برطانوی پارلیمنٹ سے سبق لینے کی ضرورت

میگھناد دیسائی
لوکسبھا اسپیکر میرا کمار ہائوس آف لارڈس کی صدر ہیلن ہیمین سے ملنے برطانیہ پہنچیں ۔میرا کمار یہ توقع کر رہی تھیں کہ ہیمین سے ملنے کے دوران کھانے کا اہتمام ہوگا اور لارڈس اسپیکر ان کے ساتھ خوب سارا وقت بتائیں گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ جیسے ہی لنچ تیار ہوا، ہیمین نے اپنی رسمی پوشاک پہنی اور معذرت کرتے ہوئے کہا کہ انہیںہائوس آف لارڈس کے آخری سیشن کے لئے جانا ہے۔ یہ سیشن بروز پیر دوپہر ڈھائی بجے شروع ہوا تھا اور مسلسل پوری رات چلتا رہا اور آج وہ سیشن ختم ہو رہا تھا۔ہائوس آف لارڈس کے کلینڈر کے مطابق یہ دن ابھی بھی پیر ہی تھا۔سیشن کے آخر میں ہیمین کو حاضررہنا تھی ، کیونکہ وہ سیشن کی شروعات میں بھی موجود تھیں۔ انھوں نے پہلے سیشن میں حصہ لیا، پھر لنچ کے لئے گئیں۔ لنچ ختم کرنے کے بعد ہیمین کو فوری واپس جانا تھا، کیونکہ انہیں پیر کو ہونے والے سیشن میں شامل ہونا تھا، جو دو بج کر تیس منٹ پر شروع ہونے والا تھا۔
میرا کمار کے لئے یہ ایک عجیب وغریب تجربہ تھا۔جہاں ہندوستان میں اپوزیشن اپنی تمام طاقت پارلیمنٹ کی کارروائی ٹھپ کرنے میں لگا دیتی ہے، وہیں برطانیہ میں اپوزیشن ساری ساری رات کام کر کے حکومت کے لئے مصیبت کھڑی کر دیتی ہیں۔ہائوس آف لارڈس ایک ایسا ایوان ہے ، جو ہائوس آف کامنس کی جانب سے بھیجے گئے کسی بھی بل کی بہت ہی باریکی سے جانچ کرتا ہے۔ ہر بل کو دودو بار پڑھا جاتا ہے، کمیٹی اس کی جانچ کرتی ہے۔ ایک بار پھر یعنی تیسری مرتبہ اس بل کو پڑھا جاتا ہے۔ آخر میں دونوں ایوانوں کو اس بل کے لئے دی گئی ترامیم پرمتفق ہونا پڑتا ہے۔ وقت کی قدر کرنا برطانوی پارلیمنٹ کی سب سے اہم خوبی ہے۔جس بل کی ہم بات کر رہے ہیں، اسے دونوں ایوانوں میں15فروری تک پاس ہو جانا ہے۔ ہائوس آف کامنس میں اپوزیشن کو ڈسپلن میں رکھنے کا کام اسپیکر کرتے ہیں، جو یہ طے کرتے ہیں کہ کن ترامیم پر بحث کی جا سکتی ہے اور اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بحث بے وجہ طویل ہونے سے بچ جاتی ہے۔ہائوس آف لارڈس ایک خود مختار ادارہ ہے، جہاں اسپیکر کے پاس کسی بحث کو کاٹنے چھاٹنے کا اختیار نہیں ہے۔ ممبران کسی بھی ترمیم پر بحث اور ووٹنگ کے لئے کہہ سکتے ہیں۔
ابھی جس بل پر بحث ہو رہی ہے، وہ حقیقت میں انتخابی عمل پر عوام کی رائے جاننے کو لے کر ہو رہی ہے۔لبرل ڈیموکریٹس طویل مدت سے متناسب نمائندگی پر زور دیتے رہے ہیں۔ عوامی رائے کے لئے 5مئی کا دن طے کیا گیا ہے لیکن اس بل کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ اس میں ٹوری پلان کی بات شامل ہے، جس کے مطابق ہائوس آف کامنس میں ممبران کی موجودہ تعداد 650سے کم کرکے  600کرنے کا منصوبہ ہے۔ ایسا اس لئے ، کیونکہ یہ مانا جا رہا ہے کہ انتخابی حلقوں کے ڈھانچہ میں اختلاف ہے۔
لیبر پارٹی چھوٹے انتخابی حلقوں سے منتخب ہو کر آ جاتی ہے، جبکہ ٹوریز کو جیتنے کے لئے زیادہ ووٹوں کی ضرورت پڑتی ہے۔یہ حقیقی طور پر ایک سیاسی ایشو ہے۔اپوزیشن لیبر پارٹی نے اس پر کئی ترامیم کے مشورے دئے ہیں اور ان پر بڑے آرام سے بحث چل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سیشن رات میں بھی مسلسل جاری ہے۔ ممبران باری باری سے سوتے ہیں اور الگ الگ وقت پر بحث میں حصہ لیتے ہیں، لیکن جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے ، ہائوس آف لارڈس جیسے ایوان میں بھی کچھ انتشار دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پھر بھی ہائوس آف لارڈس کے ضوابط کے مطابق انتشار پیدا کرنے والوں کو داخلہ نہیں دیا جاتا ہے۔
ہم کیا دیکھتے ہیں کہ جمہوریت میں برسر اقتدار جماعت کے خلاف اپوزیشن وقت کو ہتھیار کی طرح استعمال کرتی ہے۔ہندوستان میں تو اپوزیشن پارٹیاںاس طرح مایوس ہیں کہ وہ پارلیمنٹ کی کارروائی تک ٹھپ کر دیتی ہیں۔ لندن میں ہم کسی موضوع کو تھوڑا اس لئے بڑھاتے ہیں ، تاکہ حکومت کے صبر و تحمل کا امتحان لیا جا سکے۔دونوں ہی حالات میں برسراقتدار اتحاد اپوزیشن کے غلط رویہ کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔ اگر ہم سب ایک مہذب طریقہ سے پیش آئیں اور اکثریتی توجہ سے اقلیت کی بات سنیں تو سیاست اپنے آپ ایک مہذب شکل اختیار کر لے گی۔ ویسٹ منسٹر طرز کی سیاست ہمیشہ ہی رخنہ ڈالنے والی ہوتی ہے۔تھوڑی بہت لڑائی جمہوریت کے لئے بہتر بھی مانتی جاتی ہے۔ تاناشاہی میں فیصلے بنا کسی پریشانی کے لئے جاتے ہیں، لیکن جمہوریت ہمیں یہ سمجھنے کا موقع دیتی ہے کہ جو بھی فیصلے لئے گئے، ان سب میں ہماری حصہ داری تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *