جمہوریت کی اس لڑائی میں ہندوستان کہاں ہے؟

میگھناد دیسائی
امریکہ کسی بھی حال میں نہیں جیت سکتا۔اگر وہ کسی ملک کے داخلی معاملات میں دخل دیتا ہے تو اس کی مذمت ہوتی ہے،لیکن جیسا مصر میں ہو رہا ہے، اگر امریکہ نے جلد ہی مداخلت نہیں کی تو حسنی مبارک جیسے ایک غیر مقبول تاناشاہ کو ہٹانا مشکل ہو جائے گا اور پھر اس کے لیے بھی امریکہ کو ہی قصوروار ٹھہرایا جائے گا۔ اگر حسنی مبارک اب نہیں ہٹائے گئے تو مصری عوام کو شاید ہی پھر کبھی تاناشاہ سے نجات ملے۔ مصر کا موجودہ بحران  ایک عظیم بحران ہے۔1922میں جب سے خود مختار حکومت ختم ہوئی تب سے مشرق وسطیٰ کبھی ایک مستحکم اور امن کی جگہ نہیں رہا۔شام، عراق، اردن، لبنان اور فلسطین میں بھی انگلینڈ اور فرانس کا اثر لیگ آف نیشنز ٹرسٹیز کی شکل میں رہا، لیکن خودمختار اقتدار کی ریاستیںایک لمبے وقت تک ایک ملک کی شکل میں نہیں ابھر سکیں۔مصر ایک صدی سے بھی زیادہ وقت تک برطانوی حکومت کی نگرانی میں رہا۔مصر کے پاس وہ سب کچھ تھا جو ایک ملک کی شکل میں خود کو قائم کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
آج21ویں صدی میں مشرق وسطیٰ بحران کے دور سے گزر رہا ہے۔9/11کے واقعہ نے امریکہ کو فکرمند کیا اور اس سے سب کی توجہ اس علاقہ کی جانب مرکوز ہو گئی۔ امریکہ کا خاص مفاد اس بات میں پوشیدہ ہے کہ وہ کیسے اسرائیل کی مدد کر سکے؟ اور اس کی حفاظت کی گارنٹی دے سکے۔ ایک لمبے وقت تک سستے تیل کے لالچ میں امریکہ نے کئی سارے ایسے سلطانوں اور تاناشاہوں کو برداشت کیاجن کا کوئی اصول نہیں تھا، لیکن 9/11کے بعد سے حالات بدلنے لگے۔
پہلا اور سب سے بڑا ردعمل عراق پر قبضہ کی شکل میں سامنے آیا۔ ایران کو گھیرنے میں عراق نے امریکہ کی مدد کی۔ جدید وقت کی 8برس کی خونی جنگ کے بعد بھی اختلاف برقرار رہا۔ اس کے بدلے امریکہ نے عراق کو کردوں پر ظلم اورشیعوں پر بمباری کے لیے معاف کر دیا، لیکن کویت پر عراقی حملے کے بعد صدام حسین امریکہ کے لیے ویلن بن گئے۔جب جارج بش اقتدار میں آئے تو انھوں نے ساتھیوں کو بدلنے کا فیصلہ کیا۔اب امریکہ مشرق وسطیٰ میںجمہوریت کی لہر پھیلانا چاہتا تھا، جیسا کہ اس نے 21ویں صدی میںلاطینی امریکہ میں کیا تھا۔
اس کام کے لیے سب سے پہلے عراق کو منتخب کیا گیا۔عراق پر حملہ ہوا لیکن8سال لگے۔عراق میں اس درمیان دو انتخابات ہوئے اور اب جاکر وہاں دوسری مستحکم اور جمہوری حکومت کا قیام ممکن ہوا۔اصل میں عراق کا آخری الیکشن کافی اختلافات کے درمیان ختم ہوا۔6ماہ کی سودے بازی کے بعد نوری المالکی کو وزیر اعظم بنایا گیا۔ اس پورے عمل کے دوران بے حد صبر و اطمینان کی ضرورت تھی۔بالآخر عراق میں ایک عبوری حکومت بنی اور حالات معمول پر آئے، لیکن میں اس پورے معاملے کو تھوڑے الگ ڈھنگ سے دیکھتا ہوں۔میں سوچتا ہوں کہ عراق نے ہی تیونس کے لوگوں کو اپنے تاناشاہ کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے راغب کیا۔اس کے بعد نمبر آیا مصر کا اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ مبارک کو جانا ہوگا۔ہم ابھی اردن، شام اور سعودی میں بھی ایسے ہی حالات دیکھ سکتے ہیں۔ ان میں کسی بھی بادشاہ کے پاس کوئی بھی ایسی منظوری نہیں ہے جو عوام سے ملی ہو۔یہ بادشاہ برطانیہ یا فرانس کے ذریعہ قائم کردہ اقتدار کا مزہ لے رہے ہیں۔ جمہوریت کی ان کے لیے کوئی اہمیت نہیں ہے۔ایران نے اس وقت جمہوریت اپنانے کا موقع کھو دیا جب شاہ کا تختہ اکھاڑ کر پھینکا گیا۔
جمہوریت کے لیے اسلامی دنیا موزوں نہیں ہے، اس طرح کے کئی بے تکے پروپیگنڈے پھیلائے گئے ہیں۔ترکی بھی ایک مسلم اکثریتی ملک ہے اور وہاں جمہوریت ہے۔ اس کا ایک آئین ہے جو سیکولرازم پر زور دیتا ہے اور یہ آئین ترکی کے اصولوں کا رہنما ہے۔ انڈونیشیا اور ملیشیا میں بھی کچھ وقت کے لیے جمہوریت دیکھنے کو ملی۔ اگر کچھ برسوں کو چھوڑ دیا جائے تو بنگلہ دیش میں بھی دہائیوں تک جمہوریت رہی ہے۔اس حساب سے یہ کہنا باکل غلط ہے کہ جمہوریت اسلامی دنیا کے لیے نہیں ہے۔جمہوریت تو ہر ملک، ہر طبقے اورہر مذہب کے لیے نہ صرف موزوں ہے بلکہ بے حد مفید ہے۔
یہ ایک پیچیدہ سوال ہے کہ جو ہندوستان اپنے آپ کو دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک کہہ کر خود پر فخر محسوس کرتا ہے، پھر بھی وہ عالمی سطح پر جمہوریت کے لیے ایک پرجوش حمایتی نظر نہیں آتا۔مصر کے ایشو پر بھی ہندوستان کا منہ ابھی تک بند ہی ہے اور اب تو کافی دیر بھی ہو چکی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *