یہ گوجر نہیں کسان تحریک

ڈاکٹر منیش کمار
ہندوستانی جمہوریت کا یہ عجیب چہرہ ہے۔ ملک کے کسانوں کو جب بھی کوئی بات حکومت تک پہنچانی ہوتی ہے تو انہیں تحریک چلانی پڑتی ہے۔ وہیں ملک کے بڑے بڑے صنعت کار سیدھے وزارت جا کر قاعدے قانون بدل کر کروڑوں کا فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ جمہوریت سے ملنے والے مواقع اور فوائد سے ہندوستان کی کثیر آبادی اکثریت سے مسلسل دور ہوتی جا رہی ہے۔ ہندوستان کسانوں کا ملک ہے۔ وہ غریب ہیں۔ حکومت کی اسکیموں اور پالیسیوں سے فائدہ ملنا تو دورالٹا انہیں نقصان ہو رہا ہے۔کسی بھی جمہوریت میں تحریک تب چلتی ہے جب اس کے اداروں کے ذریعہ لوگوں کے بنیادی سوالوں اوران کے مسائل کا حل نکلنا بند ہو جاتا ہے۔ جب مسائل کا حل سرکاری مشینری نہ کر سکے یا پھر سرکاری مشینری کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہوں تب تحریک چلائی جاتی ہے۔کسی بھی تحریک میں عوام کی حمایت تب ملتی ہے جب پیٹ میں تکلیفہوتی ہے۔ ویسے ہندوستان کے لوگ بڑے ہی صبر والے ہیں ۔ اتنی مہنگائی کے باوجودبھی تحریک نہیں چلاتے ہیں پھر اگر گوجر تحریک چلا رہے ہیں تو ضرورکوئی وجہ ہوگی؟
گوجروں کی تحریک کوئی ناگہانی تحریک نہیں ہے۔ وہ کسی قتل کے معاملہ کے خلاف تحریک نہیں چلا رہے ہیں ۔ گوجر کئی سالوں سے روزی روٹی کے سوال کو لے کر تحریک چلا رہے ہیں۔ یہ تحریک دہلی سے ملحق علاقے میں اور راجستھان میں پھیلی ہے۔گوجر سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ان کا مطالبہ ہے کہ انہیںدرج فہرست قبائل کا درجہ ملے اور سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن ملے۔ اب سوال یہ ہے کہ گوجر اپنے روایتی کاروبار کو چھوڑ کر سرکاری نوکریاں کرنا کیوں چاہتے ہیں؟ حکومت کو محسوس ہوتا ہے کہ اگر گوجروں کے مطالبات تسلیم کر لئے گئے تو ملک کی دوسری ذاتیں بھی ریزرویشن کے مطالبات کرنے شروع کر سکتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حکومت ہر طرف سے اسے سیاسی رنگ دینے میں لگی ہے۔ گوجروں کی تحریک کو سیاست کے چشمہ سے دیکھنا غلط ہے۔
گوجر فرقہ بنیادی طور پر کسان ہے۔ ان کی زندگی مویشی پروری پر منحصر ہے۔ مویشی پروری اور دودھ ہی ان کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہے۔صدیوں سے یہ لوگ گائے، بکری اور بھیڑ پالتے رہے ہیں۔ ان کا دودھ فروخت کرتے رہے ہیں لیکن رفتہ رفتہ مویشی پروری بھینس پروری میں تبدیل ہو گئی ، مطلب یہ کہ بھینس کا دودھ بازار میں چھا گیا۔ 1950سے پہلے ہمارے ملک میں لوگ بھینس نہیں پالتے تھے۔1950کے بعد سے اے ڈی ڈی پی کی مدد سے ملک کو آپریٹیو تحریک شروع ہوئی۔ اسی وقت دودھ کی کوالٹی ناپنے کا جو معیار بنا اس نے مویشی پروری اور دودھ کے بازار کی پوری سمت ہی بدل دی۔ دودھ کے معیار کو فیٹ فیصد سے جوڑ دیا گیا۔مطلب یہ کہ جس دودھ میں جتنا زیادہ فیٹ اتنا ہی بہتر دودھ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ فیٹ کومعیار کا پیمانہ اس لئے بنایا گیا کیونکہ اسے لیکٹو میٹر سے آسانی سے ناپا جا سکتا ہے۔ ہمارے افسران کو دودھ کی کوالٹی ناپنے کا سب سے آسان طریقہ یہی لگا۔ پانچویں دہائی کے بعد سے جب یہ ملک کوآپریٹیو تحریک چلی تو اسی کے ساتھ دودھ کا سب سے زیادہ استعمال چائے میں ہونے لگا۔ چائے کے اندر دودھ زیادہ گہرا ہو تو چائے اچھی مانی جاتی ہے۔ ان دونوں وجوہات سے گائے کے دودھ سے زیادہ بھینس کے دودھ کی کھپت ہونے لگی۔ بازار میں بھینس کے دودھ کی مانگ بڑھی۔ ملک میں مویشی پروی کے معنی بدل گئے۔ مویشی پروری کا مطلب صرف بھینس پالنا رہ گیا۔اس سے بہت بڑی تبدیلی آئی۔ گائے کی طرح بھینس کھیتوں میں نہیںچرتی۔اس سے اس کا کام نہیں چلتا۔ گائوں میں گائے کو خرید کر چارا دینے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ اس وجہ سے دودھ کے لئے گوجروں کو اب کھیت سے لائے گئے چارے اور بازار سے خریدے گئے چارے کی ضرورت پڑنے لگی ہے۔اب گزشتہ 25سالوں میں بھینسوں کے کھانے کے سامانوں پر نظر ڈالیں تو بھینسوں پر کئے گئے خرچ اور دودھ کی قیمت میں کافی فرق تھا۔کچھ سالوں تک یہ تین اور ایک کے تناسب میں رہا۔ مطلب بھینسوں کے کھانے پر اگر کوئی ایک روپیہ خرچ کرتا تھا تواسے تین روپے کا دودھ ملتا تھا۔ گوجروں کو فائدہ ہوتا تھا لیکن گزشتہ 10سالوں میں تصویر بدل گئی۔ بھینسوں کے چارے کی قیمت بڑھ گئی۔ اس کی کئی وجوہات ہیں، کھیتی کا طریقہ بدلا اور فصلوں میں تبدیلی آئی۔ چارے کی پیداوار کم ہوتی گئی۔ ساتھ ہی پانی کی قلت شروع ہو گئی۔ وہیں فیٹ کی بازار میں اتنی زیادہ مانگ بڑھتی گئی کہ کسانوں نے بھینسوں کو فوڈ کانسٹریٹ(ایسا کھنا جس سے زیادہ فیٹ بنتا ہے) کھلانا شروع کر دیا۔ فوڈ کا نسٹریٹ کو کھلی سے بنایا جاتا ہے۔ جب سرسوں یا کسی بیج سے تیل نکالا جاتا ہے تو تیل نکالنے کے بعد جو بچ جاتا ہے، اسے کھلی کہتے ہیں۔ جب تیل مہنگے ہوئے تو کھلی کی قیمت بڑھ گئی۔ اس طرح بھینسوں کو جو کھلایا جاتا تھا، وہ کئی گنا مہنگا ہوگیا، لیکن حکومت نے شہری صارفین کی وجہ سے دودھ کی قیمت نہیں بڑھنے دی۔ دوسری پریشانی یہ ہوئی کہ بازار میں سنتھیٹک دودھ کا انبار لگ گیا، جس کی وجہ سے بازار کے اندر ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کی وجہ سے دودھ کی جو قیمت ہونی چاہیے، وہ نہیں ہوئی۔ ساتھ ہی گھی کا کار و بار بھی گوجروں کے لیے مصیبت ہوگیا۔ نقلی گھی کا کار و بار اصلی گھی کے کار و بار سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اس نے بھی دودھ کی قیمت نہیں بڑھنے دی۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 10برسوں سے گوجروں کو نقصان ہونے لگا۔ آمدنی کم ہونے کی وجہ سے گوجروں کی پریشانی بڑھنے لگی۔ اب انہیں محسوس ہونے لگا ہے کہ اپنی روایتی تجارت کی وجہ سے وہ غریب ہوتے چلے جارہے ہیں۔ اب اس سے ان کا گزارا نہیں ہونے والا ہے۔
ایسے موقع پر جب کوئی سیاسی پارٹی یا کوئی لیڈر اچھے مستقبل کے خواب دکھائے گا تو غریبی سے نبرد آزما کسانوں کی حمایت ملنا لازمی ہے۔ اب جب گوجروں کو لگ رہاہے کہ ان کی اپنی تجارت میں فائدہ نہیں تو لیڈران انہیں ملازمتوں میں لالچ دے رہے ہیں۔ گوجروں کو محسوس ہو رہا ہے کہ خاندان کے کسی ایک آدمی کو سرکاری نوکری مل گئی تو ان کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ گوجروں نے جب ریزرویشن کی مانگ شروع کی تو ان کے سامنے ایک مثال تھی میناؤں کی۔ میناؤں کو جب درج فہرست ذات کا درجہ ملا تو آج ملک میں سول سروسز میں میناؤں کی تعداد درج فہرست ذات میں سب سے زیادہ ہے۔ گوجر میناؤں کو اپنا سب سے بڑا حریف مانتے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ میناؤں نے سرکاری نوکریوں کی وجہ سے سرکاری وسائل پر قبضہ کرلیا ہے۔ گوجروں کو لگتا ہے کہ ریزرویشن ملنے کے بعد ان کی بھی سماجی حیثیت میناؤں جیسی ہوجائے گی۔ گوجر تحریک کو ذات کی لڑائی سمجھنا غلط ہوگا، کیوں کہ اس کی بنیاد میں اقتصادی اور سماجی تفریق ہے۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ تفریق کے خلاف لڑنے کے لیے لوگوں کو متحد کرنے کے لیے کسی پہچان کی ضرورت ہوتی ہے، جو تحریک کا مرکز بنے۔ اس تحریک میں گوجر ذات سے متعلق نہ ہو کر کسانوں کے مسائل اور سرکاری پالیسی کے خلاف مہم کا نام ہے۔ کسانوں کے لیے سرکاری کی جو بے رخی ہے وہ کہیں گوجر، کہیں یادوؤں یا کہیں کرمی کے نام سے تحریک شروع کرسکتی ہے۔ 70کی دہائی میں مغربی اترپردیش میں مہندرسنگھ ٹکیت نے ایک کسان تحریک شروع کی تھی۔ انہیں کسانوں کی زبردست حمایت ملی۔ اس وقت بھی گنا، گیہوں، جو اور چنے کی کھیتی کرنے والے کسانوں کی حالت ویسی ہی تھی، جیسی آج گوجروں کی ہے۔گنا، گیہوں، جو اور چنے پیدا کرنے کی لاگت زیادہ ہوگئی اور سرکار نے ان فصلوں کی قیمت پر کنٹرول کررکھا تھا۔ کسانوں کو کھیتی سے نقصان ہو رہا تھا۔ بعد میں حالات میں تبدیلی آئی تو یہ کسان تحریک پرامن ہوئی۔ مہندر سنگھ ٹکیت اور گوجر تحریک کی وجہ ایک ہے، لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ گوجر اب اپنی تجارت میں فائدے نقصان کو چھوڑ کر سرکاری نوکری کے لیے تحریک چلا رہے ہیں۔
1991کی اصلاحات کے بعد سے سرکاری پالیسیوں کی توجہ کسانوں اور مزدوروں کے مسائل سے ہٹ کر صنعت کاروں، تاجروں اور شہر کے لوگوں پر ٹک گئی ہے، جس کے اصول بدل گئے ہیں۔ حکومت نے اپنی ذمہ داریوں کو نئے ڈھنگ سے ہی متعارف کرایا ہے۔حکومت بنیادی ڈھانچے کو بہتر کرتی ہے تو صنعتی ترقی ایجنڈے میں ہوتی ہے۔ ترقی کی تعریف غیرملکی سرمایہ کاری، جی ڈی پی اور سنسیکس سے ناپی جاتی ہے۔ جب بھی سرکار بازار کو آزاد کرنے کی بات کرتی ہے یا اس سے متعلق کسی طرح کے فیصلے لیتی ہے تو اس کا سارا فائدہ بڑے صنعت کار لے جاتے ہیں۔ تعلیم میں اصلاحات کی بات ہوتی ہے تو معاملہ غیر ملکی یونیورسٹیز کو ملک کے شہروں میں جگہ دینے تک رک جاتا ہے۔ گاؤں میں چلنے والی سرکاری اسکیمیں بدعنوانی کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔ زراعت ہو یا تجارت غیرملکی کمپنیوں کو ساری سہولتیں اور ہندوستانی بازار دستیاب کرانے کو حکومت اپنی کامیابی بتاتی ہے۔ اوباما، وین جیا باؤ یا پھر سرکوزی آتے ہیں تو فیصلے ملک کے بڑے بڑے صنعت کاروں کے ساتھ بیٹھ کر لیے جاتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اب دنیا کے بڑے بڑے صنعتی گھرانوں کو ریٹیل مارکیٹ میں لانے کی تیاری ہورہی ہے۔ ویسے بھی امبانی اور برلا پہلے سے ہی ریٹیل مارکیٹ میں اپنے پیر جماچکے ہیں۔ حکومت کی پالیسیوں سے مسلسل زراعت اور اس سے جڑی مصنوعات پر منحصر لوگوں کو نقصان ہی نقصان ہو رہا ہے۔ حکومت کی ترجیح واضح ہے۔ وہ صنعت کاروں، تاجروں اور شہر کے لوگوں کا چہرہ دیکھ کر اسکیم بناتی ہے۔ مہنگائی پر شور مچتا ہے، جب ان مصنوعات کی قیمت بڑھتی ہے، جن کا رشتہ شہر میں رہنے والے لوگوں سے ہے۔ اخبار میں مہنگائی کے حوالے سے خبر چھپتی ہے تو حکومت بھی پالیسیاں تبدیل کردیتی ہے۔ حزب مخالف بھی ہنگامے کرنے لگتا ہے۔ میڈیا بھی سرگرم ہوجاتا ہے۔ اخبار اور ٹی وی والے پٹرول کی قیمت پر ہائے توبہ مچاتے ہیں تو یہ بات سمجھ میں بھی آتی ہے کہ اخبار کے پڑھنے والے اور ٹی وی دیکھنے والے شہری ہوتے ہیں، لیکن سیاسی پارٹیاں اتنی بے وقوف ہیں کہ میڈیا کے ساتھ وہ بھی سر میں سر ملا کر ہنگامہ کرنے لگتی ہیں۔ ان سیاسی پارٹیوں کو یہ سمجھ میں ہی نہیں آتا ہے کہ وہ جن کے لیے لڑ رہے ہیں، وہ تو ووٹ دینے بھی نہیں جاتے ہیں۔ شہروں میں تو ووٹنگ بھی 30فیصد ہوتی ہے، لیکن شہری اعلیٰ اور متوسط طبقے کو خوش کرنے کے لیے سیاسی پارٹیاں اپنی طاقت جھونک دیتی ہیں۔ وہیں جب کسانوں اور گاؤں والوں کی مصیبت بڑھتی ہے تو نہ میڈیا، نہ حکومت اور نہ ہی اپوزیشن آواز اٹھاتی ہے۔ انہیں اپنی لڑائی خود لڑنی پڑتی ہے۔ ہندوستان کے دیہی باشندے بے سہارا ہوچکے ہیں۔ ان کی مصیبتیں بڑھ رہی ہیں، لیکن انہیں سننے والا کوئی نہیں ہے۔ اب ایسے میں حکومتی پالیسیوں کے ستائے کسان کہاں جائیں؟ کیا کریں؟ کس سے اپنی فریاد لگائیں؟ ممبران پارلیمنٹ ان کی آواز نہیں اٹھاتے، افسران تک ان کی آواز نہیں پہنچتی۔ ملک کی مختلف تنظیموں نے کسانوں کی پریشانیوں کو نظر اندازکرنے کی قسم کھا کر رکھی ہے۔ ایسے میں اپنی آواز پہنچانے کے لیے تحریک کے علاوہ اور کیا راستہ ہے؟ یہی وجہ ہے کہ گوجر تحریک چلارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے جب کسانوں کی زمین پر قبضہ کیا جاتا ہے تو کسانوں کو احتجاج کرنا پڑتا ہے۔یہ احتجاج کبھی کبھی تشدد کی شکل بھی اختیار کر لیتا ہے۔ جہاں جہاں کسانوں کو نقصان ہوتا ہے تو وہ تحریک چلاتے ہیں۔ ملک چلانے والے تمام تر اداروں کو ان سوالوں پر غور کرنا پڑے گا، حل نکالنا ہوگا۔
گوجر تحریک کو اگر صرف ذات اور ریزرویشن کے چشمے سے دیکھا گیا تو بڑی بھول ہوجائے گی۔ آج گوجر تحریک چلا رہے ہیں، کل دوسرے کسان تحریک چلائیںگے۔ آج وہ ریل اور روڈ جام کر رہے ہیں کل ہتھیار بھی اٹھا سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوگیا تو سرکاری مشینری کے پاس ان سے لڑنے کا کوئی ہتھیار نہیں  رہے گا۔ یہ ملک چلانے لائق نہیں رہ پائے گا۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *