!بن لا دن اور اسیما نند میں کوئی فرق نہیں

رام پنیانی
معمولی جرائم کے موازنہ میں دہشت گردانہ جرائم کی تفتیش کہیں زیادہ مشکل ہوتی ہے۔دہشت گردانہ جرائم میں بم دھماکہ کرنے یا گولی چلانے والے کے اصلی کنٹرولر، راز کے چولے میں لپٹے رہتے ہیں،ان تک پہنچنا آسان نہیں ہوتا ہے ہیں۔تفتیش کاروںکی ذہنیت سوچ اور طرفداری مسئلہ کو اور بڑھاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بیشتر دہشت گردانہ حملوں کے لئے جہادی دہشت گردی کو قصوروار ٹھہرایا جاتا رہا ہے اور پولس اور تفتیشی ایجنسیاں یہ مان کر چلتی رہی ہیں کہ صرف جہادی مسلمان ہی دہشت گردی کے لئے ذمہ دار ہیں۔ ہر دہشت گرد حملہ کا قصورسرحد پار کی کسی نہ کسی مسلم تنظیم پر تھوپ دیا جاتا تھا۔ سرحد پار دہشت گرد ہمارے تفتیش کاروںکا نہایت ہی محبوب لفظ بن گیا تھا۔ ان مبینہ سرحد پار دہشت گردوں کے مقامی روابط ہونے کے الزام میں مسلم نوجوانوں کو پکڑا جاتاہے، انہیں جسمانی اذیتیں دے کر ان سے اقبالیہ بیان دلوائے جاتے ہیںاور اس طرح ہر معاملہ سلجھا لیا جاتا۔ گزشتہ کئی سالوں سے یہ ایک سلسلہ سا بن گیا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب حملہ مسلم اکثریتی علاقوں میں ایسے وقت اور موقع پر ہوتا تھا، جب وہاں بڑی تعداد میں مسلمان جمع ہوں، تب بھی حملہ کے لئے مسلمانوں کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا جاتا تھا۔ پولس ہڑبڑی میں کچھ مسلم نوجوانوں کو پکڑ لیتی تھی اور ان کے خلاف ثبوت بھی اکٹھا کر لیتی تھی۔ غیر بی جے پی حکمراں ریاستوں اور مرکز کی حکومتیں بھی اس تماشہ کو خاموشی سے دیکھتی رہیں۔اس جانبدارانہ تفتیشی عمل پر ملزمین یا سماجی کارکنان نے جب بھی اعتراض ظاہر کیا، انہیں درکنار کر دیا گیا۔ اس تفتیشی عمل کی پول پہلی بارجب کھلی جب مہاراشٹر اے ٹی ایس کے سربراہ ہیمنت کر کرے نے مالے گائوں دھماکوں میں سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر اور ہندوتو کیمپ کے کئی سپہ سالاروں کا ہاتھ ہونے کے پختہ ثبوت پیش کئے۔ یہ تمام ملزمین آر ایس ایس کی کسی نہ کسی تنظیم سے وابستہ تھے اور فرقہ وارانہ نظریات سے متاثر تھے ، ہر چیز کو صرف اور صرف مذہب کے چشمے سے دیکھنے کے عادی تھے۔ کرکرے کے ذریعہ کئے گئے انکشافات سے اتنا تو ثابت ہوا کہ پولس اور سیاسی قیادت، اپنی ضد چھوڑ کر ہندو توتنظیموں کو بھی تفتیش کے گھیرے میں لینے لگی۔ ہیمنت کرکرے کوہندوتووادیوں سے دھمکیاں ملنے لگیں۔ان کی جان خطرے میں پڑ گئی۔ آخر کار کرکرے کا 26نومبر 2008کو شروع ہوئے ممبئی حملہ کی پہلی ہی رات کو قتل کر دیا گیا۔
لیکن کر کرے کی کوششوں کا یہ نتیجہ ضرورنکلاکہ دہشت گردانہ حملوں کی تفتیش صحیح سمت میں ہونے لگی۔اندریش کمار جیسے سینئر آر ایس ایس لیڈر اور وی ایچ پی کے سوامی اسیما نند تفتیش کے گھیرے میں آ گئے۔ سوامی اسیما نند نے گجرات کے ڈانگ ضلع میں عیسائی مخالف ماحول پیدا کیا، جس کے نتیجہ میں وہاں عیسائیوں کے خلاف ہولناک تشدد ہوا۔ اسی اسیما نند نے ڈانگ میں شبری کمبھ کا انعقاد کیا۔ قبائلیوں کو ڈرا دھمکا کر اس کمبھ میں حصہ لینے پر مجبور کیا ۔ ان میں سے کئی کی گھر واپسی بھی ہوئی۔ اس کمبھ میں آر ایس ایس اور اس کی معاون تنظیموں کے لیڈران کی موجودگی قابل ذکر تھی۔ یہ کمبھ ، سنگھ کی اقلیت مخالفت مہم کا حصہ تھا۔سوامی اسیما نندایک بار پھر تذکروں میں ہے۔ وجہ ہے ان کا اقبالیہ بیان، جس میں انھوں نے دہشت گردانہ حملوں میں اپنی اور اپنے ساتھیوں کا شامل ہونا  قبول کیا ہے۔یہ بیان انھوں نے 18دسمبر 2010کو میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کے سامنے دیا تھا۔ سوامی کے مطابق اس کے دماغ میں بدلا لینے کا خیال سب سے پہلے 2002میں اکشرم دھام مندر پر ہوئے دہشت گردانہ حملہ کے بعد آیا۔ 2006میں وارانسی کے سنکٹ موچن مندر پر حملہ کے بعد اس خیال نے اور زور پکڑا۔سوامی نے کہا ، ہم نے بھرت بھائی(بھرت رتیشور) کے ولساڈ میں واقع ان کی رہائش پرجون 2006میں میٹنگ کی۔ اس میں ہم نے فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر دھماکے کئے جائیں۔ سندیپ ڈانگے،بھرت بھائی، سادھوی پرگیہ، سنیل جوشی، لوکیش شرما، رام جی کالسانگرا اور امیت اس میٹنگ میں موجود تھے۔ ہم نے طے کیا کہ مالیگائوں، اجمیر شریف درگاہ، مکہ مسجد اور سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکے کئے جائیں۔ جوشی نے ان تمام ٹھکانوں کا معائنہ کرنے کی ذمہ داری لی۔(دی ٹائمس آف انڈیا، 13جنوری 2011)۔ سوامی نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ حملوں کی تیاری کے لئے میٹنگ کے انعقاد کی پہل اس نے ہی کی تھی۔ یادرہے کہ لوکیش شرما کو پہلے ہی اجمیر درگاہ دھماکے کے سلسلہ میں حراست میں لیا جا چکا ہے۔
پولس تفتیش سے یہ ثابت ہوا کہ کئی ہندو تووادی جیسے سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر( سابق ABVPکارکن)، لیفٹیننٹ کرنل پرساد سری کانت پروہت سابق میجر اپادھیائے ( بی جے پی سابق ملٹری سیل، ممبئی کا سربراہ) سوامی دیانند پانڈے( آر ایس ایس سے وابستہ (ابھینو بھارت کے قیام میں اہم کردار)، اندریش کمار (آر ایس ایس کی ورکنگ کمیٹی کا ممبر)،سنیل جوشی (آر ایس ایس پرچارک، بعد میں مشتبہ قاتلوں کے ہاتھوں مارا گیا)،دیویندر گپتا( آر ایس ایس پرچارک ، ابھینو بھارت سے وابستہ)، رام چندر کالسانگرا ، سندیپ پانڈے اور دیگر کئی دہشت گردانہ وارداتوں میں شامل تھے۔ سوامی اسیما نند کے قبول نامے سے کئی باتیںواضح ہو گئی ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ ناندیڑ میں سنگھ کارکنان راج کونڈوار کے گھر میں ہوئے دھماکے، جس میں دو بجرنگ دل کے کارکن مارے گئے تھے، کے وقت سے ہی سماجی کارکنان کے ذریعہ مسلسل یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ہندوتو کارکنان کا دہشت گردانہ وارداتوںمیں ہاتھ ہے۔ناندیڑ معاملہ کی تفتیش ایک پبلک کمیٹی نے کی تھی اور پولس کی تفتیش اور نتائج میں کئی خامیاں پائی گئی تھیں۔ اس کے بعد مہاراشٹر کے پربھنی،جالنا ، بیڈ اور دیگر مقامات پر ایسی ہی وارداتیں ہوئیں۔سماجی کارکنان مسلسل اپنے شبہات کی جانب حکومت اور میڈیا کو متوجہ کرتے رہے لیکن ان کی کسی نے نہیں سنی۔ پولس کی ذہنیت تو یکطرفہ تھی ہی، غیر بی جے پی ریاستی حکومتیں بھی ان دھماکوں کے درمیان کے مساوات اور پولس تفتیش کی خامیوں کو بھی نظر انداز کرتی رہیں۔
میڈیا کا سب سے بڑا حصہ بھی خاموشی اختیار کئے رہا اور دہشت گردانہ وارداتوں میں ہندوتووادیوں کے کردار کو نہ کے برابر اہمیت دیتا رہا۔دہشت گردانہ وارداتوں میں مبینہ جہادیوں کے کردار کی خبریں تو صفحہ اول پر موٹی موٹی سرخیوں کے ساتھ شائع ہوتی تھیں، مگر پولس کو چیلنج کرنے والی خبریں، سماجی کارکنان کے ذریعہ دئے گئے تفتیشی نتائج وغیرہ یا تو شائع ہی نہیں ہوتے تھے اور اگر شائع ہوتے بھی تھے تو اندر کے صفحات پر چھوٹی چھوٹی سرخیوں کے ساتھ۔ اسی ذہنیت کے سبب درجنوں مسلم نوجوانوں کو پولس کے ہاتھوں سخت ترین جسمانی اذیتیں جھیلنی پڑیں۔ کسی کی پڑھائی چھوٹ گئی اور کسی کا کریئر برباد ہو گیا۔ اجتماعی سماجی ذہنیت یہ بنا دی گئی کہ تمام دہشت گرد مسلم ہوتے ہیں۔ آج بھی بڑی تعداد میں مسلم نوجوان ایسے دہشت گردانہ حملوں کے سلسلہ میں سلاخوں کے پیچھے ہیں، جن حملوں کی ذمہ داری اسیمانند اینڈ کمپنی نے لی ہے۔ کیا حکومت، پولس کی جانبدرانہ اور غلط تفتیشی عمل کے سبب ان نوجوانوں کے ساتھ ہوئی نا انصافی اور ظلم کی بھرپائی کرپائے گی؟یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر رہا ہوں اور انہیں معاوضہ بھی ملے۔ حکومت کو ان مطالبات کے سلسلہ میں جلد از جلد فیصلہ لینا چاہئے۔
ایک اہم سوال یہ ہے کہ آر ایس ایس کے ساتھ کیاکیا جانا چاہئے۔؟ سنگھ نفرت کی سیاست کا اہم گروپ ہے۔ دہشت گردانہ واقعات میں ملوث پائے گئے بیشتر ہندوتووادیوں کا سنگھ سے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر تعلق تھا۔سنگھ آسانی سے ان لوگوں سے اپنا کوئی بھی تعلق ہونے سے انکار کر سکتا ہے اور وہ ایسا کرے گابھی۔ سنگھ اپنی تنظیموں کی سرگرمیوں کے لئے قانونی طورپر ذمہ دار نہیں ہے کیونکہ کاغذ پر وہ سبھی خود مختار ہیں جو ملزمین سنگھ سے براہ راست وابستہ تھے، انہیں معطل کر دیا گیا ہے اور سنگھ نے ان سے اپنا پلا جھاڑ لیا ہے۔ سنگھ کے سربراہ نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم میں پر تشدد سرگرمیاں انجام دینے والوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ قانوناً، سنگھ پر کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ سنگھ کا تنظیمی ڈھانچہ اتنا لچیلا ہے کہ وہ سیکڑوں قتل کرا دے تب بھی اس کے دامن پر خون کا ایک چھینٹا بھی نظر نہیں آ ئے گا۔
سنگھ پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ بے معنی ہے۔اس سے پہلے بھی سنگھ پر تین مرتبہ پابندی عائد ہو چکی ہے۔ مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد، ایمرجنسی کے دوران اور بابری مسجد کے منہدم کئے جانے کے بعد۔ تنظیموں پر پابندی لگانے سے کچھ خاص فائدہ نہیں ہوتا۔اصلی علاج ہے نظریات، سماجی اور سیاسی سطحوں پر سنگھ سے مقابلہ اور یہ ایک مشکل اور چیلنج بھراکام ہے۔ سنگھ اپنے نظریات کی مسلسل تشہیر کرتا رہا ہے۔ میڈیا کے ذریعہ اور اسکولی کتابوںکے ذریعہ۔ سبھی کا استعمال سنگھ اپنے نظریات کی تشہیر کے لئے کرتا رہا ہے۔ سوامی اسیما نند، لکشمنا نند اور دیگر مبینہ سنتوں نے سنگھ کے نظریات کو مذہب کا لبادہ پہنا دیا ہے۔
ہر ہندوستانی شہری، جو جمہوری سماج اور حقوق انسانی کا حامی ہے، اسے اپنے مساوی خیالات والے دیگر لوگوں کے ساتھ مشترکہ محاذ بنا کر مذہب پر مبنی قوم پرستی کا مقابلہ کرنا چاہئے ۔ خواہ وہ سوامی اسیمانند ہو یا اسامہ بن لا دن یہ تمام مذہب کی چاشنی میں لپٹے دہشت گردی کو تقویت دینے والے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *