مایوس نوجوانوں کے سہارے کی ضرورت

بمل رائے
گرد کے غبار میں آگ کی تصاویر دھندلی نظر آتی ہیں، لیکن وہ آگ اگر کسی انسان کے بدن میں لگی ہو تو کسی بھی دیکھنے والے کے جذبات کو جھلسانے کے لیے کافی ہے۔بنگال میں اس وقت انتخابی گرد کا کہرا ہے اور پرسون دتا جیسے بے روزگار نوجوان کی خود کشی کی کوشش ، اور وہ بھی بنگال کی امید ممتا بنرجی کے گھر کے سامنے ، ایک قومی ایشو بنتا ہے۔انتخابی موسم میں ویسے تو بہت سارے ایشو ایک ساتھ تن کر کھڑے ہو جاتے ہیں، لیکن پرسون کا معاملہ کئی معاملوں میں الگ ہے۔ریاست میں الیکشن کرانے کے اعلان کے بعد 6مارچ کو مایوس بے رو زگار نو جوان پرسون دتا ممتا کے کالی گھاٹ والے گھر آتا ہے۔ آفس کے ملازمین سے پہلے وہ اپنی دیدی کے بارے میں پوچھتا ہے۔جب اسے بتایا جاتا ہے کہ وہ دہلی میں ہیں تو وہ اپنے آپ کو نہیں روک پاتا ہے۔اس کے ہاتھ میں کیروسین کا جار ہوتا ہے اور وہ وہیں اپنے جسم میں آگ لگا لیتا ہے۔وہ ہگلی ضلع کے بانس بیریا کا رہنے والا ہے۔مبینہ طور پر مقامی ترنمول لیڈران اسے سالوں سے ریلوے میں نوکری دلوانے کا وعدہ کررہے تھے اور وہ وعدوں سے بالکل مایوس ہو گیا تھا۔80فیصد جل کر زندگی اور موت سے جوجھ رہے دتا نے بنگال کے نوجوانوں کی مایوسی کی بانگی بھر پیش کی ہے۔ظاہر ہے کہ معاملے پر سیاست بھی ہوگی۔مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کی یوتھ شاخ ڈی وائی ایف آئی نے اس کے خلاف ایک ریلی بھی نکالی اور ریاستی بایاں محاذ کے چیئر مین ویمان بسو نے الزام لگایا کہ بدنامی سے بچنے کے لیے ترنمول کے لوگوں نے دتا کو سرکاری اسپتال سے ہٹاکر ایک نجی نرسنگ ہوم میں داخل کرایا۔لگے ہاتھ انہوں نے بنگال کے نوجوانوں کو بھی نصیحت دے دی کہ وہ اس طرح کے جھانسوں سے ہو شیار رہیں۔ویسے بایاں محاذ وزیر ریل کے تمام ریلوے پروجیکٹوں کو ایک جھانسہ ہی بتا رہا ہے اور ممتا پر عہدے کے بیجا استعمال کا الزام بھی لگاتا ہے۔حال ہی میں انہوں نے دو سفارشی خط بھی صحافیوں کو دکھائے جو نوجوانوں میں تقسیم کئے جارہے ہیں۔
انتخابی موسم میں الزام جوابی الزام کا کوئی مائی باپ نہیں ہوتا ہے، پھر بھی اس میں کوئی شک نہیں کہ بایاں محاذ کے خلاف ہوا بنانے میں نوجوانوں کی نا امیدی کا ایک بڑا ہاتھ ہے۔نوجوانوں کی نا امیدی کی ایک بڑی وجہ بے روزگاری ہے۔ظاہر ہے اس مسئلہ کا ذمہ دار 34سالوں سے راج کررہا بایاں محاذ ہے۔1977میں جب بایاں محاذ اقتدار میں آیا تو ریاست میں بے روزگاروں کی تعداد 11-12کے درمیان تھی۔ ایک سال پہلے کے اعداد وشمار پر غور کریں تو یہاں فی الحال 64لاکھ لوگ روزگار دفتروں کے بلاوے کا انتظار کررہے تھے۔ اس میں اگر غیر رجسٹرڈ بے روزگاروں کو جوڑ دیا جائے تو تعداد تقریباً ایک کروڑ کے آس پاس پہنچ جائے گی۔ ویسے حکومت نے بے روزگاری بھتہ کا انتظام کیا ہے لیکن یہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے ہی برابر ہے۔
وزیر مملکت برائے محنت ملکارجن کھڑگے نے پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں بتایا تھا کہ 2007سے2009کے درمیان بنگال کے روزگار دفتروں نے 13ہزار سے بھی کم نوجوانوں کو روزگار دیا۔2008میں یہ اعداد5100اور 2009میں صرف2600نوکریاں نوجوانوں کو نصیب ہو سکیں۔اس معاملے میں مغربی بنگال کا نمبر تملناڈو، کیرل، مہاراشٹر،اتر پردیش، مدھیہ پریش اورآندھرا پردیش جیسی ریاستوں کے بعد آ رہا ہے۔نریندر مودی کو فرقہ پرست بتانے والے کامریڈوں کو اس معاملہ میں ان سے جلن ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر وہاں2007میں 178300، 2008میں 217700اور2009میں 153500لوگوں کو روزگار دفتروں کے ذریعہ نوکری ملی۔ پوچھا جا سکتا ہے کہ ریاست میں موجود فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیا روٹی کی جگہ لے سکتی ہے؟
بایاں محاذ حکومت کی ریاست میں زراعت میں کافی ترقی ہوئی لیکن بے روزگاروں کو اس میں لگانے کی شرح میں مسلسل گراوٹ آ رہی ہے۔2006-07کے اقتصادی سروے کے مطابق 1993-94میں کل روزگار میں زراعت کا حصہ 61.67فیصد تھا، جو 1999-2000میں کم ہو کر 54.19فیصد پر آگیا۔ 2006-07کے سروے کے مطابق90کی دہائی میں مشترکہ طور پر منظم سرکاری اور نجی شعبوں میں منصوبہ بندی کی شرح ترقی میں بھی گراوٹ آئی۔لیبر وزارت کے منصوبہ بندی بازار اطلاعاتی سسٹم کے تحت کور کئے گئے اداروں میں سالانہ منصوبہ بندی کی ترقی 1983-1994کے درمیان1.20فیصد تھی، جو 1994-2004میں کم ہو کر 0.38فیصد ہو گئی۔ حالانکہ اس دوران ریاستی حکومت کے لیے ایک راحت کی بات یہ رہی کہ منظم نجی شعبہ میں شرح روزگار 0.44فیصد سے بڑھ کر 0.61فیصد ہو گئی۔حالانکہ ریاست میں ہر سال بیر وزگاروں کی بڑھتی فوج کو دیکھتے ہوئے یہ اعداد و شمار معمولی ہی لگتے ہیں۔’’ٹرانسفورمنگ ویسٹ بنگال-چینجنگ دی اجینڈافاراین اجینڈا فار چینج‘‘ عنوان سے وویک دیب رائے اور لویس بھنڈاری کی جانب سے پیش کئے گئے ایک ریسرچ پیپر کے مطابق 2005میں بنگال ملک میں زراعت کے معاملے میں آٹھویں، سب سے کم غریبی کے معاملے میں بارہویں، فی شخص آمدنی کے معاملے میں دسویں اور سرمایہ کاری کے لیے بہتر جگہ کے معاملے میں سترہویں پائیدان پر تھا۔اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ 2005کے بعد سے حالات میں کافی بدلاؤ نہیں آئے ہیں۔عالمی بینک کی نائب قومی درجہ بندی میں ایک بہتر ماحول میں تجارت کرنے کے اسٹینڈرڈ پر کولکاتہ کا نمبر جے پور، بھونیشور، لکھنؤ، پٹنہ اور رانچی کے بعد ہی آتا ہے۔
بنگال میں ابھی رائے دہندگان کی تعداد 56087187ہے جو گزشتہ برس کی تعداد سے 2فیصد زیادہ ہے۔ اس سال شامل کئے گئے رائے دہندگان میں75فیصد یعنی 11.14لاکھ رائے دہندگان کی عمر 18سے25سال کے درمیان ہے۔ریاست میں گزشتہ چار برس سے تبدیلی کی ہوا بہہ رہی ہے اور اس حساب سے تقریباً 45لاکھ نوجوانوں کا ایک بڑا حصہ نئی حکومت کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ 80فیصد جل کر بھی پرسون مضمون لکھے جانے تک زندہ تھا۔ اگر وہ بچ جاتا ہے توممکن ہے کہ مئی میں دیدی کی تاج پوشی دیکھ لے اور اس کو ملے وعدے بھی پورے ہو جائیں۔حالانکہ اس نے بہت جلدی حوصلہ کھو دیا۔ ممتا گزشتہ 34سالوں ے انتظار کرر ہی ہیں، لیکن ان کی ہی پارٹی کا حامی سال دو سال کی یقین دہا نی کو بھی کیوں نہیں جھیل پایا؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *