کسب معاش بھی دین ہے

قمر عثمانی
اللہ  تعالیٰ نے دنیا میں انسانوں کو پیدا فرمایا تو اس کے ساتھ اس کی ضرورتیں بھی رکھیں یعنی اس کو صاحب احتیاج بنایا پیٹ بھرنے کے لئے کھانا ، پیاس بجھانے کے لئے پانی، بدن ڈھانپنے اور سردی گرمی سے بچائو کے لئے لباس، بودو باش کے لئے مکان وغیرہ سب ضرورتیں انسان کے ساتھ وابستہ ہیں۔ فی الحقیقت انسان جن چیزوں سے راحت حاصل کرتا اور مستفید ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بیش بہانعمتیں ہیں، ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانا اور ان کے حصول میں جدوجہد کرنا اور ان سے متمتع ہو کر ان سے فائدہ حاصل کر کے حق تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنا یہ مستحسن بھی ہے اور پسندیدہ بھی نیز کار ثواب بھی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’فکلو ممارزقکم اللہ حلالاطیبا واشکرو نعمۃ اللہ ان کنتم ایاہ تعبدون‘‘(یعنی پس کھائو تم جو اللہ تعالیٰ نے تم کو حلال پاکیزہ رزق عطا فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی بندگی کرتے ہو) اس آیت میں حلالا طیبا کہہ کر اشارہ اس طرف کیا کہ جو چیز یا مال یا کھانا جائز طریقہ سے حاصل کیا ہو وہ کھائو چوری ڈکیتی غضب یا فریب کاری کے ذریعہ حاصل شدہ چیز یا غیر اللہ کے نام پر نذر کی ہوئی چیز کھانا وغیرہ ہر گز مت کھائو شکر کا مطلب بھی یہ ہوتا ہے کہ جو نعمت اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے اس کو اس کے بتائے طریقہ کے مطابق ہی حاصل بھی کیا جائے اور اس کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق ہی اس کو استعمال کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کو اور کائنات کی تمام چیزوں کو انسان کے فائدے اور اس کی راحت رسانی کے لئے مسخر کر دیا ہے اور منشائے خداوندی یہ ہے کہ حق شناس بندہ شکر ادا کرتے ہوئے اس کی بندگی اور عبادت کا فریضہ بجا لائے شیخ سعدیؒ نے کہا ہے کہ
ابرو بادو مہ و خورشید و فلک درکارند
تاتو نانے بکف آری وبغفلت نخوری
ایں ہمہ بہرتوسرگشتۂ فرماں بردار
شرط انصاف نباشد کہ تو فرماں نہ بری
(یعنی بادل ہوا چاند سورج اور آسمان سب خدمت میں لگے ہیں تاکہ توروٹی حاصل کرے اور غفلت سے نہ کھائے۔ یہ سب چیزیں تیری خدمت میں مشغول ہیں اور فرماں برداری کر رہی ہیں یہ انصاف کی بات نہ ہوگی کہ تو اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری نہ کرے) بعض اوقات ایسا سمجھا جاتا یا کہا جاتا ہے کہ دین صرف نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کا نام ہے باقی چیزیں دین سے خارج ہیں یہ انداز فکر غلط اور دینی مزاج کے منافی ہے۔ ہر وہ کام چھوٹا ہو یا بڑا اہم ہو یا غیر اہم انفرادی ہو یا اجتماعی وہ شریعت کے احکام کے مطابق کیا جائے وہ دین ہے، کار ثواب ہے باعث برکت ہے۔ چنانچہ اپنی اور اپنے متعلقین کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کسب معاش کرنا شرعی حدود میں رہ کر اس کے لئے جدوجہد کرنا یہ بھی دین ہے اور اس پر ثواب ملتا ہے۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے۔
کسب الحلال فریضہ بعد الفریضہ۔ یعنی حلال روزی کمانا فرض ہے، فرائض کے بعد۔اس حدیث شریف سے کسب حلال کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔طلب معاش تجارت کی شکل میں ہو، زراعت کی صورت میں ہو، ملازمت کے طریقہ سے ہو، دستکاری کے انداز سے ہو، بہر صورت موجب خیر و برکت بھی ہے اور قلبی اطمینان بھی حاصل ہوتا ہے۔ حلال روزی کے ذریعہ جب ایک شخص پیسہ کماتا ہے اور اس سے اپنی ضروریات پوری کرتاہے تو اس طرح وہ اپنے فقر اور تنگدستی کو دور کرتا ہے اور فقر ایسی چیز ہے کہ بعض اوقات انسان کو کفر تک پہنچا دیتا ہے۔ حدیث شریف میں کادا الفقران یکون کفراً۔ یعنی فقر انسان کو کفر تک پہنچا دیتا ہے۔حدیث شریف میں ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جس نے دنیا اس نیت سے کمائی کہ بھیک مانگنے سے بچے اور اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے اور ہمسائے پر ترس کھائے ( یعنی اس کے ساتھ صلہ رحمی کرے) تو وہ حق تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوگا اور جس نے حلال دنیا کو جمع کرنے اور لوگوںپر فخر کرنے کی نیت سے کمایا تو حق تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضبناک ہوگا۔ایک مرتبہ ایک صاحب خدمت نبویؐ میں حاضر ہوئے اور سوال کیا آپ ﷺ نے دریافت فرمایا تیرے گھر میں کچھ ہے؟ انھوں نے کہا کہ ایک کمبل ہے اور ایک پانی پینے کا پیالہ ہے۔ آپ ﷺ نے وہ لے کر دو درہم میں اس کو نیلام کیا اور دو درہم اس کو دے کر کہا ایک درہم کا غلہ خرید کر گھر میں ڈال دو اور دوسرے درہم سے کلہاڑی خرید کر میرے پاس لائو۔ چنانچہ ان صاحب نے ایسا ہی کیا۔ آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے اس میں لکڑی لگائی اور فرمایا جنگل سے لکڑی کاٹ کر بیچو اور پندرہ دن تک میں تم کو نہ دیکھوں، چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا۔ جب دس درہم کما لئے تو خدمت نبویؐ میں حاضر ہوئے، چند درہم کا کپڑا خریدا چند کا کھانا، حضورﷺ نے فرمایا یہ تمہارے لئے اس سے بہتر ہے کہ بھیک کا داغ قیامت کے دن لے کر آئو۔ ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو مسلمان بیج بوتا یا درخت اگاتا ہے کہ اس سے انسان یا چرندپرند کھائے تو وہ اس کے لئے صدقہ بنتا ہے۔ اسی ذیل میں یہ بات بھی قابل ذکر اور اہم ہے کہ حضرت انبیا علیہم السلام بھی عبادت و دعوت و تبلیغ کے عظیم الشان کام کے ساتھ ساتھ کسب معاش میں مشغولیت رکھتے تھے۔ حضرت آدم علیہ السلام نے کھیتی کی خود اس کو پانی دیا خود اس کو گاہا خود اس کو کاٹا، خود اس کو پیسا ، خود اس کی روٹی پکائی اور کھائی۔ حضرت نوح علیہ السلام نجاری (بڑھئی) کا پیشہ کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام بزاز تھے یعنی کپڑا فروخت کرنے کا کاروبار کرتے تھے۔ حضرت دائود علیہ السلام زرہ بناتے تھے۔حضرت سلیمان علیہ السلام کھجور کے پٹھوں کی ٹوکریاں بناتے تھے۔ اور ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ نے بکریاں چرائیں نیز حضرات صحابۂ کرام رضوان علیہم اجمعین نے بحری اور بری سفر کر کے تجارت کا مشغلہ اختیار کیا ہے۔ حاصل گفتگو یہ ہے کہ مسلمان حدود شریعت میں رہتے ہوئے حلال و حرام، جائز و ناجائز، غلط اور صحیح کو ملحوظ رکھتے ہوئے کوئی کام کرے کوئی مشغلہ اختیار کرتے نیت اور مقصود یہ ہو کہ رزق حلال حاصل ہو تو یہ بھی دین ہے اور جب یہ دین ہے تو اس پر یقینا ثواب ملے گا۔ کاروبار حیات میں جدوجہد کرنا اور سماج و معاشرے میں باعزت اور باوقار زندگی گزارنے کے قابل خود کو بنانے کے لئے تگ و دو کرنا یہ دین ہے۔ دین کا دائرہ محدود اور تنگ نہیں ہے بلکہ اس میں وسعت ہے وہ پوری زندگی کا احاطہ کرتا ہے۔کسب معاش کے ذریعہ اگر ایک شخص خوشحالی حاصل کرتا ہے تو بہت سے نیک کام کر کے ثواب حاصل کر سکتا اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتا ہے۔ مثلاً زکوٰۃ، خیرات دنیا، محتاجوں، غریبوں کی مدد کرنا، دین کے کاموں میں تعاون کرنا، قومی و ملی امور میں خرچ کرنا، فلاحی کاموں میں پیسہ خرچ کرنا ، ایسے کاموں میں مال خرچ کرنا جو صدقہ جاریہ کا حکم رکھتے ہیں اور جن کا ثواب مرنے کے بعد بھی ملتا رہتاہے۔ ظاہر ہے یہ سب امور کا رخیر ہیں اور موجب ثواب ہیں اور دین میں داخل ہیں ۔آج کے دور میں خاص طور پر یہ ضروری ہے کہ مسلمان معاشرتی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے ہوئے اپنے آپ کو باوقار اور سربلند قوم کی حیثیت میں پیش کرنے کی کوشش کریں اور یہ باور کریں کہ یہ بھی دین ہے۔ آخری بات یہ کہ احکام شریعت کی پاس داری کرتے ہوئے اور حتیٰ الامکان جھوٹ فریب، دغا، بدعہدی وغیرہ برائیوں سے دامن بچاتا چلے تو مسلمان کی دنیا بھی دین ہے اور اس پر ثواب ملتا ہے۔ حکیم الامت حضرت تھانویؒ نے فرمایا’’ معاشرت بھی دین کا جز ہے۔‘‘
جو کچھ ہم نے کہا کہ اس جملے سے اس کی تائید ہوتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *