علم کا مرتبہ عبادت سے بڑا ہے

……گزشتہ سے پیوستہ
وصی احمد نعمانی
چوتھی دنیا‘ کے گزشتہ شمارہ میں ’’سائنس، قرآن اور کائنات‘‘ کے موضوع کو ’’کور‘‘ کرنے کے لیے قاری سے درخواست یہ کی گئی تھی کہ خاص موضوع پر بحث شروع کرنے کے قبل چار عدد اہم الفاظ کو سمجھنے کی زحمت کریں۔ وہ الفاظ ہیں (1) قرآن (2) سائنس (3) کائنات (4) علم۔ پہلے دونوں الفاظ پر قاری حضرات کی خدمت میں ہم اپنی گزارشات پیش کرچکے ہیں، آج باقی ماندہ دو الفاظ کو سمجھنے کی کوشش کریںگے۔ وہ دونوں الفاظ یہ ہیں ’’کائنات‘‘ اور ’’علم‘‘۔
گزشتہ چند دہائیوں میں سائنس نے بہت سے اہم انکشافات کیے ہیں۔ اس کے کچھ انکشافات قرآن کریم کی آیتوں سے مطابقت رکھتے ہیں، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ سائنس کے بے شمار انکشافات قرآن کریم کے ذریعہ نشاندہی کی گئی باتوں کی تصدیق کر کے اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا، اللہ تعالیٰ کی نشانیاں زیادہ اچھی طرح سمجھ میں آئیںگی۔ ان انکشافات کے ذریعہ صاحب عقل و فہم کا اعتماد اور اعتقاد زیادہ مضبوط ہوتا جائے گا کہ ’’اس کائنات کا خالق صرف اور صرف اللہ ہے اور اس کا کوئی بھی شریک نہیں ہے۔‘‘ ایمان میں زیادہ پختگی پیدا ہوگی کہ کائنات کا ذرہ ذرہ خدا کا تخلیق کردہ ہے۔ وہی موجد ہے۔ اس ’’کاسموس‘‘(Cosmos) کا اور اس کے قبضہ قدرت میں تمام چیزوں کا کنٹرول بھی ہے۔ اسی طرح میں بذات خود ایک طالب علم کی حیثیت سے اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ سائنسی انکشافات کی مدد سے قرآن کریم کی بہت سی آیتوں کے ترجمے، تفسیر اور مقصد نزول زیادہ اچھی طرح سمجھ میں آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے علما اور دانشوروں کے نزدیک قرآن کریم کی بے شمار آیتوں کی سائنسی تفسیر کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ایسے مشاہیر، دانشوروں اور علمائے کرام میں صف اول میں ’’علامہ طنطاوی جوہری‘‘ کا نام سرفہرست آتا ہے۔ علامہ ’’طنطاوی جوہری‘‘ مصر کی سرزمین کے مایۂ ناز عالم تھے۔ انہوں نے دیگر بڑے عالموں کی طرح یہ محسوس کیا کہ قرآن کریم میں بے شمار سائنسی نوعیت کے بیانات ہیں، اس لیے ان سائنسی موضوعات پر الگ سے تحقیق کی ضرورت ہے۔ چنانچہ مولانا طنطاوی جوہری نے ’’جواہر القرآن‘‘ کے نام سے ایک مفصل تفسیر لکھ کر قرآن کریم اور اس آفاقی کتاب کے شیدائیوں کی عظیم خدمت انجام دی ہے۔ انہوں نے قرآن کریم کی سائنسی انداز میں تفسیر بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ علامہ طنطاوی جوہری کی زندگی میں یا ان کے زمانہ تک جتنی سائنسی ترقی ہوچکی تھی، انہوں نے ان تمام مضامین کی قرآن کریم کی آیتوں کی روشنی میں تفسیر کی ہے اور سب کو ’’جواہر القرآن‘‘ میں یکجا کرنے کی سعادت حاصل کی ہے اور اس بات کی کوشش کی ہے کہ وہ یہ دکھائیں کہ قرآن کریم میں جتنے سائنسی مسائل و بیانات آتے ہیں، ان سب کی اب تک کے تجربے اور سائنسی تحقیقات سے تائید ہوتی ہے۔ گویا کہ جو باتیں قرآن کریم میں ساڑھے چودہ سو سال پہلے بیان کی گئی ہیں، ان باتوں کی تصدیق و تائید آج کے نئے دور میں سائنسی انکشافات کے ذریعہ ہوتی ہے۔ یہ باتیں ثابت کرتی ہیں کہ قرآن اللہ کی کتاب ہے اور سائنس جیسے جیسے ترقی کرتی جائے گی قرآنی ہدایات اتنی ہی واضح ہوتی چلی جائیں، مگر یہ بات بھی قاری کے سامنے واضح کردینا ضروری ہے کہ قرآن نہ تو سائنس کی کتاب ہے اور نہ طب و حکمت کی، لیکن اس بات کی تحقیق ہوتی جارہی ہے کہ تمام اہم سائنسی انکشافات جو حتمی طور پر ثابت کیے جاچکے ہیں، ان میں بیشتر کا ذکر کتاب اللہ میں موجود ہے۔ غالباً وقت اور زمانہ کے ساتھ سائنس کے ایسے انکشافات اور سامنے آئیںگے، جو قرآنی آیتوں کو لبیک کہیںگے اور سائنس داں یہ مانیںگے کہ قرآن ایک آفاقی کتاب ہے۔ یہ ان سائنس دانوں کی خوش نصیبی ہے کہ انہیں اس میں کامیابی ملی کہ وہ بعض ایسے نظریات کا ثبوت پالیں جو سائنس میں موجود ہیں اور قرآن سے ثابت ہیں۔ دنیا کے بے شمار سائنس دانوں نے تو اس بات کا اعتراف کر بھی لیا ہے کہ قرآن کریم خدا کی کتاب ہے۔ ٹورنٹو یونیورسٹی(کناڈا) کے ڈاکٹر کیتھ مور، تھائی لینڈ یونیورسٹی کے پروفیسر تاگاسین اور جرمن سائنس داں مورس بکالے وغیرہ نے تو 1981میں دمام یونیورسٹی(سعودیہ عربیہ) کی کانفرنس کے مباحثہ کے نتیجہ میں یہ بات ببانگ دھل قبول کرلی ہے کہ قرآن خدا کا کلام ہے۔ یہ تمام سائنس داں سورہ ’’المؤمنون‘‘ کی آیت نمبر 12سے 16تک کی تشریح اور معانی سمجھ لینے کے بعد ایسی سعادت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان آیات کی تشریح ’’افزائش نسل انسانی‘‘ کے عنوان میں کی جائے گی۔ یہی ساری وجہیں ہیں جنہوں نے راقم کے ذہن میں ’’قرآن،سائنس اور کائنات‘‘ کے عنوان پر تقریر و تحریر کے ذریعہ لوگوں میں بیداری پیدا کرنے کا جذبہ پیدا کیا ہے۔ خدا قبول کرے ، آمین۔ کائنات کو سمجھنا خدا کی کرشمہ سازی اور اس کی کبریائی کو سمجھنا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ لفظ کائنات کو ٹھیک سے سمجھا اور پرکھا جائے۔ ہم نے دو اہم الفاظ ’’قرآن‘‘ اور ’’سائنس‘‘ کو سرسری طور پر سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ اب کائنات کو سمجھنے کی بات کرتے ہیں۔
کائنات:چند لفظوں میں کائنات کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ آپ اپنی آنکھیں بند کرلیجیے اور تمام اشیا کو ذہن میں لانے کی جدو جہد کیجیے۔ آپ کے ذہن میں جو کچھ بھی آتا ہے، وہ سب کی سب کائنات ہیں۔ آپ، آپ کے رشتہ دار، والدین، بچے، پیڑ، پودے، زمین و آسمان اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ بھی ہے سب کے سب کائنات ہیں۔ چاند، سورج، پہاڑ، عطارد، زہرہ، زمین، مریخ، زحل سب کے سب کائنات ہیں۔ پانی، کھٹا میٹھا پھل، زہرو آب حیات، کائنات ہیں۔ قلم، روشنائی، کار، ریل، ہوائی جہاز، راکٹ، جوار بھاٹا، کوہ آتش فشاں، گلیشیر، تمام قطب شمالی، تمام قطب جنوبی یہ سب کے سب کائنات ہیں۔ غرضیکہ انسانوں، جانوروں کے ذہن میں جو جو اشیاء آسکتی ہیں یا آتی جاتی ہیں، یہ سب کے سب کائنات ہیں یعنی خدا کی قدرت نے جو کچھ پیدا کیا ہے سب کائنات کی تعریف میں ہیں اور یہ پوری کائنات اس کائنات کی ساری چیزیں خدا کی پیدا کردہ ہیں اور سب کے سب اسی ایک اللہ کے حکم کے مطابق گردش کرتی رہتی ہیں یہاں تک کہ ’’ATOM‘‘ یا ذرہ انسان کے جسم کے ایک سوکھرب سیل یا خلیہ کائنات ہے اور ان سب میں خدا کی کرشمہ سازی پنہاں ہے۔ ان کرشمہ سازیوں کا انکشاف عقل و شعور کو بروئے کار لانے سے ہوتا ہے اور ایسا کرنے کا معجزہ خدا اپنے چہیتے بندہ کو ہی دیتا ہے۔ اسی لیے میں یہ کہنے کی جسارت کرتا ہوں کہ سائنس دانوں کے ذریعہ بھی خدا اپنی کرشمہ سازیوں کا انکشاف کرتا ہے۔ ایسے سائنس دانوں کو خدا بے حد پسند بھی کرتا ہے جو اپنے ذہن و دماغ کا استعمال کر کے ایسے ایسے پنہاں راز کو آشکارا کرتے ہیں جو خدا کی مرضی کے عین مطابق ہوتا ہے۔ اسی لیے کائنات کو سمجھنا خدا کی کبریائی کا اعتراف کرنا ہوگا، کیوں کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ کائنات کے ہر ذرہ  میں خدا کی کبریائی پوشیدہ ہے۔ کائنات کو جاننا اور سمجھنا درحقیقت خدا کی ذات گرامی کو سمجھنے کی طرف اہم قدم ہے۔
سورج، چاند، تارے، ایٹم، خلیوں، کروموزومز، ڈی این اے وغیرہ کا معجزاتی طور پر نہایت ہم آہنگی سے اپنے اپنے فرائض کو انجام دینا، کائنات کا خدا کی مرضی کے مطابق حکم بجالانا ہے۔ پوری کائنات کی تخلیق ’’ایٹم‘‘ سے ہوئی ہے۔ ان ’’ایٹموں‘‘ یا ذروں کا آپس میں جڑا ہونا اور حد درجہ کی ہم آہنگی کے ساتھ اپنا کام انجام دیتے رہنا، صرف خدا کی بے پناہ کرشمہ سازی کا نتیجہ ہے۔ آدمی، زمین، آسمان، پہاڑ، پیڑ، پودے اپنی اپنی جگہ اس لیے ٹھہرے ہوئے اور اپنے اپنے کام میں فرمانبرداروں کی طرح اس لیے ڈٹے اور مشغول نظر آتے ہیں، کیوں کہ ان تمام کے ’’ایٹم‘‘ یا ذرے ایک نظر نہ آنے والی طاقت کی وجہ سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس غیرمرئی طاقت کا سائنسی نام میسون (Meson) ہے۔ قیامت کے روز اس طاقت کو الگ ہوجانے کا حکم ہوگا کہ ایک ’’صور‘‘ کی آواز سے تمام ذرے بکھر کر روئی کے ’’گالوں‘‘ کی طرح اڑانے لگ جائیںگے اور یہ کائنات کا یا جن جن چیزوں کا ہم تصور کرسکتے ہیں، وہ سب کے سب تہہ و بالا ہوجائیںگے۔ اسی Mesonکی کشش یا کھنچاؤ یا طاقت کی وجہ سے ہم، آپ، کتاب، قلم، ساری کائنات منسلک اور مربوط ہے، کیوں کہ کائنات کی ہرچیز کا ذرہ یا ایٹم ایک ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اپنے طور پر گردش کر رہا ہے، جسے گردش نہیں دستیاب ہوگی، وہ مر کر ختم ہوجائے گا، مگر اس کا ذرہ ہمیشہ گردش میں رہے گا۔ انسان کے دفنانے یا جلانے کے بعد بھی اس کے جسد خاکی کا ہر ذرہ ایک ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گردش میں رہتا ہے۔ یہاں تک کہ ٹیبل، میز، کرسی، کار، ہوائی جہاز، عمارت، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ وغیرہ یہ سب کائنات ہیں اور ان سب کے ایٹم ایک ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھومتے رہتے ہیں اپنے اپنے مراکز پر۔ یعنی جسے گردش نصیب ہے، اس کو زندگی یا ثبات حاصل ہے۔ یعنی پوری کائنات خدا کے حکم سے اس وقت تک گردش میں ہے یا زندگی(سائنسی) میں ہے جب تک کہ صور نہیں پھونکا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہر وہ چیز جو گردش میں ہے، کائنات ہے اور جو کچھ بھی کائنات میں ہے، وہ سب کے سب گردش یا رفتار میں ہیں یہاں تک کہ دفنائے گئے جسم کے باقی ماندہ ذرے، جلائے گئے جسم کے باقی ماندہ راکھ کے ایٹم، سب کے سب گردش میں رہتے ہیں۔ یعنی کائنات کی زندگی کا مطلب اس کی گردش ہے۔ اس کا بکھراؤ اس کی موت ہے۔ اسی لیے قرآن میں کہا گیا  ہے کہ ’’سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گردش کرتے ہیں۔‘‘(سورہ یٰس، آیت نمبر 40)
اس لیے قرآن کریم کو ٹھیک سے سمجھنے کے لیے پوری کائنات کو جاننا یا ٹھیک سے سمجھنا ضروری ہے اور اس اہم کام کے لیے ضرورت پڑتی ہے اتھاہ علم کی۔ وہ علم جو خدا کی صفت یا خاصہ ہے۔ عبادت فرشتوں یا عابدوں کا خاصہ ہے۔ علم خدا کی صفتوں میں سے ایک صفت ہے۔ اسی لیے وہ علیم و خبیر ہے۔ آگے کے مضمون میں علم پر گفتگو کریںگے اور پھر خاص عنوان ’’قرآن، سائنس اور کائنات‘‘ پر گفتگو ہوگی………

جاری

وصی احمد نعمانی: ایک تعارف

محترم قارئین! جناب وصی احمد نعمانی صاحب سپریم کورٹ آف انڈیا کے نامور وکیلوں میں سے ہیں۔ شعلہ بیاں مقرر اور مایہ ناز صاحب قلم ہیں۔جناب نعمانی اردو، ہندی اور انگریزی تینوں زبانوں میں تحریر و تقریر کے ذریعہ ملک و ملت کی خدمت انجام دینے کا کارہائے نمایاں انجام دے رہے ہیں۔
گزشتہ تقریباً 10سال سے جناب وصی احمد نعمانی نے ’’قرآن، سائنس اور کائنات‘‘ جیسے اہم عنوان پر تحریر و تقریر کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ ہندوستان کے شہروں، تعلیمی اداروں میں اس عنوان پر تقریروں کے ذریعہ ’’قرآن کریم‘‘ کی جانب لوگوں کی توجہ مبذول کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے اور بیرون ملک کناڈا، دبئی، شارجہ وغیرہ میں اپنی علمی کاوشوں سے لوگوں کو قرآنی تعلیمات کی طرف متوجہ کیا ہے۔ موصوف کوہاؤس آف لارڈز(انگلینڈ) اور دیگر اہم مقامات پر بھی مذکورہ بالا عنوان پر تقریر کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ ژی سلام نے اپنے 33ایپی سوڈ میں جناب نعمانی کی تقریر کو دوبارہ ٹیلی کاسٹ کیا ہے جو بے حد مقبول ہوا ہے۔ جناب نعمانی کے مضامین ’’قرآن، سائنس اور کائنات‘‘ کے عنوان پر ’’چوتھی دنیا‘‘ میں قسط وار شائع ہورہے ہیں۔ قرآن کریم میں اکثریت رائے کے مطابق 6666آیتیں ہیں۔ ان میں سے ایک ہزار کے قریب آیتیں سائنس کے رموز کے متعلق اطلاعات دیتی ہیں۔ ان تمام آیتوں پر منحصر سائنسی انکشافات کے بارے میں جناب وصی احمد نعمانی صاحب کے مضامین شائع ہوںگے۔ امید ہے کہ قاری حضرات ان مضامین سے مستفید ہوںگے۔(ادارہ)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *