مگدھ میڈیکل کالج: جونیئر ڈاکٹروں کی غنڈہ گردی سے عوام پریشان

سنیل سوربھ
خواب تھامگدھ میڈیکل کالج اسپتال کو ایشیا کے اسپتالوں کی فہرست میں سب سے اوپر رکھنا، لیکن سرکار کے ہاتھوں میں آتے ہی  اس میڈیکل کالج کے بانیوں کا خواب چکنا چور ہوگیارواداری و محبت کا سبق دینے کی بجائے یہاں ’’تشدد‘‘ کا سبق پڑھایا جانے لگا، تبھی تو میڈیکل کالج میں جونیئر ڈاکٹروںکا ’’دبدبہ‘‘ اس قدر ہے کہ ذرا سی بات پر دھرنا، تالے بندی، مار پیٹ اور تحریک کا رخ اختیار کرنا ان کے لیے آسان ہوگیا ہے۔
ڈاکٹر بننے سے قبل ایمانداری، وفاداری اور محبت سے مریضوں کاعلاج کرنے اور مریضوں کی جان بچانے کے لیے جی جان لگانے کا حلف لیا جاتا ہے، لیکن ایسا ہو کہاں رہا ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو کیا میڈیکل کالج کے جونیئر ڈاکٹر اپنی ضد منوانے کے لیے ہڑتال کرتے؟ ان کی تو ضد پوری ہوگئی، لیکن جن کے گھروں کا چراغ گل ہوگیا، بیٹے کے سر سے والد کا سایہ اٹھ گیا، گود میں کھلانے والی ماں چلی گئی، کیا واپس آ پائے گی؟ کیا جونیئر ڈاکٹروں کو اس کا افسوس ہے؟ وہ تو ’’جشن‘‘ منا رہے ہیں کہ ان کی ’’جیت‘‘ ہو گئی، لیکن جن لوگوں کو ’’موت‘‘ نے ’’ہرا‘‘ دیا، ان کے خاندان کا کیا ہوگا؟ ریاستی حکومت کے ہاتھ میں آتے ہی انوگرہ نارائن مگدھ میڈیکل کالج میں کام کرنے والے لوگوں کے مستقبل تو محفوظ ہوگئے، لیکن یہاں آنے والے مریضوں کو سہولتیں کم ہوتی چلی گئیں۔ حالانکہ آج بدلے ماحول میں اس میڈیکل کالج میں طبی خدمات کچھ بہتر ہوئی ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ میڈیکل کالج آج سیاست، میٹنگ بازی، جھگڑا، دلت-مہا دلت کی گروپ بندی کا ’’اکھاڑہ‘‘ بن گیاہے۔ حالیہ دنوں میں یہاں کے جونیئر ڈاکٹروں اور راشٹریہ جنتا دل کے ممبراسمبلی ڈاکٹر سریندر پرساد یادو کے بیچ ہوئی جھڑپ ریاستی سطح پر سرخیوں کا موضوع بنی، جس کے سبب پوری ریاست کے میڈیکل کالج اسپتالوں میں جونیئر ڈاکٹروں نے ہڑتال کی، جس کے نتیجے میں کئی مریضوں کی موت ہوگئی۔ ڈاکٹرلوگ تمام انسانی جذبات کو طاق پر رکھ کر اپنے مطالبات پر اڑے رہے۔ وہیں ممبراسمبلی کے بچاؤ میں ان کے محافظوں کے ذریعہ کی گئی فائرنگ کو بہار پولس مینس ایسوسی ایشن نے جائز ٹھہراتے ہوئے اپنے سپاہی کو جیل بھیجے جانے کے معاملے پر ریاستی سرکار سے ہی پوچھ ڈالا کہ آخر وی آئی پی کی حفاظت پر مامور محافظوں کی ڈیوٹی کیا ہو؟ یہ حکومت طے کر دے۔ ایک طرف کسی وی آئی پی کے ساتھ حادثہ پیش آتا، تو محافظ ذمہ دار مانے جاتے ہیں اور اگر ان کی حفاظت میں محافظ فائرنگ کرتا ہے تب بھی اسے مجرم ٹھہرایا جاتا ہے۔ انوگرہ نارائن مگدھ میڈیکل کالج میں ایک مریض کے علاج کے سلسلہ میں ممبراسمبلی ڈاکٹر سریندر یادو اور جونیئر ڈاکٹروں کے درمیان ہوئی جھڑپ میں کون مجرم ہے؟ یہ تو جانچ کا موضوع ہے، لیکن پوری ریاست میں اس معاملے سے جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال کے سبب عام آدمی پریشان رہا۔ آخر اس معاملے میں عوام کا کیا قصور ہے؟
انوگرہ نارائن مگدھ میڈیکل کالج میں جونیئر ڈاکٹروں کی غنڈہ گردی اس سے پہلے بھی کئی بار دیکھی گئی ہے۔ مریضوں کے متعلقین سے کی جارہی مارپیٹ کو جب کیمرے میں قید کرنے والے میڈیا والوں کو پیٹا گیا، تب بھی جونیئر ڈاکٹر اور میڈیکل کالج کے سینئر ڈاکٹر اپنے اپنے راگ الاپتے رہے۔ بہار کے ایک ضلع کے اس وقت کے جج کی بیوی کے علاج میں بھی جونیئر ڈاکٹروں نے جو غیرانسانی حرکت کی، وہ بھی ریاستی سطح پر سرخیوں میں چھائی رہی۔ حال کے دنوں میں بجلی-پانی کے مسائل کو لے کر اس میڈیکل کالج کے جونیئر ڈاکٹروں نے اپنے ہی کالج اور اسپتال میں جو توڑ پھوڑ اور آگ زنی کی تو اس اسپتال کے ڈاکٹروں کو ’’ڈاکٹر‘‘ کہنے پر بھی ’’شک‘‘ ہوتا ہے۔ ممبراسمبلی ڈاکٹر سریندر پرساد یادو کے ساتھ جب حادثہ پیش آیا توپولس جیپ کو پھونک دینے، ایک عہدیدار کے محافظ کے ساتھ مارپیٹ کرنے کے معاملے میں بھی جونیئر ڈاکٹروں کی کارروائی کو منا بھائی ایم بی بی ایس جیسے تخاطب سے پکارا جاسکتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ حالت آج کی حکومت میں ہوئی ہے، آر جے ڈی کے دور حکومت میں اس میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں آر جے ڈی کے مقامی اور دبنگ قسم کے کارکنوں کی آمد و رفت، اس میڈیکل کالج کے جونیئر ڈاکٹروں کے سبب ہی تھی۔ ا س وقت ہاسٹل میں رہنے والی میڈیکل کالج کی طالبہ کے ساتھ غیرانسانی حرکت ہوئی تھی، تب لڑکی کے متعلقین نے عزت کی خاطر اس معاملے کی پردہ پوشی کی تھی اور یہ معاملہ پولس انتظامیہ تک نہیں پہنچا تھا۔یہاں اسپتال اور کالج میں کام کرنے والے سینئر ڈاکٹروں، ملازمین کو اپنے اپنے حساب سے اپنی سیاست کرنے کے لیے بیک ورڈ، فار ورڈ اور مہا دلت کا ہتھکنڈا اپنانا پڑا ہے اور وہ لوگ وقت اور حالات کے مطابق مریضوں کے متعلقین اور جونیئر ڈاکٹروں کو مہرا بنا کر اپنی سیاسی بساط بچھا کر مفاد حاصل کرتے رہتے ہیں۔ اس میڈیکل کالج میں ممبراسمبلی اور جونیئر ڈاکٹروں کے درمیان ایک مریض کے علاج کے معاملے میں کچھ سینئر اور ریٹائرڈ ڈاکٹروں کا رول بھی مشکوک رہا، جو بحث کا موضوع بنا رہا ہے۔ اس معاملے کی وجہ سے گیا میں عام لوگوں کی ہمدردی اب ڈاکٹروں، خاص طور سے میڈیکل کالج کے جونیئر ڈاکٹروں کے ساتھ نہیں رہی ہے۔ اس کا اندازہ ایم ایل اے اور جونیئر ڈاکٹروں کے درمیان ہوئی جھڑپ اور گولی باری کی واردات سے لگایا جاسکتا ہے، کیوں کہ اس معاملے کو لے کر تمام شہری باشندوں اور مختلف تنظیموں کے لوگوں نے جونیئر ڈاکٹروں کے خلاف جم کر مظاہرہ کیا اور جلوس بھی نکالا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ میڈیکل کالج اسپتال میں مریضوں کے متعلقین کے ساتھ جو حرکت ہوئی ہے، اس کے سبب ہی وہاں کے سینئر ڈاکٹر بھی کام کرنے سے کتراتے ہیں، لیکن جب معاملہ پیشے سے متعلق ہوتا ہے تو سینئر ڈاکٹر بھی جونیئر ڈاکٹروں کا ساتھ دینے کے لیے مجبور ہوجاتے ہیں۔ اس میڈیکل کالج میں مریضوں اور ان کے متعلقین کے ساتھ ایسے واقعات روزانہ ہوتے رہتے ہیں، لیکن یہ معاملہ چونکہ آر جے ڈی کے دبنگ ایم ایل اے ڈاکٹر سریندر پرساد یادو سے جڑا ہوا ہے، اس لیے کچھ خاص لوگ آر جے ڈی اقتدار کو دہرا کر ایم ایل اے کے لوگوں کی غلطی کا حوالہ دے رہے ہیں، لیکن سچائی یہی ہے کہ گیا میں عام لوگوں کی ہمدردی جونیئر ڈاکٹروں کے ساتھ تقریباً ختم ہوگئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *