آپ کے خطوط، ہمارے مشورے

اصل کاپی نہیں مل رہی
ایکفرضی فوٹو کاپی درخواست کا سہارا لے کر مجھے اپنے اصل عہدہ سے نیچے کے عہدہ پر پہنچا دیا گیا۔ میں نے حق اطلاعات قانون کے تحت مذکورہ فوٹو کاپی درخواست کی اصل کاپی مہیا کرانے کو کہا( جو تھی ہی نہیں) ۔ اصل میں میرے معاملہ میں سازش کی گئی اور مذکورہ فرضی فوٹو کاپی بنائی گئی۔مجھے تب ہی انصاف مل سکتا ہے جب مذکورہ درخواست کی اصل کاپی مل جائے۔ میں اس معاملہ کو لے کر سینٹرل انفارمیشن کمیشن تک گیا۔ وہاں انفارمیشن کمشنر نے مذکورہ درخواست اصل کاپی مہیا کرانے کے لئے انتظامیہ کو حکم جاری کیا، پھر بھی مجھے اصل کاپی نہیں دی گئی۔ میں دوبارہ کمیشن میں گیا لیکن اس پر اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔لہٰذا مجھے بتائیں کہ انصاف پانے کے لئے اب مجھے کیا کرنا چاہئے۔
ایس آر کے مشرا، دھن باد
آپ سینٹرل انفارمیشن کمیشن میں بھی جا چکے ہیں۔ وہاں سے اصل کاپی دئے جانے کا حکم بھی جاری کیا جا چکا ہے۔ایسے حالات میں آپ انفارمیشن کمیشن میں یہ شکایت کر سکتے ہیں کہ کمیشن کے احکامت کی تعمیل نہیںہوئی۔اگر اس سے بھی کام نہیں بنتا ہے تب تمام ثوبتوںاور کمیشن کے احکامات کی کاپی کے ساتھ ہائی کورٹ میں اس معاملہ کو لے جا سکتے ہیں۔
آرٹی آئی ممبر بننا چاہتا ہوں
میں ایک رضاکار ہوں۔ میں نے انفارمیشن قانون کے ذریعہ کئی محکمات میں درخواست دی ہیں اور دیگر لوگوں کو بھی اس کے لئے محرک کرتا رہا ہوں۔میں آر ٹی آئی کا ممبر بننا چاہتا ہوں۔ اس کے لئے مجھے کیا کرنا چاہئے
رمیش گپتا، نرکٹیاگنج، مغربی چمپارن
رمیش جی آپ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ آر ٹی آئی ممبر بننے کے لئے آپ اپنے علاقہ کی کسی تنظیم سے جڑ سکتے ہیں یا خود کی ایک تنظیم بنا سکتے ہیں۔آپ چوتھی دنیا میں شائع ہونے والے آر ٹی آئی کالمس کے ذریعہ بھی اپنی بات ملک کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔
کم نمبر ملے
میں پٹنہ کالج میں B.A.سال دوئم کا طالب علم ہوں۔ بی اے سال اول کے امتحان میں مجھے توقع سے کم نمبر ملے۔ میں اس معاملہ میں آرٹی آئی کا استعمال کیسے کر سکتا ہوں۔
گنیش شنکر ودھارتھی ، پٹنہ
گنیش جی آپ اس معاملہ میں انفارمیشن قانون کا سہارا لے سکتے ہیں۔آپ اطلاع درخواست کے تحت اپنی امتحانی کاپی دکھانے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ کئی انفارمیشن کمیشن نے مذکورہ کاپی دکھانے کے احکامات دئے بھی ہیں۔
دیہی سطح پر بدعنوانی کیسے ختم ہو
سرکاری محکموں میں جو بدعنوانی پھیلی ہوئی ہے اس کو ختم کرنے کے لئے اپنا ذاتی تعاون دینا چاہتا ہوں جس میں مجھے آپ کی مدددرکار ہے۔چوتھی دنیا کے ذریعہ دیہی سطح پر سرکاری بدعنوانی پھیلی ہوئی ہے ،اسے کس طرح سے ختم کیا جا سکتا ہے، جس کی جانکاری چاہتا ہوں۔دیہی سطح پر منریگا، سرکاری راشن کی دکان، ضعیفی پنشن  وغیرہ میں بدعنوانیاں ہیں اور سرکاری اسپتالوں کی حالت کس طرح سے بہتر کی جائے۔
وپن کمار، فاریسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ دہرادون
وپن جی، چوتھی کے تقریباً سبھی شماروں میں ہم ان مسائل سے متعلق ایک درخواست شائع کرتے ہیں ساتھ ہی یہ بھی بتاتے ہیں کہ کس سے ہم اور آپ مل کر ان مسائل کا حل نکال سکتے ہیں۔ آپ چوتھی دنیا کی اس مہم سے جڑ سکتے ہیں۔آپ کے ساتھ ہم ہمیشہ کھڑے ہیں۔

خدمت عالیہ میں        افسر برائے رابطہ ٔعامہ        (محکمہ کا نام)    (محکمہ کا پتہ)
عنوان:حق اطلاعات قانون 2005کے تحت درخواست
جناب،
ہینڈ پمپوں کے سلسلہ میں مندرجہ اطلاعات مہیا کرائیں۔
1    آپ کے ریکارڈ کے مطابق مذکورہ گائوں میں کل کتنے ہینڈ پمپ لگوائے گئے ہیں؟ ان کی فہرست مندرجہ بالا تفصیل کے ساتھ مہیا کرائیں:
(a)جگہ کا نام جہاں ہینڈ پمپ لگا ہے    (b)ہینڈ پمپ لگائے جانے کی تاریخ    (c)ہینڈ پمپ لگائے جانے کے لئے خرچ کی گئی رقم
(d)اس رقم کی ادائیگی کس کی مد سے کی گئی    (e)ہینڈ پمپ کی موجودہ حالات بتائیں(چالو اور ٹھیک؍چالو لیکن خراب؍بند)
(f)لگائے جانے کے بعد سے اب تک کتنی بار مرمت کی گئی ہے، تاریخ وار تفصیل دیں    (g)ہر مرمت پر خرچ کی گئی رقم کی تفصیل دیں
2    کیا حکومت کے ذریعہ ان ہینڈ پمپوں کی مناسب جانچ کرائی جاتی ہے؟ اگر ہاں تو اس کے لئے ذمہ دار افسران؍ملازمین کے نام ، عہدے اور ذمہ داریاں بتائیں۔
3    آخری بار ان ہینڈ پمپوں کی جانچ کب کی گئی؟ جانچ کرنے والے افسر کا نام اور عہدہ بتائیں ساتھ ہی جانچ رپورٹ کی تصدیق شدہ کاپی بھی مہیا کرائیں۔
4    کسی گائوں میں ہینڈ پمپوں کی تعداد کا تعین کس بنیاد (آبادی؍ایریہ،وسعت؍دیگر) پر کیا جاتا ہے؟ اس سے متعلق ضابطوں، گائیڈ لائنس اور احکامات کی تصدیق شدہ کاپی مہیا کرائیں۔
5    کیا ہینڈ پمپوں کے پانی کے معیار کی جانچ کی گئی ہے؟اگر ہاں تو جانچ کرنے والے افسر کا نام اور عہدہ بتائیں ساتھ ہی جانچ رپورٹ کی تصدیق شدہ کاپی بھی مہیا کرائیں۔
6    کیا ہینڈ پمپ لگوانے؍ مرمت پر آنے والی لاگت کے کچھ حصہ کی ادائیگی گائوں والے خود کرتے ہیں؟ اگر ہاں، تو اس سے متعلق تمام احکامات اور گائڈ لائنس کی تصدیق شدہ کاپی دیں۔ مذکورہ ہینڈ پمپوں کو لگوانے میں کن کن دیہی باشندوں سے اور کتنی رقم وصول کی گئی سب کا نام اور پتہ بتائیں۔
میں درخواست فیس کی شکل میں10روپے الگ سے جمع کر رہا ؍رہی ہوں۔
یا میں بی پی ایل کارڈ ہولڈر ہوں اس لئے سبھی فیس ادائیگیوں سے مستثنیٰ ہوں۔میرا بی پی ایل کارڈ نمبر……..ہے۔
اگرمانگی گئی اطلاع آپ کے محکمہ؍ دفتر سے متعلق نہ ہو تو حق اطلاعات ایکٹ ،2005کی دفعہ 6(3)کا علم لیتے ہوئے میری درخواست سے متعلق پبلک انفارمیشن آفیسر کو پانچ دنوں کی مدت میں ٹرانسفر کریں۔ساتھ ہی ایکٹ کی تجویز کے تحت اطلاع مہیا کراتے وقت پہلے اپیل افسر کا نام اور پتہ ضرور بتائیں۔
قارئین کے خطوط اپیل افسر کا نام اور پتہ ضرور بتائیں۔

درخواست دہندہ
نام                پتہ
فون نمبر
منسلک اگر کچھ ہو

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *