پی سی ایس افسران کے لئے خوش خبری

دلیپ چیرین
زیادہ  تر اسٹیٹ پبلک سروسز افسران کے لیے انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروسز میں شامل ہونا کسی خواب سے کم نہیں ہوتا۔ مثال کے طورپر کرناٹک میں اسٹیٹ سول سروسز کے افسران کو ریاست کے اندر ہی آئی اے ایس کیڈر میں شامل کرنے کے لیے صرف 5 ہی اسامیاں ہوتی ہیں۔ یعنی ہر سال اسٹیٹ سول سروسز کے 5 بابوؤں کو آئی اے ایس کیڈر میں جگہ ملتی رہی ہے۔ حالانکہ اس سال اسٹیٹ سروسز کے ان افسران کے پاس خوش ہونے کی ایک زبردست وجہ ہے۔ یدیورپا حکومت کو آئی اے ایس کیڈر کے 26 خالی عہدے پر کرنے ہیں۔ چیف سکریٹری ایس وی رنگناتھ کے مطابق اسٹیٹ سروسز کے بابوؤں کو گزشتہ دو سالوں سے کچھ قانونی اڑچنوں کی وجہ سے ترقی نہیں دی جا رہی۔ اس دوران اسٹیٹ سروسز کے 10 بابو ریٹائر بھی ہوچکے ہیں۔ ظاہر ہے انتظامی دفاتر میں افسران کی کمی ہے اور اسے پر کرنا ضروری ہو گیا ہے۔

فائل گم، جانچ جاری

انڈین ایئر فورس نے داخلی جانچ میں اپنے افسران کو کلین چٹ تو دے دی ہے، پھر بھی گم ہوئی فائل کا راز گہرا ہوتا جارہا ہے۔ ٹاپ سکریٹ والی یہ فائل، جس میں کامبیٹ جیٹ کی خریداری سے جڑی اطلاع تھی، باہر پہنچ گئی۔ جب کہ وزیردفاع کے بابو اس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ اس فائل میں کوئی بہت اہم اطلاع نہیں تھی۔ پھر بھی وزیر دفاع اے کے انٹونی نے جلد بازی میں وزارت کی جانب سے جانچ کا اعلان کر دیا۔ اس جانچ کا نتیجہ اب تک سامنے نہیں آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق شک کی سوئی وزارت کے دفاعی پروڈکشن محکمہ کے ایک آئی اے ایس افسر کی طرف گھومی ہوئی ہے۔ حالانکہ اب تک کسی کا نام سامنے نہیں آیا ہے۔

بابو اپنی ملکیت عام کریں

دو ہزار دس میں غیرقانونی طریقے سے 280 کروڑ روپے کی ملکیت جمع کرنے کے معاملے میں ایک آئی اے ایس افسر کا نام آنے کے بعد اب لگتا ہے کہ 2011 میں بابوؤں کو اپنی ملکیت کا عوامی طور پر اعلان کرنے کے لیے کہا جاسکتا ہے۔ نتیش کمار بہار میں یہ مہم شروع بھی کرچکے ہیں اور کامیاب ہوتے نظر آرہے ہیں۔ جب ایسی مہم بہار میں کامیاب ہوسکتی ہے تو دوسری جگہوں پر بھی کامیاب ہوسکتی ہے۔ گزشتہ سال مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بھی اس جانب قدم اٹھائے گئے تھے، لیکن فی الحال سب کی نگاہیں نتیش کی جانب ہیں۔ انہوں نے ریاست کے تمام آئی اے ایس افسران کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی ملکیت کا عوامی طور پر اعلان کر دیں۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ وہ اپنے اس وعدے کو پورا کر رہے ہیں، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بدعنوان بابوؤں کی ملکیت ضبط کی جائے گی۔ اب ملک اس بات کا انتظار کر رہا ہے کہ بہا رکے بابو ایسا کرتے ہیں یا نہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *