مسلم حکمرانوں کے لئے لمحۂ فکریہ

رضوان عابد
تیونس کے سابق صدر زین العابدین نے ریاست و حکومت کی طاقت کو اپنی طاقت سمجھ لیا۔15جنوری 2011تک فوج اور قانون کی طاقت، جو زین العابدین کی ہاتھ جوڑی غلام تھی،اب اس کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔وہ فوج کا کمانڈر بھی تھا۔پولس اس کی ذاتی ملکیت تھی۔وہ اپنی مرضی سے پولس اور فوج میں ردو بدل کرتا تھااور اس کے چنے ہوئے پولس اور فوج کے اہلکار قانون،ضمیر اور انصاف کو اپنے پیروں تلے روند ڈالتے تھے۔تیونس میں ہر دوسرا آدمی پولس کا مخبر تھا۔صدر کے خلاف کوئی ایک لفظ بھی کہتا تو اسے نشان عبرت بنا دیا جاتا۔عدالتیں صدر کی زرخیز لونڈی کی مانند کام کر رہی تھیں۔
زین العابدین رمضان کے روزوں پر پابندی لگانے کے بارے میں غور کر رہا تھا۔اس کا خیال تھا کہ تیونس سیاحتی مرکز بن رہا ہے اور رمضان کے تقدس کی وجہ سے ریسٹورنٹ بند ہو جاتے ہیں۔شراب خانے بند ہو جاتے ہیں۔ڈسکو کرنے والی خواتین مہینہ بھر کے لیے کام کرنا بند کر دیتی ہیں ۔اس سب کی وجہ سے سیاحوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔چنانچہ روزوں پر پابندی ہونی چاہئے۔ صدر کو اس سلسلے میں عدالت کی پوری حمایت حاصل تھی۔ججوں نے یقین دلایا کہ آپ شروعات کیجئے ہم اور قانون آپ کے ساتھ ہیں۔عدالتیں صدر پر اتنی مہربان تھیں کہ جب 11سال پہلے تیونس میں اسکارف اوڑھنے پر پابندی لگی تو عدالتوں نے صدر کا مکمل ساتھ دیا اور اسکارف کو غیر قانونی قرار دیا اور آخر کار تیونس کی خواتین ننگے سر کردی گئیں۔آج سے چند سال پہلے جب فرانس نے اسکارف پر پابندی لگائی اور فرانس کے مسلمانوں نے اس کو شخصی آزادی کے خلاف بتایا تو فرانس کی حکومت نے تیونس کی مثال دی اور کہا کہ آپ لوگ اپنے اسلامی ملک تیونس میں اسکارف پر پابندی ہٹوالیں پھر بات کریں۔اس پر فرانس کی ساری عر ب آبادی کی نگاہیں شرم سے جھک گئیں۔
سرکاری خزانہ بھی صدر کے قبضے میں تھا۔چنانچہ صدر اور اس کے سسرالی رشتہ دار اپنی مرضی سے ٹیکس بھی لگا دیاکرتے اور سرکاری خزانہ کا بے جا استعمال کرتے ۔ گویا کہ سرکاری خزانہ ان کی ذاتی ملکیت ہو۔خاندان کے سیکڑوں افراد کو سرکاری خزانہ سے جہاز خرید کر دے رکھے تھے۔صدر کے رشتہ دار اور سسرالی رشتہ دار پوری دنیا میں پرائیویٹ جہازوں میں دندناتے پھرتے تھے اور سرکاری خزانے کو لہو لعب میں اڑاتے تھے۔
یہ تھی ریاست اور حکومت کی طاقت جس کو زین العابدین اور اس کی اہلیہ نے ذاتی ملکیت سمجھ لیا تھا۔آج یہی سرکاری طاقت زین العابدین کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔فوج جو کبھی صدر کے اشارے پر کام کرتی تھی آج باغیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔عبوری حکومت نے جب فوج سے باغیوں کے خلاف مدد مانگی تو فوج نے صا ف انکار کر دیا۔ باغی صدر اور صدر کے رشتہ داروں کی املاک کو نیست و نابود کردینا چاہتے تھے۔آج فوج اور پولس باغیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔باغی صدر کی تصویریں اور پوسٹرپھاڑ رہے ہیں،جو ملک کے کونے کونے میں ہر گلی اور ہر سڑک میںلگی ہیں۔آج عدالتیں بھی صدر کے بنائے ہوئے قوانین کو نا جائز اور کالعدم قرار دے رہی ہیں جو کل تک صدر کی ہر  بات کو قانون سمجھتی تھیںاور رمضان پر پابندی لگانے کو بھی صحیح قرار دے رہی تھیں۔
اب تیونس کی حکومت انٹرپول کے ذریعہ سعودی عرب پر زین العابدین اور اس کی اہلیہ کی وطن واپسی پر دباؤ بنا رہی ہے۔اگر زین العابدین حاصل کر لیے گئے تو وہی پولس اس کو قیدکرے گی ،اس کی نگرانی کرے گی ۔وہی عدالت اس کے خلاف مقدمات کی سنوائی کرے گی، جو زین العابدین کی خاطر اللہ کے قانون کو بدلنے کا عندیہ دے رہی تھی۔وہی وزارت خزانہ اس کے خلاف گواہ بنے گی جس کے دروازے صدر کے اشارے پر کھلتے اور بند ہوتے تھے۔ یہ ہے وہ طاقت کا نشہ جسے ہر حکمراں اپنے پیر کی جوتی سمجھ لیتا ہے۔جسے حکمراں اپنا خادم سمجھ لیتے ہیں۔حکمراں سمجھتے ہیں کہ یہ سرکاری طاقت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان کو دے دی گئی ہے۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ طاقت اللہ کی عطا کردہ ہے۔وہ جب چاہے اسے چھین سکتا ہے۔جو حکمراں سرکاری خزانے کو امانت اور سرکاری طاقت کو ذمہ داری سمجھ کر استعمال کرتے ہیں اللہ ان کو دوام بخشتا ہے اور جو لوگ سرکاری خزانے اور طاقت کو ذاتی ملکیت سمجھ لیتے ہیں وہ ذلیل و خوار کر دئے جاتے ہیں ۔اس کی ہزار مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔
سورہ آل عمران آیت نمبر 26’’کہو !اللہ! بادشاہی کے مالک! تو جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے چھین لے ۔جسے چاہے عزت بخشے اور جسے چاہے ذلیل کرے۔بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے۔بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
آج کے حکمرانوں ، خاص طور پر مسلمان حکمرانوں کو یہ بات بہت اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ حکومت اور سرکاری خزانہ ان کی ذاتی ملکیت نہیں ہے۔نہ ہی یہ ان کے باپ کی ملکیت ہے۔یہ تیل کے اور سونے کے خزانے عوام کی ملکیت ہیں اور حکمران اس کے امین ہیں۔ان خزانوں اور سرکاری طاقت کو انصاف کے ساتھ خرچ کرنا ہوگا ورنہ زیادہ دیر نہیں ہے کہ ان کا انجام بھی شاہ ایران یا صدام حسین یا پھر زین العابدین جیسا ہوگا۔ظالم حکمرانوں سے آزادی کی راہ اس بے روزگار لڑکے نے دکھا دی ہے،تیونس میں جس نے اپنے آپ کو آگ لگا کر آزادی کی چنگاری کو شعلے میں بدل دیا ۔آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *