گودھرا کیس: فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے: ڈاکٹر قاسم رسول الیاس

گودھرا سانحہ ایک اندوہناک سانحہ تھا، لیکن اس کیس میں بے قصور لوگوں کو ستایا جانا اس سے بھی زیادہ اندوہناک ہے،کیونکہ اس کیس کی آڑ میں جن لوگوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کیا گیا سماج میں ان کی حیثیت بے قصور ہوتے ہوئے بھی مجرمین کی بن گئی ہے۔گزشتہ دنوں اس کیس پر فیصلہ آیا جو کہ کئی سوالیہ نشان چھوڑ گیا۔ اس موضوع پر چوتھی دنیا کے سینئر نامہ نگار نوازش مہدی نے  جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ کے ممبر  ڈاکٹر قاسم رسول الیاس صاحب سے تفصیلی گفتگو کی۔ گفتگو کے اہم اقتباسات نذر قارئین ہیں۔

سوال:قاسم صاحب گودھرا کیس پر فیصلہ آ چکا ہے،فیصلہ ایسا ہے جس پر سوالیہ نشان لگانے کی بہت گنجائش ہے۔کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ اس فیصلے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے، آپ کا کیا رد عمل ہے؟
جواب:دیکھئے اصل میں گودھرا کا جو فیصلہ ہے اس فیصلے پر کئی طرح کے سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ عدالت نے یہ کہا کہ یہ ایک سازش تھی جبکہ سازش کا جو سرغنہ تھا اس کو بری کر دیا گیا۔جب سازش کا سرغنہ بری ہو گیا تو پھرسازش کے کیا معنی رہ جاتے ہیںسمجھ میں نہیں آتا؟اس کے علاوہ جن بنیادوں پر یہ فیصلہ دیا گیا ہے بالکل ٹھیک انہی سوالات کی تحقیق کرنے کے لیے بنرجی کمیٹی بنی تھی۔بنرجی کمیٹی نے بہت سائنٹفک طریقے سے اس کی تحقیق کی تھی اور وہ اس نتیجہ پر پہنچی تھی کہ آگ اندر سے نہیں لگائی گئی بلکہ باہر سے ہی لگی ہے اور یہ سازش نہیں تھی بلکہ ایک حادثہ تھا۔دوسری بات یہ کہ آپ کو معلوم ہوگا کہ جب ناناوتی کمیشن اس کی تحقیق کر رہا تھا یا پولس بھی تحقیق کر رہی تھی اس وقت اسے فارنسک لیباریٹری کے حوالے کیا گیا تھا۔ فارنسک لیباریٹری میں جانچ سے یہ بات ثابت ہوئی کہ باہر سے پٹرول نہیں لایا گیا تھا۔اس سلسلے میں ایک سوال یہ کھڑا ہوا کہ اگر باہر سے پٹرول نہیں لایا گیا تھا تو پھر پٹرول کہاں سے آیا؟ پھر دروازے باہر سے بند نہیں تھے اور ظاہر سی بات ہے کہ ٹرین کے دروازے باہر سے نہیں بلکہ اندر سے بند ہوتے ہیں، اور پھر اندر سے باہر نکلنے کا لوگوں کے پاس موقع تھا، اگر ٹرین ٹھہری ہوئی تھی تو باہر نکلنے کی کوئی کوشش کیوں نہیں ہوئی؟اس طرح کے کئی سوالات ہیں جن کا کوئی جواب اس فیصلے میں سامنے نہیں آیا۔چونکہ ایک من گھڑت تھیوری گھڑی گئی تھی اور گودھرا کے بعد جو فسادات ہوئے تھے، ان کے لئے گودھرا کو بہانا بنایا گیا تھا۔ اب ظاہر ہے کہ عدالت اگر یہ فیصلہ دیتی کہ گودھرا کا واقعہ ایک حادثہ تھا، یا یہ کہ ایک اتفاقی حادثہ تھا یا یہ کہ اس کے اندر وہ لوگ ملوث نہیں تھے تو پھر یہ رد عمل والی پوری تھیوری خارج ہو جاتی اور پھرگودھرا کے بعد کے جو فسادات تھے جن میںہزاروں لوگ مارے گئے، تقریباً دو ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے اس کو جسٹی فائی نہیں کیا جا سکتا تھا۔جسٹی فائی تو کسی بھی حالت میں نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن جسٹی فائی کرنے کے لیے جو بہانہ بنایا جاتا ہے وہ بہانہ بھی ختم ہو جاتا ،تو ظاہر ہے پھر وہ پوری عمارت ہی منہدم ہو جاتی۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے اور انصاف کی جو بنیادی ضروریات ہیں ان کو بھی پاما ل کرتا ہے،جن لوگوں کو اس کیس میں گواہ بنایا گیا ان میں سے کچھ لوگ تو وہ ہیں جو پولس کے گواہ ہمیشہ رہتے ہیں۔وہی لوگ ہیں جو گواہ کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں اور ان گواہوں کے بھی جو بیانات ہیں وہ اتنے جامع و مدلل نہیں ہیں جن کی بنیاد پر آپ اتنی سخت سزائیں سنا ئیں اور اس کے بعد پھر کوئی واقعاتی شہادت بھی موجود نہیں ہے، جس کی بنیاد پر یہ فیصلہ سنایا جا سکے کہ یہ ایک سازش تھی اور سازش کے تحت ٹرین کو آگ لگائی گئی تھی۔اور بھی کئی سوالات ہیں جو اس فیصلے کی مخالفت میں پیدا ہوتے ہیں۔یہ بات کہی گئی ہے کہ ایک روز قبل پٹرول خریدا گیا تھا اور اس لیے ردعمل ہوا کہ جب گاڑی اسٹیشن پر پہنچی تو اس میں لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی جیسا کہ بتایا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے لوگ بھڑکے تھے اور باہر آکر انھوں نے فساد برپا کیا تو ظاہر بات ہے کہ یہ واقعہ جس دن گاڑی پہنچی اس دن کا ہے توایک روز قبل پٹرول خریدنے کا کیا جواز تھا، تو یہ کئی سوالات ہیں جن کا کوئی جواب اس فیصلے میں نہیں دیا گیا ہے۔انشاء اللہ میں سمجھتا ہوں کہ ہائی کورٹ یا اس کے بعد کی عدالتوں میں یہ کیس ٹھہرے گا نہیں۔
سوال: قاسم صاحب94لوگوں کو ملزم پایا گیا تھا جن میں سے63لوگ بری کر دئے گئے،31کو سزا ملی ہے جبکہ ان میں55لوگ ایسے تھے جن کو بے قصور ہوکر 9برسوں تک جیل میں رہنا پڑا۔اس دوران ان بے قصور لوگوں کو ذہنی، جسمانی، اقتصادی اور سماجی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اب ان کے مستقبل کا کیا ہوگا یا آپ کی نظر میں کیا ہونا چاہئے؟
جواب:دیکھئے پہلی بات تو یہ ہے کہ جن لوگوں کو 9برسوں تک بغیر کسی قصور کے جیل میں سڑایا گیا اور ان پر اتنے گھنائونے قسم کے الزامات لگائے گئے کہ ان کی سماج میں حیثیت متاثر ہوئی جبکہ ان میں اچھے سماجی لوگ بھی تھے، مثال کے طور پر ملا عمر جی گودھرا کی کافی اہم شخصیت ہیں۔ مجھے فسادات کے بعد وہاں جانے کا موقع ملا تھا تو میری وہاں ملا عمر جی سے ملاقات ہوئی ۔وہ وہاں ریلیف کا غیر معمولی کام کر رہے تھے ۔جب ایک وفد گودھرا پہنچا تھا جس میں اٹل بہاری واجپئی بھی شامل تھیتو ملا عمر جی نے  اٹل بہاری واجپئی اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ سے سخت الفاظ میں گفتگو کی تھی تو ظاہر ہے اس کی سزا ان کو دی گئی۔ اس سطح کے لوگ تھے اور بھی کسی سطح کے لوگ تھے جنہیں 9سال تک جیل میں بغیر کسی جواز اور بلا کسی قصور کے رکھا گیا۔ 9سال کے بعد آپ ان کوہر طرح کے الزامات سے بری کر رہے ہیں تو میرا خیال ہے کہ ان کو بھرپور معاوضہ ملنا چاہئے اور دوسری بات یہ ہے کہ ان تمام پولس اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے جنھوں نے اتنے بڑے پیمانے پر63لوگوں کو بلا کسی قصور کے جیل میں رکھا ہے اور انشاء اللہ میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ باقی جو31لوگ ہیں وہ اگلے مقدمے میں بری ہو جائیں گے۔ اس طرح سے بلا کسی قصور کے لوگوں کو 9سال تک جیل کے اندر رکھا جانا ایک بہت بڑا گھنائونا جرم ہے۔ اس کے مجرمین کو سزا ملنی چاہئے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں جو سسٹم ہے پولس کااس میں بے قصور لوگوں پر الزامات عائد ہوتے ہیں۔ ان کو کالے کالے قوانین کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے اور اس کے بعد جب وہ رہا ہو جاتے ہیں تو ان کے گرفتار کرنے والوں پر کوئی مقدمہ نہیں چلتاہے ، ان سے کوئی جواب طلب نہیں کیا جاتا ہے۔ میرے خیال سے اس پورے لیگل سسٹم کو چیلنج کرنا چاہئے، اس میں سدھار کی ضرورت ہے کہ جن لوگوں نے بے قصور لوگوں کو ایک لمبے عرصہ تک جیل میں رکھا ہے ان کو سزا ملنی چاہئے۔
سوال:قاسم صاحب آج کے تناظر میں اس طرح کے فیصلے آ رہے ہیں، جن پر سوالیہ نشان لگ رہے ہیں اورجنہیں ہم متنازعہ کہہ سکتے ہیں۔ چاہے وہ بابری مسجد کا فیصلہ ہو یا پھر گودھرا سانحہ کا فیصلہ ہو۔کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اس طرح کے فیصلوں سے عدلیہ کی ساکھ متاثر ہوگی اور عوام کا بھروسہ عدالتوں پر سے اٹھ جائے گا؟
جواب: دیکھئے سیاسی جماعتوں پر سے تو پہلے ہی عوام کا بھروسہ اٹھ چکا ہے، بس ایک چیز باقی رہ گئی ہے عدلیہ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ عدلیہ کے جتنے فیصلے آ رہے ہیں اس وقت، خاص طور سے لوور کورٹ کے وہ صحیح نہیں ہیں۔اسی لیے سپریم کورٹ نے ہماری عدالتوں کے تعلق سے کرپشن وغیرہ کو لیکرریمارکس پاس کیے ہیں،بالخصوص الہٰ آباد ہائی کورٹ کے تعلق سے جس طرح کے ریمارکس اور ری ایکشنز سپریم کورٹ نے دئے ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہماری عدالتوں کے اندر منصفانہ طریقے سے فیصلے نہیں ہو رہے ہیںاور وہاں پر دبائو، سیاسی اثر و رسوخ، پیسہ ہر چیز کام کر رہی ہے۔تو میں سمجھتا ہوں کہ اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو عدالتوں پر سے عوام کا بھروسہ اٹھ جائے گا۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب تک ججز کے انتخاب میں سیاسی پارٹیوںکا رول رہے گا اور جب تک فیصلے سیاسی بنیاد پر ہونگے، یعنی ججز کا انتخاب پارٹیاں اپنے مطلب سے کریں گی تو اس کے نتیجے میں اس طرح کے معاملات کا سامنے آنا لازمی ہے۔دوسری بات یہ کہ ہم سمجھتے ہیں کہ جتنے بھی ایسے ادارے ہیں، یعنی عدالت کے ججز ہوں، پولس کے ذمہ داران ہوں، بیورو کریسی کے لوگ ہوں یا اور اونچی سطح کے ذمہ دار ہوں وزیر اعظم ہو، صدر جمہوریہ ہو ان سب کو عدالتی نظام کے تحت لانا چاہئے اور ہر ایک سے جواب طلب کرنے کا سسٹم بننا چاہئے۔
سوال:قاسم صاحب گودھرا کیس میں عدالت نے پولس کی شہادتوں اور ثبوتوں کو ہی جواز مانا ہے، جبکہ مالے گائوں، اجمیر، مکہ مسجد وغیرہ جیسے بم دھماکوں کے واقعات میں پولس کاجانبدارانہ رویہ ہم سب کے سامنے آ چکا ہے اور عدالتوں کے سامنے بھی تو پھر عدالت نے پو لس پر اتنا بھروسہ کرکے فیصلہ کیوں دیا؟
جواب: دیکھئے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارے یہاں تحقیق سے لیکر چارج شیٹ داخل کرنے تک کاپورا کام پولس کے حوالے ہوتا ہے۔ ایف آئی آر بھی پولس ہی بناتی ہے اور پھر اس کی تفتیش بھی پولس ہی کرتی ہے اور پھر چارج شیٹ بھی وہی داخل کرتی ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ اس پورے سسٹم پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے اس لیے کہ جو شخص الزام لگا رہا ہے وہ اپنے الزام کو ثابت کرنے کے لیے ثبوت بھی گھڑتا ہے اور ثبوت گھڑ کے جب وہ پیش کرتا ہے تو اس بات کا امکان کم ہے کہ جو تفتیش کی گئی وہ تفتیش منصفانہ ہوگی۔ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ جو ایجنسی ایف آئی آر داخل کرے وہی ایجنسی تفتیش نہ کرے اور وہی ایجنسی چارج شیٹ داخل نہ کرے ، اس لیے کہ جب وہ چارج شیٹ بناتے ہیں تو ظاہر ہے کہ چارج شیٹ میں اس بات کا پورا اہتمام کرتے ہیں کہ جو الزام وہ لگا رہے ہیں اس الزام کو وہ ثابت کریں۔ چاہے وہ ثبوتوں سے ثابت نہ ہوتا ہو۔ ہمارے یہاں جو کالے قوانین وضع کئے گئے تھے جیسے پوٹا اور ٹاڈا اور آج بھی مکوکا اور اس طرح کے دوسرے قوانین ہیں ان میں پولس کو غیر معمولی اختیارات دے دئے گئے۔یہ جو UAPA کا قانون ہے ان لافل ایکٹیوٹیز پری ویشن ایکٹ اس قانون میں پوٹا کو ختم کرنے کے بعد اس کی سخت شقیں داخل کر دی گئیں ۔اب چارج شیٹ داخل کرنے کی میعاد کو 90دن تک بڑھا دیا گیایعنی3مہینے تک۔ بعض اوقات اس کو اور آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ ان کالے قوانین نے بھی  پولس کو بے جا اختیارات دے رکھے ہیں جس سے آدمی کی آزادی متاثر ہوتی ہے اور اس کا حق مارا جاتا ہے، ساتھ ہی ان قوانین سے جمہوری نظام کی بھی پامالی ہوتی ہے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ اس طرح کے کالے قوانین کے لیے جمہوری نظام میں کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔جو کہ استبدادی ممالک میں اور ڈکٹیٹرشپ کے اند رپائے جاتے ہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ ایف آئی آر کرنے والی اتھارٹی اور تفتیش کرنے والی اتھارٹی کو الگ الگ کرنا چاہئے اور دونوں کو آزاد ہونا چاہئے،تاکہ تحقیق منصفانہ بنیاد پر ہو سکے۔ تیسری بات یہ ہے کہ اگر یہ پایا جائے کہ الزام زبردستی لگایا گیا ہے تو اس پولس اہلکار کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے جس نے یہ جھوٹا الزام لگایا ہے۔اس لیے کہ اگر کسی آدمی کو آپ موت کی سزا سنانے جا رہے ہیں اور بدقسمتی سے اگر من گھڑت اور بے بنیاد الزام کی بنیاد پر موت کی سزا سنائی گئی تو ظاہر ہے آپ نے ایک آدمی کی پوری زندگی اور کریئر ختم کر دیا۔اس کی جان لے لی ہے آ پ نے۔ تو ظاہر ہے جو سزا قتل کی ہوتی ہے اسے بھی وہی سزا ملنی چاہئے جس نے یہ اس طرح کا الزام لگایا تھا ۔آپ پولس والوں کو اور تفتیشی اتھارٹی کو یعنی ایف آئی آر کرنے والے کو اور تفتیش کرنے والے کو الگ الگ کریں۔ دو بالکل آزاد اتھارٹیز ہونی چاہئیں۔ایک اگر ایف آئی آر لگا رہا ہے تو دوسرا تفتیش کرے تاکہ دونوں کے درمیان کوئی تال میل نہ ہو۔ دوسری بات یہ کہ اگر یہ پایا گیا کہ پولس نے من گھڑت الزام لگائے تھے تو ان کے خلاف اسی طرح کی کارروائی ہونی چاہئے، جس سیکشن کے تحت اس پہ الزام لگائے تھے۔میرا کہنا یہ ہے کہ یہ کالے قوانین جتنے بھی ہیں جمہوری نظام کے اندر ان کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے، ان سب کو ختم کرنا چاہئے۔انسانوں کے جو بنیادی حقوق ہیں جو ہمارے آئین نے ہمیںدئے ہیں ان پر ڈاکہ ڈالنے کا کسی کو اختیار نہیں ہے۔ دیکھئے ہمارے قانون کا ایک بنیادی اصول ہے۔ A person is innocent if proof otherwise، ہر شخص معصوم ہے جب تک کہ اس کے خلاف جرم ثابت نہ ہو جائے۔جب کہ ہمارے یہاںہو یہ رہا ہے کہ جب اس پر الزام لگتا ہے تب سے ہی اس کو مجرم تصور کر لیا جاتا ہے۔اس پر میرے خیال سے عمیق غور وخوض کی ضرورت ہے۔
سوال:ملا عمر جی کو گودھرا کیس کا اہم سازشی قرار دیا گیا تھا یعنی پولس کے مطابق وہ اس معاملے کے ماسٹر مائنڈ تھے جبکہ ناکافی ثبوتوں کے سبب عدالت نے انہیں بری کر دیا۔ جب اہم سازشی بری ہو گیا تو دیگر لوگوں کے خلاف ثبوت کہاں سے آگئے؟
جواب:دیکھئے پہلی بات تو یہ ہے کہ جو کلیدی مجرم تھا،جو ماسٹر مائنڈ تھا، جو سرغنہ تھا اگر وہ بری ہو گیا تو پوری سازش کی تھیوری ہی ختم ہو گئی۔تو سازش کا جو الزام ہے وہ تو اپنے آپ ہی ختم ہو جاتا ہے۔باقی ماندہ31لوگوں کو جو انھوں نے مجرم قرار دیا ان کے لیے  جو شہادتیں اکٹھا کی گئیں، جن شہادتوں کو بنیاد بنایا گیا وہ شہادتیں ناکافی ہیں۔ وہ گواہیاں پولس کی خود ساختہ ہیں، لوگوں پردبائو ڈال کر بیان دلوائے گئے ہیں ،ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ظاہر سی بات ہے کہ دو تین افراد کے بیانات کی بنیاد پر کسی کو موت کی سزا سنا دینا بالکل غلط ہے۔موت کی سزا سنانے کے لیے آپ کے پاس وافر ثبوت ہونے چاہئیں اور جب تک کہ عدالت ہر طرح سے مطمئن نہ ہو جائے کہ یہ آدمی ملوث تھا یا یہ آدمی ملوث تھے تب جاکر انہیں موت کی سزا سنانی چاہئے یا عمر قید کی سزا سنانی چاہئے ۔ پولس ثبوت اکٹھا کرنے کے لیے کس طرح سے کام کرتی ہے ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں اور کس طرح کے عناصر کام کرتے ہیں بیانات لینے کے لیے۔ واقعاتی شہادتیں اگر اس کو کولیبریٹ نہیں کر رہی ہیں، واقعاتی شہادتوں کی بنیاد پر ان کی گواہیوں کو سپورٹ نہیں مل رہا ہے تب بھی وہ گواہیاں مانی نہیں جانی چاہئیں۔میں یہ کہنا چاہتا ہوں یہ جو بنیادی اصول ہیں ان بنیادی اصولوں کو بھی عدالت میں پامال نہیں کیا جانا چاہئے۔
سوال: اس طرح کے کیسیز یا بے قصورمسلم نوجوانوں کی گرفتاری کے حوالے سے کانگریس کے رول کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
جواب:دیکھئے کانگریس کے سلسلے میں بہت صاف بات یہ ہے کہ کانگریس کا جو رول ہے وہ مسلمانوں کے تئیں انتہائی شرمناک اورمتعصبانہ ہے۔ مسلمانوں کے تئیں کانگریس کا ایک رول تو وہ ہے جو سچر کمیٹی سے ثابت ہوتا ہے۔آپ نے پچھلے ساٹھ برسوں میں جن میں بیشتر حصہ کانگریس کی حکومت کا رہا مرکز اور کئی ریاستوں میں بھی۔مسلمانوں کی سماجی، معاشی اور تعلیمی پسماندگی، جس سطح پر پہنچی ہے اس میں حکومت کا کلیدی رول رہا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ کانگریس پارٹی کا رویہ یہ ہے مسلمانوں کے سلسلے میںکہ وہ مسلمانوں کو سوائے ایک ووٹ بینک سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں ہے۔اس وقت میں سچر کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں جو منصوبہ بندی ہو رہی ہے جو اسکیمیں بنائی جا رہی ہیںاقلیتوں کے لیے اگر آپ ان کا بھی جائزہ لے کر دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ سوائے نمائشی بیانات کے یا نمائشی فیصلوں کے اور کوئی چیز نہیں ہے۔مثال کے طور پر 90اقلیتوں سے متعلق اضلاع کا انتخاب کیا گیا جن میں سے65 وہ ہیں جن میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ اس کے لیے جو فنڈ ایلوکیشن ہوتا ہے وہ فنڈ ایلوکیشن اقلیتوں کے لیے نہیں ہوتا ہے۔ یعنی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے یہ نہیں کہا جاتا کہ یہ فنڈ اقلیتوں کی ترقی کے لیے ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ فنڈ ان علاقوں میں خرچ کیا جاتا ہے جہاں مسلمانوں کا وجود ہی سرے سے نہیں ہے، لیکن ان کے پاس یہ جواز ہے کہ یہ فنڈ اقلیتوں سے متعلق اضلاع کے لیے ہے اس لیے وہ ضلع میں کہیں بھی استعمال ہو سکتا ہے۔تو سوال یہ ہے کہ اقلیتوں کے لیے فنڈ ایلوکیٹ ہوتا ہے اور اقلیتوں پر ہی خرچ نہیں ہوتا،یہ حکومت کو بھی معلوم ہے۔ مسلمانوں کا مطالبہ یہ رہا ہے کہ جو سفارشات یا جو منصوبے اقلیتوں کے لیے بن رہے ہیں ان کو مانیٹر کرنے کے لیے جے پی سی بنائی جائے۔ جیسے کہ ایس سی اور ایس ٹی کی جتنی اسکیمیں بنتی ہیں ان کو مانیٹر کرنے کے لیے جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی بنی ہوئی ہے وہ اسے دیکھتی ہے اور اگر کام ٹھیک سے نہیں ہوتا ہے تو وہ متعلقہ اتھارٹیز سے جواب بھی طلب کر سکتی ہے اور اس کو پارلیمنٹ میں بھی ڈال سکتی ہے، لیکن اقلیتوں کے سلسلے میں اس طرح کی کوئی جے پی سی کا وجود نہیں ہے۔آپ دیکھئے کہ وقف کے سلسلے میں قانون بنایا گیا ۔ہمارا مطالبہ یہ تھا کہ اس قانون کے اندر بعض ایسے پروویژن ہیں جو وقف کے پورے کانسیپٹ کو ہی ختم کر دیتے ہیں یا یہ کہ وقف کی پراپرٹیز کا اس وقت جو بے جا استعمال ہو رہا ہے یا اس کو جس طرح سے پامال کیا جا رہا ہے اس کو ختم کرنے کے لیے اس کے اندر اتنے سخت وہ نہیں ہیں۔یا یہ کہ یہ بات کہی گئی ہے کہ جو پراپرٹی بہ حیثیت وقف رجسٹرڈ نہیں ہوگی اس قانون کے تحت ان کا مقدمہ وقف قانون کے تحت نہیں چلے گا۔ملک میں ہزاروں لاکھوں مسجدیں ایسی ہیں جوکہیں بھی رجسٹرڈ نہیں ہیں یا گائوں کے اندر کتنے قبرستان ہیں جو رجسٹرڈنہیں ہوتے ہیں۔ تو ہمارے یہا ںیہ طریقہ ہے کہ جو پراپرٹی وقف کر دی جاتی ہے یعنی واقف نے اگر کسی پراپرٹی کو وقف کر دیا تو وہ وقف ہے۔جو زمین وقف ہے وہ وقف ہی رہے گی۔چاہے وہ کسی بھی قانون کے تحت رجسٹرڈ نہ ہو تب بھی وہ وقف رہے گی۔تو ہم چاہتے ہیںکہ اس قانون میں تبدیلی ہو جوحکومت نے اب تک نہیںکی۔ اسی طرح کمیونل وائلنس بل کے نام پر ایک قانون لایا گیا اور یہ کہا گیا کہ یہ قانون اس لیے لایا جارہا ہے کہ فسادات کے دوران اقلیتوں کو جو پریشانیاں ہوتی ہیں خاص طور پر گجرات میں جو کچھ ہوا ہے اس کو چیک کرنے کے لیے یہ قانون لایا گیا ہے، لیکن یہ قانون سوائے انہی لوگوں کو جن پر الزامات لگتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے خلاف یا توسائلنٹ آسپیکٹ رکھتے ہیں یعنی پولس اتھارٹی لوکل ایڈمنسٹریشن یا یہ کہ وہ پارٹ اینڈ پارسل بن جاتے ہیں فسادیوں کے۔تو آپ دیکھئے اس قانون میں انہیں کو مزید اختیارات دے رہے ہیں آپ۔ تو ظاہر ہے کہ جب مودی جیسی حکومت ہوگی تو ان کو مزید اختیارات مل جائیں گے ظلم ڈھانے کے۔ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس قانون میں تبدیلی ہونی چاہئے، لیکن حکومت تبدیلی کے لیے سنجیدہ نہیں ہے بلکہ یہ قانون سرد خانے میں ڈال دیا ہے۔ باتیں تو اور بھی بہت ساری ہیں لیکن مجموعی طور پر میں یہ کہوں گا کہ کانگریس مسلمانوں کے لیے نہ پہلے مخلص تھی اور نہ آج مخلص ہے، بلکہ یہ بی جے پی اور آر ایس ایس جیسی تنظیموں سے بھی زیادہ خطرناک ہے وہ اس لیے کیونکہ بی جے پی اور آر ایس ایس مسلمانوں کی کھلی دشمن ہیں جب کہ کانگریس کا رویہ منافقانہ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *