سکھوں کے خلاف تشدد آج بھی جاری ہے

پربھات رنجن دین
انیس سو چوراسی فسادات کے شکار سکھوں کو معاوضہ دلانے کے لیے داخل اصل درخواست کے حساس اوراق اور 7دیگر درخواستیں عدالت سے غائب کر دی گئی ہیں۔ اصل درخواست کے اہم اوراق پھاڑنے اور 7سکینڈری رٹوں کو غائب کیے جانے جیسے سنسنی خیز معاملے کی جانچ کی بات تو چھوڑئے، سکھوں کے معاوضے پر جس بنچ نے بھی ہمدردی بھرا رویہ اپنایا، وہ بنچ ہی عین فیصلے کے وقت بدل دی گئی۔ 1984 فسادات کے شکار سکھوں کو اب تک معاوضہ نہیںملا۔ انہیں مسلسل یہ کون سے تشدد کا شکار بنایا جارہا ہے؟ اقلیتوں کو لبھانے کی کوششیں تمام سیاسی پارٹیاں کر رہی ہیں، لیکن اقلیتوں میں اکثریتی مسلم اور عیسائی فرقہ ہی سیاسی پارٹیوں کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ ووٹ کی گنتی کے حساب سے سکھ کم ہیں، لہٰذا انہیں فسادات کا معاوضہ کیوں ملے؟
سپریم کورٹ کی ہدایت پر 1984فسادات کے معاوضے کے اترپردیش اور اتراکھنڈکے تمام معاملات کی سنوائی الٰہ آباد ہائی کورٹ میں ہو رہی ہے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ میں فسادات کے شکار سکھوں کی طرف سے معاوضے کے لیے 6ہزار 647دعوے داخل کیے گئے ہیں۔ ان میں رٹ نمبر 1582- ایم بی-97، 2513-ایم بی-97 اور 3647- ایم بی – 97 سمیت سات پٹیشن غائب ہیں۔ یہاں تک کہ جس اصل پٹیشن (بیس رٹ) پر معاوضے کی پوری بنیاد منحصر ہے، اس پٹیشن (نمبر: 3175- ایم بی- 96) سے 47اہم صفحات غائب کر دئے گئے ہیں۔ حساس اطلاعات والے صفحات کو پٹیشن میں سے منصوبہ بند طریقے سے ہٹایا گیا ہے۔ مثلاً اصل پٹیشن سے صفحہ نمبر 30 سے 44نمبر تک کے صفحات غائب ہیں۔ اسی طرح صفحہ نمبر 52 سے صفحہ نمبر 55، صفحہ نمبر 163سے 175، 191سے 205اور صفحہ نمبر 250سے صفحہ نمبر251غائب کر دئے گئے ہیں۔
فساد متاثرین سکھوں کو معاوضہ دلانے اور سماج میں ان کی عزت و مقام کی لڑائی لڑ رہے گرونانک انٹرنیشنل کے صدر سردار امیر سنگھ وِرک کہتے ہیں کہ اصل رٹ کے اہم صفحات غائب کیے جانے یا سات سیکنڈری رٹیں غائب کیے جانے کے بارے میں عدالت سے شکایت کی گئی، لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اس طرح کے کئی گریوانس کے بارے میں عدالت سے شکایت کی گئی، لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اس طرح کے کئی گریوانس مسلسل کورٹ کے سامنے رکھے جاتے رہے، لیکن کورٹ نے اس پر کوئی دھیان نہیں دیا، جب کہ گریوانس پر دھیان دینے کی کورٹ کی آئینی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ورک کہتے ہیں کہ جو کورٹ دھوکے میں رکھ کر فیصلے جاری کرتی ہو، اس سے کیا انصاف کی امید کی جاسکتی ہے؟ سکھ فسادات کے شکار لوگوں کو معاوضہ دینے کا معاملہ گزشتہ دو دہائی سے زیادہ وقت سے چل رہا ہے۔ حکومت نے دس کمیشن تشکیل کیے، لیکن ایک بھی کمیشن کی رپورٹ نافذ نہیں کی۔ یہاں تک کہ جسٹس نرولا کمیشن کی رپورٹ پر روک ہی لگا دی۔ عدالت کے کسی فیصلے میں بھی کسی کمیشن کی رپورٹ کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں محسوس کی گئی۔ چار چار بار بنچ بدلی گئی اور سات بار کورٹ بدلا گیا۔ جب کہ سنوائی کے دوران بنچ بدلنے یا کورٹ بدلنے کا فیصلہ غیرآئینی اور غیرقانونی مانا جاتا ہے۔ اجودھیا فیصلہ اس کی جیتی جاگتی مثال ہے کہ جسٹس ڈی وی شرما 31اکتوبر کو ریٹائر ہونے والے تھے، اس لیے 30اکتوبر کو ہائی کورٹ کو فیصلہ جاری کرنا پڑا۔ جسٹس شرما کے ریٹائر ہونے تک اگر فیصلہ جاری نہیں ہوتا تو آئینی بندوبست کے تحت اجودھیا معاملے کی سنوائی کا عمل پھر سے شروع کرنا پڑتا، لیکن سکھ فساد معاملے میں آئینی بندو بست کو کھلے عام ٹھینگا دکھایا جاتا رہا۔
حیرانی کی بات یہ ہے کہ عدالت سکھ فسادات کے شکار لوگوں کے حق کی بحث سننے کو بھی تیار نہیں تھی۔ وکیل فریق سے بحث کرنے کی بجائے تحریری جواب داخل کرنے کو کہا گیا۔ 54اور 9صفحات کی تحریری بحث عدالت میں داخل کی گئی اور اسی دن بنچ توڑ دی گئی۔ بعد میں عدالت سے یہ درخواست کی گئی کہ کوئی اگلی تاریخ مقرر کر دی جائے، تاکہ دہلی سے رام جیٹھ ملانی، آر ایس سودھی اور تلسی جیسے سینئر وکیلوں کو آنے کا وقت مل سکے، لیکن عدالت نے فوری فصیلہ سنا دیا۔ وہ فیصلہ بھی سپریم کورٹ کی ہدایت کے بالکل برعکس۔ سپریم کورٹ کا یہ واضح فیصلہ ہے کہ 84فسادات کے متاثرین کو موجودہ شرح کے حساب سے معاوضے دئے جائیں، لیکن ہائی کورٹ نے سرکاری احکام کے مطابق معاوضہ دینے کا فیصلہ سنا دیا۔
ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ سنانے کی جلدبازی میں اپنے ہی اس حکم کو نظرانداز کر دیا، جس میں حکومت اترپردیش کو معاوضے کے ضلع وار اعداد و شمار دینے کے لیے کہا گیا تھا۔ ریاستی حکومت کی طرف سے اعداد و شمار نہیں آئے، لیکن ہائی کورٹ نے 19اکتوبر 2010کو  فیصلہ ضرور سنا دیااور فسادات متاثرین کو جو معاوضہ دیا گیا اس کا حال دیکھیے۔ کانپور کے منجیت سنگھ آنند کے خاندان کو چار کروڑ سے زیادہ کا نقصان ہوا تھا، لیکن حکومت نے ان کی ماں گیان کور کو 27ہزار روپے کا معاوضہ دے کر چھٹی کر لی۔ لکھیم پور کھیری ضلع کے نگھاسن میں واقع کنوگھاٹ کے رہنے والے بلوندر سنگھ کے خاندان کے پانچ ممبران کو فساد سے متاثر تو مانا، لیکن 30روپے سے 70روپے کا معاوضہ دیاگیا۔ 1984کے فساد کے وقت اترپردیش میں رہنے والے کئی سکھ، ریاست کی تقسیم کے بعد اتراکھنڈ کی طرف رہ گئے، لیکن ان کے معاوضے کا مسئلہ بھی الٰہ آباد ہائی کورٹ میں ہی اٹکا رہا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اتراکھنڈ تحریک کے وقت مختلف تشددانہ واقعات کے شکار لوگوں کو 10-10 لاکھ روپے کا معاوضہ مل گیا۔ لکھنؤ میں ہوئے مشہور ساڑی سانحہ کے متاثرین کو معاوضہ مل گیا۔ گجرات فساد کے متاثرین کو معاوضہ مل گیا، لیکن 84فسادات کے شکار سکھوں کو آج تک معاوضہ نہیں ملا۔ سردار امیرسنگھ ورک کہتے ہیں کہ جن سکھوں کو معاوضہ ملا، وہ رقم بھیک سے بھی بدتر ہے۔ ورک یہ بھی کہتے ہیں کہ معاوضے کی لڑائی لڑنے کے سبب ان کے قتل کی مسلسل کوششیں کی گئیں، تین تین بار گولیاں چلیں، گھروں پر حملے ہوئے، لیکن حکومت نے انہیں سیکورٹی تک مہیا نہیں کرائی۔

فوجی باپ اور بھائی غائب، حکومت انہیں سکھ ہی نہیں مانتی

کانپور کے تیواری پور کے سردار امرجیت سنگھ کے ریٹائرڈ باپ سردار ہربنس سنگھ اور ان کے بھائی سردار کلونت سنگھ فساد کے دن سے لاپتہ ہیں۔ نہ ان کی لاشیں ملیں اور نہ ہی وہ گھر لوٹے۔ معاوضے کا معاملہ اٹھا تو قانون گو نے اپنی رپورٹ میں لکھ دیا کہ تیواری پور میں کوئی سردار نہیں رہتا۔ پانچ پانچ گاؤں کے لوگوں اور گرام پردھانوں نے حلف نامہ دے کر کہا کہ تیواری پور میں سکھ رہتے ہیں اور واردات کے دن سے ہی سردار امرجیت سنگھ کے باپ اور بھائی غائب ہیں، لیکن سرکار نے ایک نہیں سنی اور اس سکھ خاندان کا دعویٰ خارج کردیا۔ یہ سکھ خاندان آج بھی تیواری پور میں رہائش پذیر ہے اور انصاف پانے کے لیے اس کی جدو جہد جاری ہے۔

بھیک نہیں انصاف چاہیے

یہ ہیں صوبیدار سنگھ، جس دن سکھ مخالف فساد بھڑکا تھا، اس وقت وہ بری فوج میں سکندرآباد میں تعینات تھے۔ جب انہیں کانپور میں واقع گاندھی گرام میں ان کے گھر پر حملے کے بارے میں پتہ چلا تو وہ کسی طرح سکندرآباد سے بھاگے اور جب تک صوبیدار سنگھ اپنے گھر پہنچ پاتے، فسادی ان کا گھر اجاڑ چکے تھے۔ ان کے باپ سردار کپور سنگھ کو گولی لگی تھی۔ ان کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے مورچری میں پھینک دی گئی تھی، لیکن حیرت انگیز طور پر وہ بچ گئے۔ ان کا علاج چلا، لیکن وہ زندگی بھر کے لیے معذور ہوگئے۔ فسادیوں کے شکار بنے اس خاندان کو پانچ ہزار روپے کا معاوضہ دے کر فارغ کردیا گیا۔ صوبیدار سنگھ اب فوج سے ریٹائر ہوچکے ہیں، لیکن سکھوں کو انصاف دلانے کی جد و جہد میں وہ متواتر سرگرم ہیں۔

فساد میں تباہ گرودوارہ آج تک تباہ ہے

اترپردیش کی راجدھانی میں 1984فسادات کے دوران پولس کی ملی بھگت سے جس گرودوارے کو پھونکا گیا، لوٹا گیا اور گروگرنتھ صاحب کو جلایا گیا، اس معاملے کو بھی معاوضے کے لیے مناسب نہیں مانا گیا۔ لکھنؤ کے علی گنج میں واقع چودھری ٹولا سنگت شری گروگرنتھ صاحب گرو دوارے پر تین نومبر 1984 کو حملہ کر کے لوگوں نے کافی توڑ پھوڑ کی اور گرو گرنتھ صاحب کو بھی جلا کر خاک کر ڈالا۔ بھیڑ کا گرودوارے پر حملہ پولس کے سامنے ہوا اور توڑ پھوڑ و آگ زنی بھی پولس کے سامنے ہی ہوئی۔ پولس، گرودوارہ منتظم سردار ہربھجن سنگھ اور ان کے کنبے کو وہاں سے جبراً اٹھا کر لے گئی اور انہیں تھانے میں رکھا۔ بعد میں پولس کی موجودگی میں ہی گرودوارہ منتظم نے جائے واردات سے گروگرنتھ صاحب کی راکھ سمیٹی اور اسے سر پر رکھ کر امرتسر لے گئے، جہاں بیاس ندی میں اس کا ’وسرجن‘ کیا گیا۔ 1984میں سکھوں کے خلاف شروع ہوئی آفت آج تک ختم نہیں ہوئی۔ اس وقت جس گرودوارے کو توڑ پھوڑ دیا گیا، اس کی آج تک مرمت نہیں ہونے دی گئی۔ مقامی غیرسماجی عناصر اور پولس کی ساز باز سے گرودوارہ آج تک اسی حالت میں پڑا ہے۔ اگر گرودوارے کی مرمت کی کوشش کی جاتی ہے تو مقامی غنڈے اسے جبراً روک دیتے ہیں۔ دراصل مقامی غنڈوں کی نگاہ گرودوارے کی زمین پر ہے۔ اس زمین پر قبضہ کے ارادے سے ہی فساد کا بہانہ کرکے گرودوارے پر حملہ کیا گیا تھا۔
گرودوارہ انتظامیہ کے ارکان اور ان کے خاندان آج تک ٹینٹ میں ہی رہ رہے ہیں۔ انہیں کوئی دیکھنے والا نہیں ہے۔ گرودوارے میں توڑ پھوڑ اور آگ زنی کرنے والے نامزد ملزمان کا تو آج تک کچھ بھی نہیں بگڑا، جب کہ گرودوارہ کو معاوضہ دینے کی درخواست بھی اترپردیش حکومت نے خارج کردی۔ معاوضے کے لیے گرودوارہ کے انتظامیہ کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کو صوبائی سرکار کے اس حکم نامہ (نمبر2541/6-07-100(34)07) سے اور جھٹکا لگا، جس میں گرودوارے کے ذریعہ معاوضے کی درخواست کو کمزور اور غیرموزوں قرار دیا گیا۔ حکومتوں اور سیاسی پارٹیوں کی اقلیتوں کے تئیں مبینہ ہمدردی کی یہ بے رحم تصویر ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *