کرسی کے خاطر سب کچھ کرے گی بی جے پی

سروج سنگھ
بہارمیں جنتا دل یو اور بی جے پی کے رشتوں میں موجودہ تلخی کے بھلے ہی لاکھ معنی نکالے جائیں لیکن یہاں کی زمینی سیاسی سچائی کو سمجھنے والے اطمینان کی لمبی لمبی سانسیں لے رہے ہیں۔بی جے پی کی ترنگا یاترا کے تعلق سے شرد یادو اور نتیش کمار کے بیانوں پر بی جے پی لیڈرہریندر پرتاپ کا غصہ یہ ضرور احساس کراتا ہے کہ پارٹی میں کچھ لوگوں کو یہ اچھا نہیں لگا۔لیکن جب نائب وزیر اعلیٰ سشیل مودی نے ہریندر پرتاپ کو ہی غلط بتایا تو لوگوں کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ پوری کہانی پھر دوہرائی جا رہی ہے۔دراصل بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج نے اگر صوبے کے کچھ سیاسی قصوں کو سلجھا دیا تو اسی کے ساتھ کچھ قصوں کوالجھا بھی دیا ہے۔عوام نے نتیش کمار کو زبر دست حمایت دے کر ترقی کی نئی کہانی لکھنے کا کام سونپا ہے۔
ذات برادری کی دیوار ٹوٹنے کی جھلک ملی اور یہ صاف ہوا کہ جو عوام کی بات سنے گا وہی راج کرے گا۔لیکن اس کے ساتھ ہی عوام نے بی جے پی کو جے ڈی یو سے بہتر کامیابی دے کر اسے بہت سارے اگر مگر میں بھی ڈال دیا۔جس ریاست میں 123ممبران اسمبلی سے حکومت بنتی ہے اس ریاست میں بی جے پی کے 91ممبران ہو گئے ہیں۔3آزاد بھی بی جے پی کے حامی ہی ہیں۔بہار میں بی جے پی کی اسی طاقت نے اگر مگر کی شروعات کی ہے۔انتخابی نتائج کے بعد ایسا محسوس کیا جانے لگاکہ بی جے پی کا جے ڈی یو کے ساتھ اتحاد اس بار تقریباً برابر کی حیثیت والا ہوگا۔گزشتہ 5سالوں میں نتیش کمار نے جو ایجنڈا طے کیا تھااسی پر بی جے پی چلتی رہی۔بھلے ہی اس پالیسی سے پارٹی کے کیڈروں میں ناراضگی بڑھی لیکن اتحاد نبھانے کے نام پر سب کچھ برداشت کیا جاتا رہا،لیکن اسمبلی میں بڑھی طاقت سے اندازہ لگا یا جانے لگا کہ بی جے پی نتیش کمار کی ہر بات کو اب سر ہلاکر نہیں مانے گی۔وزراء کا کوٹہ بڑھانے کا مطالبہ رکھ کراس نے اس کی ہلکی سی جھلک بھی دکھا دی ،لیکن بی جے پی اپنے اس تیور کو زیادہ دنوں تک برقرار نہیں رکھ پائی۔بی جے پی کی ترنگا یاترا کو غیر ضروری بتا کر نتیش کمار نے اپنے منصوبے صاف کر دئے۔جموں ایئر پورٹ پر سشما سوراج  اور ارون جیٹلی روکے جارہے تھے اور دوسری طرف نتیش کمار کہہ رہے تھے کہ آج کے حالات میں اس یاترا کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔مطلب بی جے پی اپنے سب سے پرانے اور مضبوط ساتھی جے ڈی یو کو اپنی ترنگا یاترا کا مقصد ہی نہیں سمجھا پائی۔لال کرشن اڈوانی سے لیکر راجناتھ سنگھ تک ترنگا یاترا کو کامیاب بنانے کے لیے پسینہ بہانے میں مشغول تھے اور ان کے بھروسے کے ساتھی اسے بے مطلب کی قواعد بتا رہے تھے۔ظاہر ہے کہ کرسی سے بندھے لوگوں نے تو کچھ نہیں کہا لیکن دوسرے بی جے پی کے لیڈروں کو نتیش کمار کا یہ بیان ناگوار گزرا۔سینئر بی جے پی لیڈر ہریندر پرتاپ نے نتیش کے بیان پر صاف کہا کہ اتحاد کو نبھانا صرف بی جے پی کی ذمہ داری نہیں ہے۔جے ڈی یو میں جب داغی تسلیم الدین کو شامل کیا جار ہا تھا تو کیا بی جے پی سے پو چھا گیا تھا؟اتحاد کو بی جے پی کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ہریندر پرتاپ نے اپنی بات ختم بھی نہ کی ہوگی کہ جے ڈی یو سے زیادہ بی جے پی کے لیڈران ہی ان پر برس پڑے۔سی پی ٹھاکر اور سشیل مودی نے کہا کہ ہریندر پرتا پ کو اس طرح کی بات نہیں کہنی چاہئے تھی۔ان دونوں لیڈروں کے ایسا بولتے ہی صاف ہو گیا کہ بی جے پی نے ہمیشہ کی طرح اتحادنبھانے کے لیے خاموش رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ٹھیک اسی طرح جس طرح نریندر مودی معاملے میں نتیش کمار کے رخ کو بی جے پی نے قبول کر لیاتھا۔ٹھیک اسی طرح جس طرح کھانے کی دعوت رد ہونے کے باوجود نتن گڈکری کہتے رہے کہ ہماری خاموشی کو ہماری کمزوری نہیں سمجھنا چاہئے۔نتیش کمار نے کہا کہ نریندر مودی پرچار میں بہار نہیں آئیں گے اور ایسا ہی ہوا۔ایسی کئی مثالیں ہیں۔کشن گنج کی سیٹ لینے کی بات ہو یا پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شاخ کھولنے کا معاملہ ہو ،ہر بار نتیش کمار کی ہی چلی۔خاتون ریزرویشن پر بھی دونوں پارٹیاں ساتھ نظر نہیں آئیں۔اس کے با وجود دونوں پارٹیوں کا اتحاد بدستور جا ری ہے۔بڑی مشکل ہے کہ کرسی کے لیے ساتھ رہنا ہے اور ملک کے لیے سب کچھ قربان کرنے والی پارٹی کی شبیہ بھی بنا نی ہے۔بی جے پی کو یہ دونوں ہی کا م ساتھ ساتھ کرنے ہیں اور کم سے کم بہار میں تو یہ پارٹی اپنا یہ کام بخوبی انجام دے رہی ہے۔پارٹی کی پالیسی اور پروگرام کو لیکر جیسے ہی جے ڈی یو کے ساتھ کوئی اختلاف ہوتا ہے توایک دو لیڈر گرجنے لگتے ہیں اور اگلے ہی لمحے نہ جانے کتنے لیڈر ایسے لیڈروں کو غلط ٹھہراکر بہتر بہار بنانے اور عوامی رائے کی دہائی دیکر اسے غلط ٹھہرا دیتے ہیں یا پھر اندر خانے خاموشی اختیار کرنے کی صلاح دے ڈالتے ہیں۔بہار کو بچانے کی دہائی دے کر اپنے ہی پروگرام کی دھار کو کمزور کرنے سے بھی بی جے پی والے نہیں چوک رہے ہیںکیوں کہ وہ جانتے ہیں کرسی اتنی آسانی سے نہیں ملتی ہے۔تازہ معاملے میں جے ڈی یو ممبر پارلیمنٹ شیوانند تیواری نے کہا کہ ہریندر پرتاپ جیسے لیڈروں کو بی جے پی لائن طے کرنے کا حق ہی نہیں ہے۔اس طرح کا کام ارون جیٹلی اور سشما سوراج کے ذمہ ہے۔واضح رہے کہ الیکشن سے پہلے شیوانند تیواری بار بار بی جے پی کو لتاڑنے میں لگے تھے اور اس سے الگ ہوکر الیکشن لڑنے کی بات بھی کرتے رہے۔دیکھا جائے تو نتیش کمار کی دوسری پاری میں بھی اشارے ملنے شروع ہو گئے ہیںکہ بی جے پی ہر قیمت پر کرسی کے لیے اتحاد نبھائے گی بھلے ہی وہ بہار کی ترقی کے نام پر ہو۔دکھانے کے لیے مخالفت ہوتی رہے گی اور یہ جتانے کی کوشش ہوگی کہ بی جے پی کا کردار اور چہرہ الگ ہے اور بہار اور ملک کے لیے وہ سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *