خواتین بھی انقلاب لا سکتی ہیں

وسیم راشد
واشنگٹن اپنے کام کے سیاستدانوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ کو ڈر ہے کہ اگر اخوان المسلمین اقتدار میں آگئی تو امریکی مفادات کو خطرہ ہوجائے گا۔ یوروپ اور اسرائیل نہر سوئز کے تعلق سے پریشان ہیں۔ حالات بے قابو ہوتے جارہے ہیں۔
مصر کے حالات بدستور بگڑتے جارہے ہیں۔ بین الاقوامی ایئرلائنسزنے تا حکم ثانی اپنی اڑانیں رد کردی ہیں۔ انٹرنیٹ مکمل طور پر منقطع نہیں ہوا، لیکن براؤزنگ، ڈاؤن لوڈنگ اور اپ لوڈنگ وغیرہ کی رفتار نہایت سست ہے، جس کی وجہ سے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس تک مصری عوام اور اطلاعات کی رسائی ناممکن بنا دی گئی ہے اور ساری دنیا کے میڈیا کو حسنی مبارک کے حامی فوج اور پولس مار مار کر بھگا رہی ہے اور ان کے کیمرے وغیرہ توڑے جارہے ہیں۔ ہندوستانی میڈیا کے لوگوں کو جاسوس بتایا جارہا ہے۔ الجزیرہ چینل کو مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے۔ وہاں کی خبروں کے لیے عرب میڈیا پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ حسنی مبارک نے پہلے حکومت تحلیل کی، پھر الیکشن نہ لڑنے کا وعدہ کیا، لیکن اس سب سے عوام کا غصہ کم نہیں ہوا، بلکہ اور زیادہ ہوگیا پھر اسرائیل کے اشارے پر طاقت کے بے رحمانہ استعمال کی ٹھانی، مگر فوج نے طاقت کے استعمال سے انکار کردیا۔ اب حسنی مبارک ایک آخری کوشش میں ہیں کہ کس طرح سے اپنے اقتدار کو باقی رکھا جائے، جس کے لیے پورے طور پر اسرائیلی مدد حاصل کر رہے ہیں۔ شروع میں عوام اور فوج کے بیچ جھڑپیں ہوئیں، لیکن اب فوج بھی عوام کا ساتھ دے رہی ہے۔ قاہرہ ، اسکندریہ وغیرہ جیسے شہروں میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر ہیں۔
سب کو سب کچھ معلوم ہے۔ مصر کے حالات اتنی تیزی سے بدل رہے ہیں کہ ہر دن خبر پرانی ہوجاتی ہے، مگر یہاں ہم انقلاب مصر کو ایک الگ نظریہ سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ ملک جہاں خواتین حجاب اور برقع میں رہتی ہیں۔ وہاں ایک 26 سالہ خاتون اتنے بڑے انقلاب کی علمبردار بنی ہیں۔ یہ خاتون ہیں اسماء محفوظ جنہوں نے فیس بک پر تحریر کیا تھا کہ ’’لوگو! میں تحریر اسکوائر جارہی ہوں‘‘ ان کا یہ پیام جلد ہی صدر مصر حسنی مبارک کی اقتدار سے معزولی کے لیے ایک تحریک کی شکل اختیار کرگیا۔ اسماء کی فیس بک کی اپیل سے متاثر ہو کر ہزاروں افراد تحریر اسکوائر پر اکٹھا ہوئے اور حسنی مبارک کے 36 سالہ اقتدار کے خاتمہ کا مطالبہ کرنے لگے۔ مبارک نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ستمبر میں اپنے عہدہ سے سبکدوش ہوجائیںگے، مگر انہوں نے فوری طور پر استعفیٰ دینا منظور نہیں کیا۔ اسماء نے المہوا ٹی وی(مصر) سے بات چیت کے دوران بتایا کہ وہ بہت زیادہ غصہ تھیں اور ناراض تھیں۔ سب لوگ کہہ تو رہے تھے کہ اب حد ہوگئی، مگر کوئی آگے آنے کو تیار نہیں تھا، اس لیے میں نے فیس بک پر پیغام دیا کہ لوگو! میں آج تحریر اسکوائر جارہی ہوں‘‘ انہوں نے یہ پیغام 25 جنوری کو دیا تھا اور ایسا انہوں نے تیونس کے انقلاب سے متاثر ہو کر کیا کہ جب ایک عرب قوم انقلاب لاسکتی ہے تو باقی کیوں نہیں؟ انہوں نے فیس بک پر تحریر کیا تھا کہ جو بھی مصر کے بارے میں فکرمند ہے، اسے ان کے ساتھ قاہرہ کے تحریر اسکوائر تک مارچ کرنا ہوگا۔ وہ اس حد تک جنونی ہوگئی تھیں کہ انہوں نے لکھا کہ اگر کوئی مجھے بچانا چاہتا ہے تو اسے آگے آنا ہوگا، کیوں کہ پولس چاہتی ہے کہ میں جل کر مر جاؤں تو میں پوری طرح تیار ہوں اور صرف اسماء محفوظ ہی نہیں، ایک 28 سالہ اسکول کونسلر مریم سفیان ہیں، جنہوں نے ٹائمس میں ایک شعر لکھا، جس کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے کہ میں سوشلسٹ نہیں ہوں، میں لبرل بھی نہیں ہوں، میں اسلامسٹ بھی نہیں ہوں، میں صرف ایک مصری خاتون ہوں۔ میں اپنے ملک میں پھیلی اس بدعنوانی اور ناانصافی کے خلاف احتجاج کرتی ہوں۔
ماروارخا یہ نام ہے ایک ایسی مصری خاتون کا جو سات ماہ حاملہ ہونے کے باوجود بہ نفس نفیس اس مارچ میں شامل رہیں اور جنہوں نے ہفنگٹن پوسٹ پر فون کر کے کہا کہ وہ سات ماہ کی حاملہ ہونے کے باوجود اس انقلاب میں شامل ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ اپنے بچے کو اس بدعنوان ملک میں پیدا نہیں کرنا چاہتیں، وہ چاہتی ہیں کہ جب ان کا بچہ آنکھیں کھولے تو اس بدعنوانی ، استحصال اور غریبی کا خاتمہ ہوچکا ہو۔ رخا قاہرہ میں امریکن یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ یہ وہ ملک ہے جہاں خواتین کا بہت زیادہ سیاست میں رول نہیں ہے۔ آخری الیکشن سے پہلے جیسا کہ الجزیرہ کے مطابق الیکشن ریفارم کے باوجود صرف 15 فیصد خواتین ہی مصری پارلیمنٹ میں ہیں اور گزشتہ سال اسمبلی نے ایک قانون بنایا تھا جس کے تحت 64 نئی سیٹوں میں اضافہ کیاگیا تھا جو کہ خواتین کے لیے مخصوص تھیں اور 2005 میں صرف اور صرف 4 خواتین منتخب ہوئی تھیں، جس کا مطلب یہ ہوا کہ پارلیمنٹ میں جو خواتین کی ممبر شپ ہے، وہ پہلے سے 1500 فیصد بڑھ جائے گی اور نئی پارلیمنٹ کی کل سیٹوں کا 12 فیصد عورتوں کے حق میں جائے گا اور جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ مصر وہ ملک ہے، جہاں عورتیں اور مرد پبلک مقامات پر ہاتھ بھی نہیں پکڑ کر چل سکتے، لیکن اس انقلابی لہر میں مصری خواتین نے مردوں کے شانہ بشانہ ہی نہیں، بلکہ مردوں سے آگے نکل کر اس تحریک کو جلا دی ہے۔ اے بی سی کی خبر کے مطابق پہلے جتنے بھی احتجاج ہوئے، ان کے مقابلے اس بار کوئی بھی جنسی چھیڑ چھاڑ کا معاملہ سامنے نہیں آیا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس بار عورت اور مرد صرف اور صرف انقلاب کا چہرہ تھے، وہ اپنی جنس اور اپنی بے جا خواہشات سے اوپر اٹھ چکے تھے، کیوں کہ مصری ٹی وی پر یہ پروپیگنڈہ کیا گیا تھا اور یہ افواہ بھی پھیلائی گئی تھی کہ لڑکیوں کے ساتھ جنسی چھیڑ چھاڑ کی گئی، مگر رخا نے سختی سے اس بات کی تردید کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ میں خود اس کی گواہ ہوں کہ مصری مرد بے حد تعاون کر رہے تھے اور خواتین میں اعتماد بحال کر رہے تھے اور اگر کوئی لڑکی یا عورت گرجاتی تھی تو وہ بڑے احترام سے اسے اٹھاتے تھے، اس کی مدد کرتے تھے اور کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوتی تھی۔ رخا کا کہنا ہے کہ وہ اس احتجاج میں اکیلے شامل ہونے گئی تھیں اور انہوں نے صرف اپنا موبائل لیا تھا اور رخا کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذہب، ملت، جنس، عمر، سماجی حیثیت ان سب سے بالا تر ہو کر مصری خواتین نے اس احتجاج میں حصہ لیاہے۔  گزشتہ 30 سالوں کی گھٹن اور حبس سے خود کو نکالنے کے لیے سب ایک ہوگئے۔ ایک 22 سالہ امریکن ایم اے کی طالبہ اناڈے جو کہ فلسطین کے لیے فری لانسنگ کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس احتجاج میں واحد گوری خاتون تھیں، لیکن وہ یہ تصور بھی نہیں کرسکتی تھیں کہ پردہ نشین عورتیں اس طرح احتجاج میں شامل ہوںگی، وہ خواتین کے جوش و جذبہ کو دیکھ کر حیران تھیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بڑی تعجب کی بات تھی کہ خواتین لیڈ کر رہی تھیں اور مرد ان کا ساتھ دے رہے تھے جو کہ مصر کی تاریخ میں پہلی بار ہوا تھا۔ دو فروری کو موزن حسن نے جو کہ قاہرہ میں ایگزکٹیو ڈائریکٹر ہیں اور فیمنسٹ اسٹیڈیز پر کام کر رہی ہیں۔ ان کا بھی کہنا ہے کہ عورتیں اور مرد ساتھ ساتھ اس مارچ کا حصہ تھے جو ساتھ مل کر مصر کی تقدیر بدلنا چاہتے تھے۔ عزا سلیمان جو کہ خواتین کی لیگل ایڈوائزر ہیں۔ ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ یہ مذہب و ملت سے اوپر اٹھ کر صرف اور صرف مصری قوم کے لیے جمہوری مارچ تھا۔ یہ سبھی مثالیں یہ سبھی بیانات صرف اور صرف اس لیے دئے گئے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ خواتین کس طرح انقلاب لاسکتی ہیں اور اسلامی تاریخ میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا، جنگ احد اور جنگ بدر میں بھی خواتین زخمیوں کو پانی پلانے اور ان کی مرہم پٹی کا کام کیا کرتی تھیں، مگر مذہب سے بالا تر ہو کر جمہوری اقدار اور جمہوریت کی بحالی میں مصری خواتین کا یہ کارنامہ سنہری حرفوں سے لکھا جائے گا۔ یہ علامت ہے اس بات کی کہ کوئی بھی ملک اس بات کے لیے تیار رہے کہ جب بدعنوانی، غریبی، بھکمری، بے روزگاری، استحصال، جنسی بے راہ روی حد سے بڑھ جائے گی تو کوئی بھی ڈکٹیٹر نہیں بچے گا۔
حالات کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جارہا ہے کہ امریکہ حسنی مبارک کی حکومت کا خاتمہ فوری طور پر چاہتا ہے اور اپنے نئے وفادار غلام عالمی تنظیم آئی اے ای اے کے سابق سربراہ محمد البرداعی کی حکومت بنوانا چاہتا ہے، جو کہ امریکہ کے آزمودہ مہرے ہیں اور بہت وفادار ثابت ہوئے ہیں۔ مختلف چیلنجز کا کہناہے کہ اخوان المسلمین کے اقتدار پر قابض ہونے کے خیال سے امریکہ کی نیندیں حرام ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے لیے حسنی مبارک کے اقتدار سے زیادہ اہم نہر سوئیز ہے جو اپنی ساخت کے حساب سے ان دونوں کی بقا کا مسئلہ ہے۔ امریکہ کو خطرہ ہے کہ اگر اخوان المسلمین برسراقتدار آگئی(جیسا کہ اس سے پہلے غزہ میں حماس کے تعلق سے ہوچکا ہے) تو مصر امریکہ کا حلیف نہیں رہے گا اور مشرق وسطیٰ میں امریکی گریٹ گیم ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔
قاہرہ میں سابق امریکی سفیر ڈین کروز کا کہنا ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ حسنی مبارک کسی بھی قیمت پر اقتدار نہیں چھوڑیںگے۔ ڈین کروز کا بیان جو ایک کینیڈین رسالے ڈیلی گلوب میں شائع ہوا ہے کا کہنا ہے کہ میں حسنی مبارک کو بہت اچھی طرح چاہتا ہوں۔ وہ دباؤ ڈالنا جانتے ہیں، ان پر کس کا دباؤ نہیں چلتا، ان کے خیال سے حسنی مبارک ملک چھوڑ کر کبھی نہیں بھاگئیںگے، لیکن اس سوال کا جواب گول کرگئے کہ ان کا بیٹا جمال مبارک لندن کیوں بھاگا؟
یاد رہے کہ وکی لیکس کی طرف سے افشاں خفیہ دستاویزات سے پتہ چلا ہے کہ امریکہ کے جمہوری اصلاحات کے مطالبہ پر حسنی مبارک ناراض ہوگئے تھے۔ انہوں نے جواب میں کہا کہ امریکہ کی یہ سوچ بالکل غلط ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جمہوریت قائم کی جائے۔ حسنی مبارک کا کہنا ہے کہ جب امریکہ نے حماس اور اسلام پسندوں کو ختم کرنے کے لیے غزہ میں انتخابات کا ڈراما رچایا تو حماس برسراقتدار آگئی، جس سے جمہوری اصلاحات کی قلعی کھل گئی۔ ایسا ہی ایران میں ہوا کہ جمہوریت کے نام پر اسلام پرستوں کی حکومت قائم ہوگئی۔ حسنی مبارک کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ کو جمہوریت کا راگ الاپنا بند کرنا چاہیے۔ حسنی مبارک کا کہنا ہے کہ مصر کے معاملات ہم بہت بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ یہاں پر عوام ڈکٹیٹر شپ کے عادی ہیں۔ جمہوریت انہیں راس نہیں آئے گی۔ اگر یہاں جمہوریت قائم کی گئی تو اس کے اثرات امریکہ اسرائیل اور مغرب پر بہت برے ہوںگے۔
ادھر امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر حسنی مبارک نے طاقت کا استعمال کیا تو امریکی امداد بند کردی جائے گی یا بس کاکا یہ یوٹرن تو اسرائیلی ماہروں کی بھی سمجھ میں نہیں آرہا۔ شاید امریکہ کا سمجھنا ہے کہ اب حسنی مبارک امریکہ کی بات ٹالنے لگے ہیں، اس لیے ان کا اقتدار میں بنا رہنا خطرناک ہے۔ اسی لیے مصر پر امریکہ کا برابر دباؤ بنا ہوا ہے کہ طاقت کا استعمال نہ کریں اور ساری پارٹیاں ایک ساتھ بیٹھ کر ایک معاہدے پر پہنچیں۔ بیانات تو یہی ہیں لیکن امریکہ کا اصل مقصد اپنے آزمودہ مہرے البرداعی کو اقتدار میں لانا ہے اور آخر کار ہو کر بھی یہی رہے گا اور اخوان المسلمین کو بہت خوبصورتی سے درکنار کردیا جائے گا جو دراصل مصر کے عوام کی نمائندہ ہے۔ اخوان المسلمین مصری عوام کی نمائندہ تو ہے لیکن ڈپلومیسی اور سیاست کے نام پر مکاری دھوکہ فریب سے زیادہ واقف نہیںہے، کیوںکہ مکاری دھوکہ بازی، فریب اور جھوٹ وغیرہ کے امام امریکہ اور اسرائیل تو ہیں، لیکن انقلاب کی علمبردار خواتین ہیں اور مصری عوام ایسے کسی بھی تانا شاہ کے لیے کس حد تک جاسکتے ہیں یہ انہوں نے بخوبی دکھا دیا ہے۔ یہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ جمہوریت کی بحالی اور بقا کے بغیر اب یہ آگ نہیں تھمے گی۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *