عرب تانا شاہوں پر عوامی سونامی کی لہر

عفاف اظہر
لیبیا کے صدر کرنل معمر قذافی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ طویل اور گھمبیر ہوتا چلا جا رہا ہے، سلسلہ طرابلس تک پھیل چکا ہے اور مشرقی شہر بن غازی کے بیشتر حصے کا کنٹرول مظاہرین نے سنبھال لیا ہے ۔ قذافی کے بیٹے سیف السلام کا کہنا ہے کہ ملک شدید بحران کا شکار ہے اور یہاں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے حزب اختلاف کے گروہوں اور شدت پسندوں پر ملک توڑنے کی کوشش کرنے کا الزام بھی لگایا ۔ جبکہ صدر قذافی کا کہنا ہے کہ لیبیا میں ان مظاہروں کے ذمہ دار اسامہ بن لادن ہیں اور وہ اپنے خون کی آخری بوند تک لڑیں گے۔
لیبیا ایک ایسا ملک ہے، جہاں کسی ایک عام ریاست کی طرح حکومتی ڈھانچہ موجود نہیں ہے ۔ کرنل قذافی نے لیبیا میں حکومت کرنے کے لئے ایک خود ساختہ ذاتی قسم کا نظام نافذ کر رکھا ہے جس میں ان کے سوا کسی اور کی کوئی گنجائش نہیں نکلتی ہے ۔ اس میں ان کا خاندان اور قریبی اشرفیہ شامل ہیں ۔ جن کی زیادہ تعداد ان کے اپنے ہی قبیلے قزافیا سے ہے ۔ تیونس اور مصر میں طاقتیں جو آسانی سے اقتدار کی منتقلی کا عمل مکمل کر سکتی ہیں ، جس میں سیاسی پارٹیاں ٹریڈ یو نینز ،حزب مخالف کی تنظیمیں یا سول سوسائٹی کی تنظیمیں موجود ہیں، لیکن لیبیا میں ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔لیبیا میں ایک اور چیز قابل غور ہے کہ یہاں پر ادارے تقریباً مکمل طور پر فعال نہیں ہیں ، کیوں کہ تمام کی تمام طاقت ’’بردار لیڈر‘‘کے ارد گرد ہی گھومتی ہے اور یہ حقیقت کا وہ پہلو بھی ہے جو کرنل قذافی کی شخصیت کی بہ خوبی وضاحت بھی کرتا ہے کہ وہ موت سے لڑنے کیوں جا رہے ہیں ؟ سونے پر سہاگہ یہ کہ یہ کرنل قذافی کے گزشتہ دنوں کے دوران کئے گئے اقدامات ہیں جن کی وجہ سے ان کے اس طویل اقتدار کی ساکھ برباد ہو چکی ہے ، کیوں کہ ان کے نزدیک اب تشدد اور جبر ہی واحد حل ہے جو انھیں اقتدار پر قائم رکھ سکتا ہے ۔ اس صورتحال نے لیبیا کو ایک غیر خوشگوار مشکل سے دوچار کر رکھا ہے ۔ یقینی طور پر لیبیا میں کو ایسی متحدہ طاقت یا شخصیت موجود نہیں جو آگے بڑھ کر اقتدار حاصل کر لے جس کی وجہ سے طاقت کے ایک بڑے خلاء کا خطرہ بھی موجود ہے ۔ لیبیا میں قبائلی دشمنیوں کی ایک طویل تاریخ موجود ہے جس کی وجہ سے تشدد کی صورت ہی نہیں بلکہ بد ترین شکل میں خانہ جنگی کے کھلے امکانات بھی موجود ہیں ۔ لیبیا کی اندرونی صورتحال خواہ کچھ بھی ہو مگر اس حقیقت کو قطعاً نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ لیبیا میں ریاست کی ناکامی کے سنگین ترین اثرات یورپ پر بھی مرتب ہونگے ۔ جن میں غیر قانونی پناہ گزین اور تیل کی سپلائی جیسے اہم ترین معاملات شامل ہیں۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے لیبیا کی رکنیت معطل کرنے اور لیبیا میں تشدد پر عالمی تحقیقات کی سفارش بھی کی ہے جبکہ امریکہ نے لیبیا پر پابندیاں عاید کر دی ہیں ۔ صدر اوباما نے کہا ہے کہ لیبیا پر امریکی پابندیوں کا اصل نشانہ کرنل قذافی کے اثاثے اور انکا خاندان ہو گا جبکہ لیبیا ئی عوام کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا، جبکہ برطانیہ اور فرانس اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں پیش کرنے کے لئے ایک ایسی قرارداد کا مسودہ تیار کر رہے ہیں جس کے تحت لیبیا کے اسلحہ خریدنے پر قدغن کے ساتھ ساتھ دیگر مالی پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کی جائے گی ۔ سکریٹری جنرل بان کی مون نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ لیبیا میں تشدد کے واقعات کے دوران اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں ، جبکہ وہاں نقل مکانی کرنے والے افراد اور غذائی صورتحال بھی تشویش ناک ہے ۔
عروج و زوال تو زندگی کے حصے ہیں، مگر اصل چیز تو وہ تاریخ ہے جو آج رقم ہو رہی ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں ایک مخصوص وقت میں تبدیلی کی لہر اٹھتی ہے مگر آج انٹرنیٹ کی موجودگی سے اس لہر میں شدت تیزی سے آ رہی ہے ، لیکن ہر ملک میں ہونے والی بغاوتوں کو صرف مثبت انقلاب کی نظر سے دیکھنا بھی درست نہیں تاکہ اس کے نقصانات کے لئے خود کو تیار رکھا جا سکے ۔ ایسے معاشروں میں جہاں تعلیم سے گزشتہ نسلوں کو بے بہرہ رکھا گیا ہو وہاں جبر کے خلاف یہ بغاوت فقط انسانی فطرت اور سطحی ردعمل ہے مگر حقیقی اور مطلوبہ تبدیلی ہرگز نہیں ۔ تیس چالیس برسوں کی حکومتوں کو برداشت کرنے کے بعد عوام کو ہونے والے اس’’ انقلابی بخار‘‘ کی وجہ محض یہی سمجھاتی ہے کہ اپنی عمروں کی آخری حدوں کو چھونے والے حکمرانوں کی جگہ اب نئے اور تازہ دم آمر بٹھا دیے جائیں۔ قبل اس کے کہ ان کی موت کی صورت میں کوئی خلاء رہ جائے ۔ اس وقت کی عوامی بغاوتوں کی بظاہر یہ صورت حال ہے کہ نہ کوئی متبادل قیادت ہے اور نہ ہی کوئی نظریہ ۔ بس خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ بدلتا ہے کے مترادف ہیں اور یہ تیس چالیس برسوں سے اقتدار سے چمٹے آمر ان جونکوں کی مانند ہیں جو عوام کا خون چوس چوس کر سیر ہو چکی ہیں۔ ان سے بنا قیادت کے یہ غیر شعوری بغاوت کرنا گویا ان خون چوس چوس کر سیر ہوئی جونکوں کو اب اٹھا کر تازہ دم بھوکی جونکوں کو دعوت دینا ہے اور بس۔
تیونس ، مصر، بحرین، یمن اور اب لیبیا …اور اس کے بعد ؟تمام مسلمان ممالک کی اکثریت تو گزشتہ کئی صدیوں سے اپنی بے عمل اور منافق و جاہل ملائیت کے ہاتھوں دینی و دنیاوی ترقی کی راہوں سے دور ہو چکی ہے ۔ نتیجتاً یوروپ جس نے طویل جدوجہد کے بعد خود کو اپنی ’’ا پا یئت‘‘سے آزاد کروایا تھا اس کے استعمار کے ہاتھوں مغلوب ہوئی ۔ جس نے پہلے براہ راست ان پر حکومت کی ۔ پھر ایسی بادشاہتوں یا ڈکٹیٹر نما حکمرانوں نے کہ جنہوں نے جہالت کے فروغ کے لئے مدرسوں کا تو جال بچھا دیا مگر ایک بھی یونیورسٹی نہ بننے دی۔ عوام کو جکڑ کر اپنے مفادات کا بول بالا رکھا ۔ آج سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج ان مملکتوں کے افراد ’’حق خودار ادیت ‘‘کا بوجھ اٹھا پائیں گے ؟ اسلامی ممالک میں غیر جمہوری طریقہ کار سے جان چھڑا کر آزادی حاصل کرنے کی جو لہر آج دنیا دیکھ رہی ہے وہ  برسوں سے دبائی گی وہ خاموشی ہے جو آج چیخ بن کر نکلی ہے ۔بیالیس برس کا طویل عرصہ ایک پوری نسل پر محیط ہے ۔ بد قسمتی سے ہزاروں سال گزر گئے دنیا کہاں سے کہاں جا پہنچی مگر مسلمانوں نے نہ کبھی خود کو بدلہ نہ اپنی جہالت ہی تسلیم کی اور آج بھی صرف حکمرانوں کو بدل کر بہتری کی توقعات لئے بیٹھے ہیں جو کہ مزید ہزار سال تک متوقع نہیں ۔چہرے بدلنے سے تبدیلی ممکن ہوتی تو پاکستان میں کب کی آ چکی ہوتی، مگر نہیں حقیقی تبدیلی تو ہمیشہ شعور اور تعلیم سے آتی ہے ۔ چہرے بدلنا تبدیلی نہیںبلکہ ہر وہ نظام بدلنا اصل تبدیلی ہے جو ایسے ڈکٹیٹروں کے اقتدار کو بیالیس سال کی طوالت بخشتا ہے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *