سائنس کی ترقی حاملین قرآن نے اہم رول ادا کیا

وصی احمد نعمانی

گزشتہ سے پیوستہ
اسپین کے مسلمانوں نے بھی سائنس کو بے پناہ ترقی دی۔ اس میدان میں اسپینی مسلمانوں کا سائنسی کارنامہ بے مثال ہے۔ جو بڑی مدت تک کسی دیگر تہذیب میں دیکھی نہیں گئی تھی۔ وہاں کے مسلمان فلکیات، ریاضیات، طبیعیات، کیمسٹری اور طب میں ممتاز ترین اعلیٰ درجہ رکھتے تھے۔ اسپینی مسلمان ’’ارسطو‘‘ کا بے پناہ احترام کرتے تھے، مگر انہوں نے سچی بات ببانگ دہل کہی اور ارسطو کے نظریہ کو رد کردیا کہ ’’زمین کائنات کا مرکز ہے۔‘‘ اسپینی مسلمانوں نے ثبوت کے ساتھ کہا کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی سورج کے گرد گھومتی ہے اور یہ بات آج کی ترقی یافتہ سائنس بھی اس طرح مانتی ہے کہ یہ ’’فکر‘‘ ثبوت کے ساتھ ناقابل تنسیخ بنی ہوئی ہے اور اب تو ہر انسان اپنی نظروں سے زمین کو سورج کے گرد گھومتی ہوئی دیکھتا ہے۔ مسلمان نظام شمسی سے متعلق صحیح نظریہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ ایسا صرف اس لیے ممکن ہوسکا، کیوں کہ اسلام نے ’’پابندی فکر‘‘ کے اس ماحول کو توڑ دیا، جو انسان کے لیے ذہنی ترقی میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ یہ بندشیں مصنوعی تھیں، اس کے ختم ہوتے ہی انسانی فکر کا قافلہ تیزی سے ترقی کی طرف سفر کرنے لگا اور بالآخر اس مرحلہ تک پہنچا جہاں وہ ہمیں بیسویں صدی میں نظر آرہا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ تحقیقات و ایجادات کے اعتبار سے سائنس کے کمالات آج اپنے پورے عروج پر ہیں۔ سائنس دانوں نے زمین و آسمان کے موجودات پر تحقیق کی۔ جنگلوں، صحراؤں، سمندروں، پہاڑوں، آتش فشانوں، مد و جزر، زلزلے، DNA ، آسمانوں، قدرتی مناظر اور انسان و جانور کی تخلیق وغیرہ کے بارے میں اتنا زیادہ انکشاف کیا ہے اور ایسے نتائج پیش کیے ہیں کہ دنیا حیرت زدہ رہ گئی ہے اور یہ سب ایمان کی پختگی میں اضافے اور اعتماد میں مضبوطی کا سبب بن گئے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ علم و تحقیق کے حوالے سے یہ سائنس دان بصیرت اور فراست رکھنے والے ہر فرد کے محسن ہیں اور ان کے لیے دل میں بے اختیار تشکر اور احسان مندی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ درحقیقت یہ سائنس داں خدا کے بے حد پسندیدہ ہیں، جن کو خدا نے چنا اس بات کے لیے کہ وہ ان راز کو آشکارا کرے جو خدا کی عظمت اور اس کی کبریائی کو بیان کرے، ہمارے اعتماد و یقین کو زیادہ پختگی دے سکے۔
گزشتہ مضامین میں ’’حاملین قرآن مسلم سائنسدانوں‘‘ میں سے صرف چند کے نام گنائے گئے تھے تاکہ ذہن سے یہ بات بالکل نکالی جاسکے کہ قرآن اور سائنس میں کوئی تضاد ہے۔ اگر کہیں تضاد ہے تو اس کی تحقیق اور تجزیہ کی ضرورت سائنس کو ہے، کیوں کہ کوئی بھی تحقیق یا ریسرچ جو قرآنی آیات کی مخالفت میں ہے۔ اس کا تجزیہ ہوتے رہنا ہے اور تحقیقی کام کو جاری رکھنا ہے اور یہ کام مسلم سائنس دانوں نے ہمیشہ کیا ہے، انہیں مسلم یا حامل قرآن سائنسدانوں میں سے ایک اور نام۔
ابو علی حسن ابن الہیثم کا بڑے اہتمام سے لیا جاتا رہے گا۔ ان کے بے شمار سائنسی کارناموں میں سے مندرجہ عظیم الشان کامیابی ان کے نام ہیں۔ گزشتہ مضمون میں سرسری طور پر الہیثم کا نام ضرور لیا گیا تھا، مگر یہاں ذرا تفصیل سے ان کے کارنامہ کو پیش کیا جارہا ہے تاکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوسکے کہ کس طرح مسلم سائنس دانوں نے قرآن کے احکامات سے رہنمائی پا کر کارہائے نمایاں سائنس کے میدان میں دیا ہے اور یہ بھی ثابت ہوسکے کہ مسلم سائنسدانوں کے ایجادات پر کس طرح لوگوں نے قبضہ کر کے یوروپ کے سائنس دانوں کے نام سہرا باندھ دیا ہے، بلکہ ہوا تو یہاں تک ہے کہ جب یوروپ کے سائنس داں مسلم سائنس دانوں کی کتابوں کا ترجمہ کرتے تھے تو ان مسلم سائنسدانوں کے ایجادات کو اپنے نام کرلیا کرتے تھے۔
ابو علی حسن ابن الہیثم 965 عیسوی یعنی 354 ہجری میں بصرہ میں پیدا ہوئے اور 66 سال کی عمر میں 1021 عیسوی میں انتقال کر گئے، لیکن اس چھوٹی سی عمر میں جو سائنسی کارنامہ انجام دے دیا اس نے الہیثم کو سائنسی دنیا میں زندہ جاوید کردیا۔
ابو علی حسن ابن الہیثم نے آنکھ کی بناوٹ پر تحقیق کی۔ روشنی کیا چیز ہے؟ کوئی شے کیسے نظر آتی ہے؟ روشنی اور نور کی ماہیت کیا ہے؟ ان تمام باتوں پر وہ تحقیق کرتا رہا اور اپنی تمام معلومات، مشاہدات، تحقیقات اور تجزیہ کو ایک کتاب کی شکل میں یکجا کردیا۔ یعنی ’’کتاب المناظر‘‘ کی تصنیف کی۔ یہ کتاب علم طبیعیات کی اہم شاخ ’’روشنی‘‘ پر پوری دنیا میں ابو علی حسن ابن الہیثم کی پہلی کتاب اور جامع شاہکار ہے۔
ابن الہیثم نے روشنی کی ماہیئت اور حقیقت پر غور کرتے ہوئے اسے توانائی کی ایک قسم قرار دیا، جو کہ حرارتی توانائی کے مشابہ ہے، وہ کہتا ہے کہ:
’’ہمیں چیزیں کیسی نظر آتی ہیں؟ اس کی حقیقت بھی ابن الہیثم نے بتائی اور اس سے پہلے کے سائنسدانوں کے ذریعہ پیش کردہ نظریہ کو غلط ثابت کیا، کیوں کہ اس سے پہلے کا نظریہ تھا کہ ’’آنکھ سے روشنی کی شعاعیں نکلتی ہیں اور وہ جس چیز پر پڑتی ہیں، وہ چیز نظر آنے لگتی ہے۔‘‘ مگر ابن الہیثم نے اس نظریہ کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ بات درحقیقت ایسی نہیں ہے۔ روشنی کی موجودگی میں آنکھوں سے کسی قسم کی شعاعیں نہیں نکلتی ہیں اور نہ ایسی شعاعوں کا کوئی وجود ہے، ا س کے برعکس سچائی یہ ہے کہ ’’جب روشنی کسی چیز پر پڑتی ہے تو روشنی کی شعاعیں اس چیز کے مختلف پہلوؤں سے پلٹ کر پھیل جاتی ہیں۔ ان شعاعوں میں سے کچھ شعاعیں آنکھوں میں پڑتی ہیں اور چیزیں نظر آنے لگتی ہیں۔‘‘ کیمرے کی تخلیق بھی اسی اصول پر کی گئی ہے، جس نے فوٹو کی دنیا میں ایک انقلاب پیدا کردیا۔
ابن الہیثم نے یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ ’’پانی میں کوئی چیز ٹیڑھی کیوں نظر آتی ہے؟‘‘
شیشہ پر روشنی پڑتی ہے تو اس کا نقطۂ اجتماع (ماسکہ) یعنی فوکس کیاہے؟ اسی طرح سورج اور چاند افق بڑے کیوں نظر آتے ہیں؟ تارے رات کو جھلملاتے کیوں ہیں؟ انسان کو ایک کی بجائے دو آنکھیں کیوں عطا کی گئیں؟
غرضیکہ ابن الہیثم نے روشنی اور نور کے ’’انعکاس‘‘ اور ’’انعطاف‘‘ کے جو اصول دریافت کیے ہیں، وہ اب بھی سائنس دانوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ کیمرہ جیسی مفید ایجاد ابن الہیثم کی کاوشوں کا نتیجہ ہے اور سورج کی کرنوں میں روشنی اور حرارت(گرمی) ساتھ ساتھ ہوتی ہے۔ اس طرح آگ یا چراغ کی ’’لو‘‘ روشنی بھی ہے اور حرارت بھی۔ گویا کہ روشنی اور حرارت کی اصلیت اور حقیقت ایک ہی ہے۔ سائنس کی دنیا نے ابن الہیثم کے ان اصولوں کو اپنا کر سائنسی معلومات کی دنیا کو بے حد دھنی بنا دیا ہے۔
ابن الہیثم نے جسم کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔نور افشاں اور بے نور۔
نور افشاں جسم وہ ہوتا ہے جو خود روشنی دیتا ہے، جیسے سورج، چراغ اور لیمپ۔
بے نور جسم خود تو روشنی نہیں دیتا ہے، مگر وہ بے نور جسم روشنی پاکر چمکتا ہے۔
پھر بے نور جسم کی تین قسمیں بیان کی گئی ہیں۔
1- شفاف: جس میں روشنی آر پار آسانی سے گزر جاتی ہے۔ جیسے ہوا، پانی اور صاف و شفاف شیشہ وغیرہ۔
2- نیم شفاف: جس میں روشنی آسانی سے نہیں گزرسکتی اور دوسری طرف والی چیز اس طرف واضح نظر نہیں آتی ہے جیسے باریک کپڑا یا ر گڑا ہوا شیشہ وغیرہ۔
3- غیرشفاف چیزیں وہ جسم جس میں سے روشنی قطعاً پار نہیں گزر سکتی اور دوسری طرف کی چیزیں بالکل نظر نہیں آتی ہیں جیسے پتھر، لوہا وغیرہ۔
روشنی کے بارے میں ابو علی حسن ابن الہیثم کا کہنا ہے کہ:
’’نور ہمیشہ خط مستقیم (سیدھا راستہ) میں سفر کرتا ہے، اس کے لیے ذریعے یا واسطے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، بلکہ یہ بغیر سہارے کے سفر کرتا ہے۔ روشنی ہی کے سلسلے میں ابن الہیثم نے ایک اور تجربہ کیا اور اس تجربے کی بنیاد پر دوسرے سائنسدانوں نے فوٹو کیمرہ کا ایجاد کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’اگر کسی تاریک کمرے میں دیوار کے اوپر والے حصے سے ایک باریک سوراخ کے ذریعہ سورج کی روشنی گزاری جائے تو اس کے بالمقابل اگر پردہ لگا دیا جائے تو اس پر جن جن اشیاء کا عکس پڑے گا، وہ الٹا ہوگا۔‘‘ غرضیکہ ابن الہیثم نے ایسے بے شمار سائنسی کارنامے انجام دئے کہ رہتی دنیا تک انسانیت فائدہ اٹھاتی رہے گی اور خدا کی کرشمہ سازیوں کے گن گاتی رہے گی، کیوں کہ یہ ایسے سائنسداں گزرے ہیں جنہوں نے خدا کی تخلیق کردہ کائنات کے پوشیدہ حقائق کو آشکار کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔
قرآن کریم میں لکڑیوں، پتھروں، تارکول سے لے کر زمین، سورج، چاند تارے، سمندر، تیل، موتی، کیمیا، دواؤں کے راز بے شمار آیتوں میں بھرے پڑے ہیں۔ سائنس جب ریسرچ کر کے کسی قطعی فیصلے پر پہنچنے میں کامیابی حاصل کرتی ہے تو وہ صرف ایک کام کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ’’خدا کی نشانیوں کو پا کر انسانیت کو فائدہ اٹھانے کے لیے اور خدمات انجام دینے کے لیے سب کچھ وقف کردیتی ہے۔‘‘ یہی سائنس کا عظیم کارنامہ ہے اور اس طرح کے عظیم کارنامے بھی صرف خدا کی مرضی سے اور اس کے پسندیدہ بندوں کے ذریعہ انجام دئے جاتے ہیں۔ موحد سائنس داں بھی خدا کی عظیم طاقت اور اس کی کبریائی کو دل و جان سے ماننے کی وجہ سے عظیم سائنس داں ہونے کا اعزاز حاصل کرتے ہیں۔
محترم قارئین! ’’چوتھی دنیا‘‘ میں آپ نے نہایت یکسوئی کے ساتھ اب تک کے تعارفی تقریباً سات عدد مضامین کو پڑھنے کی زحمت فرمائی ہے۔ ’’قرآن، سائنس اور کائنات‘‘ خاص عنوان کے تحت آنے والے دینی عنوانات اور اس کے مواد کو ٹھیک سے سمجھنے کے لیے چار اہم الفاظ (1) قرآن (2) سائنس (3) کائنات (4) علم کو سرسری طور پر سمجھنے کی زحمت کی ہے۔ گزشتہ تمام مضامین کو اپنے ذہن میں محفوظ رکھ کر آئندہ کے مضامین کو پڑھنے کی زحمت فرمائیںگے تو اصل مضامین آپ کے مفاد میں ہوںگے۔ ابتدائیہ یا تعارف و دیباچہ کے طور پر گزشتہ تمام ساتوں مضامین کو آپ ایک بار پھر یکجا کرکے پڑھنے کی زحمت فرمائیں تاکہ تمہیدی کلمات اور جملے آپ کے ذہنوں میں تازہ ہوسکیں۔
اس کے بعد کے شماروں میں اب ’’قرآن، سائنس اور کائنات‘‘ کے دیگر ذیلی عنوانات کے لیے خدا سے دعا ہے کہ وہ اپنی کرم فرمائیوں کے ذریعہ ہمیں سکت عطا فرمائے تاکہ قاری کی خدمت میں وہ باتیں پیش کی جاسکیں، جو عنوان کا تقاضا ہیں۔
آئیے ہم سب غور و فکر کی دنیا میں چلیں۔ اپنے ذہن و دماغ، عقل و شعور کے دروازے’’وا‘‘ کریں۔ سائنس کی تحقیق کی دنیا میں۔ خدا کی کتاب قرآن کی بے شمار آیات کی دنیا میں۔ سائنسی مضامین کو اس لیے پڑھیں کہ خدا کی نشانیوں کی آگہی ان مضامین سے ہوتی ہے اور ان معلومات کے حوالے کتاب اللہ میں ملتے ہیں، جب سائنسی تحقیق کے نتائج قرآن کریم میں مذکور حوالوں سے میل کھاتے ہیں تو بے ساختہ زبان سے نکلتا ہے کہ خدا کا کلام ’’آئین کائنات ہے‘‘، ’’کتاب ہدایت‘‘ ہے اور پوری انسانیت کے لیے ہے۔ سائنس ان رازوں کو سمجھنے میں مدد کرتی ہے، جو راز کہ خدا کی خدائی میں یقین و اعتماد کو بے حد مضبوطی عطا کرتے ہیں۔
(جاری)
حوالہ جات:
1- قرآن کریم
2- محاضرات قرآنی، ڈاکٹر محمود احمد غازی
3- قرآن اور جدید سائنس، ڈاکٹر حشمت جاہ

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *