آپ کیوں بار بار پھنس جاتے ہیں سیاسی چالوں میں

وسیم راشد
میرا آج کا عنوان نہ کوئی بہت چونکا دینے والا ہے، نہ حیران کرنے والا اور نہ ہی کسی سیاسی داؤ پیچ میں الجھ کر لکھا گیا ہے۔ بس دل چاہا کہ ایک بار ضرور اپنے مسلم بھائیوں اور بہنوں سے سوال کروں کہ آخر کیوں بار بار آپ اس سیاسی شعبدے بازی کا شکار ہوجاتے ہیں، کبھی بابری مسجد کے جھگڑے میں، کبھی ہندو یا سنگھ دہشت گردی کے ہیر پھیر میں، کبھی مسلم پرسنل لاء بورڈ کے کسی تنازعہ میں، کبھی فتوے، کبھی جمعیۃ علماء ہند کی آپسی رنجش کے گواہ بننے میں، کیوں آپ ان سب لغویات میں پڑ کر اپنے مستقبل کو داؤ پر لگاتے ہیں۔ ملک میں کمر توڑ مہنگائی نے امیر، غریب سبھی کو توڑ دیا ہے۔ بدعنوانی نے ایسا کالا سایہ کیا ہے کہ اب تو کتنے گھوٹالے ہوئے؟ کب ہوئے؟ کتنے کے ہوئے؟ ان کا شمار بھی کرتے کرتے دل گھبرانے لگتا ہے۔ ایسے میں مسلمانوں کو بار بار کسی نہ کسی جھگڑے میں الجھا دیا جاتا ہے۔ مسجد النور کا قصہ ابھی ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا غلام محمد وستانوی کا قصہ شروع ہوگیا اور اس قضیے نے ایسی آگ پکڑی کہ پھر سے امت انہیں خرافات میں الجھ کر رہ گئی۔ مولانا غلام محمد وستانوی گجرات میں سورت کے ایک گاؤں وستان میں پیدا ہوئے، ان کی تعلیم و تربیت بھی وہیں پر ہوئی۔ مولانا وستانوی کوئی معمولی مدرسہ سے فارغ شخص نہیں ہیں، بلکہ ایم بی اے ہیں۔ وہ بے حد کھلے دل و دماغ کے شخص ہیں، جیسا کہ ان کے بارے میں سننے میں آیا ہے۔ یہاں ہمارا مقصد نہ ان کی طرف داری کرنا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف جاری مہم پر اپنی رائے دینی ہے۔ ہم بس اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ دارالعلوم دیوبند ایشیا کی سب سے بڑی دینی درس گاہ مانی جاتی ہے۔ مولانا وستانوی نے جو بھی بیان دیا ہو اور میڈیا نے اس کو کتنا ہی توڑ مروڑ کر ہی پیش کیا ہو تب بھی مولانا طیب اور مولانا مرغوب الرحمن کی مسند پر براجمان ہونے والے شخص کو ہر طرح ذمہ دار ہونا چاہیے تھا اور کسی بھی طرح کی بیان بازی سے پرہیز کرنا چاہیے تھا۔ کیا ہوا کیا نہیں، یہ سب اخباروں میں کئی دن سے لگاتار شائع ہو رہا ہے۔ اب بس یہ دیکھنا ہے کہ کس طرح سے اس مسئلے کو لیا جائے گا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اس تنازعہ کو لے کر دو گروپ ہوگئے ہیں، ایک وہ ہے جو اس بات کی شدید مخالفت کر رہا ہے کہ مولانا وستانوی کو استعفیٰ نہیں دینا چاہیے اور دوسرا گروہ وہ ہے جو ان سے برابر استعفیٰ کی مانگ کر رہا ہے۔ ایک طرف یہ بھی کہا جارہا ہے کہ دارالعلوم دیوبند میں یہ ابوالقاسم بنارسی کو عبوری طور پر کارگزار مہتمم مقرر کرنے کے بعد ایک بڑے گروہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی امیدوں پر پانی پھر گیا اور تقریباً 36 سال سے قابض گروہ کو اپنا جاہ و جلال خطرے میں نظر آنے لگا، اسی لیے اس طرح کے حالات پیدا کردیے گئے۔ یہ بھی سننے اور پڑھنے میں آرہا ہے کہ قاسمی، غیرقاسمی، شیوخ، غیرشیوخ، گجراتی وغیرہ کی بھی جنگ چھڑ گئی ہے۔ افسوس ہوتا ہے یہ سب پڑھ کر اور سن کر۔ یہ اس نبی کی امت کے لوگ ہیں جن کو بار بار یہ کہا گیا کہ اسلام کی نظر میں سب برابر ہیں، کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر فوقیت نہیں ہے۔ اس امت کے لوگ صرف اپنے فائدے کے لیے ایک بے حد مشہور و معروف اور دینی درسگاہ کے وقار کو داؤ پر لانے سے بھی نہیں چوکے۔ ایک اور شطرنج کی چال بھی لوگوں کی سمجھ میں آرہی ہے اور اس پر بھی کافی قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ 10 جنوری 2011 کو دارالعلوم دیوبند کے مہمان خانہ میں مجلس شوریٰ کا اجلاس شروع ہوا تو جمعیۃ علماء ہند کے دونوں گروپ اپنے اپنے لوگوں کو اس بازی میں جتوانے میں لگے رہے۔ محمود مدنی اور ارشد مدنی کی آپسی مخالفت سے سارا ہندوستان واقف ہے، مگر اس مخالفت کو لوگ اس طرح کیش کریںگے، اس کا اندازہ خود ان دونوں کو بھی شاید نہ ہو، ہاں یہ ضرور کہا جارہا ہے کہ مولانا محمود مدنی یہ چاہتے تھے کہ مولانا ارشد مدنی اس کے مہتمم بن جائیں تاکہ محمود صاحب کے لیے جمعیۃ کا راستہ صاف ہوجائے۔ جہاں تک ہماری ناقص عقل کام کرتی ہے، ہمیں یہی سمجھ میں آتا ہے کہ مولانا وستانوی کے پیچھے کوئی نہ کوئی سیاسی کھیل تو کھیلا جارہا ہے۔ مولانا سے بس اتنی چوک ہوئی کہ انہوں نے بغیر سوچے سمجھے ایک غیر ذمہ دارانہ بیان دے دیا، لیکن تیرکمان سے نکل چکا تھا۔ اب مولانا وستانوی کتنا ہی کہتے رہیں کہ وہ مودی کے حق میں بیان نہیں دے رہے تھے اور انہوں نے صرف یہ کہا تھا کہ گجرات کے مسلمانوں کو اب آگے کی طرف دیکھنا چاہیے۔ مولانا وستانوی کا اصل بیان تو اب شاید سننے کو نہ ملے، کیوں کہ اس قدر اس بیان کے پرخچے اڑائے گئے ہیں، جتنے منہ اتنی باتیں، جتنے اخبار اتنے بیانات، لیکن ایک بات ہم ضرور کہتے ہیں کہ گجرات کا فساد ہندوستان کی تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا اور جس طرح مودی اس نسل کش فساد کا مجرم ہے، اسے بھی کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔ مودی اگر پارس کا بھی بن کر آجائے تو مسلمان اس پر یقین نہیں کریںگے، جس طرح اس نے گجرات کے مسلمانوں کا بے دردی سے خون بہایا اور خود سفید کھدر پوش بنا مسلمانوں جیسی داڑھی اور خط بنا کر بیٹھا ہے، اس سے اس کے دل کی سیاہی نہیں دھل سکتی۔ یہ مسلمانوں کے لیے حساس ایشو ہے، اس ایشو کو چھیڑتے وقت سبھی کو ہوشیار رہنا چاہیے۔ 23 فروری کو ہونے والی مجلس شوریٰ کی میٹنگ میں کیا فیصلہ آئے گا، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ مگر مولانا وستانوی کو بھی یہ سوچنا چاہیے تھا کہ ترقی پسندی اور تعلیم الگ چیز ہے اور مذہبی جذبات کا احترام الگ چیز۔ دارالعلوم دیوبند کا مہتمم ہونا الگ بات ہے اور گجرات کے مختلف اداروں کی سربراہی کرنا الگ۔ آپ جس ذمہ دار پوسٹ پر ہیں، اس کے کچھ اصول و ضوابط کو ماننا آپ کا فرض ہے۔ اس ضمن میں نگرپالیکا کے چیئرمین حسیب احمد صدیقی کا بیان بھی قابل ذکر ہے کہ دارالعلوم کو ایک فل ٹائم مہتمم کی ضرورت ہے۔ ہمیں مولانا وستانوی کی قابلیت اور تعلیم پر کوئی شک نہیں ہے، مگر دیوبند کے مہتمم کو صرف اور صرف مذہبی امور پر ہی اپنا دھیان رکھنا چاہیے۔ اس بیان سے تھوڑا سا اختلاف کرتے ہوئے یہ بات کہنی ضروری ہے کہ بے شک مہتمم کا سارا دھیان مذہبی معاملات پر ہونا چاہیے، مگر اس کو آج کے بدلتے ہوئے منظر نامہ میں ٹیکنیکل و سائنٹفک نظریات بھی رکھنے چاہئیں اور مولانا وستانوی اس لحاظ سے دارالعلوم کے مہتمم بننے کی اہلیت رکھتے ہیں کہ وہ بے حد پڑھے لکھے قابل اور سائنٹفک نظریات کے حامی ہیں۔ بس نہ جانے کیسے چوک ہوگئی، جہاں تک ہمیں یاد پڑتا ہے، مہتمم منتخب ہونے کے بعد مولانا وستانوی نے سونیا گاندھی کے خاص مشیر احمد پٹیل سے بھی ملاقات کی تھی۔  اب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس ملاقات نے بھی کوئی سیاسی رنگ لے لیا ہو اور کچھ لوگوں کو اس پر خطرہ لاحق ہوا ہو۔ میڈیا نے جو کام کرنا تھا کر دکھایا اور آگ میں تیل ڈالنے کا کام خود مولانا وستانوی نے ہی کیاہے۔ یہاں دارالعلوم دیوبند کے طلباء سے بس اتنا کہنا ہے کہ کیا ہوتا ہے؟ کیا ہو رہا ہے؟ کس کی سیاست ہے؟ کیسی سیاست ہے؟ انہیں اس میں نہیں پڑنا چاہیے۔ انہیں بس اپنی تعلیم پر توجہ دینی چاہیے کیوں کہ ان کا جو کام ہے، وہ اہل سیاست جانیں۔ طلبا کیوں اس لڑائی میں کود گئے۔ انہیں تو ابھی اتنی سمجھ بھی نہیں کہ وہ اس بات کا پتہ لگا سکیں کہ کیا کھیل رچا جارہا ہے۔ ہم مسلمان بھی بے حد جذباتیت سے کام لیتے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے کسی نتیجہ پر پہنچ جاتے ہیں اور ہماری اس جذباتیت کا فائدہ موقع پرست لوگ اٹھا لے جاتے ہیں۔ ایک بات اور ہے۔ اسلام معافی کو پسند کرتا ہے۔ مولانا وستانوی نے اگر معافی مانگ لی ہے اور یہ کہا ہے کہ ان کے انٹرویو کو غلط کوٹ کیا گیا ہے تو اس معافی کو کھلے دل سے قبول کرکے ایک کھلے دل و دماغ اور تعلیم یافتہ شخص کو ایک موقع اور دینا چاہیے اور گجرات کے فساد کا ماتم نہ کر کے اب واقعی آگے نکلنے کی ضرورت ہے۔ نریندر مودی کو معاف نہ کیجیے بالکل معاف نہ کیجیے بلکہ اس کے لیے دل میں نفرت ہی رکھ کر آگے بڑھیے اور اس نفرت کو اپنی تعلیم و تربیت سے اس طرح نکھاریے کہ آپ کسی ایسی جگہ، کسی ایسی پوسٹ یا کسی ایسے ادارے میں پہنچ جائیں کہ آپ اس گجرات فساد کے شکار لوگوں کی مدد بھی کرسکیں اور ان کی بازآبادکاری کا کام بھی۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *