مغربی ایشیا میں انقلاب: جمہوریت کیلئے لڑ رہا مسلمان

ڈاکٹر منیش کمار
جب بھی کسی ملک میں لوگ سڑکوں پر بے روزگاری، مہنگائی، غریبی یا کسی مطالبہ کو لے کر حکومت کے خلاف کمربستہ ہوتے ہیں تو اسے تحریک کہا جاتا ہے۔لیکن جب کوئی تحریک بغاوت کی شکل اختیار کر لیتی ہے ، جب کسی تحریک کا مقصد اقتدار بدلنا ہوتا ہے تو اسے انقلاب کہتے ہیں۔ مصر میں جو ہو رہا ہے وہ محض کوئی عوامی اشتعال نہیں، کوئی معمولی تحریک نہیں، بلکہ ایک انقلاب ہے۔ ایک ایسا انقلاب جو صرف مصر تک محدود رہنے والا نہیں ہے بلکہ پورے مغربی ایشیا میں اقتدار بدلنے کا ذریعہ بننے والا ہے۔
تیونس کے بعد مصر کے واقعات سے مغربی ایشیا کے ممالک کی تاناشاہی کی بنیاد ہل گئی ہے۔ تحریک کی آگ تیونس سے مصر اور پھر الجیریا ، موری شینیا ، اردن، یمن اور سعودی عرب تک پہنچ چکی ہے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہ علاقہ پہلے سے ہی دنیا کے لئے ایک فلیش پوائنٹ بنا ہوا ہے۔ فلسطین،اسرائیل، عراق اور افغانستان میںعدم استحکام اور امریکی فوج کی موجودگی، لبنان کا بحران اور نیو کلیئر معاملہ کو لے کر ایران پر حملہ کے خدشہ کے درمیان یہ تحریکیں چل رہی ہیں۔یہ تحریک کسی پارٹی یا کسی لیڈر یا کسی نظریہ کی وجہ سے نہیں شروع ہوئی ہے۔ جنگل کی آگ کی طرح یہ تحریک شروع ہوئی ہے۔ اس لئے یہ زیادہ خطرناک اور زیادہ بااثر ہے۔ایسی تحریکوں پر قابو پانا کسی بھی حکومت کے لئے مشکل ہوتا ہے۔
سمجھنے والی بات یہ ہے کہ مصر کی تحریک کسی ناگہانی اسباب سے شروع نہیں ہوئی ہے۔ لوگ پریشان تھے اورجب انھوں نے دیکھا کہ تیونس میں کس طرح عوام نے کیا۔ اس سے مصر کے لوگوں میںہمت و حوصلہ پیدا ہوا اور تحریک شروع ہو گئی۔ ایک بار لوگ سڑک پر اترے ،اس کے بعد لوگ جڑتے چلے گئے۔ ایک ایسی تحریک کھڑی ہوئی جو عرب دنیا کی اب تک کی تاریخ کی سب سے بڑی تحریک بن گئی۔
مصر میں عوام کی ناراضگی کی چار اہم وجوہات ہیں۔پہلی وجہ معاشی ہے۔ مصر میں بے روزگاری ہے، مہنگائی ہے، پورا معاشی نظام اجارہ داری میں پھنسا ہوا ہے۔ حکومت نے سرمایہ داروں کو کھلا چھوڑ دیا ہے، غریب اور متوسط طبقہ کا استحصال کرنے کے لئے اور ایسے سرمایہ داروں نے لوگوں کا خون چوس لیا ہے۔ دوسری وجہ انتظامی بے حسی ہے۔یہاں کی سرکاری مشینری میں بدعنوانی اور تاناشاہی کا بول بالا ہے۔تیسری وجہ سماجی ہے۔ مصر کے نوجوان طبقہ نے علیحدگی اختیار کر لی ہے اور تعلیمی نظام بیکار ہو گیا ہے۔ جس طرح کی پڑھائی مصر میںہوتی ہے وہ نئی نسل کی امیدوں پر کھری نہیں اترتی ۔ وہ پچھڑتے جا رہے ہیں۔ مصر میں طبی خدمات کی حالت اور بھی بدتر ہے۔عوام کے پاس پینے کو صاف پانی تک نہیں ہے، جو پانی ملتا ہے وہ پینے لائق نہیں ہے۔ یہ آلودہ ہے لیکن لوگوں کو وہی پینا پڑتا ہے۔ مصر کے کسانوں کی حالت سب سے زیادہ خراب ہے۔ کسانوں کا  مصر میںجینا حرام ہو گیا ہے۔ ان کے لئے کوئی منصوبہ نہیں ہے۔چوتھی اور سب سے اہم وجہ ہے سیاست۔صدر اور برسراقتدار پارٹی وقت کے ساتھ تانا شاہ ہوتے چلے گئے ہیں۔ بدعنوانی کرنے والوں پر کسی طرح کا کوئی قابو نہیں ہے۔ انہیں کوئی سزا نہیں ملتی ہے۔ یہ قانون کا مذاق اڑا کر صاف صاف بچ نکلتے ہیں۔ عوام اس ظالم نظام سے نجات چاہتے ہیں۔حال ہی میں ہوئے انتخابات میں جو دھاندلی کی گئی اس سے عوام کا غصہ مزیدابل پڑا ہے۔مصر کے عوام اب اپنے فیصلہ خود لینا چاہتے ہیں۔ مصر کے لوگ اب جمہوریت چاہتے ہیں۔ حکومت چلانے میں اپنی حصے داری چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں اور قومی وسائل کو ملک کے عوام کے لئے استعمال کر سکیں۔ اس لئے مصر کے یہ انقلابی افراد ملک میں جمہوریت نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
عرب ممالک میں مصر سب سے بڑا ہے۔ اس کی آبادی 80ملین ہے یعنی 8کروڑ اور یہ ایشیا اور افریقہ کے درمیان کا ملک ہے اس لئے ڈپلومیٹک نظریہ سے اس کی اہمیت دوسرے عرب ممالک سے کہیں زیادہ ہے۔ 1952سے 1970تک جنرل جمال عبد الناصر حسین کے دور حکومت میں مصر پوری عرب دنیا پر حاوی تھا۔اس کے بعد انور سادات اور حسنی مبارک اقتدار میں آئے، جنہوں نے مصر کی برتری کو برقرار رکھنے کے لئے امریکہ کے ساتھ دوستی کر لی، لیکن اس سے کچھ عرب ممالک میںمصر کا اثر تو کم ہوا لیکن اس کی تاریخ اور فوجی اسباب کی وجہ سے عرب ممالک کے دل و دماغ سے اس کا اثراتر نہیں سکا۔ یہی وجہ ہے کہ تاناشاہی کا جو روپ مصر میں ہے وہ عرب کے دوسرے ممالک کے لئے ایک ماڈل بن گیا ہے۔مصر کے تاناشاہ حسنی مبارک کے جاتے ہی عرب ممالک کے تاناشاہ بھی تاش کے پتے کی طرح گرنے لگیں گے۔ ویسے بھی مغربی ایشیا میں یہ کہا ہی جاتا ہے کہ مصر میں جو بھی ہوتا ہے وہ تمام عرب ممالک میں پھیل جاتا ہے۔ یہ بات پھر سے صحیح ثابت ہو رہی ہے۔ جس طرح مصر میں لوگ حکومت کے خلاف تحریک چلا رہے ہیں ویسا ہی کچھ عرب کے دوسرے ممالک میں شروع ہو گیا ہے۔جمہوریت کی یہ تحریک پورے مغربی ایشیا میں بھڑک اٹھی ہے۔ کہیں یہ آگ نظر آ رہی ہے اور کہیں یہ آگ آنے والے دنوں میں نظر آنے والی ہے۔ عرب ممالک میں شروع سے ہی تانا شاہ حکمرانوں، بادشاہوں اور شہزادوں کی حکومت رہی ہے۔ اس بے لگامی کے خلاف جب بھی کسی نے آواز اٹھائی اسے بے دردی سے دبا دیا گیا۔ اس لئے مغربی ایشیا میں ایک کہاوت بن گئی ہے کہ حکمراں طبقہ ایک پہاڑ کی طرح ہے اور اس کی مخالفت کرنا اپنے سر کو پہاڑ میں مارنے جیسا ہے۔لیکن تیونس اور مصر میں جو ہو رہا ہے اس سے یہ کہاوت جھوٹی ثابت ہو رہی ہے۔تیونس اور مصر میںجوہواوہ سبھی عرب ممالک کے لیے سبق ہے۔ اگلا نمبر انہیں کا ہے۔یہ ممالک ہیں الجیریا، اردن، لیبیا،شام،یمن اور مورکّو۔مصر کی طرح ہی سعودی عرب میں بھی بادشاہوں کی بادشاہت چلتی ہے۔ سعودی عرب کے عوام بھی حکومت کے ظلم کو چپ چاپ سہتے ہے۔اپنا منہ کھولنے سے ڈرتے ہیں۔پورا مغربی ایشیا ہی اس طرح کی حکومتوں کے ہاتھ میں ہے۔اقتدار میں عوام کی حصہ داری نہیں ہے۔حکومت کی پالیسیوں میںعوام کا کوئی دخل نہیں ہے۔کچھ ممالک میں مذہب کی آڑ میں بے لگام اقتدار ہے تو کچھ ممالک میں آج بھی اقتدار پر پیدائشی حق مان کرخاندانی حکومت چل رہی ہے۔عرب ممالک کی تنظیم عرب لیگ کے 22 ارکان ہیں۔ ان میں سے ایک بھی ملک پوری طرح سے جمہوری نہیں ہے۔ ان ممالک کے عوام غریب ہیں۔ حکومت کی پالیسیاں مستحکم اور متوازن نہیں ہیں۔ جمہوریت کے سب سے قریب لبنان ہے، لیکن یہ بھی خانگی مسائل سے نبردآزما ہے۔ ان ممالک میں بدعنوانی کا بول بالا ہے۔ فلسطین میں صاف و شفاف انتخابات ہوئے تھے، لیکن جیتنے والی حماس پارٹی کو اقتدار کی باگ ڈور نہیں سنبھالنے دی گئی۔ مورکو اور کویت میں کثیرجماعتی سیاسی نظام ہے، لیکن ان ممالک میں آج بھی راجہ کا فرمان ہی قانون ہے۔ شام میں بھی تقریباً یہی حالات ہیں۔ بیشتر ممالک میں پرانے بادشاہوں نے نئے شاہی گھرانوں کو جگہ دے دی ہے۔ مصر میں جس طرح لوگوں نے ہمت دکھائی ہے، وہ عرب کے دوسرے ممالک کے لوگوں کے لیے ایک ترغیب ہے۔ اس سے پورے خطے میں تحریک چھڑ سکتی ہے۔ ایسا اس لیے بھی ہوگا کیوں کہ مغربی ایشیا  کے دانشور اور کام کاج کرنے والے لوگ جنہیں متوسط طبقہ کہا جاتا ہے، حقیقت کا سامنا کرنے کو تیار ہو گئے ہیں۔مغربی ایشیا کے لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کی حکومت نہ تو ان کی پریشانیاں ختم کرسکتی ہے اور نہ ہی ان کے مستقبل کو تابناک بنا سکتی ہے۔آج کا دور ٹی وی اور انٹر نیٹ کا دور ہے۔مغربی ایشیا کے پڑھے لکھے متوسط طبقے کو یہ پتہ ہے کہ باقی دنیا کس طرح آگے جا رہی ہے۔اور وہ کس طرح وقت کی اس ریس میں پیچھے چھوٹ رہے ہیں۔مغربی ایشیا کے متوسط طبقہ نے اپنی ذمہ داری سمجھ لی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ فیس بک سے شروع ہوئی یہ تحریک عالمی سطح پر اپنی اہمیت درج کرا رہی ہے۔
یہ تحریک مغربی ایشیا کے سلطانوں کے لیے خطرناک ثابت ہونے والی ہے۔اس کی وجہ صاف ہے۔جو حالات مصر میں ہیں، وہی حالات مغربی ایشیا کے ہر ملک کے ہیں۔یہ دنیا کا وہ علاقہ ہے جہاں جمہوریت کی ہوا تک کو پہنچنے سے روکا گیا ہے۔وجہ صاف ہے۔مغربی ممالک اورخاص طور پر امریکہ نے اپنے مفاد کے لیے یہاں کے حکمرانوں کو اپنی حمایت میں کر رکھا ہے تاکہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے یہاں کی معدنیات خاص طور پر پیٹرولیم کو اپنے ملک میں درآمد کر سکیں۔مغربی ایشیا کی زیادہ تر حکومتیں امریکہ کی دم چھلہ حکومتیں ہیں۔حکومت کے کام کاج اورتاناشاہی سے یہاں کے لوگ تنگ آچکے ہیںاور اب جمہوریت کی کھلی ہوا میں سانس لینا چاہتے ہیں۔   یہ تاریخ کے دروازے پر اپنی دستک دے رہا ہے۔تیونس اور مصر میں جس طرح سے تحریک چل رہی ہے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ تاریخ نے رخ موڑا ہے۔جمہوریت کی ہوا اب مغربی ایشا میں بہنے والی ہے۔مصر کا انقلاب صرف مصر تک محدود رہنے والا نہیں ہے بلکہ یہ جمہوریت کی چوتھی لہر کے شروع ہونے کی آواز دے رہا ہے۔تیونس اور مصر کی تحریک مغربی اشیامیں انقلاب کی شروعات ہے۔اب اسے روکنے کی طاقت دنیا  کی کسی بھی حکومت میں نہیں ہے۔پورا مغربی ایشا تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سے دو راستے جاتے ہیں ایک جمہوریت کی جانب دوسراخانہ جنگی کی طرف۔ یہ مغربی ایشیا کے تاناشاہوں کو طے کرنا ہے کہ وہ اپنے ملک کو کس راستے لے جانا چاہتے ہیں۔اگر ان میں وطن سے محبت کا جذبہ ہوگا تو جمہوریت کے راستے جائیں گے۔ اقتدار میں عام آدمی کو حصہ داری دیں گے یا پھر اپنے ملک کے لوگوں سے ایک ایسی لڑائی کی شروعات کریں گے جسے جیتنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *