سائنسی معلومات ایمان کو پختہ کرتی ہے

گزشتہ سے پیوستہ
وصی احمد نعمانی( ایڈوکیٹ سپریم کورٹ)
سائنس ان رازوں کو آشکار کرتی ہے جو خدا کی نشانیاں ہیں۔ اس سے صاحب ایمان کو غور و فکر کا نایاب موقع میسر ہوتا ہے اور وہ اعتماد و یقین کے بحر بیکراں میں غوطہ زن ہو کر خود کو خدا کے قریب کرلیتا ہے۔ جس قدر سائنسی اطلاعات سے رغبت بڑھتی جاتی ہے خدا کی کرشمہ سازیاں عیاں ہوتی جاتی ہیں۔ ایک وقت ایسا آتا ہے، جب بندہ یہ پکار اٹھتا ہے کہ خدا یا یہ سب کچھ تونے بے کار اور بے فائدہ نہیں بنایا ہے، بلکہ ان تمام صناعی میں تیری کبریائی کا ظہور ہے، اسی لیے خدا نے زمین و آسمان کی ساخت میں غور و فکر کا حکم دیا ہے۔ (ملاحظہ فرمائیں سورہ آل عمران آیت نمبر 190-191 )
سائنس داں چونکہ حقیقت پسند اور محقق ہوتے ہیں، اس لیے سچائی تک پہنچنے کی وجہ سے وہ خدا تک پہنچتے ہیں اور دل و دماغ دونوں سے اس کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہیں۔ زیادہ تر سائنس داں خدا میں یقین رکھنے والے ہوئے ہیں۔ اگر نہایت سچائی سے یوروپ میں سائنسی ترقی کے زمانہ کو سامنے رکھیں تو یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ سترہویں صدی عیسوی میں جدید سائنس کی ترقی خدا پر ایمان کے ساتھ ہوئی ہے۔ اس کو ’’سائنسی انقلاب‘‘ کا زمانہ بھی کہتے ہیں۔ خدا پر ایمان رکھنے والے سائنس دانوں کی ایک لمبی فہرست ہے، اس لیے کہ ان تمام سائنس دانوں کا اولین مقصد خدا کی پیدا کردہ کائنات اور اس میں کار فرما قانون فطرت کا پتہ لگانا اور دریافت کرنا تھا۔ برطانیہ، فرانس وغیرہ کے بہت سے سائنس دانوں نے تو کائنات میں پنہاں رازوں کو دریافت کر کے خدا تک رسائی کا عزم کر رکھا تھا۔ یہ رجحان 18 ویں صدی عیسوی تک برقرار رہا۔ بہت سے سائنس داں ایسے ہیں، جن کو پہچانا ہی اس لیے جاتا ہے کہ انہوں نے ایسے ایسے سائنسی کارنامے انجام دئے جو بذات خود ’’قرب الٰہی کے اعلانیہ عزم کا اظہار ہے‘‘۔ ایسے سائنسدانوں میں مندرجہ ذیل شامل ہیں: نیوٹن، کیپلر، گلیلیو، پاسکل، پالے، کوپرنیکس، بیکسن، آئنسٹائن وغیرہ ایسے سائنس داں گزرے ہیں، جنہوں نے ایمان باللہ کے جذبے سے سائنسی تحقیق و جستجو کی، جس کی تحریک انہیں ان کے ایمانی جذبہ سے حاصل ہوئی تھی۔ وہ سب کے سب خدا کی ذات میں یقین رکھتے تھے، انہیں ہر نئی تحقیق اور نتیجہ کے بعد خدا کی بے پناہ طاقت اور فرماں روائی کا اعتماد زیادہ پختہ تر ہوجاتا تھا۔
مذہب اور سائنس کے درمیان مصنوعی فرق کو سائنسی دریافتوں نے حقائق کے منافی قرار دے دیا ہے۔ مذہب کا دعویٰ ہے کہ کائنات کو عدم سے وجود میں لایا گیا۔ اس دعویٰ کو سائنس نے کئی ثبوت کے ذریعہ ثابت کردیا ہے۔ بے شمار سائنس داں ایسے گزرے ہیں، جن کے قلب و نظر کو وسعت مذہب کے مطالعہ سے ملی ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے اہم سائنسی انکشافات کا مظاہرہ کیا۔ ان لوگوں نے سائنس اور مذہب کے مابین بے حد مطابقت اور گہرے رابطہ کو ثابت کیا اور اس طرح دنیائے انسانیت کی بے پناہ خدمت کی۔ ان میں سے چند کا ذکر کریںگے، جس سے اس موقف کو تقویت ملے گی کہ سائنس نے مذہب کی خدمت کی ہے اور اس طرح دونوں لازم و ملزوم ہیں۔
1 – آئزک نیوٹن، جن کا شمار دنیا کے عظیم ترین سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔ ان کا نظریہ کائنات خود نیوٹن کے الفاظ میں کچھ اس طرح ہے۔ ’’سورج، ستاروں اور دمدار تاروں کا حسین ترین نظام ایک ذہین ترین اور اتنہائی طاقتور ہستی کی منصوبہ بندی اور غلبے کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ وہی ہستی تمام موجودات پر حکمرانی کر رہی ہے، جس کی عمل داری اور اقتدار میں سب کچھ ہو رہا ہے۔ وہ اس امر کا استحقاق رکھتا ہے کہ اسے خدائے عظیم و برتر اور ہمہ گیر حکمراں تسلیم کیا جائے۔‘‘ (بحوالہ پرنسپیا، نیوٹن، سیکنڈ ایڈیشن)
نیوٹن اپنی دوسری مشہور کتاب ’’پرنسپیا میتھمیٹکا‘‘ میں یوں لکھتا ہے ’’وہ (خدا) لافانی، قادر مطلق، ہمہ گیر، مقتدر اور علیم و خبیر ہے، یعنی وہ ازل سے ابد تک رہے گا، ایک انتہا سے دوسری انتہا تک ہمہ وقت موجود ہے، تمام مخلوقات پر حکمرانی کرتا ہے اور ان سب کاموں کو جانتا ہے جو کرنے ہیں یا کئے جاسکتے ہیں۔وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اسے بقائے دوام حاصل ہے۔ وہ ہر جگہ اور ہر مقام پر حاضر و ناظر ہے۔ ہم اس سے اس کی بے مثال صناعی اور اس کی پیدا کردہ اشیاء میں کمال کی جدتوں کی وجہ سے متعارف ہوتے ہیں۔ ہم اس کے عاجز بندے ہیں اور تہہ دل سے اس کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں۔‘‘ (بحوالہ سر آئزک نیوٹن۔ میتھمیٹکل پرنسپل آف نیچرل فلاسفی)
اسی طرح جرمن کے مایۂ ناز ماہر ریاضی و فلکیات کیپلر(Kepler) کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اس کے سائنسی کارنامے اس کے مذہبی رجحانات کے مرہون منت تھے۔ کیپلر ایک صاحب ایمان سائنس داں تھا۔ بطور سائنس داں کیپلر اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ کائنات خالق حقیقی کی پیدا کردہ ہے۔ کیلپر سے یہ پوچھنے پر کہ وہ سائنس داں کیوں بنے تو انہوں نے جواب دیا ’’میں عالم دین بننا چاہتا تھا… لیکن اب میں نے اپنی کوششوں سے معلوم کرلیا کہ خدا کیسا ہے، علم فلکیات میں بھی تحقیق سے مجھ پر یہ بات آشکار ہوئی کہ یہ آسمان خدا کی عظمت و جلال کا اقرار کر رہے ہیں۔‘‘
تہران یونیورسٹی ایران کے پروفیسر مہدی گلشانی یونیورسٹی آف ٹکنالوجی کے ماہر طبیعات ہیں۔ انہوں نے ’’نیوز ویک‘‘ کو دئے گئے ایک انٹرویو میں خدا پر ایمان کا اظہار کرتے ہوئے یوں کہا ہے ’’سائنسی تحقیق مذہب کی توثیق و تصدیق کا ذریعہ بن رہی ہے۔‘‘ ، ’’مظاہر فطرت، کائنات میں خدا کی نشانیاں ہیں۔ ان کا مطالعہ کرنا اس لحاظ سے ایک مذہبی فریضہ بن جاتا ہے۔ قرآن انسانوں کو زمین میں سفر و سیاحت کی تلقین کرتا ہے تاکہ انہیں معلوم ہوسکے کہ اس نے تخلیق کا کیسے آغاز کیا۔‘‘، ’’تحقیق کرنا خدا کی عبادت کرنے کی طرح ہے، کیوں کہ اس سے عجائب تخلیق کا انکشاف ہوتا ہے۔‘‘(نیوز ویکلی جولائی27 ،1998 ، صفحہ 49 )
لوئس پاسچر خدا پر پختہ ایمان رکھتا تھا۔ اس نے ڈارون کے نظریے کی سخت مخالفت کی تھی، اس کی وجہ سے لوئس پاسچر کو شدید تنقید کا بھی نشانہ بننا پڑا۔ وہ سائنس اور مذہب میں مکمل ہم آہنگی کے قائل تھے۔ ان کے الفاط میں ’’میرا علم جتنا بڑھتا ہے، میرا ایمان اتنا ہی پختہ ہوتا جاتا ہے۔ سائنس کی تعلیم کی کمی انسان کو خدا سے دور لے جاتی ہے اور علم کی وسعت اور گہرائی اسے خدا کے قریب پہنچا دیتی ہے۔‘‘(بحوالہ Jean Guitton, Dieu Etla Science)
البرٹ آئنسٹائن پچھلی صدی کا دنیا کا اہم ترین سائنس داں گزرا ہے اور وہ خدا میں یقین رکھنے کی وجہ سے ہمیشہ شہرت میں تھا، وہ اس نظریہ کا حامی تھا کہ سائنس مذہب کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی ہے۔ اس سلسلے میں البرٹ آئنسٹائن کے الفاظ یہ تھے ’’میں ایسے سائنس داں کا تصور نہیں کرسکتا جو گہرے مذہبی رجحانات نہ رکھتا ہو۔ شاید میری بات اس تمثیل سے واضح ہوجائے کہ مذہب کے بغیر سائنس لنگڑی ہے۔‘‘ دیکھئے Science, Philosophy and Religion۔ آئنسٹائن کا پختہ یقین تھا کہ کائنات کا منصوبہ اتنی زبردست ہنرمندی سے بنایا گیا ہے کہ اسے کسی طرح بھی اتفاقی قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔ اسے یقینا ایک خالق نے بنایا ہے، جو اعلیٰ ترین حکمت و دانش کا مالک ہے۔ وہ اپنی تحریروں میں اکثر خدا پر ایمان کا اظہار کرتا تھا اور کہتا تھا کہ کائنات میں حیرت انگیز فطری توازن پایا جاتا ہے جو غور و فکر کے لیے بے پناہ اہمیت رکھتا ہے، اس نے اپنی ایک تحریر میں کہا ہے’’ہر سچے محقق کے اندر گہرے مذہبی رجحانات پائے جاتے ہیں۔‘‘ ایک بچہ نے آئنسٹائن کو خط لکھ کر دریافت کیا کہ کیا سائنس داں دعا کرتے ہیں؟ اس بچے کے خط کے جواب میں آئنسٹائن نے لکھا ’’جو شخص سائنس کے مطالعے اور تحقیق کی راہ اپناتا ہے، اسے اس امر کا قائل ہونا پڑتا ہے کہ قوانین فطرت میں واضح طور پر ایک روح موجود ہے، یہ روح انسانی روح سے بلند تر ہے۔ اس طرح سائنس کا مشغلہ انسان کو ایک خاص قسم کے مذہبی جذبے سے سرشار کردیتا ہے۔‘‘(بحوالہ Jan 24, 1936 Einstein Archive 42-601)
عظیم سائنس دانوں میں سرجیمز جینزکا شمار بھی نہایت احترام سے کیا جاتا ہے۔ یہ ایک نامور ماہر طبیعات تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ کائنات کو دانش و حکمت کے مالک نے تخلیق کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے’’ہمیں اپنی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کائنات ایک خاص مقصد کے تحت تخلیق کی گئی ہے یایہ اس کنٹرولنگ پاور کی تخلیق ہے جو ہمارے ذہنوں کے ساتھ کچھ اشتراک رکھتی ہے۔‘‘ سرجیمز جینز نے آگے کہا ہے کہ ’’کائنات کے سائنسی مطالعے کا نتیجہ مختصر ترین الفاظ میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کا ڈیزائن کسی خالص ریاضی داں نے تیار کیا تھا۔‘‘(ملاحظہ فرمائیں سرجیمز جینز کی کتاب دی مسیٹریس یونیورس، نیویارک)
اسی طرح ورنہر وان بران (Wernher Von Branu) دنیا کے چوٹی کے سائنس دانوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ وہ ایک ممتاز جرمن راکٹ انجینئر تھے۔ یہ ناسا(امریکی خلائی ادارہ تحقیق) کے ڈائریکٹر بھی تھے۔ یہ پختہ ایمان رکھنے والے سائنس داں تھے۔ انہوں نے ’’فطرت کی تحقیق و منصوبہ بندی‘‘ کے موضوع پر چھپے ایک جریدہ کے پیش لفظ میں لکھا تھا کہ ’’انسان بردار خلائی پرواز ایک حیرت انگیز تجربہ ہے، لیکن اس سے یہاں تک پہنچنے والے انسان کے لیے خلا کی پر جلال وسعتوں میں جھانکنے کے لیے ایک چھوٹا سا در کھلا ہے۔ جو کائنات کے بیکراں اسرار میں جھانکنے کے لیے محض ایک سوراخ ہے۔ اس سے ہمارے اس عقیدے کو تقویت پہنچتی ہے کہ کائنات کا ایک خالق موجود ہے۔ میرے نزدیک اس سائنس داں کو سمجھنا بہت مشکل بات ہے جو اس کائنات کے وجود کے پیچھے کار فرما اعلیٰ ترین حکمت و دانش کو تسلیم کرنے سے انکاری ہو، اسی طرح اس مذہبی شخص کو بھی سمجھنا بہت مشکل امر ہے جو سائنس کو تسلیم کرنے سے انکار کردے۔‘‘(بحوالہ ہینری ایم مارس، مین آف سائنس مَین آف گاڈ ماسٹر بک 1992 ، صفحہ 85)
پروفیسر البرٹ کومبس ونسیو نے کہا ہے’’سائنسی تحقیق خدا پر ان کے یقین کو مزید مستحکم کر رہی ہے۔ آج میں نہایت مسرت سے کہہ رہا ہوں کہ سائنس کے مختلف شعبوں میں سالہا سال کے تحقیقی کاموں کے نتیجے میں خدا پر میرا ایمان متزلزل ہونے کی بجائے مستحکم تر ہوگیا ہے اور اب پہلے کی نسبت مضبوط تر بنیادوں پر استوار ہوچکا ہے۔ سائنس نے اس عظیم ترین ہستی کے بارے میں انسان کی بصیرت کو گہرائی بخشی ہے اور یہ اس کی قدرت کاملہ پر ایمان بڑھاتی ہے اور ہر نئی دریافت میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔‘‘(دیکھیے: The Evidence of God in an expanding universe-P-191)
اس طرح کے بے شمار سائنس داں ہیں جو خدا کی وحدانیت پر یقین رکھتے ہیں اور اپنی تمام تحقیق میں خدا کا عکس پاتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ سائنسی معلومات کو قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں پڑھیں۔ قرآن کے اندر بے شمار ایسے معجزات ہیں جو ’’راز پنہاں‘‘ کی طرح ہیں، ان رازوںکا آشکار ہونا صرف سائنسی تحقیق اور ریسرچ کے ذریعہ ممکن ہے، اسی لیے سائنس تمام اہم تجزیے اور ریسرچ قرآنی نکات کو سمجھنے میں معاون اور مددگار ہے۔ سائنس قرآنی تعلیمات کے منافی نہیں، بلکہ سمجھنے میں مددگار ہے، جو خدا کی ذات گرامی تک کا سفر کراتی ہے اور ایمان کو پختہ کرتی ہے۔
(جاری)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *