!جے پی سی سے امید

سنتوش بھارتیہ
لیجئے کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔ آخر کارحکومت نے 2جی اسپیکٹرم معاملہ میں بدعنوانی کی تفتیش کے لئے 30افراد پر مشتمل کمیٹی کا اعلان کر ہی دیا۔ یہ کمیٹی 1998 سے 2009سے متعلق ٹیلی مواصلات کے سودوں کی بھی جانچ کرے گی اور اسپیکٹرم الاٹمنٹ اور ٹیلی مواصلات لائسنس کی قیمتوں پر مرکزی کابینہ کے فیصلوں اور اس کے نتائج کی بھی جانچ کرے گی۔
یقینا وزیر اعظم نے یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر اور بے حد دبائو کے بعد لیا ہوگا کیونکہ جس طرح مانسون اجلاس بنا کارروائی کے ختم ہو گیا اس سے یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ وزیر اعظم کو بحالت مجبوری یہ فیصلہ لینا پڑا۔۔ اسی نے مرکزی حکومت کو یقینا جاگنے کے لئے آمادہ کیا۔ سب سے پہلے ہم بات کریں ان ممبران کی جن کو اس کمیٹی میں لیا گیا ہے۔ 8کانگریس کے لوک سبھا ممبران جن میں پی سی چاکو،منیش تیواری، جے پرکاش اگروال ،ادھیرر نجن چودھری، وی کشور چندر دلو، دییپندر سنگھ ہڈا، نرمل کھتری اور پرنب سنگھ بھگاٹوور شامل ہیں اور بی جے پی کے لوک سبھا ممبران میں جسونت سنگھ بڑا اہم نام ہے۔یشونت سنہا بھی ملک کے جانے مانے لیڈر ہیں،ہرین پاٹھک اور گوپی ناتھ منڈے شامل ہیں،یہ بھی سیاست کے اہم مہرے ہیں۔ڈی ایم کے کے ٹی آر بالو ،ترنمول کانگریس کے کلیان بنرجی ، جنتا دل یو کے شرد یادو، بی ایس پی کے دارا سنگھ چوہان، سماجوادی پارٹی کے اکھلیش یادو، بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کے گروداس گپتا غرضیکہ سبھی بے حد اہم لیڈران ہیں اور ان سبھی ناموں سے یقینا سبھی واقف ہوں گے مگر ان میں سے کتنے لیڈر ایسے ہیں جن کی شبیہ داغدار نہیں ہے یاجن پر ملک کے عوام بھروسہ کرتے ہیں۔اس ضمن میں وزیر مالیات پرنب مکھر جی کا بیان بھی بہت اہم ہے،جس میں انھوں نے کہا کہ اس صورتحال سے سبھی پارٹیوں کو سبق لینے کی ضرورت ہے،کیونکہ جمہوریت کے لئے یہ بے حد خطرناک ہے کہ اپنے مطالبات کے لئے پارلیمنٹ کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالی جائے۔ پرنب مکھر جی نے جس طرح درمندانہ طور پر یہ بیان دیا ہے اس سے ہم بھی اتفاق رکھتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ہماری اپوزیشن صحیح رول ادا نہیں کر رہی ہے۔جمہوریت میں جتنی اہم کارگزار حکومت ہوتی ہے اتنی ہی اہم اپوزیشن بھی۔ایک وقت تھا جب اٹل بہاری واجپئی کو بی جے پی کا چہرا مانا جاتا تھا اور ان کے ساتھ اڈوانی اور سشما سوراج سے ایک طاقتور اپوزیشن کا روپ سامنے آتا تھا۔حکومت کو بھی یہ ڈر لگا رہتا تھا کہ ہمارے سامنے ایک مضبوط اپوزیشن ہے مگر اب خود بی جے پی میں انتشار اور آپسی بھیدبھائو اس قدر ہے کہ وہ اپنی ہی پالیسیوں میں الجھ گئی ہے ۔ نتن گڈکری پارٹی کے سربراہ ضرور ہیں مگر سبھی جانتے ہیں کہ وہ ایک ناتجربہ کار لیڈر ہیں۔مودی کو گجرات سانحہ کے بعد مسلمان تو پسند کرتے ہی نہیں،پڑھے لکھے تعلیم یافتہ اور سیکولر ہندو بھی ان کو ناپسند کرتے ہیں۔ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ اب جبکہ جے پی سی کی تشکیل ہو چکی ہے تو اس کے کیا نتائج نکلیں گے،کیونکہ اب تک چار بار جے پی سی مختلف معاملات پر بنی ہے اور یہ پانچویں بار ہے۔ 6اگست 1987کو پہلی بار بوفورس گھوٹالہ کو لے کر، 6اگست 1992میں دوسری بار ہرشد مہتا شیئر گھوٹالہ کی جانچ کو لے کر،تیسری بار 26اپریل 2001میں پھر سے شیئر بازار گھوٹالہ کو لے کر اور چوتھی بار 2003میں آخری بار جے پی سی کی تشکیل کی گئی تھی جو کہ ہندوستان میں بننے والے سافٹ ڈرنکس اور دوسری اشیاء میں جراثیم ہونے کی جانچ سے متعلق تھی۔اگر پہلی جے پی سی سے اب تک دیکھا جائے تو کسی کے بھی خاطرخواہ نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔بوفورس گھوٹالہ جس کی سربراہی کے سی پنت کو سونپی گئی تھی، کوئی بھی حل سامنے نہیں آیا۔کتنے لوگوں کو جیل میں ڈالا گیا، کتنوں کے خلاف کارروائی ہوئی، کچھ نہیں پتا۔ اصل میں عوام کو اس قدر روزی روٹی کے چکر میں الجھا دیا گیا ہے ، کہ وہ چند دن توکسی بھی گھوٹالہ کو یاد رکھتے ہیں،پھرا س کے بعد وہ اپنی زندگی کی گاڑی کو گھسیٹنے میں لگ جاتے ہیں اور سب بھول بھال جاتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ کمیٹی جس کو صرف چھ ماہ کا وقت دیا گیا ہے، کیا تیر مارتی ہے۔ایسا بھی کہا جا رہا ہے کہ اتنے بڑے گھوٹالہ کے لئے 6ماہ کا وقت کم ہے اور یہ تقریباً سبھی سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے ہے مگر جہاں ہرشد مہتا شیئر گھوٹالہ اور بوفورس وغیرہ کو زیادہ وقت دیا گیا تھا ، جبکہ وہ گھوٹالے اس 2جی کے آگے پیدا ہوئے بچے جیسے تھے۔وہیں چھ ماہ کا وقفہ کم ہے۔
جے پی سی جو مارکیٹ گھوٹالہ پر بنائی گئی تھی اس کے لئے ایک سال 8ماہ کا وقفہ تھا اور ہرشد مہتا گھوٹالہ کی جانچ کے لئے ایک سال پانچ ماہ کا وقفہ تھا ،بوفورس گھوٹالہ کے لئے بھی جے پی سی کو نو مہینہ کا وقت دیا گیا۔یہاں تک کہ Pesticides کے لئے جو کیس درج ہوا تھا ، اس میں بھی تقریباً سات مہینہ کا وقت تھا۔ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے بڑی ہی سمجھداری اور ہوشیاری سے فیصلہ لیا ہے تاکہ 2014تک سارے معاملے صاف ہو جائیں اور عوام کو اتنا وقت مل جائے کہ وہ نئے پارلیمانی الیکشن تک اس کو بھول سکیں۔ یہاں ایک بات ضرور اچھی ہے کہ اس بار ہمارے ایماندار وزیر اعظم کے تیور ذرا سخت ہیں۔جس طرح انھوں نے سخت لہجہ میں پارلیمنٹ میں یہ اعلان کیا ہے کہ اپوزیشن بدعنوانی کے الزامات عائد کر رہی ہے، لیکن حکومت کسی بھی ملوث شخص کو نہیں بخشے گی۔مگر ہمیں لگتا ہے کہ زیادہ وقت دینے سے کسی بھی معاملہ کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔لوگ بھول بھال جاتے ہیں، سرکاری مشنری بھی سست ہو جاتی ہے،ایسے میں6ماہ کا وقفہ کافی ہے۔
یہاں ہمیں ایک بات اور کہنی ہے کہ دیر آید درست آید کے مصداق اب جبکہ وزیر اعظم نے جے پی سی کی تشکیل کر ہی دی ہے تو اس مسئلہ پر اب گھٹیا سیاست ختم ہو جانی چاہئے۔ اپوزیشن کو بھی اس کو اپنی فتح نہ جان کر بیان بازی سے پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ یہ ہار جیت کا کھیل نہیں تھا ،اگر اپوزیشن واقعی میں ملک کے لئے دردمندانہ جذبہ رکھتی ہے تو اسے غلط قسم کی بیان بازی سے بچنا چاہئے اور جس طرح پرنب مکھر جی ، کپل سبل اورسشما سوراج میں گرما گرم بحث ہوئی اور ایک دوسرے پرلعن طعن کی یہ قابل مذمت ہے ۔آخر سیاسی جماعتیں ہر ایشو کو ہارجیت کا ایشو کیوں بنا لیتی ہیں۔اپوزیشن کا مطالبہ پورا ہو چکا ہے اور حکومت بھی اپنا موقف واضح کر چکی ہے ۔ ایسے میں دونوں ہی پارٹیوں کی ذمہ داری ہے کہ پارلیمنٹ کی کارروائی کو پر سکون انداز میں چلنے دیا جائے اور ملک جو اس وقت مہنگائی ، کرپشن اور بے یقینی کی مار جھیل رہا ہے، اس سے پہلے نمٹا جائے۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے ۔ اوپر سے لے کر نیچے تک چاہے وہ سرکاری افسر ہو، ریاستی وزیر ہو،آئی اے ایس آفیسر ہو ، غرضیکہ کسی بھی محکمہ کا انچارج ہو بنا رشوت خوری کے معاملہ آگے نہ ہی بڑھتا ہے اور نہ ہی نمٹتا ہے۔ایسے میں میڈیا کی ذمہ داری دو چند ہو جاتی ہے ۔میڈیا کو مقابلہ آرائی کی اس دوڑ سے نکل کر سرکاری محکموں ، وزراء ، وزرائے اعلیٰ سبھی کو بے نقاب کر کے عوام کے سامنے لانا چاہئے۔ملک کے عوام کے جذبات سے نہ کھیل کر ان کے مسائل کو دردمندانہ انداز میں پیش کیا جائے۔جے پی سی کی تشکیل کوئی بڑی بات نہیں ہے مگر جب تک کوئی کارگر حل نہ نکلے تب تک یہ بیکار ہے۔ایسے میں اپوزیشن کا کرداربہت اہم ہے۔حکومت پر تنقید کرنے سے قبل اپوزیشن کو خود اپنی ساخت پر نظر کرنی ضروری ہے ۔یہاں پھر ہم یہ بات کہنے پر مجبور ہیں کہ اٹل جی اگر سرگرم ہوتے تو وہ کبھی بھی منموہن سنگھ کو ایک کمزور اور نا اہل وزیر اعظم ثابت کرنے پر تلتے۔ہاں وہ منموہن جی کو ان کی پالیسیوں اور گھوٹالوں کیلئے بخشتے بھی نہیں۔ کسی بھی جمہوریت میں اپوزیشن کا کمزور ہونا علامت ہے اس بات کی کہ اب ملک خطرے میں ہے۔اس لئے جے پی سی کی تشکیل اپنی جگہ،مگر اپوزیشن کی ذمہ داری اپنی جگہ ہے۔جے پی سی اپنا کام کرے گی ، سرکار اپنا کام کرے اور اپوزیشن اپنا کام کرے۔اس میں ہی جمہوریت کی بقا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *