بہن جی! یہ کیا ہو رہا ہے؟

وسیم راشد
کہتے ہیں ایک خاتو ن کے احساسات و جذبات اور مسائل کو ایک خاتون ہی بہتر طور پر سمجھ سکتی ہے، لیکن اترپردیش میں گنگا الٹی بہہ رہی ہے۔ یہاں ایک خاتون کا راج ہے اور اس کے راج میں صوبے کی خواتین ہی محفوظ نہیں ہیں۔آئے دن خواتین کی عصمت دری ہونا اس صوبے کا گویا معمول سا بن گیا ہے۔سونے پر سہاگا یہ کہ صوبے کی وزیر اعلیٰ یعنی مایاوتی بھی دلت طبقے سے تعلق رکھتی ہیں اور عصمت دری کی شکار بیشتر خواتین کا تعلق بھی دلت طبقے سے ہی ہے۔ یعنی مایاوتی اپنے راج میں اس طبقے کی بھی حفاظت نہیں کر پا رہی ہیں، جو طبقہ انہیں کسی مسیحا سے کم نہیں سمجھتا۔دلتوں نے مایاوتی کو وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بٹھانے میں کلیدی رو ل ادا کیا تھا۔یہ بات مایا وتی بھی اچھی طرح جانتی ہیں، لیکن مایاوتی اقتدار کے نشے میں اس قدر چور ہیں کہ وہ دوسرے لوگوں کی بھلائی کے لیے تو کیا اپنے طبقے کے لوگوں کے لیے بھی کچھ نہیں کر رہی ہیں۔وہ شاید اس بھول میں مبتلا ہیں کہ میں ترقیاتی کام کروں یا نہ کروں اتر پر دیش سے مجھے کوئی نہیں اکھاڑ سکتا۔ انہیں بہار کو نہیں بھولنا چاہئے، جہاں15برسوں تک لوگ لالو اور رابڑی پربھروسہ کرتے رہے اور لالو ان کے اس بھروسے کو محض نادانی سمجھتے رہے۔بالآخر وہی ہوا جو ہونا چاہئے تھا۔لالو اور رابڑی کو بہار کے عوام نے اقتدار سے بے دخل کر دیا۔ صرف بے دخل ہی نہیں کیا بلکہ 2010کے اسمبلی انتخابات میں تو انہیں اپوزیشن میں بیٹھنے لائق بھی نہیں چھوڑا۔
مایاوتی کو بہار کی تبدیلی کو قطعی نہیں بھولنا چاہئے، اگر وہ یہ بھول کر بیٹھیں جیسا کہ کر رہی  ہیں تو ان کا بھی لالو اور پاسوان جیسا حشر ہونا یقینی ہے۔ مایاوتی پر یو پی کے عوام نے لالو سے بھی زیادہ بھروسہ کیا ، انہیں اتنی اکثریت سے اقتدار کی چابی سونپی کہ دوسری کوئی پارٹی ان کے آس پاس بھی نہیں ٹکی۔عوام نے ان پر اتنا بڑا بھروسہ اس لیے کیا تھا کہ دوسری کوئی پارٹی ان کے راستے کا کانٹا نہ بن سکے اور مایاوتی بے فکر ہو کر ترقیاتی کام انجام دے سکیں، تاہم مایاوتی نے عوام کی امیدوں کو چکناچور کر دیا اور انہیں ملائم سنگھ سے بھی زیادہ ٹھگتی چلی گئیں۔یو پی میں ترقیاتی کام تو بالکل نہیں ہوئے البتہ جرائم کا گراف ضرور تیزی سے بڑھتا چلا گیا۔ بالخصوص خواتین کی عصمت دری کا گراف خاصا بلند ہو گیا۔آج یو پی کے حالات ہم سب کے سامنے ہیں۔ لاء اینڈ آرڈر کی بدحالی نے یو پی کے عوام کی آنکھوں سے نیند چھین لی ہے۔ لڑکیاں نہ دیہی علاقوں میں محفوظ ہیں اور نہ شہروں میں۔ رات کو گھروں سے باہر نکلنا ان کے لیے محال ہو گیا ہے۔غور طلب ہے کہ دیہی علاقوں میں آج بھی بیشتر لوگ حاجت سے فراغت کے لیے جنگلوں میں جاتے ہیں اور خواتین بھی جنگلوں میں ہی جاتی ہیں۔ اب انہیں یہ خوف رہتا ہے کہ کہیں وہ کسی درندے کی ہوس کا شکار نہ بن جائیں ۔
صوبے میں عصمت دری کی وارداتیں ہر روز ہی ہو رہی ہیں۔ اخبارات ان وارداتوں سے بھرے پڑے رہتے ہیں، نیوز چینل چیخ چیخ کر مایاوتی کے ناقص قانونی نظام کا رونا روتے ہیں، لیکن مایاوتی کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی۔ ان میں سے بیشتر وارداتوں میں رسوخ والوں اور ان کے رشتے داروں کا تعلق ہوتاہے، جن کی انگلیوں پر پولس کٹھ پتلی کی طرح ناچتی ہے۔لکھنؤ کے فتح پورمیں رونما ہونے والے واقعہ کو یاد کرکے صوبے کی خواتین کانپ اٹھتی ہیں، بالخصوص طالبات کے لیے یہ واقعہ ایک نیا خوف بن کر آیا ہے۔واضح ہو کہ لکھنؤ کے فتح پور میں بیتی7فروری کو کچھ وحشی درندوں نے ایک دلت نابالغ لڑکی کی عصمت دری کی کوشش کی۔اپنی اس وحشی کوشش میں ناکامی کے بعد انھوں نے لڑکی کے ہاتھ، پیر اور ناک کان کاٹ ڈالے۔ ایسی بے شمار دلت خواتین یا لڑکیاں ہیں جووحشی درندوں کا شکار ہو رہی ہیں اور پولس و انتظامیہ کچھ نہیں کر پاتی۔ مایاوتی اترپردیش کے عوام کو دھوکہ دے رہی ہیں۔ شاید وہ یہ نہیں جانتیں کہ جب عوام بدلہ لیتے ہیں تو بے حساب لیتے ہیں۔پھر ان کے آگے اچھے اچھے لیڈر کچھ نہیں کر پاتے بلکہ ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے نظر آتے ہیں۔کم از کم انہیں عرب ممالک سے تو سبق لینا ہی چاہئے۔ عرب میں بغات کی یہ آگ صرف اس لیے بھڑکی کیونکہ، عوام اپنے حکمرانوں سے تنگ آ چکے تھے۔ مہنگائی، فاقہ کشی، مفلسی،بدعنوانی اور ناقص لاء اینڈ آرڈر ان ممالک میں انتہا کو پہنچ گیا تھا۔اس لیے وہاں کے عوام نے اس نظام کو ہی بدلنے کی ٹھان لی جو ان سب مسائل کے لیے ذمہ دار تھا۔مایاوتی کی ریاست میں بھی یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ پولس جہاں لیڈروں کی انگلیوں پر ناچ رہی ہے وہیں بڑے افسران مایاوتی کے سینڈل چمکانے میں مصروف ہیں۔ لو گ بھوک سے تڑپ کر مر رہے ہیں، اس کی انہیں کوئی پرواہ نہیں۔پرواہ ہوگی بھی کیوں؟انہیں تو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ہمیشہ بہن جی ہی اقتدار میں رہیں گی اور جب بہن جی اقتدار میں رہیںگی تو ان کے چمچوں پر بھلا کیونکر کوئی آفت آسکتی ہے؟ یہی سوچ کر افسران بہن جی کے سینڈل چمکا رہے ہیں اورپارٹی کے ایم ایل اے خواتین کی عصمت دری کر رہے ہیں۔ ایم ایل اے پرشوتم نریش دویدی کے فعل کو کون بھول سکتا ہے، جس نے ایک دلت لڑکی کی عصمت دری کرکے اس کی زندگی کی تمام خوشیاں چھین لیں، پل بھر میں اسے سماج کی نظروں کا کانٹا بنا دیا، لیکن داد دینی ہوگی اس لڑکی کی ہمت کی جس نے ایک ایم ایل اے کو سزا دلانے کی ٹھانی ہے۔ وہ دویدی کوسماج کے لیے ایک عبرت بنا دینا چاہتی ہے، لیکن عبرت تو وہ تب بنیں گے جب گواہوں کو نہیں خریدیں گے، ثبوتوں کو مٹانے کے لیے موٹی رقم نہیں دیں گے، پولس و افسران ان کے اشاروں پر نہیں ناچیں گے، انہیں سیاسی حمایت نہیں ملے گی،جوکہ ایک ناممکن سی بات لگ رہی ہے۔ سیاستداں تو ہوتے ہی اس لیے ہیں کہ وہ غریبوں کا خون چوسیں، ان کی لڑکیوں کی عصمت دری کریں، غریبوں کو ستائیں اور مظلوموں پر مزید ظلم کریں۔
غلطی ان لیڈروں کی بھی نہیں ہے۔ دراصل ہمارا پورا نظام ہی سڑ چکا ہے، اگر کوئی لیڈر اسمبلی الیکشن لڑتا ہے تو اس کے کئی لاکھ روپے ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔ یہا ں تک کہ چھوٹے سے گائوں کا ایک پردھانی کا امیدوار بھی لاکھوں روپے خرچ کر دیتا ہے۔ اتنی موٹی رقم جب ان لوگوں کی الیکشن لڑنے میں خرچ ہوجاتی ہے تو اس کی بھرپائی تو انہیںکہیں سے کرنی ہی پڑے گی۔ اس لیے یہ لوگ جرائم کی دنیا میں قدم رکھ دیتے ہیں اور جائز و ناجائز طریقے سے خوب دولت کماتے ہیں۔ اول تو ٹکٹ بھی ان لوگوں کو ہی دیا جاتا ہے جو جرائم کی دنیا کے بے تاج بادشاہ ہوتے ہیں،جن کے پاس بے شمار دولت ہوتی ہے اور جو سماج میں اپنا دبدبہ رکھتے ہیں۔ دبدبہ اپنی صلاحیتوں، ایمانداری یاسماج کے لیے کیے گئے فلاحی کاموں کی وجہ سے نہیں بلکہ دادا گیری، ڈاکہ زنی، لوٹ مار ،قتل و غارتگری اور ان جیسے کئی دوسرے پیشوں کی وجہ سے۔ دولت کمانے کے چکر میں پھر انہیں کوئی کام غیر قانونی یا ناجائز نہیں لگتا، انہیں صرف اور صرف دولت چاہئے اس کا ذریعہ کیسا بھی ہو؟دولت ایسی چیز ہے جو بیشتر لوگوں سے برداشت کا مادہ چھین لیتی ہے،دلوں سے رحم ختم کردیتی ہے اور جائز و ناجائز کی تمیز بھلا دیتی ہے۔مایا وتی کی ریاست میں ایسے لیڈروں و افسران کی بھر مار ہے ، جو جائز و ناجائز میں تمیز کرنا بھول گئے ہیں۔ وقت رہتے اگر مایاوتی نے اپنی غلطیاں قبول نہیں کیںاور ان میں اصلاح نہیں کی تو عوام ان کا حشر بھی لالو جیسا ہی کریں گے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *