دنیا کے تمام قوانین سے شرعی قوانین بہتر ہیں، یہ ایک چیلنج ہے

محمد صابر
مختلف  ادوار میں شریعت پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔ اکثر غیرمسلم یہ کہتے ہیں کہ یہ شرعی قانون بہت پرانا ہوچکا ہے۔ یہ سائنس اور ٹکنالوجی کا زمانہ ہے۔ اس تیز رفتار دنیا میں شریعت کے چند قوانین میں رد و بدل کر دینی چاہیے تاکہ مسلم سماج کی ترقی ہوسکے اور وہ بھی وقت کے ساتھ چلنے کے قابل ہوسکیں۔ جب کہ مسلمانوں کا یقین ہے کہ شرعی قوانین عین انسانی فطرت ہے، اس میں ذرا بھی تبدیلی یا رد و بدل کی گنجائش نہیں ہے۔ بے شک یہ عقیدہ درست ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اکثر مسلمان قرآن پاک اور حدیث و سنت کی صحیح معلومات نہ ہونے کی وجہ سے غیرمسلموں کے سوالات یا تنقید کا مدلل جواب نہیں دے پاتے ہیں، اس وجہ سے کچھ مسلمان بھی غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں اور دل کے کسی کونے میں وسوسہ پیدا ہونے لگتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر قرآن پاک کو سمجھ کر پڑھا جائے اور اس کے پس منظر پر نظر رکھی جائے نیز حدیث و سنت کی صحیح معلومات ہو تو دنیا میں ایسا کوئی سوال یا تنقید نہیں ہے، جس کا مدلل جواب نہ دیا جاسکے۔ اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیںہے کہ قرآن مقدس تمام دنیا کے لیے مشعل راہ ہے اور محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تمام دنیا کے لیے رحمت ہیں۔ دراصل غیر مسلم اسلامی تعلیمات سے بالکل بے خبر ہیں اور مسلمانوں میں بھی دینی تعلیم کا فقدان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئے دن اسلام پر تنقید ہوتی رہتی ہے کیوں کہ موجودہ دور میں دنیا کے تمام مذاہب و قوانین ایک طرف ہیں اور اس کے مدمقابل کھڑی ہے اسلامی شریعت۔ ابھی حال ہی میں ہندوستانی لا کمیشن نے شرعی قوانین کے خلاف چند سفارشات لانے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں کثرت ازدواج اور ترکہ کی تقسیم شامل ہے۔ لا کمیشن کے اس نئے قانون کے مطابق کسی بھی مسلمان کو ایک سے زیادہ شادی کرنے کی اجازت ہرگز نہیں ہوگی اور ترکہ کی تقسیم کا شرعی قانون بدل دیا جائے گا۔ ظاہر ہے دنیا کے کسی بھی مسلمان کو یہ منظور نہیں ہوگا۔ لیکن اب ہم محض احتجاج سے کام نہیں لیںگے اور محض نعرے بازی سے شریعت کا دفاع نہیں کریںگے، بلکہ اس پوری دنیا کو مدلل طریقہ سے بتانا ہوگا کہ کس طرح اسلامی قوانین بہترین نظام حیات پیش کرتا ہے، اس سے بہتر نظام حیات اگر ہندوستانی لا کمیشن کے پاس موجود ہے تو پیش کرے۔ بصورت دیگر کیوں نہ ہندوستان کے غیریقینی حالات کو درست کرنے کے لیے شرعی قوانین سے مدد لی جائے۔ بے شک اسلام بہترین نظام حیات پیش کرتاہے، اس سے بہتر نظام حیات دنیا کے کسی مذہبی قانون میں موجود نہیں ہے۔ ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ قرآن مقدس کو ترجمہ کے ساتھ سمجھ کر پڑھیں اور بخاری شریف و صحیح مسلم و دیگر احادیث کا بغور مطالعہ کریں اور دنیاوی علوم کو بھی پیش نظر رکھیں تو انشاء اللہ مخالفین بھی اسلام کی وحدانیت کے قائل ہوجائیںگے۔
اب پیش خدمت ہے شرعی قوانین میں کثرت ازدواج اور ترکہ کی مکمل تفصیلات۔ قرآن کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں۔ کثرت ازدواج سے مراد شادی کا ایک ایسا نظام ہے جس کے تحت ایک فرد ایک سے زیادہ شریک حیات رکھ سکتا ہے۔ کثرت ازدواج دو طرح کی ہوسکتی ہے۔ اس کی ایک شکل Polygamy ہے، جس کے تحت ایک مرد ایک سے زیادہ عورتوں کے ساتھ شادی کرسکتا ہے جب کہ اس کی دوسری صورت Polyandry ہے جس میں ایک عورت کئی مردوں سے بیک وقت شادی رچا سکتی ہے۔ اسلام میں محدود Polygymy کی اجازت تو ہے لیکن Polyandry کی مکمل ممانعت ہے۔ اس پوری دنیا میں صرف اور صرف قرآن پاک ہی وہ واحد مذہبی(الہامی) کتاب ہے، جس میں یہ جملہ موجود ہے ’’صرف ایک سے شادی کرو‘‘ دوسری کوئی مذہبی کتاب ایسی نہیں ہے جو مرد کو صرف ایک بیوی رکھنے کا حکم دیتی ہو۔ کسی دوسری مذہبی کتاب میں چاہے وہ ویدوں میں سے کوئی ہو، رامائن ہو، مہابھارت ہو، گیتا ہو، زبور ہو یا انجیل، کسی میں بھی مرد کے لیے بیویوں کی تعداد پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے۔ ان تمام کتابوں کے مطابق کوئی مرد ایک وقت میں جتنی عورتوں سے چاہے شادی کرسکتا ہے۔ یہ تو بہت بعد کی بات ہے جب ہندو پنڈتوں اور عیسائی کلیسا(چرچ) نے بیویوں کی تعداد کو محدود کر کے صرف ایک کردیا۔ ہندوؤں کی اپنی مذہبی شخصیات ، خود ان کی اپنی کتابوں کے مطابق ایک وقت میں کئی بیویاں رکھتی تھیں مثلاً رام کے باپ یعنی راجا دشرتھ کی ایک سے زیادہ بیویاں تھیں۔ خود کرشن کی کئی بیویاں تھیں۔ ابتدائی زمانے میں عیسائی مردوں کو اتنی بیویاں رکھنے کی اجازت تھی کہ جتنی وہ چاہیں، کیوں کہ انجیل میں بیویوں کی تعداد پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے۔ یہ تو صرف آج سے چند صدیوں پہلے کا واقعہ ہے کہ جب کلیسا نے بیویوں کی تعداد کو ایک تک محدود کردیا۔
یہودیت میں بھی ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کی اجازت ہے۔ زبور میں بتایا گیا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کی تین بیویاں تھیں، جب کہ حضرت سلیمانؑ(بیک وقت) سیکڑوں بیویوں کے شوہر تھے۔ کثرت ازدواج کا یہ عمل(یہودیوں میں) ربی گرشم بن یہودا(960 تا 1030 ئ) تک جاری رہا۔ گرشم نے اس عمل کے خلاف مذہبی حکم نامہ جاری کیا تھا۔ مسلم ممالک میں آباد یہودی جو بالعموم اسپین اور شمالی افریقہ کے یہودیوں کی اولاد تھے، انہوں نے عشرہ 1950 کے اختتام تک یہ سلسلہ جاری رکھا، یہاں تک کہ اسرائیل کے سب سے بڑے ربی نے ایک مذہبی قانون کے ذریعے ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے پر (یہودیوں کے لیے) عالمگیر پابندی عائد کردی۔ دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ ہندوستان میں 1975 کی مردم شماری کے مطابق مسلمانوں کی بہ نسبت ہندوؤں میں کثرت ازدواج کی شرح زیادہ تھی۔ 1975 میں ’’کمیٹی آف دی اسٹیٹس آفووومن ان اسلام‘‘ کی شائع کردہ رپورٹ میں صفحہ 66 اور 67 پر یہ بتایا گیا ہے کہ 1951 اور 1961 کے درمیانی برسوں میں 5.6 فیصد ہندو کثیر الازدواج تھے، جب کہ اسی عرصے میں مسلمانوں کی صرف 4.31 فیصد تعداد کی ایک سے زائد بیویاں تھیں۔ ہندوستانی قانون کے مطابق صرف مسلمان مردوں ہی کو ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کی اجازت ہے۔ غیرمسلموں کے لیے کثرت ازدواج غیرقانونی ہونے کے باوجود مسلمانوں کے مقابلے میں ہندوؤں میں کثرت ازدواج کی شرح زیادہ تھی۔ اس سے پہلے ہندو مردوں پر بھی بیویوں کی تعداد کے معاملے میں کوئی پابندی نہیں تھی۔ 1954 میں ’’ہندو میرج ایکٹ‘‘ منظور ہونے کے بعد سے ہندوؤں کے لیے ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے پر پابندی عائد ہوئی۔ اس وقت بھی ہندوستانی قانون کی رو سے کسی ہندو کے لیے ایک سے زیادہ بیویاں رکھنا غیرقانونی ہے، لیکن ہندوؤں کی مذہبی کتابوں کے مطابق آج بھی ان پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔ قرآن پاک کثرت ازدواج کو محدود کرتا ہے جیسا کہ پہلے آچکا۔ قرآن پاک وہ واحد مذہبی کتاب ہے جو کہتی ہے ’’صرف ایک سے شادی کرو‘‘ اس نکتے کا سیاق وسباق قرآن پاک کی درج ذیل آیت میں موجود ہے۔ ترجمہ’’اگر تم کو اندیشہ ہو کہ بیبیوں کے ساتھ انصاف نہ کرسکو گے تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں، ان میں سے دو دو تین تین چار چار سے نکاح کرلو۔ لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ ان کے ساتھ عدل نہ کرسکوگے تو پھر ایک ہی بیوی کرو یا ان عورتوں کو زوجیت میں لاؤ جو تمہارے قبضے میں آتی ہیں۔ یہ بے انصافی سے بچنے کے لیے زیادہ قرین صواب ہے۔‘‘(سورہ نسائ4 ، آیت 3 ) قرآن پاک کے نزول سے پہلے کثرت ازدواج کی کوئی انتہائی حد متعین نہیں تھی، لہٰذا مردوں کی بیک وقت کئی بیویاں ہوتی تھیں اور یہ تعداد بسااوقات سیکڑوں تک پہنچ جایا کرتی تھی۔ اسلام نے چار بیویوں کی انتہائی حد مقرر کردی۔ اسلام کسی مرد کو دو تین یا چار شادیوں کی اجازت تو دیتا ہے، لیکن صرف اور صرف اس شرط کے ساتھ کہ وہ ان سب کے ساتھ انصاف کرسکے۔ اسی سورۂ مبارکہ یعنی سورہ نساء کی آیت نمبر 129 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے، ترجمہ: بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل کرنا تمہارے بس میں نہیں تم چاہو بھی تو اس پر قادر نہیں ہوسکتے، لہٰذا (قانون الٰہی کا منشا پورا کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ) ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو۔ اگر تم اپنا طرز عمل درست رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ چشم پوشی کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔(سورہ 4 ، آیت 129 ) لہٰذا کثرت ازدواج کوئی قانون نہیں، بلکہ ایک استثناء ایک رعایت ہے۔ بہت سے لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ مسلمانوں کے لیے کثرت ازدواج ایک لازمی چیز ہے۔ حلال اور حرام ہونے کے حوالے سے اسلامی احکامات کی پانچ اقسام ہیں۔ (1) فرض یعنی لازم (2) مستحب یعنی ایسا کام جسے کرنے کی ترغیب دی گئی ہو، اسے کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہو، لیکن وہ کام فرض نہ ہو(3) مباح، جائز یعنی جسے کرنے کی اجازت ہو، (4) مکروہ، یعنی ایسا کام جسے کرنا اچھا تصور نہ کیا جاتا ہو اور جس کے کرنے کی حوصلہ شکنی کی گئی ہو۔ (5 ) حرام، یعنی ایسا کام جس کی اجازت نہ ہو، جس کا کرنا بالکل منع ہو۔ کثرت ازدواج مذکورہ بالا پانچوں زمروں کے درمیانی زمرے یعنی ’’مباح‘‘ کے تحت آتا ہے۔ یعنی ایک ایسا کام جس کی اجازت ہے، یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ مسلمان جس کی دو تین یا چار بیویاں ہوںایک بیوی رکھنے والے کسی دوسرے مسلمان کے مقابلے میں بہتر ہے۔              (جاری)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *