا رہا تھا۔ اس نیٹ ورک کے بیشتر افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جو بن غازی ، البیضاء اور طرابلس میں مظاہروں کے دوران سرکاری املاک، دفاتر، بینک، تھانے، جیلوں وغیرہ پر حملے کر کے انہیں آگ لگا رہے تھے اور توڑ پھوڑ کررہے تھے۔لیبیائی سیکورٹی فورسز کے کمانڈر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس غیر معمولی تربیت یافتہ گروہ میں شامل افراد کا تعلق مصر ،تیونس ، سوڈان ، ترکی، لبنان، فلسطین اور شام سے ہے۔ لیبیائی اخبار الجدیدی کا کہنا ہے کہ اس غیر ملکی نیٹ ورک کے ڈانڈے اسرائیلی انٹیلی جنس افسر ایموس سے ملتے ہیں جو افریقی ممالک میں اسرائیلی انٹیلی جنس نیٹ ورک کو براہ راست دیکھتا ہے۔ العربیہ نیٹ نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ مظاہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ قذافی نے اپنے دوست افریقی ملک چاڈ سے سینکڑوں سیکورٹی کمانڈوز کو طرابلس بلوایا ہے تاکہ مظاہرین کو بے رحمی، شدت اور وحشیانہ طریقہ سے قتل عام کیا جا سکے اور مظاہرین پر دہشت بٹھائی جا سکے۔ ایک رپورٹ کے مطابق لیبیائی فورسز جنگی جہازوں کے ذریعہ بھی عوام پر بمباری کر رہے ہیں اور مظاہرین کو مارنے کی غرض سے نشانہ بنا بنا کر قتل کیا جا رہا ہے ۔ ان سنائپرز کی نگرانی قذافی کے صاحبزادے کر رہے ہیں۔ جس کے افریقی ممالک سے بہت دوستانہ تعلقات ہیں۔ برطانوی اخبار نے خبر دی ہے کہ سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں کے جنازوں  پر بھی سیکورٹی فورسز کے سنائپرز نے اور ’’الخمیس برگیڈ‘‘نے فائرنگ کر کے کئی لوگوں کو نشانہ باندھ کر ہلاک کر دیا ہے۔ڈیلی میل کی غیر مصدقہ رپورٹ کے مطابق سیکورٹی فورسز کی جانب سے گن شپ ہیلی کاپٹرز اور بکتر بند گاڑیوں کی مدد سے مظاہرین کو کچل کر رکھ دیا گیا ہے۔ الجزیزہ کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز کو Shoot to Killکے آرڈر ز نہیں ہیں اور یہ فورسز عوام کو بہت بے رحمی سے قتل کر رہی ہیں۔ایک برطانوی اہلکار نے اشارہ دیا ہے کہ قذافی تریپولی چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں لیکن قذافی نے ملک کے نیشنل ٹی وی پر آ کر ثابت کر دیا کہ وہ لیبیا میں ہیں اور آخری دم تک طاقت کے ساتھ لڑیں گے اور دفن بھی لیبیا کی مٹی میں ہوں گے۔ یہ بات تو خیر ہر جاتا ہوا ظالم حکمراں کہتا ہے لیکن جس انداز میں قذافی اور ان کے صاحبزادے بول رہے ہیں اس سے ان کی مطلق العنانیتظاہر ہو رہی ہے گویا کہ ایک حکمراں نے اپنے ہی عوام کے ساتھ اعلان جنگ کر دیا ہو۔
مصر اور تیونس میں عوامی بغات مشرق وسطیٰ کی تاریخ کا عجیب واقع ہے اور اس سے بھی عجیب لیبیا کی بغاوت ہے۔ مصر میں پوری تحریک میں500افراد مارے گئے۔ آبادی آٹھ کروڑ ۔ لیبیا میں ابھی سے 600لوگ مارے جا چکے ہیں، آبادی 70لاکھ کے قریب ہے۔
لیبیا کا رقبہ تو بہت بڑا ہے لیکن 80فیصد علاقہ ریگستان ہے۔ باقی 20فیصد علاقے میں آبادی ہے۔ لیبیا سے براہ راست رپورٹ کے مطابق تین دن میں سب سے بڑے شہر بن غازی میں250افراد مارے گئے۔ بغاوت کا زیادہ زور مشرقی اور جنوبی علاقوں میں رہا ۔صرف دو روز میں بن غازی شہر کے اسپتالوں میں ایک ہزار سے زیادہ زخمی لائے گئے۔ بغاوت کے شروع ہوتے ہی چاڈ سے تقریباً500سنائپرز بلائے گئے جو عمارتوں کی چھتوں پر بیٹھ گئے اور نشانہ لگا کر مظاہرین کو ہلاک کرتے رہے لیکن ہجوم اتنا بڑا تھا کہ ان میں سے زیادہ تر لوگ مظاہرین کے ہاتھوں پکڑے گئے ، بہت سے سنائپرز فرار ہو گئے اور کچھ مظاہرین میں بھی شامل ہو گئے۔ کچھ فوجی دستوں کے عوام سے مل جانے کی بھی خبر ہے۔ بن غازی سمیت لیبیا کے بڑے مشرقی حصے پر مظاہرین کا کنٹرول ہے۔ قذافی کے بیٹے نے اپنے ایک احمقانہ بیان میں کناڈا پر الزام لگایا ہے کہ حالات خراب ہونے میں کناڈا کا ہاتھ ہے۔حالانکہ کناڈا کا کبھی بھی کوئی ایسا ریکارڈ نہیں ہے ۔ یہ دنیا میں پہلی مثال ہے کہ کناڈا پر کسی ملک کے حالات خراب ہونے کا الزام لگایا گیا ہو۔ یہ بہت غنیمت ہے کہ الزام نیپال یا سری لنکا پر نہیں لگایا۔ مقبول بات یہ ہوتی کہ الزام امریکہ یا اسرائیل پر لگاتے۔
بڑی عجیب بات یہ ہے کہ ایک حکمراں نے اپنے ہی عوام کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے۔ اس اعلان جنگ کا نتیجہ یہ نکلا کہ مغربی لیبیا جو اب تک پر سکون تھا مظاہرے شروع ہو گئے اور دارلحکومت طرابلس بھی آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ مغربی لیبیا میںقذافی کا قبیلہ رہتا ہے۔ادھر سب سے بڑا قبیلہ ورفلا بھی باغی ہو گیا ہے۔ اوراس نے بھی علم بغاوت بلند کر دیا ہے۔انٹرنیٹ پر پابندی کے باوجود بن غازی اور دوسرے شہروں کی خبریں جیسے جیسے موبائل پر پھیلیں مغربی لیبیا بھی بغاوت پر آمادہ ہو گیا ۔
زنانہ کپڑے پہننے کے شوقین قذافی تمام عالم عرب کے حکمرانوں سے زیادہ سخت گیر ہیں۔ قذافی کے محافظ دستوں میں عورتیں بھی ہیں لیکن مرد محافظ بھی زنانہ کپڑے ہی پہنتے ہیں۔ عوام اس وقت قذافی کے محل کو گھیرے ہوئے ہیں۔ قذافی سے تیونس کے صدر زین العابدین اور مصر کے صدر حسنی مبارک کو آخری وقت میں فون کئے اور ان سے جمے رہنے کو کہا۔ انہیں خود اپنی عوام کی بے چینی کا اندازہ ہی نہیں تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *