ایک سائنسداں زیادہ معیاری ادب تخلیق کرتا ہے: سید جعفر امیر رضوی

سید جعفر امیر رضوی ارد و انگریزی کے ایک مقبول و معروف شاعر ہیں۔موصوف پیشہ کے لحاظ سے  امریکہ میں نیوکلیئر سائنسداں رہے ہیں۔ڈھائی سال قبل ملازمت سے ریٹائرمنٹ لیا اور ہمہ تن اردو ادب کی آبیاری میںمصروف ہو گئے۔اب تک جعفر رضوی صاحب کے تین اردو شعری مجموعے ’’عود کے بادل‘‘(1987)، ’’جرس کارواں‘‘ (1992) ’’اور ’’بہ رنگ دگر‘‘(2006) منظر عام پر آچکے ہیں، جنھوں نے حلقۂ اردو شعرو ادب کو بہت متاثر کیا۔جعفر صاحب کی ایک جاپانی کتاب Gossomar yearsکا اردو میں ’’کاگیرونکی‘‘ نام سے ترجمہ اردو ادب میں گرانقدر اضافہ ہے۔ موصوف کا انگریزی نظموں کا مجموعہThe Distance Song  شائع ہوا، جس کی چند نظموں پر امریکہ کے ایک مشہور ادارے نے انہیں ’’گولڈن پوئٹ ایوارڈ‘‘ سے سرفراز کیا۔ ہمہ جہت خصوصیات کے حامل جعفر رضوی صاحب گزشتہ دنوں دہلی کے دورے پر تھے۔ اس دوران ’’چوتھی دنیا انٹرنیشنل اردو ویکلی‘‘  کے نامہ نگار نوازش مہدی نے جعفر صاحب سے تفصیلی گفتگو کی۔ گفتگو کے اہم اقتباسات نذر قارئین ہیں۔
سوال:سب سے پہلے میں آپ کی پیدائش اور تعلیم کے حوالے سے جاننا چاہوں گا۔
جواب:میری پیدائش حیدرآباد دکن میں ہوئی۔میرے والدین لکھنؤ کے تھے۔نوکری وغیرہ کے سلسلے میں حیدرآباد آئے،وہیں میں نے نظام کالج میں تعلیم حاصل کی اور غلام رشید جو فارسی کے معلم تھے انہوں نے مجھے فارسی کی تعلیم دی۔اس کے بعد میں نے سائنس پڑھی اور پھر میںبی ایس سی کرنے کے بعد امریکہ چلا گیا۔وہاں نیوکلیئر سائنسز اور انجینئرنگ میں آگے کی ڈگری حاصل کی۔ یونیورسٹی  آف پینسلوینیا سے میرا تعلق رہا ہے ۔اس کے بعد میں نے ملازمت کی۔بچپن سے ہی میرے گھر کا ماحول ادبی تھا۔میرے پر دادا تصدق حسین صاحب لغات کشوری کے مؤلف تھے۔میرے دادا اور والد کے پاس ہمیشہ لغت رہتی تھی اور حافظ سعدی وغیرہ کے شعر ہمارے گھر میں پڑھے جاتے تھے۔لہجہ پر ہمارے گھر میں بڑی توجہ دی جاتی تھی۔ہائی اسکول سے مجھے انگریزی ادب سے دلچسپی ہو گئی اس دوران میں نے دنیا کا ادب کا فی پڑھ ڈالا۔ شیکسپیئر سے لیکر بٹل رسل تک  میں نے بہت سے عظیم ادیب پڑھ ڈالے ۔یعنی میں نے تمام تر کلاسیکل ادیبوں کو پڑھ ڈالا۔امریکہ جانے کے بعد میں مسلسل سائنس کی طرف رہا لیکن میری دلچسپی ادب میں تھی۔دو ڈھائی سال پہلے میں نے ریٹائر منٹ لیا اور میں نے کتابیں لکھنا شروع کردیں۔’’فرہنگ میر‘‘ لکھنے کے لیے میں صبح بیٹھتا تھا تو تو ساڑھے نو بجے تک لکھتا رہتا تھا یعنی 12گھنٹے روزانہ کام کیا میں نے۔فارسی اور عربی کی تمام کتابوں سے استفادہ کیا۔انہیں کی بنیاد کے اوپر یہ کتاب لکھی گئی ہے۔
سوال: آپ ایک کامیاب نیوکلیئر سائنسداں ہوکر بھی کامیاب ادیب ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہوا؟کیونکہ ایک سائنسداں کے پاس اتنا وقت کہاں ہوتا ہے کہ وہ ادب کی خدمت کر سکے؟
جواب: جیسے میں نے اپنا پس منظر بتایا،میرے گھر کا ماحول ادبی تھا۔دن رات ہمارے گھر میں مشاعرے ہوا کرتے تھے۔امریکہ میں بھی جب میں گیا تو تیسرا جو مشاعرہ میں نے وہاں پڑھا وہ میرے گھر میںہوا تھا۔ بعض دفعہ میں خود حیران رہتا ہوںکہ ایک سائنس داں ہو کر میں ادیب کیسے بن گیا؟ایک لمبے عرصہ تک میں سائنس جیسے سبجکٹ سے وابستہ رہا۔ اس دوران میں اردو سے بالکل کٹ گیا اور مجھے کبھی محسوس ہی نہیں ہوا کہ میں نے اردو یا فارسی پڑھی ہے۔لیکن جب کوئی آدمی کسی چیز کو دل سے قبول کرتا ہے تو وہ اسے عمر بھر فراموش نہیں کر پاتا۔یہی میرے ساتھ بھی ہے۔ میں سائنس کا طالب علم ضرور تھا لیکن اردو میرے رگ و پے میں ہے، جب میں نے ریٹائرمنٹ لیا اور اردو کی طرف راغب ہوا تو پرانی باتیں سب اپنے آپ یاد آتی چلی گئیں۔ مجھے ایسا قطعاً محسوس نہیں ہوا کہ میں ایک لمبے عرصے تک اردو سے دور رہا ہوں۔
سوال:سائنس ایک وسیع میدان ہے اور ادب بھی کم وسیع نہیں۔ جب آپ ادب میں داخل ہوئے تو اس سے کیا آپ کے پیشے(سائنس) پر کوئی اثر پڑا؟
جواب: جی بالکل نہیں۔ مجھے قطعی محسوس نہیں ہوا کہ ادب میں آنے سے میرے پیشہ ورانہ میدان یعنی سائنس پر کوئی اثرپڑا۔ اس کی بھی ایک وجہ ہے ۔ میں نے ادب یا تو طالب علمی کے زمانے میں پڑھا تھا یا پھر اب ریٹائرمنٹ کے بعد پڑھ رہا ہوں اور لکھ رہا ہوں۔جب میں سائنس میں داخل ہوا تو میں گویا ادب کو بھول ہی چکا تھا۔میری تمام تر توجہ سائنس پر ہی مرکوز تھی۔ ہا ںیہ بات دیگر ہے کہ سائنس سے مجھے کامیاب ادب تخلیق کرنے میں کافی مدد ملی، کیونکہ سائنس ایک منفرد انداز بیان اور خیال کی ندرت عطا کرتا ہے۔ میں نے اپنی شاعری میں سائنس کو استعمال کیا۔ یعنی کم لفظوں میں زیادہ اور بااثر بات کہنے کا ہنر مجھ میں سائنس سے ہی آیا۔ایک بات یہاں میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ ایک سائنسداں دوسروں کے مقابلے زیادہ معیاری ادب تخلیق کرتا ہے، کیونکہ وہ اپنے گردو پیش کو سائنسی نقطٔ نظر سے دیکھتا ہے۔اس لیے اس کا خیال زیادہ بلند ہوتا ہے۔
سوال:آپ نے ’’فرہنگ میر‘‘ میں کیا کیا چیزیں شامل کی ہیں؟
جواب: اس میں تقریباً 35مضامین ہیں۔جیسے عروض کے اوپر لکھا ہے میں نے۔اردو کی تاریخ پر لکھا ہے۔لغات لکھنے کی تاریخ پر لکھا ہے۔اردو کی دلچسپ تاریخ لکھی ہے اور اسی طرح سے اصناف سخن کے اوپر لکھا ہے،اصناف نثر کے او پر لکھا ہے کہ یہ ہیں کیا چیز، ناول کیا چیز ہے ، افسانہ کیا چیز ہے، نظم کیا چیزہے وغیرہ۔ اس کتاب کے میں نے تین حصے کیے ہیں۔پہلے حصے میں لغت،دوسرے حصے میںعام معلومات اور تیسرے حصے میں سائنس کی اصطلاحات ہیں۔عام طور پر لوگوں کو بچوں کے نام رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اس کتاب میں میں نے ان کا سیکشن دے دیا ہے۔خط لکھنے کی ترکیب دے دی ہے۔کیا کیا القاب استعمال کرتے ہیں۔مختلف دعائیں ہیں۔ سفر کے وقت کی دعا، شادی کی دعا وغیرہ۔اس کے علاوہ اردو کے مترادفات دیے ہیں،جو عام طور پر نہیں دیے جاتے ہیں۔ جیسے اردو کا ایک لفظ لیا کہ فارسی میں اسے کیا کہتے ہیں، عربی میں کیا کہتے ہیں، انگریزی میں کیا کہتے ہیں اور ہندی میں کیا کہتے ہیں وغیرہ۔
سوال:بنیادی طور پر آپ غزل کے شاعر ہیں تونظم کی طرف کیسے جھکاؤ ہوا؟
جواب:جیسے میں نے پہلے کہا کہ میں نے انگریزی میں ادب پڑھا۔میں نے شاعری کی کتاب بھی لکھی، جس کو امریکہ میں کافی ایوارڈ بھی ملے۔’’گولڈن پوئٹ ایوارڈ‘‘ ان میں سے ایک ہے۔میں نے محسوس کیا کہ اردو میں ایک ہی طرح کی روایتی شاعری ہے۔عشق وعاشقی، محبوب کی زلفیں، حسن و ادا وغیرہ۔ میں اس سے کچھ منفرد کرنا چاہتا تھا۔میں نے غزلیں بھی لکھی ہیں لیکن ایسی لکھی ہیں جو نظمیں بھی کہلائی جا سکتی ہیں۔میں نے جو نظمیں لکھی ہیں وہ ایسے موضوعات پر لکھی ہیں جو اردو زبان میں نہیں ہیں۔یہی اردو شاعری کی جدت ہے۔
سوال:غزل اور نظم میں آپ خیالات کے اظہار کا موثر ذریعہ کسے مانتے ہیں؟
جواب: بلا شبہ نظمیں ہی موثر اظہار کا ذریعہ ہیں۔ ایسا سب مانتے ہیں اور میں بھی مانتا ہوں ۔چونکہ نظم میں زیادہ کچھ کہنے کی گنجائش ہوتی ہے۔لیکن اگر آپ کو کم اور آسان لکھنا ہے تو اس کے لیے غزلیں ہی ہیں۔ہا ں یہ بات دیگر ہے کہ اچھی غزل کہنا مشکل ہے اور غزل کہنا آسان ہے۔نظم میں تسلسل خیال چاہئے،فکر چاہئے،الفاظ چاہئیں۔ اسی لیے میں نے ’’برنگ دگر‘‘ میں شروعات نظموں سے کی ہے جبکہ اکثرلوگ غزلوں سے شروعات کرتے ہیں۔
سوال:امیررضوی صاحب کوئی غزل مرحمت فرمائیں؟
جواب:
نہ دن اپنا نہ شب اپنی نہ دل اپنا نہ جاں اپنی
اسی انداز سے کاٹی ہے یہ عمر رواں اپنی

وہ اس کی چشم آہو کو جو دیکھا سرمہ سا میں نے
سکوں کھویا خرد کھوئی وہ طرز زندگاں اپنی

پتہ کیا پوچھتے ہو، پوچھتے ہو حال کیا مجھ سے
بسا ہوں جس زمیں پر وہ ہے بستی لا مکاں اپنی

مرے اشعار میں پوشیدہ ہیں صد رنگ رومانی
امیر اب غور سے تم بھی سنوشیریں زباں اپنی
سوال:امیر صاحب آپ نے نظمیں بھی بہت کہی ہیں۔ کوئی نظم بھی عنایت ہو جائے۔
بام مغرب پہ جو ڈھلتا ہوا سورج دیکھا
یا بہاروں پہ گراں بار خزاؤں کا زوال
یاں جو گزرا ہوں کسی تربت نسیاں سے کبھی
بود و نا بود کا اس دم مجھے آیا ہے خیال
سوچتا ہوں کہ مرا کب سے سفر جاری ہے
کہیں رک جائے مبادہ نہ میری حرکت دل
ہے گجر شام کی تمہید شب تار مدام
حوصلہ جس کا جہاں تک وہی اس کی منزل
نہ سخن ساز ہوا اور نہ نگا رنداں میں
میری دنیائے ادب سوکھی سی نیزار رہی
نہ مطہر ہوئی انشا ء نہ میراذوق ہنر
جو اپج تھی میرے دل میں وہ نہ بیدار ہوئی
کتنے احساس تھے میں جن کو زباں دے نہ سکا
حسن الفاظ کے رنگوں سے بہا نقش جمیل
کتنے افسانے خیالوں میں مچلتے ہی رہے
کتنے جذبے نہ رقم کر سکا جن کی تفصیل
نہ تھا تکمیل عمل اور نہ تخلیق حیات
کاسۂ زیست رہا نقد ہنر سے خالی
فکر آرائش و آسائش و ثروت کے لیے
نہ رہا دل بھی میرا درد جگر سے خالی
سوال:آپ کا کام کافی تاخیرسے منظر عام پر آیا ہے۔اس کی کیا وجوہات رہیں؟
جواب: دراصل میں نے یہ کام ریٹائرمنٹ کے بعد ہی شروع کیا۔ملازمت کے دوران میری تمام تر توجہ سائنس پر ہی رہی ۔ کیونکہ ادب کے لیے کافی وقت چاہئے اس لیے ملازمت نے اتنا وقت ہی نہیں دیا کہ میں کوئی تخلیقی کام انجام دے سکوں۔ایک وجہ یہ بھی رہی کہ میں نے ملازمت کی وجہ سے عمر کا بیشتر حصہ وہیں گزارااور اردو ادب امریکہ میں اتنا مضبوط نہیں ہے جتنا ہندوستان و پاکستان میں۔اس لیے ادبی سرگرمیاں کم ہی ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے ادب سے کوئی خاص تعلق نہیں رہ پاتا۔
سوال:آپ کی پیدائش حیدرآباد میں ہوئی اور آپ اعلیٰ تعلیم امریکہ میں حاصل کرکے سائنس داں بن گئے۔آپ ایک لمبے عرصے سے وطن سے دور ہیں۔ کتنا یاد کرتے ہیں ہندوستان یا حیدرآباد کو؟
جواب:ہاں بہت یاد آتا ہے۔چونکہ میرا بچپن حیدرآباد میں گزرا،اس لیے بچپن کی یادیں آج بھی زندہ ہیں۔حیدرآباد کی وہ سوندھی صبح، شام کے دھندلکے سب کچھ بہت یاد آتا ہے۔ بچپن کے لمحات کو یاد کرکے میں نے امریکہ میں ایک نظم بھی لکھی ہے’’چڑیاں کہاں گئیں۔‘‘
سوال:امریکہ میں اردوکی کیاصورتحال ہے؟
جواب:اردو امریکہ میں زندہ ہے لیکن صرف مشاعروں کی وجہ سے ۔ مشاعروں میں نوجوان بھی آتے ہیںلیکن یہ سب تفریح کے طور پر آتے ہیں۔ بہت اچھی صورتحال امریکہ میں اردو کی نہیں ہے۔ ابھی وہاں انگلستان کی طرح باقاعدہ اردو کی تعلیم نہیں دی جاتی ہے۔یہاں سے جانے والے لوگ اپنی بنیاد پر وہاں اردو کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔امریکی حکومت کا بھی اردو کے حوالے سے منفی یا مثبت کوئی رول نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *