ہند کو ہندوستانیوں نے زیادہ لوٹا

میگھناد دیسائی
یہ19 ویں صدی کی بات ہے۔ برٹش جم کر ہندوستان کو لوٹ رہے تھے اور سارا پیسہ برطانیہ لے جارہے تھے۔ یعنی ہندوستان سے دولت کی لوٹ اپنے انتہا پر تھی۔ تب کانگریس کے بانیوں کے لیے برطانوی حکومت کی تنقید کا یہی اہم بنیاد بنی۔ دادا بھائی نوروجی نے ’’پوورٹی اینڈ ان برٹش رول ان انڈیا‘‘ نامی اپنی کتاب میں جائیداد کی اس لوٹ کا حوالہ دے کر غیرملکی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کردیا۔ اس وقت کے جائزہ کے مطابق یہ لوٹ ہندوستان کی قومی آمدنی کا 4 سے 5 فیصد تھی۔ لندن بھیجے گئے اس دولت سے کسی بھی طرح کے فائدے کی امید بھی نہیں تھی۔ ہندوستانیوں کا ماننا تھا کہ ہندوستان امیر ہو سکتا ہے بشرطیکہ دولت کی یہ لوٹ بند ہو جائے۔ گریٹ ڈپریشن کے دوران دولت لے جانے کا یہ سلسلہ دھیرے دھیرے کم ہونے لگا اور 1939 تک یہ تقریباً ختم ہوگیا۔ اس کے باوجود ہندوستانی جائیداد کی اس لوٹ کی کہانی اب بھی قوم کے ذہن سے ختم نہیں ہو پائی ہے۔
ہندوستانی راجااور مہاراجا نے بھی ہندوستانی جائیداد کو لوٹا، لیکن یہ داخلی لوٹ تھی، جسے وہ نوکر چاکر، رائلس رائیسز اور غیرملکی محبوباؤں پر اڑاتے تھے۔ کسی نے بھی اس کا تجزیہ  نہیںکیا کہ ان راجاؤں نے عام آدمی کا کتنا پیسہ لوٹا۔ اس مسئلے پر ایک راشٹروادی سوچ یہ تھی کہ وہ بھلے ہی ڈاکو تھے، لیکن اپنے ملک کے ہی یعنی دیشی تھے۔ اب ہم ایک گلوبلائزڈ دنیا میں ہیں اور دھیرے دھیرے بڑے ہو رہے ہیں۔ اس لیے اب لوٹ کی تعداد بھی بڑی ہوتی جارہی ہے۔ آخر کار ان 26 لوگوں نے، جن کے نام ہم جرمنی کے ساتھ ایک معاہدہ کی وجہ سے کبھی نہیں جان پائیںگے، تقریباً 1.8 لاکھ کروڑ ڈالر چھپا کر دوسرے ممالک میں رکھا ہوا ہے۔ چونکہ ڈالر ابھی 45 روپے کے برابر ہے، اس لیے یہ لوٹ بھی 2جی سے 45 گنا زیادہ ہے۔ 2جی بھی 1.8 لاکھ کروڑ کا ہے، لیکن یہ روپے میں ہے۔ ظاہر ہے یہ 26 کھاتے تو محض آغاز ہیں۔ کون جانتا ہے کہ سوئٹزر لینڈ، کیمین دیپ، لکھ ٹین شٹائن، دبئی، پناما اور ماریشس میں اور کتنے چھپے ہوئے کھاتے ہیں۔
ہم لوگ کم سے کم ایک بات پر تو فخر کر ہی سکتے ہیں، ہمیں اپنی دولت لوٹنے اور اسے بیرون ملک جمع کرنے کے لیے اب کسی غیرملکی کا انتظار نہیں کرنا ہے۔ ہم اس کام کو خود کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں۔ پرانے زمانے میں جب پونجی پر کنٹرول تھا، تب اس کالے دھن میں سے زیادہ پیسے کا استعمال فلم سازی، نشیلے مادے، جرائم اور عیاشی کے لیے ہورہا تھا۔ ان پیسوں کا استعمال سیاست دانوں کو خریدنے میں بھی ہوا۔ یہ پیسہ رکا ہوا نہیں تھا، بلکہ اس سے کمائی کی جارہی تھی۔ ٹیکس کی بچت ہو رہی تھی۔ آج بھی کالے دھن سے چلنے والی ایک بہت بڑی معیشت کا وجود ہے۔ یہ بات دہلی کے کسی بھی مال میں دکان چلا رہے کسی دکاندار سے پوچھ کر جان سکتے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں جمع کیے گئے دھن سے کمائی تو ہو رہی ہے، لیکن اسے ہندوستان میں سرمایہ کاری نہیں کی جارہی ہے۔ اسے ضرور مجرموں، نشیلے اشیاء کے سوداگروں اور ایسی ہی جگہوں کے لیے استعمال کیا جارہا ہوگا۔
میں یہ امید نہیں کرتا کہ ان پیسوں کو واپس لایا جائے گا اور کسی کو ا س کے لیے سزا بھی ملے گی۔ اس کام کے لیے ہندوستانی سیاسی نظام نہ تو فعال ہے اور نہ ہی اس میں اتنی قوت ارادی ہے۔ یہ بات سب لوگ جانتے ہیں کہ جمہوری سیاسی عمل کا مالی استحصال کہاں سے ہوتا ہے اور اس میں کچھ سیاسی پارٹیاں مثلاً لیفٹ پارٹیوں کو چھوڑ کر تقریباً تمام سیاسی پارٹیاں شامل ہیں۔ یہ پتہ چلا ہے کہ تیل مافیا کے ذریعہ یشونت سوناونے کے قتل سے ٹھیک ایک دن قبل مہاراشٹر کے کچھ لیڈروں کو 25 کروڑ روپے دئے گئے تھے۔ اس واقعہ کو جھٹلایا بھی جاسکتا ہے، لیکن اس کے سچ ہونے کی امید زیادہ ہے۔ روزانہ استعمال میں آنے والی اشیاء پر سرکاری کنٹرول دراصل کھلی لوٹ کو چھوٹ دیتا نظر آتا ہے۔ لیڈروں کے ذریعہ دولت کی یہ لوٹ راجا-مہاراجا کے ذریعہ لوٹی گئی دولت سے کہیں بڑی ہے۔ یہ پیسہ بہت حد تک ہندوستانی معیشت میں ہی واپس لوٹ آتا ہے۔ اس پیسے کا استعمال سیاسی پارٹیاں لوگوں کو بہلانے پھسلانے، لیڈروں کے اجلاس کرنے، ووٹروں کو پیسہ دے کر خریدنے اور مخالف پارٹیوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے کرتی ہیں۔ اس کام میں حزب اختلاف کی پارٹیاں بھی شامل ہیں۔ یہ داخلی لوٹ ہے، لیکن یہ کئی جائز اور ناجائز طریقوں سے معیشت کو مدد بھی پہنچاتی ہے۔ آخر کار اسی طریقے سے تو ہندوستانی جمہوریت چل رہی ہے۔
دادا بھائی نوروجی ہندوستان کی غریبی کے حوالے سے  فکرمند تھے، لیکن آج کے سیاسی نظام کو جیسے اس سب کی کوئی فکر ہی نہیں ہے۔ آخر کار ہماری معیشت 8 سے 9 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے اور سرکاری خزانہ جائز طریقے سے ادا کیے جارہے ٹیکس سے بھرا ہوا ہے۔ ایسی حالت میں بھلا کوئی حکومت سوئس اکاؤنٹ یا 2 جی گھوٹالے یا سیاست میں کالے دھن کے استعمال جیسی چھوٹی موٹی باتوں پر کیوں دھیان دے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہماری معیشت بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ کالے دھن کی کرامات کو شکریہ۔ ہو سکتا ہے کہ اصلی ترقی کی شرح 12 سے 13 فیصد ہو۔ یہ مجرمانہ ہوسکتا ہے، لیکن فکر کسے ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *