!دردناک، افسوسناک، المناک اور شرمناک

اسد مفتی
ہالینڈکے ایک روزنامہ نے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر پر ایک مذہبی جنونی کے جان لیوا حملے کے بارے میں لکھا ہے’’گورنر سلمان تاثیر کے دن دہاڑے قتل سے ایک بات پوری طرح عیاں ہو گئی ہے کہ حکومت پاکستان ملکی استحکام کو برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے اور یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی اور مذہبی جنونیت کی جڑیں گہرائی تک اتر چکی ہیں‘‘۔
پاکستان کے معروف دانشور اور مذہبی اسکالر جاوید غامدی نے ایک ایجنسی کو انٹرویودیتے ہوئے سلمان تاثیر کے قتل کو جہالت سے تعبیر کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس قتل و غارتگری کے سلسلہ کو یہیں پر ختم ہو جانا چاہئے اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو جتنا مکالمہ آج ہو رہا ہے آنے والے دنوں میں ہم اتنے مکالمے کا بھی تصور نہیں کر سکتے۔ جاوید غامدی کا کہنا ہے کہ توہین رسالت کے قانون کے بارے میں اگر کسی ایک سے دوسرے کو اختلاف ہے تو اس کی بات بھی تحمل و بردباری سے سنی جائے۔ انسانی قوانین کوئی آسمانی فلسفے نہیں ہوتے کہ ان پر بات ہی نہ کی جا سکے یہاںیہ ناخوشگوار بات بھی بتانا ضروری ہے کہ جاوید غامدی کو مذہبی علما کی دھمکیوں نے پاکستان چھوڑنے پر مجبور کر دیاہے ۔
پاکستان کے بڑے حادثات میں یہ حادثہ بدلتے سیاسی ، سماجی اور مذہبی حالات کی سنجیدگی کو سجھنے کے لئے کافی ہے کہ تنظیمیں یا ریاستیں اپنے میں جمہوری نہیں ہوتیں بلکہ خیالات جمہوری ہوتے ہیں۔ سلمان تاثیر نے اپنی بے وجہ موت سے آٹھ گھنٹے قبل اپنے ٹویٹر پر شکیل بدایونی کا یہ شعر لکھا تھا۔
میرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیں
مجھے خوف آتش گل سے ہے یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عزت ،ناموس، آن، آبرو، دھج اور شان کے سامنے جان بڑی حقیر شے ہے اور یہ بات وہ بخوبی جانتا تھا کہ ناموس کسے کہتے ہیں؟ آبرو کا کیا مطلب ہے؟اور شان کیا ہوتی ہے؟ وہ ایسا شخص نہیں تھا جو بغیر ’’زندہ‘‘رہے موت کی آغوش میں چلا گیا وہ ایک اعلیٰ مقاصد کے لئے زندہ رہا اور اس کا ہدف ایسا تھا کہ اس نے دنیا کو حتیٰ کہ اپنی ذات کو بھی درمیان سے نکال دیا تھا بس صرف ایک ہی مقصد رہ گیا تھا یعنی انصاف کا حصول۔یہی وجہ تھی کہ قوم کی ایک غریب بیٹی کو انصاف دلانے کے لئے میدان عمل میں اتر آیا تھا وہ بیٹی جو اقلیت سے تعلق رکھتی تھی اور وہ انسان جو سیکولر تھا۔ ایک بار دہلی یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے پنڈت جواہر لال نہرو سے پوچھا تھا کہ آپ کے نزدیک سیکولرازم کی کیا تعریف ہے؟ نہرو نے جواب دیا تھا’’تمام مذاہب کے ماننے والوں کو حکومت کی جانب سے یکساں تحفظ‘‘
سلمان تاثیر کی موت محض سیاست کا نقصان نہیں ہے سیکولرازم کا نقصان ہے، انسان دوستی کا نقصان ہے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور یکجہتی کا نقصان ہے۔ لوگ جانتے ہیں کہ اپنے عمل اور مکالموں کے ذریعہ عوامی تال میل، بھائی چارہ، برد باری اور ہم آہنگی کا پیغام دینے والی اس افسانوی شخصیت کے کارناموں پر انتہا پسندوں اور مذہبی جنونیوں نے کتنی تنقیدیں کیں؟ کس قدر شور مچایا اور کس طرح باقاعدہ حملے کئے؟ اس کے باوجود سیکولرازم کی کمٹمنٹ سلمان تاثیر کو فیض احمد فیض کی طرح بھی اپنے قدم پیچھے لینے پر مجبور نہ کر سکی۔ میرے حساب سے سیکولرازم کی کمٹمنٹ کی یہ پاسداری اگر سلمان تاثیر کی روایت کے بطور ہی ہمارے درمیان باقی رہے تو اس نئے عہد میں یہ ایک بڑا کام ہوگا۔
بعض لوگو ں کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ مذہبی آزاد ی کی حفاظت کے لئے مخالف اہانت مذہبی پالیسیوں پر عمل آوری ناگزیر ہے۔ میرے نزدیک مذہب کے تعلق سے اظہار خیال کا تحفظ ضروری ہے کہ کسی مذہبی مسئلے پر مختلف عقائد کے پیروکار مختلف نقطۂ نظر رکھتے ہیں اور میں یہ کہنے کی بھی جسارت کروں گا کہ نفرت، تعصب، امتیاز،جبر،استبداد جیسے رجحانات مذہبی امتیازی قوانین کے بطن سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ اس وقت بھی بعض ذرائع ابلاغ میں پاکستانی عدالت کے اس فیصلہ کو بنیاد بنا کر بیانات دئے جارہے ہیں جس میں ایوب مسیح ایک عیسائی کو پیغمبراسلامﷺ کی اہانت کے جرم میں پھانسی کی سزا تجویز کی گئی تھی اس پر 67سالہ کیتھولک بشپجان جو زف نے عدالت میں احتجاجاً خودکشی کر لی اور وصیت کی کہ جب تک یہ قانون منسوخ نہ ہواس کی لاش نہ اٹھائی جائے۔ اس لئے میرے نزدیک پاکستان کے عیسائی، ہندو، سکھ، احمدی اور دوسری اقلیتوں کے لئے بھی معاشی و سماجی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ایک ’’سچر کمیٹی‘‘ کی ضرورت ہے۔میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ مذہب کا معاملہ کچھ اور ہوتا ہے اس کا عقل،قاعدہ یا قانون سے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ مذہب کو منطق، دلیل یا لاجک کے پیمانوں سے نہیں ناپا جا سکتا۔ مذہب کی بنیاد پر ملک کی تعمیر کی سوچ بے بنیاد ہے اور ایسا ملک متحد نہیں ہو سکتا۔ ملک کی تمام طاقت اس کے سیکولر کردار میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ سیکولرازم کے وسیلے سے ہی جمہوری طاقتیں مضبوط ہوتی ہیں جو کسی بھی ملک کی ترقی و کامرانی اور مضبوطی کی سمت میں مشعل راہ ہوتی ہیں۔ یہاں یہ بات پھر سے بتانا ضروری ہے کہ پاکستانی نصاب میں پڑھائی جانے والی کتابوں میں ایسے ابواب ہیں جو مختلف فرقوں و مسلکوں کے درمیان تفریق اور علیحدگی کے جذبوں کو فروغ دیتے ہیں۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے بیج بوتے ہیں، جو انسانیت، اخلاق،تہذیب، آئین، عدل و انصاف کا جنازہ نکالتے ہیں۔ اندرا گاندھی نے تو صرف دو قومی نظریہ اٹھا کر بحر عرب میں پھینک دیا تھا مگر ہم نے تو گزشتہ 63سالوں میں آئین، قانون، اصول، اخلاق، عدل ، انصاف ، جواز ، منطق، دلیل، تہذیب ، سیاست، جمہوریت، حسن، زندگی، اعتماد، خواب، احساس، آزادی ،خود مختاری، یقین،عزم، اقدار اور امید کو بوری میں بھر کر بحر عرب میں ڈبو دیا ہے، بڑا مجرم کون ہے؟ اندرا گاندھی یا ہم؟
میری سمجھ میں نہیں آتا کہ مسلمان حالات کی رفتار اور وقت کے ساتھ بدلتے کیوں نہیں ہیں؟ مختلف مذاہب اور فرقوں سے تعلقات استوار کرنے کے لئے ایسے امور اسلامی کو مسلمان ترک کرنے میں کیوں پس و پیش کرتے ہیں جو غیر مسلموں سے تعلقات کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں؟جب کہ حضورؐ کا فرمان ہے کہ فتنہ و فساد اور انتہائی مشکل حالات میں شریعت پر عمل کرنا دشوار ہو جائے گا۔ جب کہ دس حصے میں سے ایک حصے پر عمل بھی نجات کے لئے کافی ہے۔ اسی حوالہ سے یہاں میں ایک روایت بیان کرنا چاہوں گا یہ روایت ترمذی شریف کی کتاب الفتن اور مشکوۃ شریف میں حضرت ابو ہریرہ ؓسے بیان کی جاتی ہے۔ فرمایا کہ تم ایسے زمانہ میں ہو کہ اس میں اگر تم میں سے کوئی اس کا دسواں حصہ بھی ترک کر دے جس کا حکم دیا گیا ہے تو ہلاک ہو جائے گا۔ پھر ایک ایسا وقت آئے گا کہ جوان میں سے دسویں حصے پر عمل کرے گا اس کی نجات ہو جائے گی۔
اور میرے حساب سے ایسا وقت آ چکا ہے
آسمانوں سے پکارے جائیں گے
ہم اسی دھوکے میں مارے جائیں گے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *