آگرہ: پانی کا بحران اور سرکاری بدعنوانیاں

سدھارتھ رائے
آج دنیا اس بات پر لڑ رہی ہے کہ ماحولیات کو کس نے زیادہ نقصان پہنچایا اور کس نے قدرتی وسائل کا بیجا استعمال کیا ہے۔ عظیم الشان اجلاس اور کانفرنسیں ہوتی ہیں، بڑے بڑے ممالک کے ماہرین ماحولیات اور وزراء تقریر کرتے ہیں، ماحولیات اور زمین کے بیش قیمتی ورثہ کو بچانے کی قسمیں کھاتے ہیں، لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔زندگی اسی پرانے ڈھرے پر چلتی رہتی ہے، استحصال ہوتا رہتا ہے، چاہے پانی کا ہو یا تیل کا۔ پانی کتنا انمول ہے ، یہ کوئی بتانے کی بات نہیں ہے۔ بغیر پانی کے نہ تو انسان رہ سکتا ہے اور نہ ہی مویشی اور نہ ہی نباتات، لیکن لگتا ہے کہ حکومت نے اس بہت بڑی حقیقت سے منہ موڑ رکھا ہے۔
مغربی اتر پردیش آج آبی بحران کی زبردست مار جھیل رہا ہے۔ یہاں نہ پینے کا پانی ہے اور نہ کھیتی کے لیے پانی ہے۔جب نہ ہی پینے کا پانی رہے گااور نہ ہی کھیتی کے لیے ، تو عام زندگی کا کیا حال ہوگا؟ آج اسی سوال سے مغربی اترپردیش کے عوام پریشان ہیں، لیکن یہ صورتحال اچانک سامنے نہیں آئی ہے۔ اس کے دیگر اسباب بھی رہے ہیں۔ عوام بھی اتنے ہی قصوروار ہیں،جتنی آج اور کل کی حکومتیں۔پانی کا اندھا دھند استعمال ہوتا رہا ہے۔کسانوں نے بھی اس بات پر توجہ نہیں دی کہ ایسے اندھا دھند استعمال سے کیا ہو سکتا ہے؟ ویسے اس میں کسانوں کا بھی کوئی قصور نہیں ہے، کیونکہ انہیں بتانے والا کوئی نہیں تھا۔ حکومت نے صرف اس بات پر دھیان دیا کہ کسانوں کا منہ کیسے بند رکھا جائے۔ کبھی منیمم سپورٹ پرائس بڑھا کر تو کبھی کھادوں پر سبسڈی بڑھا کر۔کبھی یہ نہیں سوچا گیا کہ جب پانی رہے گا، تبھی تو ان سب چیزوں کی ضرورت پڑے گی۔ آج پانی کی کمی کی جو بات کی جا رہی ہے، وہ کوئی نئی نہیں ہے۔پہلے بھی سرکاری اور غیر سرکاری تنظیمیں اس مسئلہ کی جانب انگلیاں اٹھاتی رہی ہیں، لیکن ہوا کچھ نہیں۔محکمہ آبپاشی صرف گڑھے کھودنے میں لگا رہا اور غلط پمپ اور ہینڈ پمپ بناتا رہا۔ آگرہ ژون کے تحت جواضلاع آتے ہیں، وہ ہیں آگرہ، متھرا، ہاتھرس اور فیروزآباد۔پہلے علی گڑھ بھی اسی ڈویژن کے تحت تھا۔ علی گڑھ کی بات یہاں اس لئے ضروری ہے، کیونکہ وہاں بھی یہی مسئلہ ہے۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ یہ پورا علاقہ مشترکہ زراعتی علاقہ ہے۔یہاں پانی کازیادہ سے زیادہ استعمال کافی پہلے سے ہوتا آ رہا ہے۔ پورے علاقہ کی خوشحالی اور روزگار زراعت پر ہی منحصر ہے۔اس وجہ سے یہاں پر پانی کی کمی کسی بھی شہری علاقہ سے زیادہ تشویشناک ہے۔
آج صورتحال اتنی سنگین ہو گئی ہے کہ اس پورے علاقہ میں پانی ساٹھ سے ستر میٹر گہرائی میں پایا جاتا ہے۔ یہ پانی بھی کوئی بہت میٹھا یا پینے کے لائق نہیں ہے۔ صرف اس پانی سے کسی طرح کام چل سکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پانی کھارا تو ہے، لیکن باقی جگہوں سے کم۔بات یہ ہے کہ پینے یا کھیتی کرنے کے لئے پانی ایک سطح تک ہی کھارا ہو سکتا ہے۔ اگر بہت کھارا پانی ہے تو وہ نہ پینے کے کام آسکتا ہے اور نہ کھیتی کے لئے، کیونکہ اگر زیادہ کھارا پانی آبپاشی کے کام میں لے لیا جائے تو زمین یعنی کھیت کے بنجر ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس معیار کا پانی مویشیوں کو بھی پلانے کے کام نہیں آ سکتا۔ایسا نہیں ہے کہ اس پانی کو کھیتی کے لئے استعمال کرنے کے بارے میں سوچا نہیں گیا ، دراصل ایک مسئلہ اور ہے وہ یہ کہ یہ پانی میں تیل ہے۔ تیل ہونے کی وجہ سے یہ پانی کھیت کی مٹی میں سما نہیں پاتا ہے بلکہ اوپر ہی رہ جاتا ہے۔ جس سطح تک پانی ہے، مطلب 60سے 70میٹر تک، ظاہر ہے کہ اسی سطح تک کے پانی کا بیجا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہی کیا بھی گیا ہے، لیکن اسکا منفی اثر یہ رہا کہ پانی کا معیار مزید گرتا چلا گیا۔ مطلب یہ کہ اب لوگ اس معیار کی آخری حد تک پہنچ گئے ہیں، جہاں سے کھارا پانی شروع ہوتا ہے اور یہ پانی کسی کام کا نہیں ہے۔ دراصل آگرہ ضلع اور ارد گرد کے علاقوں کی حالت اتنی خراب نہیں تھی۔ 1980میں یہاں کی آبی سطح معمول پر تھی۔1996میں آبی سطح گھٹ کر 34میٹر چلی گئی۔ آئندہ دس سالوں میں یہ آبی سطح اچانک 42میٹر تک چلی گئی اور 2010آتے آتے 45میٹر تک ۔ پورے علاقہ میں1280سرکاری اور 68000غیر سرکاری ٹیوب ویلوں سے اندھا دھند پانی کی نکاسی کی جا رہی ہے۔ فیروز آباد میں بھی یہی صورتحال ہے۔ متھرا اور علی گڑھ کے علاقوں میں بھی 2-4میٹر کا ہی فرق ہے۔
مسئلہ یہیں ختم نہیں ہو جاتا۔جیسا کہا گیا ہے کہ پانی کا اسٹراٹا (وہ آخری حد، جہاں تک ٹھیک پانی ملتا ہے)60-70میٹر اور سطح 40-45میٹر ہے۔ یہ آبی سطح مسلسل ا ستعمال کی وجہ سے گرتی جا رہی ہے۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ا گر آبی سطح اسی تیزی سے گرتی رہی تو دس پندرہ سال میں سارا میٹھا پانی ختم ہو جائے گا۔ اگر یہ پانی ختم ہو گیا تو پھر کیا ہوگا؟ کیونکہ آگے کا پانی تو بس نام کا پانی ہے، جس استعمال ممکن نہیں ہے۔مطلب یہ کہ ساری کھیتی ختم ہو جائے گی، سارے مویشی یا تو مارے جائیں گے یا بھاگ جائیں گے۔ جہاں تک لوگوں کی بات ہے، انہیں بھی نقل مکانی کے لئے مجبور ہونا پڑے گا۔آج کا آگرہ جو عالمی سطح پر مشہور ہے، ریگستان بن کر رہ جائے گا اور سیاح بھاری قیمتوں پر پانی خرید کر پینے کو مجبور ہوں گے۔جیسا کہ چلی کے کئی شہروں کے ساتھ ہوا، اس علاقہ کے بھی کئی شہر سنسان ہو جائیں گے۔
ان تمام مسائل کا ایک پہلو اور بھی ہے۔ بات کرنی ہوگی متھرا اور آگرہ کی جنوبی سرحد کے پاس کے مقامات کی، جو چمبل سے ملحق ہیں او ر راجستھان کی جانب جاتے ہیں۔ پوری چمبل وادی علاقہ میں گڑھوں کی بھرمار ہے۔ آخر یہ گڑھے بنے کیسے؟ہوا یہ کہ یہاں بھی آبی سطح بہت تیزی سے گرتی چلی گئی۔ اس سبب زمین سے پانی بہت نیچے چلا گیا۔ مطلب یہ کہ مٹی بنجر ہو گئی اور پھر یہ بنجر مٹی ریت میں تبدیل ہو گئی۔ جب یہاں بارش ہوتی ہے تو یہ ساری ریتیلی مٹی تیزی سے بہہ کر چمبل میں چلی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ راجستھان کا ریگستان اس جانب بڑھ رہا ہے۔ گرمیوں میں راجستھان کی ریت تیز ہوائوں کے ساتھ اڑ کر آنے سے دہلی تک خشک سالی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ایسے میں اس علاقہ کے لئے خشک سالی کا پیمانہ کیا ہوگا، یہی سوچنے والی بات ہے۔ اگر آگرہ اور آس پاس کی جگہوں پر پانی کا معیار اسی طرح تیزی سے گرتا گیا تو یہاں بھی خشک سالی روکنا ناممکن ہو جائے گا۔
اس جانب سرکاری محکموں اور ریاستی حکومتوں نے بھی کوئی توجہ نہیں دی۔ جب بات آتی ہے سرکاری کردارکی، تو پانی کا مہیا کرانا افسروں اور وزراء کے لئے پیسہ کمانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔پانی ایک بڑا گورکھ دھندہ بن گیا ہے۔ ایسا ہی یہاں بھی ہوا ہے۔ حکومت نل اور ہینڈ پمپ لگانے کے بہت سارے منصوبے لاتی رہتی ہے،لیکن وہ اپنی مدت سے پہلے ہی بیکار ہو جاتے ہیں اور خشک ہو جاتے ہیں۔مطلب پانی نہیں دیتے۔ اب ایسا ہوتا کیوں ہے؟ کیا ایسے منصوبوں کے لئے حکومت کی جانب سے مکمل پیسہ نہیں آتا ؟ایسا بالکل نہیں ہے۔ کیا افسران سارا پیسہ کھا جاتے ہیں؟کیا ہینڈ پمپ بناتے وقت دستور العمل کا دھیان نہیں رکھا جاتا؟حقیقت تو یہ ہے کہ نلوں اور ہینڈ پمپ بنانے کا ٹھیکہ حکومت مقامی ٹھیکیداروں کو دے دیتی ہے۔ ٹھیکیدار تمام قاعدے قانون بالائے طاق رکھ کر کم پیسہ لگاتے ہیں، ردی سامان کا استعمال کرتے ہیں اور جس گہرائی تک بورنگ ہونی چاہئے، اتنی نہیں کرتے۔ سرکاری افسر ان سے ملے ہوئے ہیں۔ ایسے ٹھیکیداروں سے سامان کا لین دین ہوتا ہے، جورشوت دیتے ہوں۔ سرکاری افسر ان ایسا صرف اپنے لئے نہیں کرتے، انہیں آگے بھی پیسہ پہنچانا پڑتا ہے۔ 2009-10میں آگرہ ضلع میں لگائے گئے ہینڈپمپ بیکار ہو گئے، سوکھ گئے۔ جانچ میں پایا گیا کہ ہینڈ پمپ لگاتے وقت ضوابط پر عمل نہیں کیا گیاتھا۔جتنے بورنگ ہونے چاہئے،اتنے نہیں ہوئے اور ادائیگی پوری کرا لی گئی۔ دراصل ہینڈپمپ لگانا بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ پہلے تو اگر 2.5انچ کا ڈسچارج چاہئے تو 4-6انچ کا بور ہونا چاہئے۔پھر اسے موٹی روڑی سے بھرا جاتا ہے، تاکہ نیچے بورے میں پائپ پر مٹی نہ جائے۔ ایسا اس لئے، کیونکہ پانی کے راستہ پر پائپ چھید والا ہوتا ہے اور روڑی نہ بھری جائے تو چھید مٹی سے بھر جاتے ہیں اور پانی آنا بند ہو جاتا ہے۔ ٹھیکیدار اور سرکاری افسران ان تمام مراحل پر پیسہ بچانے کی فراق میں رہتے ہیں، اس لئے ہینڈ پمپ سوکھ جاتے ہیں۔ آگرہ ضلع میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔بورنگ ہوناتھا 60میٹر، لیکن ہوا 40میٹر۔ گرمی آتے ہی پانی کی سطح گھٹ گئی اور ہینڈ پمپ سوکھ گئے۔ٹھیکیداروں نے ہر پمپ پر میٹر پائپ اور بورنگ وغیرہ کا پیسہ بچا کر اپنی جیب گرم کر لی۔جانچ افسران نے بھی اپنی رپورٹ میں یہی لکھا ہے کہ دستور العمل کی تعمیل نہ کرنے اورتکنیکی کمی کے سبب پمپ سوکھ گئے تھے۔ کئی جگہ ایسا بھی دیکھا گیا کہ جہاں سرکاری محکموں یعنی واٹر کارپوریشن ، یو پی ایگرو اور نلکوپ کارپوریشن کو بورنگ کرنا چاہئے تھا، وہاں کسانوں کو خود ہی بورنگ کرانا پڑا اور وہ بھی اپنا پیسہ لگا کر۔
اس معاملہ میں سرکاری رویہ بھی منفی رہا ۔سرکار نے آج تک کوئی ایسے قاعدے قانون ہی نہیں بنائے، جن کی بنیاد پر پانی کے استعمال کی حد طے کی جا سکے۔ بات بہت دنوں سے چل رہی ہے، لیکن آج تک اس معاملہ میں حکومت نے کوئی بل پیش نہیں کیا۔اوپر سے یمنا ایکسپریس وے جیسے پروجیکٹ بناتے وقت بھی اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا کہ آبی بحران کے سبب مستقبل میں پورے پروجیکٹ پر تالا لگ سکتا ہے۔ایکسپریس وے سے لگا ہوا ایشیا کا سب سے بڑا شہر بسانے کا منصوبہ بھی ہے، لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ جب پانی ہی نہیں رہے گا تو شہر بسا کر کیا ہوگا؟ اسی ایکسپریس وے کے معاملہ میں کسانوں نے تحریک چھیڑی۔ میڈیا سے لے کر حکومت تک نے اسے ہرجانے اور کسانوں کی تلافی کا معاملہ بتایا، لیکن اس بات پر کسی کی نظر نہیں گئی کہ کسان صرف اپنے کھیتوں کی صحیح قیمت ہی نہیں مانگ رہے تھے۔ ان کا ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ انہیں کھیتی کے لئے پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور حکومت انہیں پانی مہیا کرائے۔
ہرسال فتح پور سیکری اور آس پاس کے کئی علاقوں میں پانی کے لئے خون خرابہ ہوتا ہے۔آبی بحران کی وجہ سے سماج میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور زندگی دینے والا پانی زندگی لے رہا ہے۔حکومت کا ایک اور منصوبہ یہ بھی ہے کہ وہ گنگا کا پانی اس پورے علاقہ میں لے کر آنا چاہتی ہے۔ آج تک اس منصوبہ پر کوئی کام نہیں ہوا۔ یہ منصوبہ 1200کروڑ روپے کا ہے، لیکن عوام کا ماننا ہے کہ اس سے کوئی بھلا نہیں ہونے والا۔ یمنا کا پانی اتنا آلودہ ہے کہ وہ نہ تو پینے کے لائق بچا ہے اور نہ ہی کھیتی کے ۔دہلی سے آتے ہوئے یمنا میں بڑے پیمانہ پر گندگی کا ڈسچارج ہو جاتا ہے، اس لئے یہ صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ یہی پانی کچھ طریقوں سے فلٹر کر کے عوام کو پلایاجاتا ہے، جو کئی بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔سماج کا امیر طبقہ تو پانی خرید کر پی رہا ہے، لیکن غریب عوام پانی جیسی بنیادی ضرورت پر کہاں سے پیسہ خرچ کرے۔ اسی وجہ سے اسے یہی گندا پانی اور کھارا پانی پیکر کام چلانا پڑتا ہے۔
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ جب یہ مسئلہ آج کا نہیں ہے تو پھر حکومت کا دھیان اس جانب کیوں نہیں کیا؟ اگر بات یہ ہے کہ پروجیکٹ بنے اور پیسہ الاٹ ہوا تو وہ پیسہ کہاں گیا؟جب یہ مسئلہ بڑھ رہا تھا، تب یہ اصلاح اور ریسرچ کیوں نہیں ہوئی؟ حقیقت تو یہ ہے کہ پانی کی تحقیق اور پانی مہیا کرانا وزراء اور افسران کے لئے پیسہ بنانے کی تکنیک بن گیا ہے۔پانی بیچنے والوں کا دھندہ ترقی کر رہا ہے۔ آج تک یا تو تحقیق ہوئی ہی نہیں اگر ہوئی تو رپورٹ کو نظر اندا کر کے دبا دیا گیا۔ کیوں؟ حکومت کے ایجنڈے میںیہ سب سے پہلا کام ہونا چاہئے تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *