بابوئوں کے دفاع میں شیلا

دلیپ چیرین
مرکزی حکومت کی من مانی نے حکومت دہلی کو پریشان کر دیا ہے۔ اس میں بابوؤں کے تبادلے سے جڑے معاملے بھی شامل ہیں۔ حال ہی میں حکومت دہلی کے چار بابوؤں کے تبادلے سے تو ایسا ہی محسوس ہوا۔ یہ چاروں بابو کافی اہم عہدوں پر فائز تھے۔ اس سے وزیراعلیٰ شیلا دیکشت کافی پریشان ہو گئیں۔ ذرائع کے مطابق سینئر آئی اے ایس افسر رمیش نیگی، کے کے شرما، آر کے ورما اور جے شریواستو کے تبادلے کی بھنک شیلا دیکشت کو بھی پہلے سے نہیں تھی۔ انہوں نے اس پر کہا کہ یہ تبادلے من مانے ڈھنگ سے کیے گئے، لیکن شیلا دیکشت کی وزیرداخلہ پی چدمبرم سے ہوئی بات چیت کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزیراعلیٰ نے چدمبرم کو اس بات کے لیے راضی کرلیا ہے کہ ان میں سے کچھ بابوؤں کے تبادلے روک دئے جائیں۔ ذرائع کے مطابق نیگی، ورما اور کمشنر برائے انڈسٹریزکا تبادلہ رد کردیا گیا ہے۔ دیگر بابو بھی جن کا تبادلہ ہوا ہے، اگلے مہینے بجٹ پیش ہونے تک اپنے عہدہ پر برقرار رہیںگے۔ یہ ایسے بابو ہیں، جو وزیراعلیٰ کے قریبی ہیں اور بجٹ بنانے میں ان کا کردار اہم رہا تھا۔ اس کے علاوہ دیکشت حکومت کی کئی دیگر ترقیاتی اسکیموں کو بھی یہی لوگ دیکھ رہے تھے۔ ظاہر ہے ان کے تبادلے سے ان اسکیموں پر اثر پڑے گا۔ اس بات سے تمام متفق ہیں کہ اس ایشو سے مرکزی حکومت اور دہلی حکومت کے درمیان تعطل تھوڑا کم تو ضرور ہوا، لیکن اس کے بعد بھی مرکزی حکومت تبادلے کے ایسے معاملوں میں ریاستی حکومت سے مشورہ لینے کے موڈ میں نہیں ہے۔

تعمیر نو کاوقت

مرکز  کے زیر انتظام ریاست چنڈی گڑھ کے صلاح کار پردیپ مہرا کے مستقبل پر چھائی غیر یقینی ختم ہو گئی ہے۔وزارت داخلہ نے اس متنازعہ آئی اے ایس افسر کودہلی بلا لیا ہے۔اسی کالم میں پہلے جیسے بتایا گیا تھا کہ مہرا اپنی مدت کار کی شروعات سے ہی مختلف ایشوز پر چنڈی گڑھ کے ایس ایف روڈرگس کے ساتھ چل رہے جھگڑوں کے لیے مشہور رہے ہیں۔سب سے بڑا تنازعہ ایک زرعی ترقی اسکیم کے لیے قیمت مقرر کرنے کو لیکر ہوا تھا۔
اس میں کوئی تعجب نہیں ہے کہ شرما نے اپنی مدت کا ر چنڈی گڑھ میں خود کو بچانے میں ہی صرف کی۔کیونکہ ان پر کئی الزامات تھے اور ان کے خلاف جانچ بھی چل رہی تھی۔اس کے علاوہ ان سے اپنے ماتحتوں کی سالانہ خفیہ رپورٹ لکھنے کا اختیار بھی چھین لیا گیا تھا۔حالانکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد میں انہیں کلین چٹ دے دی گئی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مہرا کی جگہ لینے والے کے کے شرما (1983بیچ)کے ذمہ کافی اہم کام ہیں۔مثلاً انہیں مہرا-روڈرگس تنازعہ کی وجہ سے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے صلاح کار دفتر کی بگڑی شبیہ کو ٹھیک کرنا ہوگا۔امید ہے کہ شرما کی مدت کار کے دوران ترقی کے کام زیادہ ہوں گے اور کڑواہٹ کم ہوگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *