لیبیا میں مداخلت کی فراق میں امریکہ

وسیم راشد
امریکہ نے اچھی طرح سمجھ لیا ہے کہ لیبیائی باغی کرنل محمد قذافی کی فوج سے کسی بھی شکل میں جیت نہیں پائیں گے، چاہے انہیں امریکی حمایت اور اسلحہ بھی فراہم کر دیا جائے۔ امریکہ انتظار میں ہے کہ باغیوں کی طرف سے ذرا سا مدد کا اشارہ مل جائے تو انہیں امریکی کارگو ہیلی کاپٹروں اور طیارہ بردار جہازوں کے ذریعہ لیبیائی افواج کی سرکوبی کے لیے اسلحہ اور گولا بارود فراہم کر دیا جائے اور دوسری جانب لیبیائی ساحلوں کے پاس موجود امریکی تباہ کن بحری جہازوں پر سوار امریکی میرینز کو بھی لیبیا میں داخل کر دیا جائے، لیکن الشروق اور الیوم السابع سمیت کئی اخبارات و جرائد کا ماننا ہے کہ لیبیائی باغیوں نے امریکہ کی طرف سے اسلحہ اور لاجسٹک حمایت کی پیش کش کو ٹھکرا دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ خود اس قابل ہیں کہ وہ خود لیبیا کو قذافی کے پنجے سے آزاد کرا لیں گے او ر اس میں انہیں امریکہ یا کسی بیرونی طاقت کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنی تجزیاتی رپورٹ میں ’’اینٹی وار‘‘ کے مدیر اعلیٰ جیس کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اس بات پر شک ہے کہ لیبیائی باغی باوجود کئی شہروں کا کنٹرول حاصل کرنے کے اس لائق نہیںکہ سرکاری مسلح فوج کا مقابلہ کر سکیں۔باغی رہنما عبدالحفیظ غوغا کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھیوں اور تحریک میں اتنا حوصلہ ہے کہ ان کو قذافی جیسے حاکم کو معزول کرنے کے لیے کسی بیرونی طاقت کی ضرورت نہیں ہے۔لیبیا سے آنے والے مظاہرین کی تصویروں میں دکھایا گیا ہے کہ مظاہرین بڑی عمارتوں اور شاہراہوں پر بینرز لگا رہے ہیں، جن پر لکھا ہوا ہے کہ ہمیں غیر ملکی مدد، مداخلت یا اسلحہ کی ضرورت نہیں ہے۔ہم اپنا نظام سنبھالنا اور چلانا جانتے ہیں۔ عرب جریدے دارالحیاۃ کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان ابھی تک کوئی بڑا معرکہ نہیںہوا ہے، لیکن عرب اور غیر جانبدار ماہرین کا ماننا ہے کہ جب بھی باغیوں اور فوج کے درمیان مقابلہ ہوگا تو باغی فوج کے سامنے ٹک نہیں پائیں گے،کیونکہ تربیت یافتہ فوج کے آگے غیر تربیت یافتہ باغی زیادہ دیر ٹھہر نہیں پائیں گے اس بات سے امریکہ اچھی طرح واقف ہے۔امریکہ کی ایک بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ دبائو کے باوجود مغربی ممالک نے کھل کر عالمی فوج کی مداخلت کو مسترد کر دیا ہے۔جبکہ چین، روس، فرانس اور ترکی نے صاف کر دیا ہے کہ امریکہ اور نیٹو افواج کی جانب سے لیبیائی سرحدوں کے اندر گھس کر ناکہ بندی اور فوجی مداخلت ناقابل عمل ہے اور اگر پھر بھی یہ مداخلت کی گئی تو نتیجہ قذافی کے حق میں امریکہ کے خلاف نکلے گا اور اس طرح پانسہ پلٹ بھی سکتا ہے۔ اس کے بعد امریکی حکومت کی جانب سے لیبیا پر پابندی اور غیر اعلانیہ سمندری ناکہ بندی کا سہارا لیا گیا ہے،تاکہ لیبیائی فوج پر نفسیاتی دبائو بنایا جا سکے۔ عرب اخبارات اور ایرانی میڈیا کا ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ عدم استحکام کا بنیادی سبب امریکی مداخلت اور اس کی پالیساں ہیں۔
تازہ صورتحال کے مطابق لیبیا میںعالمی فوجی مداخلت کے لیے دوست ممالک کو راضی کرنے میں ناکامی کے بعدکنیڈین اور امریکی بحری جہازوں نے لیبیائی سمندری حدود میں آکر غیر اعلانیہ ناکہ بندی کرلی ہے،لیکن اس ناکہ بندی کے باوجود سرکاری فوج باغیوں کے خلاف کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔مشرقی شہریوں میں جہاں باغیوں کا زور زیادہ ہے لیبیائی فوج اور الخمیس بریگیڈ کے خلاف عوامی طور پربھرتیاں شروع ہو گئی ہیں۔تین روزہ تربیتی سیشن میںباغی عناصر لیبیائی فوج سے باغی افسران کی مدد سے اسلحہ و گولابارود چلانا اور جنگی قوانین کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔عرب تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ امریکہ کے پاس قذافی کی حکومت پلٹنے کا بہت کم وقت باقی ہے۔اس لیے امریکہ کی پوری کوشش ہے کہ کسی بھی طرح سرکاری فوج کو نو فلائی زون کی مدد سے معطل کر دیا جائے یا باغیوں کو اسلحہ فراہم کرکے اپنے ایجنٹس لیبیائی باغیوں میں شامل کردئے جائیں لیکن امریکہ کی مشکل یہ ہے کہ لیبیائی باغیوں کے اہم لیڈروں نے امریکی مدد کی پیشکش کو مسترد کردیاہے جس سے امریکہ کو دھکا لگاہے۔
عرب اخبار الشروق اور خلیج ٹائمز کا مانناہے کہ بن غازی ،البیضاء، سرسا،البریفا اور کئی شہروں کا کنٹرول سنبھالنے کے لئے کاروائیاں شروع کردی گئی ہیں۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بدھ کے دن ہندوستانی وقت کے 3.30بجے شام کو لیبیائی فوج نے سرسا البریفاکاکنٹرول حاصل کرلیاہے۔ باغی رہنمامحمدیوسف کا کہنا ہے کہ وہ تصدیق کرسکتے ہیں کہ لیبیائی فوجوں نے گھمسان کی جنگ کی لیکن مختصر سی جنگ کے بعد سرسا کا کنٹرول حاصل کرلیااور باغیوں کو مارکر بھگا دیا اب باغی سرسا سے 75کلومیٹر دور موجود دوسرے باغیوں کے گڑھ شہر اجدابیہ کی جانب رخ کررہے ہیں جہاں شکست خوردہ باغی بھاگ بھاگ کر آر ہے ہیں۔ ا جدابیہ میں موجود شکست خوردہ باغیوں کا کہنا ہے کہ زمینی دستوں کے ساتھ گنشپ ہیلی کاپٹر اور جیٹ طیاروں کی مدد سے بہت سرعت سے آپریشن کیاگیا۔ سرکاری فوج اور الخمیس بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے ایلیٹ کمانڈوز کا کہناہے کہ جلد ہی دوسرے شہروں میں بھی باغیوں کی سرکوبی کی جائے گی۔ سرکاری افواج کی طرف سے عوام کو وارننگ دی جارہی ہے کہ وہ قذافی کی حمایت میں نکل آئیں اور باغیوںکے نام بتادیں تاکہ اس کے بد لے ان کی جان بخشی کردی جائے۔ رائٹرز کے نامہ نگار اورتجزیہ نگار ماریہ گولووینا کا کہناہے کہ اب تک یہی کہاجارہا تھا کہ لیبیائی فوج کی طرف سے کوئی کامیاب کاروائی نہیں کی جارہی ہے لیکن اب سرساشہر کا کنٹرول حاصل کرنے سے ثابت ہورہاہے کہ قذافی کی فوجیں کامیابیوں سے ہمکنار ہورہی ہیں۔ دوسری طرف غیرملکی نامہ نگاروں نے جو باغیوں کے اہم شہراجدابیہ میں موجود ہیں کہا ہے کہ اب سرکاری فوجوں کی طرف سے اجدابیہ کا نمبرلگنے والاہے جہاں باغیوں کی کثیر تعداد موجود ہے۔ غیرملکی نامہ نگاروں کامانناہے کہ باغیوں کی تعداد بھی بہت کافی ہے اور اسلحہ اور گولا بارود بھی ہے لیکن تربیت اور حوصلے کی کمی کی وجہ سے یہ ناکام ہورہے ہیں اور یہ باغی تربیت یافتہ فوج کا مقابلہ ہرگز نہیں کرسکتے چاہے انہیں کتنی ہی ٹریننگ حاصل ہوجائے۔ امریکہ اور مغربی میڈیا کی طرف سے مبالغہ آرائی کی جارہی تھی کہ اسلحہ سے لیس باغیوں کی فوج طرابلس کی طرف پیش قدمی کررہی ہے اور سرکاری فوج سے آخری معرکہ طرابلس میں ہی ہوگا۔ اس وقت لیبیا سے ملنے والی الجزیرہ، خلیج ٹائمس، العربیہ اور دوسرے اہم اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کا کہناہے کہ باغیوں کی طرف سے طرابلس میں مارچ نہیں بلکہ سرکاری افواج کے ذریعے مشرقی شہروں کا محاصرہ کیاجارہاہے جہاں باغی سرکاری اسلحہ لوٹنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ CIAسے تعلق رکھنے والے ایک سابق افسر رابرٹ ایڈرسن کاکہناہے کہ مشرق وسطیٰ میںموجودہ صورت حال امریکہ کی پیدا کردہ ہے جو اس خطے میں عوامی احتجاج کی لہر کی آڑ میں تیل کے اتنے بڑے ذخائر پر ڈائریکٹ طورپر خود قابض ہونا چاہتا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں امریکی کارروائیوں اور لیبیا میں ممکنہ فوجی مداخلت کی امریکی خواہش کے حوالے سے ترک جریدے ’قلت‘ کا مانناہے کہ بحرہ روم میں اس وقت تین امریکی جہاز موجود ہیں جو لیبیا کا گھیرائو کئے ہوئے ہیں۔ یہ تینوں تباہ کن بیڑے یوایس ایس انٹرپرائز، یوایس ایس کیرسرج اور یو ایس ایس پونس ہیں اور ان تینوں بحری بیڑوں پر ڈھائی ہزار امریکی کمانڈوز اورمیرنیز موجود ہیں اور وہ بحری بیڑوں کے پاس کسی بھی ملک میں مارکرنے کے لئے intercontinantal ایٹمی اور روایتی وار ہیڈز سے لیس میزائیلوں کی کثیر تعداد بھی نصب ہے۔ امریکی ماہرین کا مانناہے کہ نہرسوئیز کے راستے بحر روم میں داخل ہوئے دوتباہ کن طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس کیرسرج اور یو ایس ایس پونس کی خاصیت یہ ہے کہ سمندر میں تیرتے تیرے اچانک خشکی پر بھی آسکتے ہیں اور اسی طرح خشکی پر بھی کارروائی کرسکتے ہیں جیسے کہ سمندر میں کرتے ہیں۔
دوسری جانب کرنل قذافی اوران کے صاحبزادے نے امریکہ کے اقدامات اور لیبیاکے تعلق سے امریکی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایاہے اورامریکہ کے رویے کو غیرذمہ دارانہ قرار دیاہے۔ اسکائی نیوزسیٹلائٹ چینل کو دئے گئے ایک انٹرویو میں سیف الاسلام قذافی کا کہناہے تھا کہ امریکہ کو لیبیا کے معاشرے اور روایات اور تہذیب کا کچھ بھی علم نہیں ہے۔
لیبیائی اخبارالخبر الجدید نے قذافی کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ ایک درجن سے زیادہ مستعفی ہونے والے اہم افسروں اور وزیروں کی جگہ نئی تقرری کررہے ہیں۔ لیبیائی اخبار الخبرالجدید کے مطابق مستعفی وزیرقانون عبدالجلیل مصطفی کی جگہ محمدالقموحسنی اور وزیرداخلہ عبدالفتاح یونس کی جگہ عبدالحفیظ مسعود کو مقررکیا گیاہے جب کہ سابق اٹارنی جنرل محمدالعریبی کی جگہ عبدالرحمن العباد کو لایاگیاہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *