!ہمارے سیاستداں اور افسران ملک بیچنے پر تلے ہوئے ہیں

وسیم راشد
سپریم کورٹ نے 2010میں بھی کئی معاملوں پر بارہا حکومت کو پھٹکار لگائی ، لیکن حکومت ہے کہ بیدار ہونے کو تیار ہی نہیں۔-2جی اسپیکٹرم گھوٹالہ، دولت مشترکہ کھیل گھوٹالہ، آدرش سوسائٹی گھوٹالہ،آئی پی ایل گھوٹالہ اور کئی ایسے گھوٹالے ہیں جن کی وجہ سے حکومت کو کافی ذلت اٹھانی پڑی ہے۔اب بلیک منی جیساسنگین مسئلہ ہمارے سامنے ہے۔بلیک منی ایک ایسا خزانہ ہے جو ہمارا ہوتے ہوئے بھی ہمارا نہیں ہے۔ہمارے خون پسینے کی گاڑھی کمائی ہم سے کوسوں دور ہے۔کماتے ہم ہیں لیکن فائدہ غیر ممالک اٹھاتے ہیں۔ ان کے بینک ہمارے اس خون پسینے کی گاڑھی کمائی سے بھرے پڑے ہیں۔ہمارے ملک کی ایک بڑی آبادی20روپے یومیہ سے بھی کم میں اپنی زندگی بسر کر ہی ہے۔ کسان خود کشی کرنے پر مجبور ہیں،غریب فاقہ کشی کر رہے ہیں، انہیں دو وقت کی روٹی جٹانی مشکل ہو رہی ہے۔ نصف سے زیادہ آبادی ناخواندہ ہے، ان کی زندگی جنگلی جانوروں سے کم نہیںہے، لیکن شاباشی دینی ہوگی ہمیں اپنے سیاستدانوں اور نوکرشاہوں کوجو بڑی ہی ہوشیاری اور ہنرمندی سے ملک کے جائز پیسے کو بلیک منی میں تبدیل کرتے ہیں اوربیرونی ممالک کے بینکوں میں جمع کر دیتے ہیں۔انہیں اس چیز کی قطعی پرواہ نہیںکہ وہ کسی کے نمائندے بھی ہیں، کسی نے انہیں چن کر اسمبلی یاپارلیمنٹ میں بھیجا ہے اور اس لیے بھیجا ہے کہ وہ ان کے مسائل کو حل کریںنیز غربت سے نجات دلا کر بہتر زندگی گزارنے کی راہ ہموار کریں۔
بلیک منی ایک ایسی رقم ہے جو آزادی کے بعدسے ہی ملک کی ترقی کی راہ میں روڑہ بن کر کھڑی ہو گئی اور آج تک ملک کو وہ ترقی نہیں کرنے دی جس کا ہر ہندوستانی نے خواب دیکھا تھا۔اگر آج بلیک منی ہندوستان واپس آجائے تو میں یہ بات یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ کچھ ہی گھنٹوں میں وطن عزیز کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1999-2000 میں ملک میں 20 فیصد کے قریب بلیک منی تھی، لیکن یہ سرکاری اعداد و شمار ہیں، تاہم صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ کچھ ماہر اقتصادیات کے مطابق ملک کے اقتصادی نظام میں بلیک منی کی حصہ داری 50 فیصد سے زیادہ ہے۔ بلیک منی ملک کے اقتصادی نظام کے اند رکئی طریقے سے داخل ہو جاتی ہے، جس میں بدعنوانی سب سے اہم ذریعہ ہے۔ بلیک منی ٹیکس کی چوری کا سب سے اہم ذریعہ ہے جس سے ملک کو بہت نقصان ہوتا ہے۔تاہم ملک کے نقصان کی فکر نہ تو ہمارے وزیر اعظم کو ہے اور نہ ہی اپوزیشن کو۔ہاں سپریم کورٹ کو ضرور ہے۔ اسی لیے سپریم کورٹ بدعنوانیوں کو دماغ ہلا دینے والا قرار دیتی ہے اور بار بار حکومت کو تنبیہ کرتی ہے کہ بدعنوانیوں پر جلد قابو پایا جائے۔  وزیر اعظم اگر بلیک منی پر کوئی بیان دیتے ہیں تو کہتے ہیںبلیک منی کو واپس لانا ہمارے بس میں نہیں ہے۔ وہ بڑی ہی معصومیت سے لاچاری و مجبوری ظاہر کر دیتے ہیں اور انہیں ان ممالک سے (جن کے بینکوں میں ہندوستان کی بلیک منی جمع ہے) سفارتی تعلقات میں تلخی آنے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ انہیں زبردست پھٹکار لگاتی ہے اور کہتی ہے کہ بیرونی ممالک کے بینکوں میں جمع ہندوستانیوں کے اربوں روپے کی حکومت اطلاعات عام نہیںکرنا چاہتی ہے۔ اگر وہ چاہے تو ان لوگوں کے ناموںکا انکشاف کر سکتی ہے جو ٹیکس کی اس چوری میں شدید طور پر ملوث ہیں۔سپریم کورٹ اسے ٹیکس کی چوری ہی نہیںمانتی بلکہ اسے ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بھی گردانتی ہے۔
بیرون ملک میںہندوستان کی بلیک منی کے حوالے سے گلوبل فائنانشیل انٹیگرٹی نے گزشتہ دنوں ایک رپورٹ جاری کی تھی۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں  ہندوستان کے692328کروڑ روپے غیر ممالک کے بینکوں میںغیر قانونی طور پر جمع کئے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر بدعنوان ہندوستانیوں کے کم از کم71لاکھ کروڑ روپے غیر ملکی بینکوں میں جمع ہیں۔ اسے ہم ہندوستان کی تاریخ کا سب سے بڑا گھوٹالہ کہہ سکتے ہیں اور سب سے بڑی لوٹ بھی کہہ سکتے ہیں۔-2جی اسپیکٹرم بھی ایک لاکھ 76ہزار کروڑ کا گھوٹالہ تھا اور یہ رقم ہے تقریباً71لاکھ کروڑ۔اسے ہم اپنے ملک کی بد قسمتی کہیںیا ان ممالک کی خوش قسمتی جن کے بینک اس پیسے سے بھرے پڑے ہیں اور جن کی معیشت میں ہماری اس رقم کا اہم رول ہے۔جتنی رقم ہماری باہر کے ملکوں میں جمع ہے اتنا بہت سارے ممالک کا جی ڈی پی بھی نہیں ہے۔یعنی اس رقم سے ہم ملک بسا سکتے ہیں۔ یہ بلیک منی صرف سوئس بینک میں ہی جمع نہیں ہے بلکہ دنیا کے ایسے70 ممالک ہیں، جہاں بلیک منی جمع کرنے میں کسی طرح کی پریشانی نہیں ہے۔ان میں سے40ممالک تو بلیک منی جمع کرنے والوںکی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔
بلیک منی جیسی مہلک بیماری ہندوستان میں ہی نہیں ہے، بلکہ یہ بیماری پوری دنیا میں موجود ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں دو سے ڈھائی ٹریلین ڈالر بلیک منی ہے، جو دنیا کے جی ڈی پی کا 7 فیصد ہے۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ بلیک منی کے معاملے میں ہندوستان سب سے آگے ہے۔ سوئٹزرلینڈ سے ملے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے سبھی ملکوں کی بلیک منی سے زیادہ اکیلے ہندوستان کی بلیک منی سوئس بینکوں میں جمع ہے۔ سوئس بینکوں میں جمع کل ہندوستانی رقم 1500 بلین ڈالر یعنی 66 ہزار ارب روپے ہے۔ سوئس بینکنگ ایسوسی ایشن کی 2008 کی رپورٹ جو کہ اب جاری کی گئی ہے، اس کے مطابق ہندوستان کے بعد بلیک منی جمع کرنے میں روس 470 بلین ڈالر، برطانیہ 390 بلین ڈالر اور یوکرین 100 بلین ڈالر کا نمبر آتاہے۔ ان ممالک کے علاوہ دنیا کے دیگر سبھی ملکوں کی مجموعی رقم 300 بلین ڈالر ہے۔
یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ اتنا ہندوستان پر قرضہ بھی نہیں ہے جتنا کا لا پیسہ بیرونی ممالک کے بینکوں میں جمع ہے۔بلیک منی ہندوستان پر بیرونی ممالک کے قرضے کا 13 گنا ہے اور ہر سال اس رقم میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے،تاہم حکومت اس قابو پانے کا کوئی جتن نہیںکر رہی ہے۔ میں آپ کو یہاں یہ بات بھی بتا دوں کہ اگر بلیک منی ہندوستان واپس آ جائے تو اس سے ملک کا قرضہ تو اتر ہی سکتا ہے ساتھ ہی اگر پورے ملک پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے تب بھی ہم اپنی کرنسی کو اگلے تیس برسوں تک مستحکم رکھ سکتے ہیں۔
بلیک منی ہندوستان کی معیشت کو اندر ہی اندر کھو کھلا کر رہی ہے۔ اگر اس پر جلد قابو نہیں پایا گیا تو وہ دن دور نہیں جب ہم معاشی طور پر دوسروں کے غلام بن جائیں گے۔ ہمارے بینک دیوالیہ ہو جائیں گے اور ہماری کرنسی کی قدر اس حد تک گر جائے گی جس کو ابھار پانا آئندہ کئی دہائیوںتک بھی ممکن نہیں ہو پائے گا۔
یہ کتنی شرم کی بات ہے کہ ہندوستانیوں نے ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے خون پسینہ ایک کر دیا، دن رات محنت کرکے دنیا میں اپنا ایک مقام بنایا، لیکن ہمارے سیاستداں اور افسران ملک کو بیچنے پر تلے ہوئے ہیں۔غریب آدمی تو ملک سے عقیدت رکھتا ہے ، وہ غریب آدمی جس کے پاس دو وقت کی روٹی کا ذریعہ نہیں ہے، لیکن ملک کے ذمہ دار اور ذہین افراد وطن عزیز کی سلامتی سے کھیل رہے ہیں۔انہیں قطعی اس بات کی پرواہ نہیںہے کہ ان کی کرتوتوں سے ملک کو کتنا بڑا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل کہ عوام قانون اپنے ہاتھ میں لے لیں اور ان سب لوگوں کا فیصلہ کر ڈالیں جو اس ملک کو  بیچنے پر تلے ہوئے ہیں،وزیر اعظم کو سنبھل جانا چاہئے اور بدعنوانی کے بے لگام گھوڑے پر بہت جلد قابو پا لینا چاہئے۔ نہیں تو ہر آدمی دہشت گرد اور نکسلی بن جائے گا اور وہ ایسا وقت ہوگاجس میں ان افراد پر قابو پانا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہو جائے گا۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *