اسلامی نظام میں عدل کے چند بنیادی نکات

مولانا ارشاد الحق تھانوی

قرآن  مجید میں سورہ نحل کی آیت مبارکہ (90) میں ارشاد ربانی ہے، ترجمہ: ’’بے شک اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے عدل کا اور احسان کا۔‘‘ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا قول ہے کہ یہ قرآن کریم کی جامع ترین آیت کریمہ ہے۔ یہ صدیوں سے جمعہ و عیدین کے خطبوں میں تلاوت کی جاتی ہے۔ لہٰذا نبی کریم نے نوع انسانی کو اس حقیقت سے روشناس کرایا کہ دنیا میں امن و امان کا قیام اور ظلم و جبر کا خاتمہ عدل و احسان کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہ آپ کے رحمۃ للعالمین ہونے کا لافانی پہلو ہے کہ آپ عدل و احسان کے علمبردار معاشرے کا اتنا بڑا انقلاب اس قدر سرعت سے لائے لیکن قانون سے ہٹ کر کام لینے کی ایک مثال بھی نہیں ملتی۔ ایک تحقیق کے مطابق قرآن مجید میں 227 آیات کریمہ ایسی ہیں جن میں ان ہی صفات پر مبنی معاشرے کے قیام کیلئے قوانین درج ہیں۔ نظام عدل کے سلسلے میں آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ارشادات گرامی کے مطابق حسب ذیل چند بنیادی نکات پیش ہیں:
1- آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمان صادر کیا: اللہ کے مقرر کردہ قوانین کو دور یا قریب کے رشتہ دار، غیر رشتہ دار، قوی و ضعیف سب پر یکساں جاری کرو اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرو۔
2- آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! تم سے پہلی قومیں اسی لئے ہلاک کر دی گئیں کہ ان میں جب کوئی بڑا آدمی جرم کرتا تو لوگ اس کو چھوڑ دیتے اور جب کوئی معمولی آدمی جرم کرتا تو اسے سزا دیتے۔
3- آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے سفارش کی مذمت کی اور فرمایا کہ جو شخص اللہ کی مقرر کردہ سزاؤں میں نرمی برتنے کی سفارش کرتا ہے وہ گویا اللہ کی مخالفت کرتا ہے۔
4- آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا ایک منصف کیلئے بہتر ہے کہ وہ غلطی سے مجرم کو بری کر دے بہ نسبت اس کے کہ وہ غلطی سے کسی کو سزا دے۔
5- آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی گواہی ناقابل اعتماد قرار دے دی جو کسی فریق کے ماتحت یا رشتہ دار ہوں یا کسی فریق سے عداوت رکھتے ہوں۔
6- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاضیوں کے تقرر میں ایک خاص معیار علم، معیار تقویٰ اور معیار کردار مقرر کر دیا۔
7 – قاضی کو فیصلہ دینے سے منع کر دیا جب وہ غصہ یا اپنے آپے میں نہ ہو۔
8- آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے قاضیوں کو تاکید کی کہ ہر مقدمہ کے دونوں فریقوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے اور دونوں کا بیان سننے کے بعد فیصلہ دیا کریں۔
9- رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں مجرم اور جہنمی قرار دیئے گئے۔
10- انصاف آسان اور فوری ہو، بلاخرچ اور بے لاگ ہو۔ ایسا کہ سزا پانے والا بھی پکارے کہ بے شک یہی انصاف ہے۔ (چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اور قاضی بسا اوقات سستا اور دہلیز پر انصاف فراہم کرنے کیلئے خود فریقین کی دہلیز پر جایا کرتے تھے)
11- آپ نے ارشاد فرمایا: مرتبے کے لحاظ سے سب سے بہتر بندہ اللہ کے نزدیک قیامت کے دن وہ امیر سلطنت ہے جو عادل ہو اور رحم دل بھی ہو اور بدترین انسان وہ امیر ہے جو ظالم ہو اور بے رحم ہو۔ اللہ جل شانہ جس شخص کو مسلمانوں کے کسی حصے کا نگراں بنائے اور وہ ان کی ضروریات، افلاس اور فقر سے چشم پوشی کرے تو قیامت کے دن اس کی ضرورتوں سے اللہ چشم پوشی کرے گا۔
دراصل حضرت عیسی ٰعلیہ السلام کے عہد سے قبل اس سلسلے میں جو کچھ دیکھا گیا وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قانون تھا جو بالکل عدل و انصاف پر مبنی تھا اور اس میں احسان و درگزر کی اخلاقی کشش نظر نہ آتی تھی اور اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام مجسم احسان و درگزر کا پیامبر بن کر آئے، مگر وہاں عدل و انصاف قائم کرنے کی روح نہ تھی۔ دنیا ایک ایسے دین کی خدمت سے متنفر تھی جو ان دونوں کا جامع ہو۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اسی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے مبعوث کیا گیا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان دونوں کڑیوں کو باہم ملا دیا۔ بہرکیف نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا مشن یہی تھا کہ انسانی نفس کی اصلاح اس حد تک ہو جائے کہ دنیا میں امن و انصاف قائم ہو جائے۔ شر کو ابھرنے کا موقع نہ ملے اور تمام خیر ہی خیر نظر آئے، لہٰذا آپ کا حکم تھا کہ موقع و مصلحت دیکھ کر احسان سے یعنی حسن سلوک سے اصلاح کرو۔ دراصل عدل کسی کی رو رعایت نہیں کرتا۔ جتنا کسی کا حق بنتا ہے اتنا ہی اس کو دیتا ہے خواہ اس سے کسی کو تکلیف پہنچے یا راحت، لیکن احسان اس سے آگے کی منزل ہے۔ اس میں قانونی حق کے علاوہ بھی کچھ عطا کیا جاتا ہے۔
غرض نبی آخر الزماں نے اپنے مہتمم بالشان نظام عدل و احسان کی لاثانی کامیابی سے ثابت کر دیا کہ ایک اچھے اور مثالی معاشرے کی سب سے بڑی خوبی افراد کا عدل اور باہمی حسن سلوک ہے۔ اسی کے ذریعہ افراد کے مابین محبت و یگانگت کے رشتے استوار ہوتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کے ہمدرد اور دمساز ہوتے ہیں، نہ کوئی کسی پر ظلم و زیادتی کرتا ہے اور نہ سنگ دلانہ برتاؤ۔ بہترین معاشرے میں اہل ثروت غریب اور ضرورت مند اشخاص کو کسمپرسی میں نہیں چھوڑتے اور اثر و رسوخ اور طاقت کے مالک عناصر کمزوروں کو نظر انداز نہیں کرتے بلکہ ان کی کفالت و معاونت اور دست گیری کرتے ہیں۔
المناک حالت جو کسی معاشرے پر طاری ہوتی ہے اس کا سبب باہمی حسن سلوک، عدل کا فقدان اور ظلم و برائیوں کا وجود ہوتا ہے اور یہ حالت اس وقت زور پکڑتی ہے جب افراد تکبّر اور خودغرضی کا مظاہرہ کریں اور وہ اپنی ذات اور مفادات کو ہمہ وقت فوقیت دیں، مگر اپنے بھائیوں کا یکسر خیال نہ کریں بلکہ ان کو اپنی اغراض کی بھینٹ چڑھانے سے بھی دریغ نہ کریں۔ علاوہ ازیں خود کو عقل کل اور ارفع و اعلیٰ تصور کریں۔ جب یہ بدترین صورتحال کسی معاشرے کو اپنے پنجے میں جکڑ لیتی ہے تو کوئی دنیاوی قوت اور نظام اس معاشرے کو تباہ و برباد ہونے سے نہیں بچا سکتا۔ الاّیہ کہ وہ نبی کریم کی ہدایت کے مطابق نظام عدل و احسان کی تعمیل پر صدق دل سے کمربستہ ہو جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *