اتر پردیش میں جمہوریت کا قتل

پربھات رنجن دین
اتر پردیش میں اختتام پذیر ہوئے بلدیاتی انتخابات میں جمہوری اقدار کی دھجیاں اس وقت اڑائی گئیں جب پورے ملک میں گرام سبھا سال چل رہا ہو۔واضح رہے کہ سال2010گرام سبھا سال کے طور پر نامزد ہے لیکن گرام سبھا سال کا اعلان کرنے والی مرکزی حکومت نے اترپردیش کے پنچایت انتخابات میں جمہوری اقدار کی کھلے عام خلاف ورزی پر کوئی دھیان نہیں دیا۔الہ آباد ہائی کورٹ نے بھی اقتدار پر قابض پارٹی کے غیر جمہوری رویہ کو دیکھتے ہوئے ہی انتخابات سے پہلے یہ سخت احکام جاری کیے تھے کہ بلاک پرمکھ کے انتخابات دہشت سے آزاد ہوں۔اتر پردیش میں بلاک پرمکھ کے انتخابات دہشت کے ماحول میں ہوئے اور ہائی کورٹ کے احکام کی ہمیشہ کی طرح بی ایس پی نے خلاف ورزی کی۔
پنچایت سے لیکر بلاکوں تک70سے80فیصدی سیٹوں پر بی ایس پی نے قبصہ کر لیا۔ایک ایک ضلع  پنچایت کے ممبر کے ووٹ 25سے50لاکھ روپے تک میں خریدے گئے۔ضلع پنچایت الیکشن کے بعد اتر پردیش میں بلاک پرمکھ کے جو انتخابات ہوئے ان میں بھی یہ ثابت ہوا کہ اقتدار پر قابض پارٹی اگر چاہے تو کسی بھی حد تک جاکر اور کسی بھی سطح تک اتر کر گراس روٹ سطح تک اپنا نیٹ ورک قائم کر سکتی ہے۔بہوجن سماج پارٹی نے اتر پردیش میں یہی کیا۔شام ،دام ،دنڈ ،بھید کا استعمال کر کے پوری ریاست میں بی ایس نے پہلے ضلع پنچایت کے صدور اور پھر بلاک پرمکھوں کا جو جال بچھا یا،وہ واقعی بی ایس پی کے لیے کامیابی تو ہے ہی،بھلے ہی ا س کامیابی کے لیے جمہوری اقدار کی دھجیاں اڑاکر رکھ دی گئی ہوں۔الہ آباد ہائی کورٹ نے بھی اقتدار پر قابض پارٹی کے غیر جمہوری رویہ کو دیکھتے ہوئے ہی  انتخابات سے پہلے یہ سخت احکام جاری کیے تھے کہ بلاک پرمکھ کے انتخابات دہشت سے آزاد ہوں لیکن اتر پردیش میں بلاک پرمکھ کے انتخابات دہشت کے ماحول میں ہوئے اور ہائی کورٹ کے احکام کی ہمیشہ کی طرح بی ایس پی نے خلاف ورزی کی۔الیکشن میں قتل سے لیکر دیگر سبھی قسم کے جرائم ہوئے اور زیادہ تر جرائم کی ملزم بی ایس پی ہی رہی۔
بلاک پرمکھ الیکشن میں ہوئے اغوا اور دہشت کے سرکاری اعدادوشمار دیکھیںتو بی ایس پی کے اقتدار کی دہشت ظاہر ہوتی ہے۔غیر سرکاری حقائق ،یعنی سماج سے سیدھے حاصل ہوئی اطلاعات توزبردست اقتدار کی دہشت ظاہر کرتی ہیں۔لیکن دوسری طرف اقتدار پر قابض پارٹی نے دوسری پارٹیوں کو اپنے بنیادی جمہوری حقوق کا استعمال کرنے سے بھی روکا۔جس جگہ بھی دوسری پارٹی کا بلاک پرمکھ طاقتور ہوتا نظر آیا،وہاں پولیس نے بی ایس پی کے کیڈر کی طرح کام کیا۔بلند شہر میں ڈبائی کے بی ایس پی ممبر اسمبلی بھگوان شرما عرف گڈو پنڈت نے جہانگیر آباد بلاک کے 14بی ڈی سی ممبران کا اغوا کر لیا۔دوسری طرف پرتاپ گڑھ کے کنڈا میں سماجوادی پارٹی کے لیڈر رگھوراج پرتاپ سنگھ عرف راجا بھیاکو بی ایس پی کے امیدوار کو ڈرانے دھمکانے کے الزام میں گرفتار کرلیاگیا۔راجہ بھیا پہلے سے بدنام ہونے کی وجہ سے پکڑے گئے۔کئی جگہ سماجوادی پارٹی کے کارکنان مارے گئے اور کئی کارکنان گرفتار کئے گئے۔بنارس کے قریب اترولیا میں بی ایس پی کی مخالفت کرنے والے رام اودھ کا قتل ہوا۔ حالت یہ رہی کہ اسمبلی انتخابات کے درمیان بھی تشدد سے آزاد رہنے والے اتر پردیش میں پنچایت اور بلاک پرمکھ کے انتخابات میں خوب تشدد ہوا اور ایک خاتون سمیت چار لوگ مارے گئے۔درجنوں زخمی ہوئے۔سرکاری گاڑیاں پھونکی گئیں۔مظفر نگر کے جہانپور علاقے میں ایک شخص مارا گیا تو فیروزآباد کے سینگری گاؤں میںگڈی دیوی نام کی خاتون ہلاک ہوئی۔جونپور کے کھیت پور گاؤں میں مجسٹریٹ کی جیپ پھونک ڈالی گئی۔بدقسمتی یہ رہی کہ جن معاملوں میں حزب اختلاف کے کارکنان گرفتار کئے گئے،وہی جرم کرنے والے بی ایس پی کے کارکنان اپنی پارٹی کو مضبوط کرنے والے مانے گئے۔رگھوراج پرتاپ سنگھ کے ساتھ کوشامبی کے ممبر پارلیمنٹ شیلندر کمار، بہار(پرتاپ گڑھ ) کے ممبر اسمبلی ونود کمار سروج اور لیجسلیچر کاؤنسل کے ممبر اکشے پرتاپ سنگھ جن معاملوں میں گرفتار کئے گئے،اسی معاملے میں بی ایس پی کے جن لیڈروں کو ملزم بنایا گیا تھا ،ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
بلاک پرمکھ کے الیکشن میں اتر پردیش کی سبھی حزب اختلا ف کی پارٹیوں کی جمہوری رد عمل کی اصلیت بھی بے نقاب ہوئی۔سماجوادی پارٹی کو چھوڑ کر کسی بھی پارٹی نے بی ایس پی کی دہشت کے خلاف جمہوری مخالفت جتانے کی کسی بھی ذمہ داری کو ادا نہیں کیا۔سماجوادی پارٹی نے بھی راجہ بھیا کی گرفتاری کی مخالفت میں ریاستی سطح کے ایک روزہ مظاہرہ کے پروگرام کا اعلان کرکے اپنا جمہوری فرض ادا کردیا۔
ضلع پنچایت ممبران سے لیکر ضلع پنچایت صدر اور بلاک پرمکھ کے الیکشن تک کے پورے عمل پر غور کریں تو آپ پائیں گے کہ اقتدار پر قابض پارٹی سے لیکر بڑی اپوزیشن کی پارٹیوں تک سب ایک ہی فراق میں تھے کہ کسی طرح سیٹوں پر قبضہ جمایا جائے۔یہ پورا الیکشن در اصل موقع پرستی کی بدترین مثال ثابت ہوا۔ساری پارٹیاں ایک ہی کوشش میں تھیں۔اقتدار پر قابض پارٹیوں سے لیکر اہم اپوزیشن پارٹی تک ضلع پنچایتوں سے لیکر بلاک پرمکھوں تک اپنے لوگوں کو جتانے کی کوشش کر رہے تھے۔سبھی پارٹیوں نے سارے راستے اختیار کیے۔لیکن بی ایس پی سب سے اول رہی کیوں کہ اقتدار اس کے پاس تھااور جمہورری خوف سے اس کا کبھی کا واسطہ نہیں۔
ضلع پنچایت صدر کے الیکشن سے لیکر بلاک پرمکھوں تک کا الیکشن حکومتی دہشت کے درمیان ہی ختم ہوا۔پورا اقتدار،پوری انتظامیہ اور سبھی بی ایس کے کیڈر مل کر پنچایت صدر اور بلاک پرمکھی پر قبضہ جمانے میں لگے رہے۔اس کے لیے ڈرانے ،دھمکانے ،پٹوانے،گرفتار کرانے اور اغوا کرانے سے لیکر قتل کرانے اور ووٹ خریدنے تک کے طور طریقے اختیار کیے گیے۔پنچایت سے لیکر بلاکوں تک70سے 80فیصدی سیٹوں پر بی ایس پی نے قبضہ کر لیا۔جمہوریت ختم کر کے طاقت اور پیسے کا استعمال آنے والے اسمبلی الیکشن میں بی ایس پی پھر سے اپنی مبینہ جمہوری حکومت قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ضلع پنچایت صدر اور بلاک پرمکھوں کی سیٹوں پر قبضہ کی حکمت عملی بی ایس پی نے بہت سوچ سمجھ کر تیار کی تھی۔وزیر اعلیٰ مایا وتی اور ان کے خاص نوکر شاہوں نے پلان تیار کرنے سے لیکر اس پلان کو زمینی سطح پر نافذ کرنے کا خاکہ تیار کیااور اسی طرح پوری انتظامیہ کو چوکس کیا گیا۔ماہرین بتاتے ہیں کہ ضلع پنچایتوں اور بلاک پرمکھ کی زیادہ تر سیٹو ںپر قبضہ کرکے پنچایتوں اور بلاکوں تک جانے والی ترقی کی سرکاری رقم کا استعمال بی ایس پی اپنی پارٹی کے کیڈر بنانے میں لگا ئے گی۔یہ حکمت عملی آنے والے اسمبلی الیکشن کو دھیان میں رکھتے ہوئے بنائی گئی ہے اور اس میں دیگر اپوزیشن پارٹیاں پوری طرح ناکام ہو گئی ہیں۔کچھ چھوٹی پارٹیوں نے بی ایس پی کی دہشت کی مخالفت بھی کی اور ایسی کچھ پارٹیوں کے امیدوار سرکاری دہشت یا دولت کے لالچ کے آگے جھکے بھی نہیں لیکن ایسی چھوٹی پارٹیوں کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز ہی ثابت ہوئی۔ایک ایک ضلع پنچایت ممبر کے ووٹ 25سے50لاکھ تک میں خریدے گئے۔خرید وفروخت کا یہ کھیل کھلے عام ہوا اور یہ ثابت ہوا کہ ہائی کورٹ یا الیکشن کمیشن سب نمائشی ہے۔اقتدار کی طاقت کے آگے ان کی کوئی اوقات ہی نہیں۔الیکشن کمیشن میں اتنی بھی ہمت نہیں کہ وہ سیاسی پارٹیوں سے سرکاری طور پر یہ جواب طلب کرسکے کہ پنچایت اور بلاکوں کے چناؤ جب پارٹی کی بنیاد پر نہیں لڑے گیے تو پھر ضلع پنچایت صدور اور بلاک پرمکھوں پر سیاسی پارٹیوں کی دعویداری کے کیا معنی ہیں۔اب پنچایت انتخابات میں بہار ہی نظیر پیش کرنے والا ہے،جہاں پنچایت انتخابات کو پارٹی کی سطح پر کرانے کی قانونی کوششیں شروع ہو رہی ہیں۔بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی طرف سے یہ پہل ہو رہی ہے اور بہار میں لاگو ہونے کے بعد یہ یو پی سمیت کئی دیگر ریاستوں میں مثال کے طور پر پیش ہوگااور پھر اسے نافذ کرانے کی کوشش ہوگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *