قرآن کا نظریہ ٔ جہاد

جہاد ایک جامع لفظ ہے، جس کے معنی کسی مقصد کے حصول کے لیے بھرپور طور پر کوشش کرنے کے ہیں۔ دشمنوں کے ساتھ لڑائی کے معنی اس میں لازمی طور پر شامل نہیں ہیں۔ اس معنی کے لیے قرآن نے ایک دوسری اصطلاح ’’قتال‘‘ استعمال کی ہے، جو عمل جہاد کی ایک استثنائی صورت ہے۔ اسلام کی دعوتی تحریک پورے طور پر ایک پُرامن تحریک ہے، اس کا مقصد خدا کے بندوں کو خدا کی طرف بلانا، خدا کے ساتھ اُن کا رشتہ مضبوط کرنا اور معاشرے میں عدل و خیر قائم کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ وہ مثبت ماحول کی طالب ہے اور جنگ اور جدال مثبت ماحول کی ضد ہیں۔ جہاد کے بنیادی معنی( کسی صالح مقصد کے حصول کے لیے حتی المقدور کوشش کرنا( کے تعلق سے قرآن میں مختلف آیات وارد ہوئی ہیں:
’’جو لوگ ہمارے تعلق سے (یعنی ہماری حقیقت و معرفت کے حصول کے لیے) جہاد کریں ہم انھیں اپنی راہیں ضرور دکھائیں گے۔‘‘ (العنکبوت:69)
اسی طرح ایک جگہ مال کے ذریعہ (الحجرات:15) اور ایک دوسری جگہ قرآن کے ذریعہ جہاد کا حکم دیا گیا ہے (الفرقان:52) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : ’’مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرے۔‘‘(المجاہد من جاھد نفسہ۔ ترمذی) نفس کے ساتھ جہاد اپنی خواہشاتِ نفسانی کے ساتھ جہاد کرنا ہے۔ جسے ایک دوسری حدیث(کنزالعمال) میں جہادِ اکبر سے تعبیر کیا گیا ہے، لیکن اس جہاد کے علاوہ جہاد کی وہ قسم جسے قرآن میں عام طور پر قتال کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے، کی بھی قرآن میں اجازت دی گئی ہے، لیکن یہ اجازت مختلف شرطوں کے ساتھ مشروط اور مقید ہے۔ اس لیے جہاد (بمعنیٰ قتال) کے عنوان سے کی جانے والی ہر لڑائی جہاد کہلانے کی مستحق نہیں ہے۔ اس کی نیت کے صالح ہونے کے ساتھ مقصد کا بھی صالح اور صحیح ہونا ضروری ہے اور یہ مقصد اللہ کے کلمے کو بلند کرنا (اعلائے کلمۃ اللہ) ہے۔
اس وقت نظریۂ جہاد کے تعلق سے صرف غیر مسلموں میں ہی نہیں مسلمانوں میں بھی شدید غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ قرآن کے نظریۂ جہاد کو اس کے صحیح تناظر میں سمجھنے کی کوشش نہ کرنا ہے۔ اس تعلق سے سب سے اہم مسئلہ جہاد سے متعلق وارد شدہ آیات کی تفہیم کا مسئلہ ہے۔ صرف غیر مسلموں نے ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کے بھی ایک طبقے نے ان آیات کے پس منظر اور ان کے صحیح انطباق(application) کو سمجھنے میں غلطی کی۔ چنانچہ اس نے جہاد کی علت کفر قرار دیتے ہوئے تمام کفار و مشرکین سے جہاد کو ضروری قرار دیا۔ حالاںکہ یہ صحیح نہیں ہے۔ جہاد و قتال کی علت کفر نہیں ہے، بلکہ محاربہ یا بغاوت ہے۔ حنفی فقہا اور جمہور علما اسی رائے کے قائل ہیں۔ اگر جہاد کی علّت کفر ہوتی تو عورتوں، بچوں اور عبادت خانوں میں گوشہ نشین لوگوں کے قتل کی ممانعت نہ کی جاتی۔ قرآن میں جہاد کی دو مقصد کے لیے اجازت دی گئی ہے: دفعِ فتنہ کے لیے( البقرۃ:193)اور دفاع کے لیے(البقرۃ:191)۔ قرآن کی اصطلاح میں ’’فتنہ‘‘ کا مطلب اس وقت کی وہ صورتحال ہے جس میں لوگوں کو عقیدے اور ضمیر کی آزادی حاصل نہیں تھی۔ سماج میں رائج عقیدے اور مذہب سے ہٹ کر کسی عقیدے کو قبول کرنے پر اس عقیدے کے ماننے والوں کی طرف سے ایسے شخص کو ستایا اور تعذیب((persecution کا نشانہ بنایا جاتاتھا۔ اس صورتحال کے خاتمے کے لیے جس نوع کے جہاد کی اجازت دی گئی اسے ہم جہاد اقدامی سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ دوسری تمام طرح کی جنگ دفاعی ہے اور قرآن میں اکثر اسی کا حکم دیا گیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اب یہی حکم باقی ہے۔ فتنے کی صورتحال کے خاتمے کے بعد اب اس کے استیصال کے لیے کی جانے والی جنگ کی ضرورت بھی باقی نہیں رہی۔ اس طرح علما کی بہت بڑی تعداد جو یہ کہتی رہی ہے اور جس میں سفیان ثوری اور ابن شبرمہ جیسے تابعین سے لے کر موجودہ دور کے اہم علماء شامل ہیں کہ اسلام میں جنگ صرف دفاع کے لیے ہے، وہ اسی معنی میں ہے کہ رسول و اصحابِ رسول کے بعد وہ علّت باقی نہیں رہی، جس کے لیے اس نوع کے جہاد کا حکم وارد ہوا تھا۔ اس معنی میں امام اوزاعی یا بعض دوسرے علمائے اسلاف جہاد کو مشرکین عرب یا قریش تک خاص کرتے ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد لکھتے ہیں:
’’یہ یاد رکھنا چاہیے کہ لڑائی کا جو حکم دیا گیا ہے اس کا تعلق صرف ان مشرک جماعتوں سے ہے جو عرب میں دعوتِ اسلامی کی پامالی کے لیے لڑرہی تھیں نہ کہ دنیا جہان کے مشرکوں کے ساتھ۔ چناںچہ (قرآن میں) اول سے آخر تک خطاب انہی جماعتوں سے ہے۔‘‘ (رسولِ رحمت:259)
شیخ ابو زہرہ لکھتے ہیں: ’’قتال صرف قریش تک محدود تھا، اس لیے کہ انھوں نے ہی جارحیت کا رویہ اختیار کیا تھا اور وہ مکہ میں رہ جانے والے مسلمانوں کومستقل طور پر ستاتے رہے تھے۔غزوہ بدر واحد قریش کے ساتھ خاص تھے،لیکن غزوہ احزاب میں قریش نے پورے عرب کو جمع کرلیا تھا، جو مدینے کی اسلامی ریاست کو جڑ سے اکھاڑ دینا چاہتے تھے۔ اس لیے پورے عرب سے قتال ضروری ہوگیا۔ اس لیے کہ ان تمام لوگوں نے جارحانہ اقدام کیا تھا ۔اسی تعلق سے قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی کہ تمام مشرکین سے جنگ کرو جیسا کہ وہ تمام لوگ تم سے جنگ کرتے ہیں۔‘‘ (التوبۃ:36) (نظریۃ الحرب فی الاسلام ، ص:39 -40، وزارۃ الاوقاف، مصر،2008 ء)
قرآن کا اصول جنگ کرنے والی قوموں کے ساتھ بھی یہ ہے کہ:
’’جب وہ تک تمہارے ساتھ صحیح رویہ اختیار کریں تم بھی ان کے ساتھ صحیح رویہ اختیار کرو (فما استقاموا لکم فاستقیموا لہم التوبۃ:7)
قرآن میں قتال کی جو اجازت دی گئی ہے، اس کی پہلی آیت یہ ہے:
’’جن (مومنوں) کے خلاف ظالموںنے جنگ کررکھی ہے، اب انھیں بھی جنگ کی اجازت دی جاتی ہے، کیوںکہ ان پر سراسر ظلم ہورہا ہے اور اللہ ان کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے۔ یہ وہ مظلوم ہیں جو بغیر کسی حق کے اپنے گھروں سے نکال دیے گئے صرف ان کے اس قول کی بنیاد پر کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے۔‘‘ (الحج:39,40)
قرآن میں جہاں بھی قتال کا حکم دیا گیا ہے اس کی علت عام طور پر یہ بیان کی گئی ہے کہ :’’ان پر ظلم کیا گیا(ظُلِمُوا)، انھیں گھروں سے نکالا گیا (اُخرِجُوا مِن دِیارِہِم) ان کے ساتھ جنگ کی گئی (قُوتِلُوا)‘‘ وغیرہ۔ اس سے یہ بات بخوبی سمجھ میں آتی ہے کہ قرآن کی نظر میں جنگ کی اصلاً دفاع کے لیے ہی اجازت دی گئی ہے۔ جن آیات میں یہ قید اور شرط نہیں ہے وہ اسی دفاعی صورت حال پر محمول ہیں۔ جس وقت یہ آیتیں اتریں اس وقت مومنین و منکرین دونوں قومیں باہم صف آرا تھیں، اس طرح ان احکام جنگ کو اسی پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔
اسی کے ساتھ چند اور باتیں بھی ذہن میں رہنی چاہئیں۔ قرآن ناگزیر صورتحال میں قتال کی اجازت دیتا ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ جارحیت کے جواب میں اسی قدر جارحیت ہو اس سے زیادہ ہرگز نہیں ’’لہٰذا جو تم پر دست درازی کرے تم بھی اس پر دست درازی کرو(البقرۃ:194) دوسرے یہ کہ اگرچہ دفاع کے لیے جنگ کی اجازت دی گئی ہے لیکن زیادہ بہتر ظلم پر صبر کرلینے کو ہی بتایا گیا ہے:
ولئن صبرتم لہو خیر للصابرین (النحل:126)
’’اگر تم صبر کرلو تو یہ صبر کرنے والوں کے لیے زیادہ بہتر بات ہے۔‘‘
خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کا نظریہ جہاد صرف جنگ و جدال کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ قرآن کے ذریعہ جہاد کو، جس کا مطلب دلائل کے ذریعہ منکرین کو قائل کرنے کی کوشش کرنا ہے، ’’جہاد کبیر ‘‘کہا گیا ہے۔
پس آپ کافروں کا کہنانہ مانیں اورقرآن کے ذریعے ان سے پوری طاقت سے بڑاجہاد کریں(الفرقان:52) قرآن میں دفاع جان و مال کے لیے جہاد کی اجازت دی گئی ہے اور یہ فطرت کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔ آخری اور اہم بات یہ ہے کہ جہاد کا مقصد صرف اسلام اور اہل اسلام کی ہی حفاظت نہیں ہے، بلکہ اس کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ غیر مسلم عبادت گاہیں بھی محفوظ رہیں۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے:
’’اگراللہ تعالیٰ لوگوں سے ایک دوسرے کے ذریعہ دفاع نہ کرتا تو عیسائیوں کی خانقاہیں، گرجے، یہودیوں کے سینے گاگ اور مسجدیں ڈھا دی جاتیں جن میں اللہ کاکثرت سے ذکر ہوتا ہے۔‘‘(الحج:40)
قابلِ غور بات ہے کہ جہاد کے ذریعہ عبادت گاہوں کی حفاظت کی فہرست میں مسجد کا تذکرہ سب سے اخیر میں کیاگیا ہے۔
بہرحا ل اس وقت جہاد سے متعلق جوغلط فہمیاں مسلم اور غیر مسلم دونوں حلقوں میںپھیلی ہوئی ہیںاس کی اصلاح کی ضرورت ہے۔بعض انقلابی مسلم جماعتوں کے غلط رویوں کی وجہ سے بھی دوسروں کواس کے حوالے سے اسلام پر اعتراضات کا موقع ہاتھ آگیا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ سنجیدہ مسلم جماعتیں ان رویوںکے اصلاح کے لیے سامنے آئیںاور جہاد اور فسا د کی حقیقت کو سامنے لانے کی کوشش کریں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *