مناتے رہئے یوم خواتین اور کرتے رہئے انہیں کا دامن داغدار

وسیم راشد
وہ ہفتہ تھا یوم خواتین کا یعنی اس ہفتے میںایک دن پوری دنیا میں خواتین کا عالمی دن مانا جاتا ہے اور منایا جاتا ہے یعنی 9 مارچ اور 9 مارچ کو ہی کئی خبریں ایک ساتھ سامنے آئیں۔ وہ خبریں اس طرح ہیں۔
راجدھانی میں طالبہ اور ضعیفہ کا قتل یعنی یوم خواتین کے ہی دن دہلی یونیورسٹی کی طالبہ کو گولی مار کر قتل کردیا گیا اور ساتھ ہی ایک 83 سالہ بزرگ خاتون کا بھی قتل ہوگیا۔ ایک طرف ایک نوجوان لڑکی صرف اور صرف 22 سال کی، اندازہ لگانے والے بھی ظاہر ہے نوجوان لڑکی کے حساب سے ہی اندازہ لگارہے تھے، جس میں سب سے پہلا اور مضبوط اندازہ یقینا یہی تھا کہ معاملہ محبت کا ہی رہا ہوگا، لڑکی کا انکار لڑکے کی ہار۔ لڑکی کی بے وفائی لڑکے کی بدلے کی آگ وغیرہ۔ مگر دوسری طرف بھلا 85 سالہ ضعیفہ سے کسی کی کیا دشمنی ہوسکتی تھی؟ یہاں تو نہ معاملہ محبت کا ہوسکتا ہے نہ ہی بے وفائی کا۔ ہاں جائیداد، خاندانی جھگڑے ہوسکتے ہیں، مگر ایک 85 سالہ ضعیفہ کو مارنا کوئی بہادری نہیں ہے۔ اس ہفتے کی دوسری خبروں پر بھی نظر ڈالتے ہیں۔ ساگر پور میں ایک پانچ سالہ معصوم بچی کے ساتھ زنا بالجبر ہوتا ہے اور پھر اینٹ مار مار کر اسے مردہ سمجھ کرچھوڑ کر مجرم چل دیتے ہیں۔ دہلی کے جگت پوری میں ایک انجینئرنگ کالج کی پروفیسر اور طالبہ کے ساتھ چھیڑ خانی کا واقعہ، جس میں غازی آباد کے ایک انجینئرنگ کالج کی ایک پروفیسر کو انہی کے کرائے دار نے راستے میں روک لیا اور چھیڑ خانی کرنے کی کوشش کی۔ 17 سالہ طالبہ کو بھی ایک لڑکے نے راستے میں چھیڑا اور جب اس لڑکی نے شور مچایا تو اس پر تیزاب ڈالنے کی دھمکی بھی دی گئی۔
یہاں ان سبھی خبروں کو بیان کرنے کا مقصد یہی ہے کہ آپ منارہے ہیں یوم خواتین۔ پورے ہفتہ خواتین کے اعزاز میں لاکھوں روپیہ خرچ کیا جارہا ہے۔ اپنی انہی تنظیموں، اداروں، این جی اوز اور مختلف انجمنوں کو جو یوم خواتین منانے کے لیے لاکھوں روپیہ مل رہا ہے، اس کا 10 فیصد خرچ کر کے ایسی ایسی خواتین کو تلاش کیا جارہا ہے جو سماجی اور سیاسی حیثیت سے اس ایوارڈ کی حق دار ہوں اور ان پر کوئی حرف نہ آسکے کہ بھئی پیسے کا صحیح استعمال نہیں ہوا، مگر کیا 2 گھنٹے کا پروگرام کرنے، ایک دن منانے یا ایک ہفتہ منانے سے خواتین کی حالت میں کوئی سدھار پیدا ہوا؟ کیا اس کا کوئی مطلب نکلا؟ سیدھی بات ہے جب تک ہم اپنے بچوں اور نئی نسل کو عورت کا احترام کرنا نہیں سکھائیںگے، جب تک اس کے تقدس کی حفاظت ہماری نوجوان نسل کرنا نہیں سیکھے گی، تب تک آپ کتنے ہی دن منا لیجیے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم فیل ہوگئے ہیں اپنی نوجوان نسل کو عورتوں کا احترام کرانے میں۔ ہم فیل ہوگئے ہیں اپنے بچوں کو عورت کا تقدس برقرار رکھنے کی کوشش میں۔ ہم فیل ہوگئے ہیں عورت کو بازار کی چیز نہ سمجھ کر، جسم نہ سمجھ کر، ماں بہن، بیوی، بیٹی بنانے میں اور ہماری یہ ناکامی صرف اور صرف ہماری وجہ سے ہے۔ ہم نے اس نوجوان نسل کو پوری آزادی دی۔ اچھے سے اچھے اسکولوں میں پڑھایا، ان کو انگریزی کی تعلیم دلائی، ان کو ناچ رنگ کی محفلوں میں جانے کی اجازت دی، مگر ہم نے ان کو پہلا درس یہ نہیں دیا کہ تم کو جنم دینے والی عورت بے شک صرف تمہاری ماں ہے، مگر وہ ہر گھر میں ہر سماج میں مختلف ناموں سے جانی جاتی ہے۔ ہم نے اپنے بچوں کو عورت کا احترام کرنا نہیں سکھایا۔ ہمارا معاشرہ عورت کو اب بھی وہ مقام نہیں دیتا اور صرف ہندوستان میں ہی کیا پوری دنیا میں عورتوں کی حالت خراب ہے، مگر ہم کو پہلے اپنے گھر کو دیکھنا ہے۔ اپنے ملک کو اور اپنے شہر کو دیکھنا ہے اور ہمارے شہر میں حالت یہ ہے کہ پورے ملک میں ہورہی عصمت دری میں سے ہر چوتھا معاملہ دہلی کا ہے۔ 2009 میں تقریباً 460 کے قریب عصمت دری، خواتین کے اغوا وغیرہ کے معاملات سامنے آئے اور 2010 میں 500 کے قریب زنابالجبر کے واقعات ہوئے ہیں۔ 2010 کے اعداد وشمار لیں تو تقریباً 3544 خواتین اغوا ہوئیں، جن میں دہلی کی ہی تقریباً 1389 خواتین ہیں۔ اب آجائیے دہلی پولس کے تازہ اعداد و شمار پر جس کے مطابق ہر 8 گھنٹے میں خواتین کے ساتھ زنابالجبر اور ہر 4 گھنٹے میں چھیڑ چھاڑ کا واقعہ ہوتا ہے۔ دہلی کا اتنا برا حال کیوں ہے؟ دہلی کی خواتین کیا زیادہ خوبصورت ہیں؟ دہلی کی لڑکیاں کیا زیادہ سیکسی لباس پہنتی ہیں؟ دہلی کی لڑکیاں کیا دوسرے شہروں کے مقابلے زیادہ دیر رات تک گھر لوٹتی ہیں؟ ان سب کا جواب یہ ہے کہ دہلی سے زیادہ فیشن ممبئی میں ہے، مگر وہاں کے اعداد و شمار دیکھیں تو دہلی کے مقابلے کم ہیں۔ اس وقت میری خواہش یہی تھی کہ پورے اعداد و شمار دیے جاتے، مگر اعداد و شمار دے کر اپنی قابلیت یا اپنی معلومات کا اظہار کرنے سے بہتر یہی ہے کہ وجوہات کا اندازہ لگایا جائے کہ آخر دہلی ہی سب سے زیادہ اس کی زد میں کیوں ہے؟ جب کہ یہاں کی وزیراعلیٰ خود ایک خاتون ہیں۔ مگر اس بار وہ بھی خاص فکر مند نظر آرہی ہیں اور انہوں نے دہلی کے پولس کمشنر کو اس الزام پر کہ دہلی والوں کا جنس پر الگ رویہ ہے کافی سرزنش بھی کی ہے، مگر شیلا جی سے ہم ہاتھ جوڑ کر التماس کرتے ہیں کہ آپ دہلی میں ہر علاقے ہر محلہ میں موبائل وین لگائیے تاکہ پولس ہوشیار رہے۔ ہفتے اور اتوار کی رات کو رئیس گھر کی بگڑی ہوئی لڑکیاں زیادہ نکلتی ہیں۔ ایسے میں زیادہ پولس فورس اور موبائل وین کی ضرورت ہے۔ نوجوان نسل کو تو آپ کچھ کہہ نہیں سکتے، مگر یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ اپنی بچیوں کو قابل اعتراض لباس زیب تن کرنے سے روکیں۔ وہ لباس جس سے کہ جذبات برانگیختہ ہوں ایسے لباس سے بھی پرہیز کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ والدین پر اور خاص کر بھائیوں پر یہ ذمہ داری ہے کہ کم سے کم اپنی بہنوں کو خود لانے لے جانے کا انتظام کریں۔ جو لڑکیاں رات کو نوکری کر کے واپس آتی ہیں، ان کی حفاظت کا جب تک بھر پور انتظام نہ ہو، ان کو ایسی جگہ نوکری نہ کرنے دیں۔ اگر بحالت مجبوری لڑکیوں کو نوکری کرنی پڑ بھی جائے تو پھر گھر والوں کو اعتماد میں لے کر۔ اگر آفس میں دیر ہوجائے تو وہیں رک جائیں۔ حالانکہ شیلادیکشت کہنے کو تو بہت ہی فکر مند دکھائی دے رہی ہیں، مگر ان کا یہ بیان کہ اگر اس شہر کی لڑکیوں اور خواتین کو محفوظ رہنا ہے تو اول تو گھر سے ہی نہ نکلیں اور اگر نکلیں تو شام ہونے سے پہلے گھر لوٹ جائیں۔ بڑا ہی مضحکہ خیز بیان ہے۔ شیلا جی سے کوئی یہ پوچھے کہ آپ کی تو وہی مثال ہوگئی کہ شہر کی بتیاں گل کرو راجہ جی کی آنکھیں دکھ رہی ہیں۔ بھئی پولس کی ناکامی کی وجہ سے پورے شہر پر منحوسیت طاری کروانے کی کیا ضرورت ہے۔ ہر لڑکی عیاشی یا اپنے بوائے فرینڈ سے ملنے کے لیے نہیں نکلتی۔ بہت سے گھر ایسے بھی ہوںگے جہاں کوئی لڑکا نہیں ہوگا۔ بہت سے گھر ایسے ہوںگے جہاں مجبوراً لڑکی کو نوکری کرنی پڑرہی ہوگی۔ ایسے میں صرف اپنے سسٹم کو سدھارنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک میں صدر خاتون ہیں، ہندوستان کی راجدھانی کی وزیراعلیٰ خاتون ہیں،لوک سبھا اسپیکر خاتون ہیں، سب سے بڑی ریاست اترپردیش کی چیف منسٹر خاتون ہیں، ریلوے کی وزیر خاتون ہیں۔ یوپی اے کی چیئرپرسن خاتون ہیں۔ اتنی خواتین کے ہوتے ہوئے ہندوستان اور خاص کر دہلی میں عورتوں کے جرائم کا گراف اوپر جانا شرم کی بات ہے۔
ہم لمبی چوڑی باتیں کرنا نہیں جانتے۔ سنی سنائی باتیں کرنا نہیں جانتے۔ ہم عملی کام کرنا اور عملی اقدامات پر عمل کرنا جانتے ہیں اور عملی قدم یہی ہے کہ پولس، انتظامیہ، حکومت، ریاستی حکومت سب کو مل کر سوچنا ہوگا۔ اگر پولس کو ہی قابل اعتماد بنا دیا جائے تو یہ بڑی جیت ہوگی، کیوں کہ سب سے زیادہ لااعتبار پولس ہی ہے۔ عوام سب پر بھروسہ کرلیتے ہیں، مگر پولس پر نہیں۔ ہمارے لیے یہی لمحۂ فکریہ ہے کہ کیسے خواتین کو محفوظ رکھا جائے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *