!گودھرا انصاف پر سوال

وصی احمد نعمانی
گودھرا حادثہ سے متعلق عدالتی فیصلہ نے صاحب عقل و شعور، فہم و ذکاء کو بے چین کردیا ہے۔ عدالتیں بہرحال اس بنیاد پر فیصلہ کرتی ہیں کہ اس کے سامنے کس طرح کے گواہان اور شہادتیں پیش کی گئی ہیں، انہیں کو بنیاد مان کر عدالتیں اپنے فیصلے کے رخوں کو موڑتی ہیں۔ اس کے باوجود بہت سی موشگافیاں ایسی ہوتی ہیں جو ثبوت و دلائل کے ساتھ عدالت کے فیصلے کے طرز اور ’’مواد‘‘ کو سراہنے اور انہیں ماننے کی وجوہ پر اپنی نگاہیں کھلی رکھ کر، پھر فیصلہ کی تعریف، تنقید کرتی ہیں۔ احمدآباد کی فاسٹ ٹریک عدالت کے موجودہ فیصلہ کو قانون داں، معزز شہری، امن پسند طبقہ نہایت گہرائی کے ساتھ تنقیدانہ نظر سے دیکھتا ہے اور طے کر رہا ہے کہ قانونی طور پر فیصلہ میں کہاں خامیاں ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اس مقدمے کے کچھ واقعات، ثبوت اور پھر اس کے قانونی پہلو کو دیکھا جائے۔
اس مقدمہ میں کہا یہ گیا ہے کہ 27 فروری 2002کو جب سابرمتی ایکسپریس کارسیوکوں کو لے کر گودھرا پہنچی تو اس گاڑی کے کوچ نمبر S-6 میں گودھرا کے ملزمین نے پٹرول چھڑک کر آگ لگادی اور اس حادثہ میں کوچ کے اندر موجود 59 کارسیوک جل کر مر گئے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزمان نے ایک سازشی میٹنگ ’’امید گیسٹ ہاؤس‘‘ گودھرا میں کی اور وہیں کی سازش کے تحت ملزمان، اب مجرمان نے پٹرول یکجا کی، بھیڑ یکجا کیا اور پھر جرم کا ارتکاب کیا۔ اسی واقعہ کے بعد پورے گجرات میں زبردست مسلم کش فساد پیدا ہوگیا، جس میں تقریباً 2000 کے قریب مسلم مارے گئے، گھر جلائے گئے، گاؤں کے گاؤں اجاڑ دئے گئے، ماں کو بیٹے کے سامنے، بیٹے کو ماں کے سامنے ننگا کر کے عزت لوٹی گئی۔ ماؤں اور بہنوں کی عصمت کو تار تار کردیا گیا۔ ان واقعات کے سلسلے میں ایف آئی آر تک درج نہیں کی گئی۔ تفتیش کی بات تو دور۔ اب سپریم کورٹ کے حکم کے تحت گجرات سے باہر ان مقدموں کی تفتیش کے بعد ٹرائل ہورہا ہے۔ فیصلہ کب ہوگا وہ بھی اسی بات پر منحصر ہے کہ ان مقدموں کی پیروی کیسی ہورہی ہے؟ کن بنیادوں پر ثبوت و دلائل پیش کیے جارہے ہیں؟ یہاں گودھرا ٹرین سے متعلق چند حقائق کو سامنے رکھنا پورے فیصلے کو سمجھنے میں مددگار ہوگا۔
چونکہ راقم الحروف کو خود احمدآباد، گودھرا کے مختلف کیمپوں میں جا کر مواد یکجا کرنے کا موقع ملا تھا۔ دیوگوڑا صاحب سابق وزیراعظم کے قافلہ میں شامل ہو کر رپورٹ یکجا کرنے کے لیے سراج الدین قریشی صاحب اور ان کے رفقاء کار نے حکم دیا تھا۔ میں اور پروفیسر اخترالواسع صاحب اس قافلہ میں شریک ہوئے۔ مورخہ 10 ؍اپریل سے 12 ؍ اپریل کے درمیان مختلف ریلیف کیمپوں کا دورہ کیا گیا اور پھر رپورٹ یکجا کی۔ خاص کر تندلجاامیدکمپلیکس، نور پارک کیمپس، گودھرا،  احمدآباد، حاجی پٹیل ہائی اسکول کیمپ، دریا خان گوٹھ کیمپ، شاہ عالم درگاہ کیمپ، جونا پور کیمپ(یہ ہندو بھائیوں کا کیمپ تھا) وغیرہ میں جا کر پناہ گزینوں سے ملاقات کی اور حالات کا جائزہ لیا۔ گودھرا ریلوے اسٹیشن سے تھوڑی دوری پر وہ بدنصیب کوچ S-6 تھا جو بری طرح جل بھن کر تباہ ہوچکا تھا۔ اس کے اندر ہم سب لوگ داخل ہوئے، مگر حالات دل دہلانے والے تھے۔ گودھرا کے گیسٹ ہاؤس میں مختلف وفود آتے رہے اور دیوگوڑا جی سے اپنی باتیں بتا بتا کر رو رو کر امن و امان کی فریاد کرتے رہے۔ جب ہم لوگ گودھرا کے شیخ قبرستان روڈ کے کیمپ میں لے جائے گئے تو وہاں ایک کہرام سا مچ گیا۔ بیٹیاں، بہوئیں، مائیں، اپنا سر نوچتی تھیں اور دوپٹہ سے اپنے سروں کو ڈھانپنے کی کوشش کرتی تھیں۔ بلک بلک کر ’’بپتا‘‘ سناتی تھیں۔ اس کیمپ میں تقریباً 3500 سے زائد پناہ گزیں تھے۔ بوڑھے، بچے، مریض، کمزور، حاملہ، شیرخوار، معذور ان سب کی چیخ و پکار سے آسمان کانپ اٹھتا تھا۔ وہاں لوگوں نے جو کچھ بتایا اسے دوبارہ بیان کرنے کی ہمت نہ مجھ میں ہے اور لکھنے کی طاقت میرے قلم میں۔ وہاں کا منظر بتاتا تھا کہ سب کچھ منصوبہ بند طریقہ سے کیا گیا تھا۔ ٹرین کا کوچ بھی ایک منصوبہ کے تحت جلایا گیا تھا تاکہ اس سے جو ماحول پیدا ہو، وہ فائدہ میں بدلا جاسکے۔ سیاسی منزلیں طے کی جائیں۔ ایسے سازش کاروں کے سامنے انسانیت، انسان، کارسیوک کی کوئی حیثیت نہیں لگتی تھی۔ وہ تو سب کو جلا کر اپنا سیاسی قد بڑھانا چاہتے تھے جو بظاہر ہوا۔ مگر جب قدرت سزا دیتی ہے تو پھر اس کا ہاتھ تھامنے والا کوئی نہیں ہوتا ہے۔ ایسی سزا جلد ملنے کی امید ہے(انشاء اللہ) کیوں کہ اس کے گھر میں کبھی اندھیر نہیں ہوتا ہے۔ جو حقائق عدالت کے سامنے پولس نے فراہم کیے ہیں، اس بنیاد پر بھی پورا مقدمہ فرضی، من گھڑت اور بے شمار شبہات پر مبنی ہے، جو فیصلہ کے تجزیہ کے بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کی طرح صاف ہوجائے گا اور بڑی عدالتیں اپنی دوربیں نگاہوں سے اس سازش تک پہنچنے میں کامیاب ہوںگی، جس کی وجہ سے بے گناہ، معصوم اور بے قصور انسانوں کو سزا دی گئی ہے۔ اس بدنصیب کوچ کی حالت بتاتی تھی کہ بری طرح اس کے اندر گھس کر یا پہلے سے سازش کے تحت آگ لگا کر کسی بڑے کھیل کی تیاری کی گئی تھی۔ اس کوچ کو آج رونا آتا ہوگا کہ جو جلانے میں تھے وہ دندنا رہے ہیں، جو بے گناہ تھے ان کو پھانسی اور عمرقید کی سزا دی گئی ہے۔
عدالت نے جن بنیادوں پر اپنا فیصلہ سنایا ہے۔ آئیے ذرا اس پر غور کریں۔ اس پورے مقدمہ میں کل 134 ملزمین تھے۔ ان میں سے 14 ملزمان کو ثبوت کی کمی کی وجہ سے چارج فریم کرنے کے اسٹیج پر ہی بری یا ڈسچارج کردیا گیا۔ 5 نابالغوں کو پھنسادیا گیا تھا، یہ پولس کی ناپاک کارکردگی کی ایک مثال ہے۔ 16 ملزمان کو مفرور دکھا کر باقی ماندہ 94 ملزمان کے خلاف سابرمتی سینٹرل جیل میں مقدمہ چلایا گیا۔ 253 گواہان پیش کیے گئے اور 1500 سے زیادہ دستاویزات کورٹ میں داخل کی گئیں اور ان ملزمان میں سے 11 کو پھانسی اور 20 کو عمرقید کی سزا۔ ساتھ میں ہر ایک پر 17300 کے قریب جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ یہ رقم نہ دینے پر ایک سال کی مزید اور سزا کاٹنی ہوگی۔ مگر عمر بھر سزا کاٹنے پر بھی پیسہ نہیں دیا تو عمر گزرنے کے ایک سال بعد کہاں سے پیسہ آئے گا۔
مختصر اور سرسری تجزیہ: مذکورہ بالا ملزمان کے خلاف لگائے گئے الزامات، ان کی عمر اور خود پولس کی ناکامی پن پر مبنی کارکردگی صاف بتاتی ہے کہ کس قدر منصوبہ بند طریقہ پر بے گناہوں کو پھنسایا گیا تھا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ پولس نے جب لوگوں کو اندھا دھند گرفتار کرنا شروع کیا تو اس کے سامنے صرف اپنے آقا کا حکم تھا۔ وہ غلط یا صحیح تھا اس کو پولس عملہ نے بالکل سوچا ہی نہیں، یہاں تک کہ پانچ نابالغ اور معصومین کو ملزم بنا کر جیل میں ڈال دیا۔ ان کے خلاف فرضی ثبوت نہیں بنا سکے، اس لیے ان پانچوں کو رہا کردیا گیا۔ پھر 14 عدد دیگر ملزمان جن کو یکطرفہ کارروائی اور طاقت کے نشہ میں چور پولس نے گرفتار تو کرلیا، مگر ان کے خلاف بھی ثبوت ’’بنا‘‘ نہیں سکی، اس لیے ان سب کو رہا کردیا گیا۔ یہ دونوں واقعات استغاثہ کے مقدمہ کو نہایت کمزور بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ 11 ملزمان جن کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے، ان کی عمر پر غور کریں تو سب کے سب40 سے 50 سال کی عمر کی منزل پر ہیں جو یہ ثبوت فراہم کرتی ہے کہ پولس نے نوجوانوں کو گن گن کر اور چن چن کر گرفتار کیا اور فرضی مقدمہ میں پھنسایا۔ اس سے استغاثہ کی بدنیتی کا پتہ چلتا ہے اور مودی سرکار کی منصوبہ بند سازش کو آشکار کرتی ہے۔
حد تو یہ ہے کہ اس بھیانک آتشزدگی کے کیس، جو مودی سرکار کے منصوبہ کا حصہ ہے، اس میں سب سے محترم اور قابل احترام شخصیت مولانا عمر جی کو خاص ملزم کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ خاص ملزم کا مطلب تعزیراتی قانون میں صرف یہ ہوتا ہے کہ تمام ثبوت، گواہان اس ملزم کے خلاف ہے۔ یعنی جو ہر حالت میں ہر جرم کی منازل پر متحرک رہا ہو۔ خاص ملزم کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر وہ فرد ملزم نہیں ہوتا تو جرم ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ خاص ملزم کا مطلب ہوتا ہے کہ اگر اس کے خلاف جرم ثابت ہوتا ہے تو پورا مقدمہ سچ اور درست ثابت ہوگا۔ اگر مقدمہ اس کے خلاف ثابت نہیں ہوا ہے تو پورا مقدمہ جھوٹا ہے، من گھڑت ہے، فرضی ہے۔ خاص ملزم کا مطلب ہے وہ شخص جو جرم کی نیت کرنے سے لے کر منصوبہ بناتے، سازش کرنے، جرم کو انجام دینے اور نتیجہ تک پہنچنے میں عملی طور پر، ذہنی اعتبار سے ہر قدم پر ساتھ رہا ہو۔ مولانا عمرجی کو ملزم خاص بنا کر ماسٹر مائنڈ کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ مگر خدا نے ان کی بزرگی، نیکی، بے گناہی کو عدالت میں ببانگ دہل ثابت کیا اور کورٹ سے کہلوایا کہ گجرات کی ظالم پولس جس شخصیت کو خاص سازش کار بتا کر انسانیت سوز مقدمہ کے تحت معصوموں کو سزا دلانا چاہتی ہے، وہ عظیم شخصیت بے گناہ ہے۔ یعنی یہ کہ مین ملزم تو دور، وہ سرے سے ملزم ہی نہیں تھے۔ اب فوج داری قانون، شہادت کے قانون کے تحت استغاثہ کی پوری کہانی فرضی اور من گھڑت ثابت ہوگئی ہے۔ یعنی گودھرا کا پورا حادثہ یہ ثابت کرتا ہے کہ جو کہانی ’’مودی کی ٹولی‘‘ پیش کر رہی ہے، وہ اس کی اپنی گڑھی ہوئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں تمام کے تمام ملزمان بے گناہ ہیں، کیوں کہ فوجداری کے مقدمہ کا سب سے بڑا اصول یہ ہے کہ مدعی کے لیے لازم ہے کہ وہ پورے مقدمہ کو شبہ سے بالا تر ثابت کرے۔ فوجداری کے مقدمہ میں صرف شبہ ہی ملزمان کو بری کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اس مقدمہ میں نابالغوں کو پھنسایا جانا، ثبوت کے بغیر 14 آدمی کو بری کیا جانا، خاص ملزم مولانا عمر جی کا بے گناہ ثابت ہونا صرف ایک بات بتاتی ہے کہ اس مقدمہ میں کتنی فرضی کہانیاں گڑھی گئی ہیں۔ یہ واقعہ ایسا ثابت نہیں ہوتا ہے جیسا کہ استغاثہ کی کہانی ہے۔ سب کو بری کیے جانے کے لیے یہ ثبوت کافی ہیں جو ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں نہایت اہمیت حاصل کریںگے اور سب کے سب بری ہوںگے۔
ہمارے سامنے دو کمیشن یا کمیٹی کی رپورٹ بھی ہے جو ایک دوسرے سے بالکل متضاد ہے۔ ایک ہے ریلوے کے ذریعہ مقرر کردہ جسٹس یو سی بنرجی کی رپورٹ اور دوسری ہے جسٹس ناناوتی کمیشن کی رپورٹ۔ جسٹس یوسی بنرجی کمیشن کی رپورٹ کا کہنا ہے کہ سابرمتی ایکسپریس جہاں پر رکی تھی اور جس بلندی پر S-6 کا کوچ تھا، اس جگہ سے کوچ کے اندر پٹرول داخل کرنا ناممکن تھا۔ اس لیے یہ کہنا کہ باہر سے پٹرول چھڑک کر آگ لگائی گئی غلط ہے۔
ٹھیک اس کے برعکس ناناوتی کمیشن نے کہا ہے کہ پٹرول گاڑی کے اندر اور باہر سے چھڑک کر آگ لگائی گئی، لیکن قانونی پوزیشن دونوں رپورٹ کی یہ ہے کہ وہ دونوں رپورٹ قانون کی نگاہ میں صفر ہیں، کیوں کہ کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت کمیشن رپورٹ کی کوئی بھی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ یہاں تک اس طرح کی رپورٹ کو کسی عدالتی کارروائی میں حوالہ کے طور پر بھی پیش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے 7 ججوں نے اپنے فیصلہ میں کہا ہے کہ انکوائری کمیشن رپورٹ کی قانونی حیثیت کوئی نہیں ہے۔ یہ رپورٹ فوجداری یا دیوانی عدالتوں پر بالکل لاگو نہیں ہوتی ہے۔ دیکھیے:
1- 1977(4) S.C.C.-608 اسٹیٹ آف کرناٹک بنام یونین آف انڈیا
2- A.I.R 200-S.C.
3- 1959 S.C.R-279 – رام کرشن ڈالمیا بنام جسٹس ایس آر تندولکر
راقم الحروف نے بٹلہ ہاؤس کے حادثہ کے موقع پر مضمون کے ذریعہ درخواست کی تھی کہ انکوائری کمیشن کی مانگ بے سود محنت ہے، کیوں کہ اس کمیشن سے کچھ حاصل نہیں ہونے کو ہے۔ میں اس وقت درخواست یہ کروںگا کہ موجودہ گودھرا کے فیصلہ پر بھی قانونی نکات کو اخبارات، ٹی وی، سمینار، سمپوزیم میں موضوع بحث نہ بنائیں، کیوں کہ ڈیفنس کا پہلا اصول یہ ہے کہ اپنے نکات عدالت میں پیش کر نے سے قبل کہیں اور نہ پیش کریں۔ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے تمام اہم نکات کو وکیلوں کے ذریعے معلوم کرکے مضامین کے توسط سے پولس عملہ کو بالکل خبردار ہوجانے کا موقع دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تمام افشا نکات کے پیش نظر جو چارج شیٹ داخل کی گئی ہے، اس نے ڈیفنس کو کافی الجھا دیا ہے۔ اس لیے میری درخواست ہوگی کہ وکلا یا فریقین باقی ملزمان کو بچانے کے لیے عوامی بحث میں نہ پڑیں۔ اس سے نقصان ہوگا۔ اس مقدمہ کی تہہ تک جانے کی کوشش کریں تو ایک بات اور یہ ثابت ہوگی کہ ہماری پولس خاص کر جہاں ’’بھگوا‘‘ سرکار ہے۔ پہلے یہ طے کرتی ہے کہ کس کو پھنسایا جانا ہے؟ کیا واقعہ پیدا کرنا ہے؟ کس طرح اس سے فائدہ اٹھانا ہے؟
گودھرا کا واقعہ بھی بالکل ایسا ہی ہے کہ پہلے یہ طے کیا گیا کہ کس طرح ’’مودی‘‘ کی سرکار واپس پاور میں آئے گی؟پھر اسی اعتبار سے یہ طے ہوا ہوگا کہ جگہ کون سی ہوگی پھر ملزمان طے کیے جائیں۔ جرم پہلے طے کرلیا جائے چنانچہ گودھرا کے نوجوانوں کو ملزم بنانا طے کیاگیا۔ پھر ان کے خلاف جرم پہلے ہی طے کرلیے گئے۔ گواہوں کی قسم اور اس کا معیار طے کرلیا گیا اور اسی منصوبہ کے تحت ثبوت یکجا کرلیے گئے اور منصوبہ کی تکمیل کے لیے ٹرین کو آگ کا شکار ہوجانے دیا گیا۔ یہی طریقے پورے ملک میں مقدموں کو بنانے اور ملزمان ’’حاصل کرنے کے لیے‘‘ اپنائے جارہے ہیں۔ پورے ملک میں جہاں کہیں بھی ملزمان مسلم نوجوان بنائے جاتے ہیں، ان کے خلاف جرم اور گواہ، شہادت و ثبوت سب پہلے سے طے کرلیے جاتے ہیں اور اسی کے حساب سے مسلم نوجوانوں کے نام فٹ کر دئے جاتے ہیں۔ گودھرا فیصلے کی خامیاں یہی سب کچھ بتاتی ہیں۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ کہانی دہرائی جاتی رہے گی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پوری قوم اس طرح کے معاملات کو اس طرح لڑے جس طرح منظم اور متحد ہو کر خاموشی کے ساتھ سکھ بھائی 1984 کے فسادات کے نتائج کو لڑ رہے ہیں۔ گودھرا کے مقدمہ کی سماعت اور تفتیش نئے سرے سے ہونا چاہیے۔ ملزمان جو بری کردئے گئے ہیں، ان کے لیے معاوضہ کی بھر پور کوشش کرنی چاہیے۔ گجرات کے باقی مقدمے جو صوبہ سے باہر لڑے جارہے ہیں، انہیں قومی وقار سمجھ کر سکھ بھائیوں کے طرز پر لڑیں۔ گواہوں کی، ان کے خاندان کی حفاظت  اور مالی مدد کریں۔ گودھرا کے مقدمے میں جن کو سزا ہوگئی ہے، ان کے انصاف کے لیے عدالتوں میں خرچ کریں، پیروی کریں اور ان کے خاندان و بچوں، بیٹوں، بیٹیوں کی اس طرح مدد اور رہنمائی کریں جیسے اپنے خاندان کے لیے کی جاتی ہے۔ یہی جواب ہوگا ’’بھگوا‘‘ ذہن کے خلاف عملی طور پر لڑنے کا۔

مضمو ن نگار سپریم کورٹ میں ایڈووکیٹ ہیں

جن لوگوں کو پھانسی کی سزا ملی ہے، ان کے خلاف جو چارجز یا الزماات عائد کیے گئے تھے، وہ اس طرح ہیں، اسے بھی مقدمہ کا تجزیہ کرتے وقت ذہن میں رکھنا ہوگا۔
1-     اسمٰعیل عرف حاجی بلال کی عمر اس وقت 50 سال تھی۔ ان پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے ’’امن گیسٹ ہاؤس‘‘ گودھرا میں ’’سازش‘‘ کی میٹنگ میں شرکت کی اور S-6 کوچ کو نشانہ بنایا۔
2-     محبوب خالد چاندا کی عمر 40 سال بتائی گئی ہے۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے ’’ملزم کرکر‘‘ کے ساتھ مل کر سازش رچی۔
3-     سلیم یوسف زادہ عمر 36 سال پر یہ الزام لگایا گیا کہ ’’سازش‘‘ رچنے کی میٹنگ میں شرکت کی اور کوچ کو جلانے کے لیے پٹرول کا انتظام کرنے میں مدد کی۔
4-     سراج  عبدالبلال کی عمر 36 سال کی تھی اور اس الزام میں گرفتار کیے گئے کہ یہ پٹرول پمپ تک گئے اور پلاسٹک کے کین میں پٹرول حاصل کیا۔
5 –     زبیر بہرا کی عمر 29 سال کی بتائی گئی ہے۔ ان پر یہ الزام تھا کہ یہ ریلوے کوچ تک پٹرول لے کر آئے۔
6 –     رمضانی بہرا کی عمر 29 سال تھی، ان پر الزام تھا کہ یہ سازشی میٹنگ میں شامل ہوئے اور زبیر بہرا کی مدد کی۔ کوچ تک آٹو میں پٹرول لے کر آئے۔
7-     رزاق کرکر کی عمر 53 سال تھی، گیسٹ ہاؤس کے مالک تھے۔ انہوں نے 140 لیٹر پٹرول کا مقامی پٹرول پمپ سے انتظام کیا اور کوچ کے جلنے میں مدد کی۔
8-     عرفان شعیب قلندر کی عمر 31 سال تھی۔ یہ S-6 تک پٹرول لے کر گئے اور آگ لگانے میں مدد کی۔
9 –     جناب محبوب حسن لٹیکو کی عمر 36 سال تھی۔ انہوں نے S-6 اور S-7 کے درمیانی Vestibule یعنی پائپ کو کاٹ ڈالا اور S-6 میں پٹرول لائے، پھر آگ لگا دی۔
10 – حسن احمد چرخا کی عمر 44 سال کی تھی، جب گرفتار کیا گیا۔ ان پر بھی یہ الزام ہے کہ سازشی میٹنگ میں شامل ہوئے، آگ لگائی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ پسنجر باہر نہ جانے پائیں۔
11 – عرفان ایوب حنیف پٹالیا کی عمر 32 سال تھی۔ ان پر الزام ہے کہ یہ کوچ میں پٹرول لے کے گئے تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *