اتر پردیش کے وزیر زمین مافیا بن گئے

اسرار پٹھان
صوبے کی سیاست پر مجرمانہ چھاپ کا اصلی چہرہ دیکھنا ہے تو بندیل کھنڈ کا رخ کرنا پڑے گا۔ یہ وہی بندیل کھنڈ ہے جو نقل مکانی، بھکمری، خشک سالی اور کسانوں کی خود کشی کی وجہ سے گزشتہ کئی برسوں سے صوبے کی سیاست کا مرکزی پوائنٹ ہے۔ بندیل کھنڈ کا صوبے کی سیاست میں اس بات سے بھی اہم مقام ہے کہ حکومت کے خیمے کا ایک بڑا طبقہ اسی علاقہ سے وابستہ ہے۔ حکومت میں کافی اثر و رسوخ رکھنے والے نسیم الدین صدیقی اور بابو سنگھ کشواہا کے علاوہ وزیر ددو پرساد، بادشاہ سنگھ، رتن لال اہروار، بھگوتی ساگر اور ہری اوم اوپادھیائے جیسے قدآور لیڈر بندیل کھنڈ سے ہیں۔ لبیر کنٹریکٹ بورڈ کے چیئرمین گیاچرن دنکر، مادھیمک شکشا بورڈ کے چیئرمین چین سکھ بھارتی، سماج کلیان بورڈ کی ممبر ہیرا دیوی، قانون ساز کونسل کی ممبر حسنہ صدیقی سمیت نامزد راجیہ سبھا کے ممبر گنگا چرن راجپوت اور برج لال کھابری کو ملا دیں تو حکومت میں بندیل کھنڈ سے نمائندگی کرنے والوں کی ایک بڑی قطار ابھر کر سامنے آتی ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ بندیل کھنڈ کے راستے حکومت میں پہنچنے والے یہ قدآور لیڈر غنڈہ گردی اور مافیا گیری کے فلسفے پر عمل کر رہے ہیں، جس طرح سے بندیل کھنڈ کے علم بردار حرکتیں کر رہے ہیں، وہ ایک صحت مند سیاست کے منہ پر طمانچے کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے۔ دراصل اقتدار کے بڑے عہدوں پر براجمان بندیل کھنڈ کے یہ مبینہ ترقی دینے والے ہی اس حلقہ اور یہاں کے عوام کو بربادی کے راستے پر لے جارہے ہیں۔ افسران سے وصولی، چہیتوں کو ٹھیکیداری اور سرکاری اسکیموں کی رقم ہڑپنے کے بعد بھی جب ان کے منصوبے پورے نہیں ہوئے تو ان لیڈروں نے غریب عوام کو نشانہ پر لے لیا۔ بی ایس پی حکومت کے بندیل کھنڈی سپہ سالار زمین مافیا بن چکے ہیں۔ ان کے رشتہ دار اور قریبی ،لوگوں کی بیش قیمتی زمین پر قبضہ کر رہے ہیں۔ ان کے منصوبوں کو پورا کرنے میں انتظامیہ بھی پوری شریک ہے۔ زمین مافیابن چکے بی ایس پی حکومت کے ان نمائندوں میں ویسے تو کوئی کسی سے کم نہیں، لیکن ادھر اس معاملے میں وزیر محنت بادشاہ سنگھ اور بہن جی کے سب سے قریبی کابینی وزیر نسیم الدین صدیقی کا مقابلہ کوئی نہیں کر پارہا ہے۔ بات اگر وزیر محنت کی کریں تو ہمیر پور اور مہوبہ دونوں اضلاع میں ان کی بادشاہت قائم ہے۔ ان کے اس غیر قانونی دھندے کو کوئی اور نہیں بلکہ انہیں کا بھائی گیان سنگھ چلاتا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اپنے وزیر بھائی کے عہدے کا استعمال کرتے ہوئے صرف مہوبہ میں کروڑوں روپے کی زمین کوڑیوں میں خرید لی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر کے کچھ نامی گرامی زمین مافیا ان کی اس کام میں مدد کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں محمود نامی ایک کپڑے کا تاجر اور حمید راعین نام کے زمین مافیا کا نام کچھ زیادہ ہی گردش کر رہا ہے۔ ادھر بادشاہ سنگھ سے دو قدم آگے کابینی وزیر نسیم الدین صدیقی نے تو سارے ریکارڈ ہی توڑ دئے۔ شاید ان کا اس بات پر پورا بھروسہ ہے کہ جتنا بڑا قد اتنی بڑی جاگیر نہ ہو تو سیاست میں پوچھ نہیں ہوتی۔ ان کے آبائی ضلع باندہ میں آج کسی کی بھی اتنی ہمت نہیں کہ وہ ان کے اہل خانہ کی من مانی کی مخالفت کرسکے۔ نتیجتاً وزیر صاحب کے رشتہ داروں کی من مانی کا گراف اب حد پار کر چکا ہے۔ باندہ ضلع کے سیوڑھا گاؤں میں ایک کسان کے گھر پیدا ہوئے نسیم الدین صدیقی جب مایاوتی کی حکومت میں نصف درجن محکموں کے سربراہ بنائے گئے تو باندہ کے عوام کی ان سے بے شمار امیدیں وابستہ تھیں، لیکن جلد ہی ضلع والوں کی وہ امیدیں چکناچور ہو گئیں۔ وزیر کی سرپرستی میں ان کے بھائی بھتیجوں اور رشتہ داروں نے لوگوں کو برباد کرنے کا بندو بست کردیا۔
باندہ کے رہنے والے 85سالہ ضعیف بھگوان دین یادو اس کی مثال ہیں۔ اس بوڑھے کی زمین پر قبضہ کرنے کے لیے جو ہتھکنڈے اپنائے گئے، وہ نہ صرف بے حد خوفناک تھے، بلکہ ان ہتھکنڈوں نے اس عوامی خدمتگار کے منہ پر چڑھا انسانیت کا مکھوٹا بھی اتار دیا۔ اس بوڑھے کسان کی بیش قیمتی زمین وزیرمحترم کے بھائی کی نظر میںآگئی۔ نتیجتاً اسے حاصل کرنے کے لیے پولس کو ہتھیار بنایا گیا۔ بھگوان دین پر ساری زور زبردستی کی گئی، پولس اسے اور اس کے دو بیٹوں کو اٹھا کر لے گئی، جنہیں بعد میں ایک بھینس کی خریداری کے سلسلہ میں دلت کے ساتھ مار پیٹ و گالی گلوج کرنے کا الزام لگا کر جیل بھیج دیا گیا۔ بہرحال عدالت نے بھگوان دین کی ضعیفی اور بگڑتی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے فوری ضمانت تو دے دی، لیکن اس کے بعد بھی اس کو راحت نہیں مل سکی۔ وزیر کے بھتیجوں کی جانب سے بھگوان دین کو ڈکیتی میں پھنسانے کی دھمکیاں دی جانے لگیں اور یہ کام اس وقت تک جاری رہا جب تک وہ اپنے منصوبوں میں کامیاب نہیں ہوگئے۔ حالانکہ وزیر کے بھائی ضمیرالدین نے زمین پر قبضہ کرتے وقت قانونی داؤ پیچ کا پورا خیال رکھا۔ بھگوان دین کی زمین پہلے اپما گپتا کے نام خریدی گئی اور صرف 20 دنوں کے اندر ہی اس زمین کو اکبری بیگم اور ان کی بہو عرشی کے نام منتقل کردیا گیا۔ پہلے مرحلے میں زمین جس نام پر خریدی گئی، دراصل وہ اپما گپتا کوئی اور نہیں بلکہ محکمہ آبپاشی میں تعینات وزیر کے ایک بے حد قریبی انجینئر کی بیوی ہیں۔ اس معاملے سے وزیر لاکھ دامن بچائیں، لیکن پورا معاملہ ان کے ملوث ہونے کی طرف کھلا اشارہ کر رہا ہے۔ کچھ دیر کے لیے اگر مان بھی لیا جائے کہ بھگوان دین کے ساتھ ہوئے ظلم کا وزیر سے کوئی کنکشن نہیں ہے تو سوال اٹھتا ہے کہ آخر ایسی کیا ضرورت آپڑی کہ اپما گپتا نے محض 20 دنوں قبل خریدی گئی زمین کو اتنی قلیل مدت میں فروخت کر دیا اور وہ بھی دام کے دام؟ بتا دیں کہ اپما گپتا نے یہ زمین محض پانچ لاکھ میں خریدی تھی اور اتنے ہی روپیوں میں اکبری بیگم وغیرہ کو فروخت بھی کر دی۔ سوال یہ بھی ہے کہ بھگوان دین کیا ذہنی طور سے بیمار تھا کہ اس نے سرکاری ریٹ کے مطابق ساٹھ لاکھ کی بیش قیمت اپنی زمین کو صرف پانچ لاکھ لے کر پھینک دیا؟ نسیم الدین اور ان کے اہل خانہ کی زیادتی کے شکار بھگوان دین صرف تنہا نہیں ہیں، بلکہ ایسی ہی صورت حالت باندہ کے کئی لوگوں کی ہے۔ وزیر اور ان کے بھائی-بھتیجوں کی غنڈہ گردی نے کسی کا آشیانہ اجاڑ دیا، تو کسی کی زندگی بھر کی گاڑھی کمائی لوٹ لی۔ یہ باندہ میں اب روز کی کہانی ہے۔
بھگوان دین کے وکیل آدتیہ سنگھ کہتے ہیں کہ وزیر کے بھائی-بھتیجوں کا یہی کام ہے۔ ان کے مطابق نسیم الدین کے پاس جو وزارت ہے، اس سے ناجائز رقم وصولی اور اس رقم کی دیکھ بھال کا سارا ذمہ خاندان کے انہیں ممبروں کو سونپا گیا ہے۔ ایسے ہی ایک معاملے میں پریشان باندہ کے رہنے والے فوجی خاندان کو تو اپنی زمین بچانے کے لیے ملک کے وزیر دفاع اے کے انٹونی سے فریادکرنی پڑی۔ اس فوجی کا الزام ہے کہ نسیم الدین صدیقی کے بھائی ضمیرالدین اور اس کے بیٹے نے اس کی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔ یہ فوجی دین دیال فی الحال بنگلور میں تعینات ہے اور اس کا بھائی ایل او سی پر تعینات ملک کی حفاظت کر رہا ہے۔ باندہ کے ہر چھوٹے بڑے افسر کو فوجی کے ساتھ ہوئی ناانصافی کی اطلاع ہے، لیکن کوئی کارروائی کرنے کو تیار نہیں۔ باندہ کے راجندر اور سدھیر کی زمینوں پر بھی انہیں کا قبضہ ہے۔ زمین پر قبضہ کرنے کے لیے وزیر کے چیلے کس حد تک پہنچ سکتے ہیں اس کی مثال لکھنؤ کے سینئر وکیل کے گھر پر ہوئے ناجائز قبضے سے ملتی ہے۔ ہائی کورٹ کے وکیل مادھو مکند استھانا کی فیض آباد روڈ پر واقع کوٹھی پر اے کے-47رائفلیوں سے لیس نسیم الدین صدیقی کے چیلوں نے اچانک قبضہ کر لیا۔ استھانا کو عدالت کی پناہ لینی پڑی۔ ہائی کورٹ نے بنچ کی تشکیل کر کے دبنگوں سے کوٹھی خالی کروانے کے لیے انتظامیہ کو ہدایت دی۔ اس کے بعد ہی استھانا کو اپنا حق واپس مل سکا، لیکن باندہ کے کسان نہ تو استھانا جیسے با ذرائع ہیں اور نہ ہی ان کے اندر دبنگوں سے مقابلہ کرنے کی ہمت۔ لہٰذا وہ منہ بند کیے اس دن کے انتظار میں بیٹھے ہیں جب بی ایس پی حکومت کی مدت کار پوری ہوگی اور وہ اسے اور اس کی کابینہ کے ان وزیروں کو اپنی اصل طاقت کا احساس کرائیںگے۔

کانگریس کے ممبراسمبلی نے کھولامورچہ

بندیل کھنڈ میں بی ایس پی والوں کی من مانی کے خلاف باندہ صدر کے ممبر اسمبلی وویک سنگھ نے اعلان جنگ کر دیا ہے۔ ’چوتھی دنیا‘ سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ ریاست کی حالت دیکھ کر نہیں لگتا کہ ہم جمہوری نظام میں سانس لے رہے ہیں۔ کسانوں پر ظلم کی بابت انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی قیمت پر ایسا نہیں ہونے دیںگے۔ چاہے اس کے لیے کوئی قیمت چکانی پڑے۔ بھگوان دین یادو کے معاملے میں بات کرنے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وزیر کے اہل کنبہ کا یہ کام آگے چل کر انہی کے لیے ناسور بن جائے گا۔ ان کی مانیں تو آج وزیر اور ان کے کنبہ والوں کے پاس اتنی زمین ہے، جتنی شاید باندہ کے نوابوں کے پاس بھی نہیں رہی ہوگی۔ باندہ میں جتنے بڑے بڑے ٹھیکے اٹھ رہے ہیں، وہ سب وزیر کے لوگ ہی اٹھا رہے ہیں۔ ان کے خاندانی نقشہ کا خاکہ کھینچتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ان کے ایک بھائی کا نام حسن صدیقی ہے۔ کہنے کو تو یہ ریلوے میں ایک ٹی ٹی ہیں، لیکن ان کے پاس جائیداد اربوں روپے کی ہے۔ ان کی گاڑیاں، کوٹھی اور رہن سہن دیکھ کر نہیں لگتا کہ یہ ایک سرکاری ملازم ہیں۔ وویک کمار سنگھ کہتے ہیں کہ ابھی تو ان کے دہشت کی بادشاہت قائم ہے۔ انتخاب آنے دیجیے۔ ووٹر اینٹ کا جواب ووٹ کی شکل میں پتھر سے دیںگے۔

بی ایس پی کی میڈیا دشمنی

بی ایس پی کے قدآور وزیر نسیم الدین صدیقی باندہ ضلع کے صحافیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ سیاست شروع کرنے سے اقتدار کی بلندی تک پہنچنے تک کئی بار ایسے مواقع آئے جب بی ایس پی لیڈروں نے میڈیا کا گلا دبانے کی پرزور کوشش کی۔ وزیر کے خلاف لکھنے والوں کو ہر طرح سے سبق سکھایا جارہا ہے۔ چندصحافی اپنی نوکری گنوا کر وزیر سے دشمنی مول لینے کا خمیازہ بھگت بھی چکے ہیں۔ ایک روزنامہ اخبار سے جڑے باندہ بیورو چیف اسی سلسلے کا حصہ ہیں، جنہیں وزیر کی شکایت کی وجہ سے نوکری گنوانی پڑی۔ایک معروف اخبار کو تو باندہ میں اپنے الٰہ آباد ایڈیشن کا دفتر ہی بند کرنا پڑا۔ وجہ یہی ہے کہ اس نے وزیر کے کنبہ والوں کی کارگزاریوں کو خبر بنانے کی حماقت کی تھی۔ جب جب ضلع میں کسی صحافی پر مالکوں کی گاج گری تو انگلی اترپردیش کے اسی قدآور وزیر کی جانب اٹھی ہے۔ اخبار نویسوں پر ان کارروائیوں نے نسیم الدین صدیقی پر تو سوالیہ نشان لگائے ہی، ساتھ ہی ان اخباروں کے مالکوں اور مینجمنٹ کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیا جو صرف صنعتی مفاد کے لیے بغیر سوچے سمجھے اپنے ہی ملازمین پر تلوار چلا دیتے ہیں۔ اقتدار کے ناجائز  استعمال کی حد تب ہو گئی جب حکومت کے اس قدآور نمائندے کے اشارے پر انتظامیہ نے مقامی سطح پر شائع تین ہفت روزہ اخباروں کو غیراخلاقی ڈھنگ سے بند کرنے کا فرمان سنا دیا۔ ہائی کورٹ کی پناہ میں جانے پر ان اخبار کے مالکوں کو راحت تو مل گئی، لیکن اب انہیں دوسرے ڈھنگ سے خاموش کرانے کی جم کر دھمکیاں مل رہی ہیں۔ باندہ سے شائع ہفت روزہ بیباک انڈیا کے ایڈیٹر کہتے ہیں کہ صحافت ایک مشن ہے اور اس میں خطرہ تو بنا ہی رہتا ہے۔ خطرے کے ڈر سے دبنگوں کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو عوام کا جمہوریت کے دیگر ستون کی طرح اس پر سے بھی بھروسہ اٹھ جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *