!خدا گنجے کو بھی ناخون دیتا ہے

سنتوش بھارتیہ
مرکزی کابینہ میں توسیع کا شور ایک سال سے مچ رہا تھا۔ مانا جارہا تھا کہ بڑا پھیر بدل ہوگا اور وہ وزراء نہیں رہیںگے جن کے کام کا کوئی اثر نہیں نظر آرہا تھا ۔اور وہ بھی نہیں رہیںگے جن کے خلاف سنگین الزامات لگے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ کیوں نہیں ہوا؟ یہی راز ہے اور اس راز کے پیچھے ایک نہیں کئی وجوہات ہیں۔ کئی لوگوں کی آئی بی کلیئرنس لے لی گئی، لیکن انہیں کابینہ میں نہیں لیا گیا اور جنہیں لیا گیا ان کے بارے میں کانگریس پارٹی میں بحثیں جاری ہیں۔ ان سب باتوں کی جڑ میں منموہن سنگھ، سونیا گاندھی اور راہل گاندھی ہیں۔ کابینہ میں توسیع سے ایک دن پہلے منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی میں دو گھنٹے باتیں ہوئیں۔ اس بات چیت میں احمد پٹیل بھی شامل تھے۔ اگلے دن جس دن توسیع ہونی تھی، سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور احمد پٹیل میں پھر ایک گھنٹے سے زیادہ بات چیت ہوئی۔ اس کے بعد سونیا گاندھی نے منموہن سنگھ کو فون کر کے اپنا فیصلہ سنایا۔ اسی لیے شام 5 بجے جب توسیع ہوئی تو صرف تین لوگوں کو نئے وزراء کے طور پر حلف دلایا گیا اور 37 وزرا کے محکمے بدلے گئے۔ کئی وزرا کو وزیر مملکت سے وزیر بھی بنایا گیا۔ آخر کیا ہوا تھا سات ریس کورس کی میٹنگ میں، جس میں سونیاگاندھی، منموہن سنگھ اور احمد پٹیل تھے؟ اور کیا ہواتھا اس میٹنگ میںجس میںسونیا گاندھی، راہل گاندھی اور احمد پٹیل تھے؟اس کی 99 فیصد قابل اعتماد اور سچی کہانی ہم آپ کو بتاتے ہیں۔
منموہن سنگھ وزیراعظم کے ناطے اپنی کابینہ کے تقریباً 10 وزرا کے کام کاج سے خوش نہیں ہیں۔ وہ توسیع کے بہانے ان وزرا کو ہٹانا چاہتے تھے اور نئے لوگوں کو کابینہ میں لینا چاہتے تھے۔ وزیر اعظم نے طے کرلیا تھا کہ کمل ناتھ، سی پی جوشی، کانتی لال بھوریا، مرلی دیوڑا، شیلجا اور امبیکا سونی کو وہ کابینہ سے ہٹا دیںگے۔ پہلی میٹنگ میں سونیا گاندھی نے اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے وزیراعظم سے کہا کہ اس سے بجٹ سیشن میں پریشانی پیدا ہوجائے گی، کیوں کہ ان وزارتوں کے بجٹ کو نہ صرف آخری شکل دینی ہے، بلکہ پیش بھی کرنا ہے۔ دوسری دلیل تھی کہ کچھ ریاستوں کے الیکشن بھی ہونے والے ہیں۔ وزیراعظم کی اس فہرست میں ولاس راؤ دیشمکھ اور ویرپا موئلی کا نام بھی تھا۔ وزیراعظم نے سونیا گاندھی کی بات چیت سنی، لیکن انہوں نے کہا کہ یہ وزرا نہ صرف نااہل ہیں، بلکہ ان کی شکایتیں بھی ہیں اور ان میں سے کچھ کی وجہ سے بدنامی بھی کافی ہوئی ہے۔ دو گھنٹے بعد جب سونیا گاندھی وزیراعظم ہاؤس سے نکلیں تو وہ پراعتماد نہیں تھیں کہ منموہن سنگھ وہی کریںگے یا نہیں، جو وہ چاہتی ہیں۔
دراصل سونیا گاندھی اور راہل گاندھی چاہتے تھے کہ کپل سبل، امبیکاسونی اور چدمبرم کے محکمے بدلے جائیں۔ امبیکاسونی سے ناراضگی اس لیے تھی کہ ان کے وزیراطلاعات و نشریات رہتے ہوئے ہر چینل پر کانگریس اور سونیا گاندھی کی تنقید ہو رہی تھی، جسے وہ سنبھال نہیں پارہی تھیں۔ سونیاگاندھی کے جنرل سکریٹریز کو لگتا ہے کہ وہ یہ دانستہ طور پرکر رہی ہیں۔ چدمبرم سے اس لیے کیوں کہ چدمبرم نے ملک میں ایسا ماحول بنادیا جیسے نظم و نسق مرکز کا مسئلہ ہے۔ ان کے بیان بھی ایسے آئے جیسے نکسل ہو یا مجرم، دہشت گرد ہوں یا جعل ساز سب سے انہیں، یا کہیں کہ مرکزی حکومت کو نمٹنا ہے۔ راہل گاندھی کی سخت مداخلت سے چدمبرم خاموش ہوئے تھے، ورنہ لوگ بھول گئے تھے کہ نظم و نسق ریاست کی ذ مہ داری ہے۔ اگلے دن یعنی 19 جنوری کو جس دن توسیع ہونی تھی دس جن پتھ میں راہل اور احمد پٹیل آئے اور سونیا گاندھی سے ایک گھنٹے بات کی۔ تینوں نے طے کیا کہ وزیراعظم سے کہا جائے کہ وہ وہی کریں جو کانگریس صدر چاہتی ہیں۔ احمد پٹیل نے 12 بجے وزیراعظم کو مطلع کیا۔ ہماری جانکاری بتاتی ہے کہ وزیر اعظم نے کہا کہ ہٹانے والے وزرا میں ایک نام ایسے وزیر کا بھی ہے جو اس فہرست میں ہے، جسے جرمنی کے لکھ ٹین اسٹائن بینک نے بھیجا ہے اور جو سیل بند لفافے میں سپریم کورٹ کے پاس ہے۔ ایک وزیر کا نام نیرا راڈیا کے ساتھ بھی ویسے ہی اچھلنے والا ہے، جیسا اے راجا کا اچھلا تھا۔ وزیر اعظم سے کہا گیا کہ سارا مسئلہ بعد میں دیکھیںگے، تب وزیراعظم نے کہا کہ وہ محکمے ضرور بدلیںگے اور اسی پر سمجھوتہ ہوا۔
وزیر اعظم نے جو بدلاؤ کیا، اس نے ملک کے سامنے کانگریس کو عجیب حالت میں کھڑا کردیا۔ اگر وزرا کو نااہل ہونے کی وجہ سے بدلا گیا تو وہ نئے محکمے میں کیا کمال دکھائیںگے؟ یا تو اسے لوٹیںگے یا برباد کریںگے اور اگر وہ اہل تھے تو انہیں بدلا کیوں گیا؟ کیوں کہ انہیں سال بھر تو سمجھنے میں ہی لگ جائے گا۔ کانگریس کے سینئر لوگوں کا کہنا ہے کہ جنہیں وزیر مملکت سے وزیر بنایا گیا، ان میں وہ ہیں، جن کے پاس نہ ووٹ کی طاقت ہے اور نہ ان کے سماج کی۔ شری پرکاش جیسوال کو وزیر بنانے سے کانگریس کو الیکشن میں کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ہے۔ سلمان خورشید کا پرموشن نہیں ہوا، بلکہ ڈیموشن ہوا ہے۔ ان کے پاس سے کمپنی معاملے لے لیے گئے اور آبی وسائل دے دیا گیا۔ سلمان خورشید کے بارے میں راہل گاندھی سے شکایتیں کی گئی تھیں کہ اقلیتوں کے معاملے یہ دیکھتے نہیں، کارپوریٹ افیئر میں مصروف رہتے ہیں۔ راہل نے یہ بات سونیا گاندھی کو بتائی۔ اجے ماکن کو بھی راہل گاندھی اور سونیا گاندھی پسند نہیں کرتے، لیکن انہیں بھی وزیر بنادیا گیا۔ محکمہ ایسا دیا گیا کھیل، جس میں ابھی کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔
راہل گاندھی نے بینی پرساد ورما کو کابینی وزیر بنانے کی سفارش کی تھی۔ وزیراعظم نے مان ہی لیا تھا، لیکن انہیں حلف دلایا گیا وزیر مملکت کا۔ ایک گھنٹے کے اندر راہل گاندھی نے وزیراعظم سے بات کی۔ بینی پرساد ورما کو اشارہ ملا کہ انہیں اپریل میں ترقی دے دی جائے گی۔ شری کانت جینا کو ترقی نہ دینے کا اڑیسہ میں خراب اشارہ گیا ہے۔ کانگریسیوں کا کہنا ہے کہ بینی ورما کو وزیر نہ بنانے کے پیچھے وزیر اعظم نے ایک اشارہ راہل گاندھی کو دیا کہ وہ سبھی باتیں نہیں مانیںگے اور دوسرا بینی پرساد ورما کو کہ آپ ابھی تو کانگریس میں آئے ہیں۔ بینی پرساد ورما کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ کانگریس نا سمجھوں کی پارٹی ہے۔ شنکر سنگھ واگھیلا بی جے پی سے نکلے، اپنی پارٹی بنائی اور بعد میں وہ کانگریس میں آئے۔ آتے ہی انہیں مرکزی وزیر بنا دیا گیا اور بعد میں ریاستی کانگریس صدر۔ اسی طرح رانے شیوسینا سے آئے، انہیں کابینہ میں نمبر دو کی جگہ مل گئی۔ ان کے بیٹے کو ممبر پارلیمنٹ بنا دیا، لیکن بینی پرساد ورما ساری زندگی سیکولر رہے۔ مرکز میں کابینی وزیر رہے اور انہیں اب جب کانگریس نے وزیر بنایا تو وزیر مملکت۔ کانگریس کو یہ بھی نہیں سمجھ میں آیا ہے کہ بینی پرساد ورما کے ساتھ اہم پسماندہ طبقہ کرمیوں کا ہے۔ راہل گاندھی اور منموہن کی انا کی لڑائی میں کانگریس نے اترپردیش میں اپنا نقصان کرلیا ہے، جہاں الیکشن اگلے سال ہونے والے ہیں۔
سونیا گاندھی کا ماننا ہے کہ شرد پوار مہنگائی بڑھانے والے بیان دیتے ہیں، وہ ٹھیک ہے کیوں کہ وہ کانگریس کو جواب دہ نہیں ہیں، لیکن امبیکاسونی کیوں نہیں سمجھتیں اور ملک کو سمجھاتیں کہ مہنگائی روکنا ریاستوں کی ذمہ داری ہے۔ مرکز کے قابو میں صرف گیہوں، چاول ، چینی، یوریا اور پٹرول ہے۔ باقی سب ریاستوں کے دائرہ میں ہے۔ منموہن سنگھ سے ناراضگی کی ایک وجہ سونیا گاندھی کی شرد پوار بھی ہیں۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وزیراعظم اور پرنب مکھرجی دانستہ طور پر شرد پوار کو نہ ہی قابو میں کر پارہے ہیں اور نہ ہی سمجھا پار ہے ہیں۔ اس توسیع کا داخلی انتشار ہے۔ آر پی این سنگھ نے اترپردیش میں 18 ہزار کروڑ کی سڑکوں کی نئی اسکیم بنائی۔ انہیں ہٹا کر پٹرولیم میں بھیج دیا اور جتن پرساد کو ٹرانسپورٹ میں۔ دونوں کو سمجھنے میں ہی 6مہینے لگ جائیںگے۔ سی پی جوشی نے دیہی ترقیات کے ذریعہ منریگا کا کوئی فائدہ نہیں اٹھایا، جب کہ یہ ایک ایسی اسکیم تھی جس کی وجہ سے کانگریس ہر ریاست میں الیکشن جیت جاتی ۔ آزادی کے بعد روزگار کی اس سے بڑی اسکیم نہیں بنی تھی، لیکن کانگریس اس کا کوئی فائدہ نہیں اٹھا پائی۔ اب یہ ذمہ داری ولاس راؤ دیشمکھ کو دی گئی ہے، جو وزیراعظم کی اس فہرست میں ہیں جنہیں ہٹایا جانا ہے۔ سونیا گاندھی مرلی دیوڑا کو پٹرولیم وزیر کے طور پر ہی چاہتی تھیں، لیکن وزیراعظم نے انہیں ہٹانا اپنی عزت کا سوال بنالیا۔ انہوں نے محکمہ بدلا اور جے پال ریڈی کو پٹرولیم کی وزارت دے دی، جن کی شبیہ ایماندار وزیر کی ہے اور جن کے بارے میں آج تک افواہ بھی نہیں پھیلی ہے۔ کپل سبل سونیا گاندھی کی پسند نہیں ہیں، لیکن منموہن سنگھ نے جیسے امبیکا سونی کے بارے میں سونیا کی نہیں سنی، ویسے ہی سبل کے بارے میں ان کی نہیں سنی۔ راہل گاندھی اور سونیا گاندھی چدمبرم کو پسند نہیں کر تے، لیکن منموہن سنگھ انہیں بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔ اشونی کمار کو بھی وزیر اعظم نے اپنی مرضی سے وزیر مملکت کے طور پر شامل کیا ہے۔
اب آپ کو بتاتے ہیں کہ کن لوگوںکوکابینہ میں شامل ہونا تھا۔ ان سب کی آئی بی کلیئرنس وزیر اعظم نے مانگ لی تھی۔ ان میں پہلا نام ایم اے خان کا ہے، جنہیں تلنگانہ کی وجہ سے کابینہ میں لیا جانا تھا۔ یہ شیعہ سماج سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسرا نام پرویز ہاشمی کا ہے جو کانگریس کے قومی سکریٹری ہیں، لیکن جنہیں راہل گاندھی نے کابینہ میں جانے نہیں دیا۔ پرویز راہل گاندھی کے اترپردیش آپریشن میں دگ وجے سنگھ کے بعد دوسرے اہم آدمی ہیں۔ تیسرا نام کیشو راؤ کا ہے۔ چوتھا نام جینتی نٹراجن اور پانچواں نام چرن داس مہنت کا ہے جو چھتیس گڑھ کانگریس کے صدر ہیں۔
ملک کی عوام جیسا تجزیہ کانگریسیوں کا بھی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر یہ بدلاؤ نہیں ہوتا تو زیادہ اچھا ہوتا، کیوں کہ تب وزیراعظم اور کانگریس صدر کے درمیان اختلافات سامنے نہیں آتے اور یہ بہت زیادہ ہوشیاری سے بھرا ہوا کام بھی نہیں ہوتا۔ اس توسیع سے نہ کوئی اثر پڑا، کوئی ووٹ کانگریس کے ساتھ نہیں جڑااور جس سے ووٹ جڑتا بینی پرساد ورما سے، انہیںبے عزت کیا۔ اتنا ہی نہیں کمل ناتھ، سی پی جوشی، کانتی لال بھوریا، مرلی دیوڑا، کماری شیلجہ، امبیکاسونی، چدمبرم اور اجے ماکن ایسے وزرا کے طور پر ابھرے ہیں، جن پر دونوں میں اختلاف ہے۔ تو کیا راہل گاندھی کا اثر حکومت میں ہے؟ اس کا سیدھا جواب ہے کہ نہیں۔ حکومت انہیں ابھی بالغ نہیں مانتی اور وزیر اعظم، پرنب مکھرجی، شردپوار اور چدمبرم انہیں کسی لائق نہیں سمجھتے، لیکن تنظیم میں راہل گاندھی اثر دار ہیں، لیکن راہل گاندھی کو کتنا بھی اختلاف ہوجائے، کوئی وزیراعظم بنانے کو تیار نہیں ہے۔ کانگریس کا اس میں کوئی رول نہیں ہے۔ ان چاروں کے رشتے کانگریس کے لوگوں سے زیادہ حامیوں سے ہیں۔ کوئی حامی انہیں وزیراعظم ماننے کو تیار نہیں ہے۔ اس لیے کہہ سکتے ہیں کہ منموہن سنگھ کا کوئی متبادل کانگریس میں نہیں ہے۔ پرنب مکھرجی کو سونیا گاندھی نہیں چاہیںگی۔ ان حالات نے کانگریس کو ریاستوں میں مضحکہ خیز حالت میں لا دیا ہے۔ نہ وزیراعظم کے نہ سونیا گاندھی کے اور نہ ہی راہل گاندھی کے پاس وقت ہے کہ وہ ریاستوں کے آنے والے انتخابات کی پالیسی بنائیں۔ آندھرا، کیرل، تمل ناڈو، پانڈیچری، مغربی بنگال، اترپردیش، آسام اور گجرات ایسی ریاستیں ہیں، جہاں انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان میں سے کس ریاست میں کانگریس جیت رہی ہے، کوئی نہیں کہہ سکتا ہے۔ آج کی تاریخ میں نہ منموہن سنگھ کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی سونیا گاندھی۔ کانگریس کے لوگوں کی یہی سب سے بڑی پریشانی ہے۔
میں جن لوگوں پر بھروسہ کرسکتا ہوں، ان کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی کا بھی یہی ماننا ہے کہ اگلے چھ مہینے یا زیادہ سے زیادہ سال بھر تک ہی یہ حکومت چل پائے گی۔ داخلی دباؤ بہت زیادہ ہے۔ مہنگائی اور بدعنوانی دو بڑے ایشوز ہیں جو کانگریس پارٹی کو ہر ریاست میں بہار کی حالت میں لے جائیںگے۔ اگر ایک کے بعد ایک ریاستوں میں ہار ہوئی تو کیا ہوگا؟ اور لکھ ٹین اسٹائن بینک کی فہرست میں اگر ایک مرکزی وزیر کا نام ہے تو حکومت کا کیا ہوگا؟ پٹرول کی قیمتوں کو حکومت نے بازار کے حوالے کردیا، نتیجہ یہ ہے کہ جب بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت کم ہوئی تو اس کے تناسب سے پٹرول کی قیمتوں میں معمولی کمی ہوئی، لیکن جب وہاں تھوڑا اضافہ ہوا تو یہاں جم کر دام بڑھائے گئے۔ راہل کا نوجوانوں کو ساتھ رکھنے کا خواب دم توڑ رہا ہے، کیوں کہ 80 فیصد نوجوان لڑکے لڑکیوں کے پاس موپیڈ اور موٹرسائکلیں ہیں۔ راہل اس کا ذمہ دار حکومت میں ان لوگوں کو مانتے ہیں جو انہیں ناکام کرنا چاہتے ہیں۔ اس ساری معلومات کا لب لباب یہی ہے کہ کانگریس بغیر دماغ، بغیر سمجھ، بغیر سوچ اور بغیر قوت تخیل کے اپنی پالیسیاں طے کر رہی ہے اور ویسا ہی اس کی حکومت کر رہی ہے۔ حکومت اور کانگریس تنظیم اس کہاوت کو الٹا ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ خدا گنجے کو ناخون نہیں دیتا، لیکن یہاں تو گنجے کو ناخون بھی دیے ہیں اور تیز ناخون دیے ہیں۔ ہر فیصلہ لہو لہان کرنے والا بنتا جارہا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *