آغاز خوبصورت انجام ۔۔۔۔۔؟

راجیش ایس کمار
ڈھاکہ  کے تاریخی بنگ بندھو اسٹیڈیم میں عالمی کپ کا آغاز ایک شاندار تقریب کے ساتھ ہوگیا۔ تقریب میں دنیا بھر کے مشہور و معروف فن کاروں سمیت عالمی کپ میں حصہ لینے والی 14 ٹیموں کے کپتانوں نے بھی اپنے جلوے دکھائے۔ افتتاحی تقریب کے آغاز کے ساتھ ہی سبھی ٹیموں نے اپنی اپنی جیت کی دعویداری پیش کی۔ عالمی کپ کی افتتاحی تقریب کئی معنوں میں شاندار اور خاص رہی۔
تقریب میں بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ نے رسمی طور پر عالمی کپ شروع ہونے کا اعلان کرتے ہوئے یہی کہاکہ یہ ٹورنامنٹ کامیاب ہوگا۔ اس موقع پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے چیف شرد پوار بھی موجود تھے۔ اس رنگا رنگ پروگرام میں سب سے پہلے بنگلہ دیش کے گلوکاروں نے سماں باندھا۔ پھر باری آئی سبھی 14 ٹیموں کے کپتانوں کی۔ پہلے میدان کے بیچوں بیچ ٹھیلے پر لوگو اسٹمپی آیا، پھر ٹیموں کے کپتان چھوٹے بچوں کے ساتھ سجے دھجے رکشوں پر بیٹھ کر آئے تو پورا سٹیڈیم ناظرین کی تالیوں سے گونج اٹھا۔ اس دوران پورا اسٹیڈیم عالمی کپ کے تھیم سانگ ’’دے گھما کے‘‘ سے گونج رہا تھا۔ غور طلب ہے کہ ورلڈ کپ تھیم کو شنکر احسان لائے کے مثلث نے کمپوز کیا ہے۔ تقریب میں پہلے تین بار کے چمپئن رکی پونٹنگ بنگ بندھو اسٹیڈیم پہنچے۔ ہر کپتان کے ساتھ رکشہ میں ایک بچہ تھا۔ پونٹنگ کے بعد کناڈا کے کپتان آشیش بگئی، انگلینڈ کے کپتان انڈریواسٹراس، آئر لینڈ کے کپتان ولیم فورٹر فیلڈ، کینیا کے جینی کمانڈے، ہالینڈ کے پیٹر بولینڈ، نیوزی لینڈ کے ڈینیل ویٹوری، پاکستان کے شاہد آفریدی، جنوبی افریقہ کے گریم اسمتھ، ویسٹ انڈیز کے ڈیرین سیمی اور زمبابوے کے الٹین چنگوبورا اسٹیڈیم میں داخل ہوئے۔ پھر ہندوستانی کپتان مہندرسنگھ دھونی نے انٹری لی۔ دھونی کے بعد سری لنکائی کپتان کمار سنگا کارااور آخر میں افتتاحی تقریب کے میزبان بنگلہ دیش کے کپتان شکیب الحسن بھی تالیوں کی گونج کے درمیان اسٹیڈیم میں داخل ہوئے۔ کپتانوں کے ساتھ مشہور گلوکار سونو نگم نے انگریزی نغمہ ’’رائز اپ فور گلوری‘‘ گا کر سب کو جھومنے پر مجبور کردیا۔ اس کے ساتھ ہی رونا لیلا کے نغمے ’’دما دم مست قلندر‘‘ کو بھی خوب پسند کیا گیا۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی پوپ گلوگار برائن ایڈمس نے اپنی گلوکاری کا جادو بکھیرا۔ آخر میں شنکر، احسان اور لائے نے ’’دے گھما کے‘‘ گا کر عالمی کپ کی تقریب کا ماحول مزید دلکش بنادیا۔ اس کے بعد ہوئی جم کر آتش بازی نے، روشنی سے جگمگ اسٹیڈیم کو مزید جگمگ بنادیا اور ایک اچھے عالمی کپ کے انعقاد کے وعدے کے ساتھ ختم ہوئی افتتاحی تقریب۔
یہ تو تھا عالمی کپ کا آغاز، لیکن اس کا انجام بھی اتنا ہی خوبصورت ہوگا، اس تعلق سے شائقین کرکٹ سے لے کر منتظمین تک سبھی کے دلوں میں ایک خوف ہے۔ اس خوف کی وجہ ہے میچ کے پہلے ہی سرخیوں میں آئیں متنازع خبریں۔ حالانکہ کئی خبروں میں کافی حد تک سچائی بھی ہے۔ اپنے گھر پر عالمی کپ کھیل رہی ٹیم انڈیا اس خطاب کو جیتنے کے لیے پورے جوش میں ہے۔ کئی ریکارڈ بنا چکے مہندر سنگھ دھونی اپنے نام ایک اور تاریخ رقم کرنے کو بے قرار ہیں۔ اس کے لیے انہوںنے اپنے کھوئے ہوئے فارم کو بھی دوبارہ حاصل کرلیا ہے، لیکن پھر بھی کئی ساری اڑچنیں ہیں، جو عالمی کپ میں ہندوستان کی جیت کے آگے آسکتی ہیں۔
سب سے پہلے ٹیم انڈیا کے مظاہرے کی بات کرتے ہیں۔ ٹیم انڈیا کے سامنے سب سے بڑا سوال فیلڈنگ کا ہے۔ ٹیم انڈیا کی کمزور کڑی اس کی فیلڈنگ ہے۔ کچھ کھلاڑیوں کو چھوڑ کر ٹیم میں پھرتیلے فیلڈروں کی کمی ہے۔ اس کمی کی وجہ سے کئی ایسے مواقع آئے ہیں، جب ٹیم انڈیا کو جیتا ہوا میچ گنوانا پڑا ہے۔ اگر ہندوستانی ٹیم اپنی اس کمزوری پر قابو پالے تو کئی مثبت نتائج دیکھنے کو ملیںگے۔ اس کے علاوہ تیز گیندبازوں کا زیادہ رن دینا بھی ٹیم کو نقصان پہنچاسکتا ہے۔ کئی مواقع پر دیکھا گیا ہے ،جب میچ ہندوستان کی پکڑ میں آجاتا ہے تو ہندوستانی گیندباز حد سے زیادہ خوداعتمادی کا شکار ہو کر رن لٹانا شروع کردیتے ہیں۔ نتیجتاً ٹیم انڈیا کو اس کا خمیازہ ہار کے طور پر چکانا پڑتا ہے۔ ٹیم انتظامیہ کو تیز گیندبازی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
اتنا کافی نہیں تھا کہ عالمی کپ کے لیے ٹیم انڈیا نے جو حکمت عملی بنائی تھی، وہ لیک ہوگئی۔ عالمی کپ جیسے بڑے ٹورنامنٹ میں دبدبہ بنانے کے لیے ہر ٹیم اپنی ایک خاص حکمت عملی بناتی ہے۔ ظاہر ہے ہندوستان نے بھی ایک حکمت عملی بنائی تھی۔ ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دھونی اور کوچ گیری کرسٹن نے مل کر اپنی حکمت عملی 150 صفحات کے دستاویز میں درج کی ہے۔ اس دستاویز کو دھونی اور کرسٹن نے ’’آؤ سپنا ساکار کریں‘‘ نام دیا ہے۔لیکن ٹیم انڈیا کا یہ خفیہ دستاویز میڈیا میں لیک ہوگیا ہے۔ اب اتنی جلدی کوئی نئی حکمت عملی بنانا اتنا آسان نہیں ہے۔ یہ بھی کسی حد تک نقصان پہنچانے کے لیے کافی ہے۔
کھیل کے میدان کے باہر فکسنگ کا کالا سایہ بھی تیر رہا ہے جو وقت وقت پر کھلاڑیوں کا دھیان بھٹکائے گا۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے عالمی کپ کے میچوں کے دوران کھلاڑیوں اور افسران کے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ٹوئیٹر کے استعمال پر روک لگادی ہے۔ یہ قدم فکسنگ خاص طور پر اسپاٹ فکسنگ کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ انسداد بدعنوانی اور سیکورٹی اکائی کی پہل پر ایسا کیا گیا ہے۔ آئی سی سی چاہتی ہے کہ ٹی 20- کی طرح عالمی کپ میں کوئی بدنامی نہ ہو۔ آئی سی سی کا یہ قدم کھلاڑیوں اور افسران کو ان لوگوں کے ذریعہ رابطہ قائم کرنے سے بھی روکنا ہے جو غیرقانونی طور پر سٹہ بازی کرتے ہیں۔ آئی سی سی کے میڈیا منیجر جیمس فٹزگیرالڈ کے مطابق عالمی کپ کے سبھی میچوں کے دوران کھلاڑیوں اور ٹیم افسران کے ٹوئٹ کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اب اگر ٹیم انڈیا کو اس بار عالمی کپ کا خطاب اپنے نام کرنا ہے تو ان تنازعات سے دور رہنے کے علاوہ اپنی ان سبھی کمزوریوں پر بھی لگام کسنی ہوگی، جو اس کا مظاہرہ متاثر کرسکتی ہیں۔

ہمارا ملک اس بڑے ٹورنامنٹ کا میزبان ملک ہونے پر فخر محسوس کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی میں عالمی کپ 2011 کے انعقاد کا اعلان کرتی ہوں۔
شیخ حسینہ ,وزیراعظم، بنگلہ دیش

برصغیر ہند کے لیے یہ ایک تاریخی دن رہا اور ایسی شاندار افتتاحی تقریب میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ یک روزہ عالمی کپ آئی سی سی کا فلیگ شپ ٹورنامنٹ ہے۔ اس میں کھیلنا ہر کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے۔
شرد پوار,آئی سی سی سربراہ

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *