یہ کانگریس کے لئے امتحان کی گھڑی ہے

میگھناد دیسائی
ویلنگٹن کے ڈیوک نے واٹر لو میں کہا تھا کہ وہ نیپولین کی فوج کے مقابلے اپنی فوج سے زیادہ ڈرے ہوئے تھے۔ہندوستان کے وزیر اعظم کو بھی کچھ ایسا ہی احساس جلد ہی ہو سکتا ہے۔سونیا گاندھی اور منموہن سنگھ کے درمیان تعلقات پر کانگریس کے ترجمان جناردن دویدی نے کہا کہ ان دونو ں کے درمیان جو سمجھ ہے وہ اس سے بہتر کبھی نہیں ہو سکتی۔
اس بیان کو توجہ سے پڑھیں۔اصل میں یہ ایک بری خبر ہے۔چونکہ یہ سمجھ آج جتنی اچھی ہے،اس سے بہتر کبھی نہیں ہو سکتی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے وقت میںیہ خراب ہو سکتی ہے۔ہو سکتا ہے کہ دویدی یہ کہنا چاہتے ہوں کہ یہ سمجھ آج جتنی اچھی ہے،اتنی کبھی نہیں تھی۔ہو سکتا ہے ایسا نہ بھی ہو۔وہ شاید ایک مشکل اشارہ دے رہے ہوں کہ جہاں تک کانگریس کے وفاداروں کی بات ہے،منموہن سنگھ کے دن اب گنتی کے رہ گئے ہیں۔کانگریس کے سب سے وفادار لوگ بھی منموہن سنگھ کو زیادہ دخل اندازی یا دوسروں کے اختیار میں بے وجہ ہاتھ ڈالنے والا آدمی نہیں مانتے۔ارجن سنگھ تو کابینہ کی اس میٹنگ میں بھی جانا ضروری نہیں سمجھتے تھے،جس کی صدارت منموہن سنگھ کرتے تھے۔وجہ،ارجن سنگھ خود کو ان سے زیادہ بڑا مانتے تھے۔
آج کانگریس میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ کانگریس نے جے پی سی کے مطالبے کو اس لیے بھی نہیں مانا کیوں کہ وزیر اعظم جے پی سی کے سامنے حاضر نہیں ہونا چاہتے تھے۔یہ بھی ایک وجہ ہے کہ کانگریس کے لوگ اب وسط مدتی الیکشن کی بات خاموشی سے کرنے لگے ہیں۔اگر ان افواہوں میں ذرا سی بھی سچائی ہے،تو میں سمجھتا ہوں کہ کانگریس کو خود کی جانچ کرنی چاہئے۔یو پی اے کے لیے وزیر اعظم کوئی مسئلہ نہیں ہے۔یہ تو اتحاد کے وہ لوگ ہیں جو ان کی سنتے ہی نہیں۔جب 2009میں کانگریس جیتی ،تو اس کے پاس پورے مواقع تھے کہ وہ خود کی سرکار بنا سکے۔اس کے پاس پوری سیٹیں تھیں ،لیکن اس نے اتحاد کا انتخاب کیا اور یہا ںسے سارے مسائل کی شروعات ہوئی۔اس کے اہم اتحادی جیسے ترنمول،ڈی ایم سی اور این سی پی کے دل میںکانگریس کے تئیں کوئی عزت کا جذبہ نہیں ہے اور ان کے پاس اتنی طاقت بھی ہے کہ وہ کانگریس کو بلیک میل کر سکیں۔سونیا گا ندھی نے کانگریس کو دوبارہ زندہ کرنے اور اس میں جان پھونکنے کی کوشش کی اور اس میں وہ کامیاب بھی رہیں۔لیکن وہ رسک لینے والی خاتون نہیں ہیں۔یہ وجہ ہے کہ کانگریس سب طرح کی بے عزتی برداشت کرتی رہی، تاکہ 2014تک وہ اقتدار میں برقرار رہے۔اتر پردیش میں 2012کی جیت کے لیے اسکیمیں بنائی جا رہی ہیں ،ڈاکٹر سنگھ کو 2012میں احترا م کے ساتھ ریٹائر کر دیا جائے گاتاکہ راہل گاندھی کو 2014 سے پہلے  وزیر اعظم کے طور پر کام کرنے کے لیے دو سال مل جائیں۔2012تک اور اس کے آگے تک خود کو بچائے رکھنے کی کانگریس کی اس جدوجہد کو اس کے اتحاد ی اچھی طرح سمجھ رہے ہیںاور اس کا استعمال بھی کر رہے ہیں۔بدقسمتی سے اگر بہار کی کہانی ایک بار پھر دوہرائی تو کانگریس اتر پردیش میں کہیں کی بھی نہیں رہے گی۔ایسا اس لیے نہیں کہ راہل گاندھی کا کرشمہ پھیکا پڑ گیا ہے،بلکہ ایک لیڈر کے بھروسے بہت دنوں تک الیکشن نہیں جیتا جا سکتا۔اس کے لیے آپ کو مقامی اور قابل لیڈروں کی ضرورت ہوتی ہے،جو عوام کو یہ سمجھا سکیں کہ ہم آپ کے مسائل کو سمجھتے ہیں۔اتر پردیش میں کانگریس کے پاس ایسا کوئی لیڈر نہیں ہے ۔اصل میں مقامی سطح پر بغیر الیکشن کرائے صرف سونیا گاندھی کی مرضی سے لیڈر منتخب کئے جاتے ہیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کا نگریس کو مقامی لیڈروں پر بھروسہ نہیں ہے۔آندھرا پردیش میںکانگریس اس لیے بری پھنسی کیونکہ اس کے پاس منموہن کے مقابلے کوئی لیڈر ہی نہیں ہے۔گجرات میں کانگریس کے پاس ایک بھی ایسا لیڈر نہیں ہے جو نریندر مودی کو چنوتی دے سکے۔مہاراشٹر میں کانگریس صرف وزیراعلیٰ بدلنے میں مصروف ہے ۔اس طرح کانگریس کے وفادار سپاہی سوچتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر سنگھ کا پتاّ آسانی سے صاف کر سکتے ہیں۔اگر وسط مدتی الیکشن ہو تے ہیں تو اس مرتبہ کوئی بھی قیاس آرائی کی جا سکے گی، کیوںکہ اتنا  طے ہے کہ یوپی اے کے کچھ اتحادی اپنا راستہ نہیں سدھاریں گے۔مثال کے طورپر ممتا بنرجی ،شرد پوار اور کچھ حد تک ڈی ایم کے اب زہریلے ہو چکے ہیں ۔اس لیے کانگریس کو اب میدان میں اکیلے اترنا ہوگا اور اپنی قسمت آزمانی ہوگی اور اگر ایسی حالت آتی ہے تو کانگریس وسط مدتی الیکشن کے بارے میں سوچ کر پریشان کیوں ہو ۔اسے تو چاہئے کہ یو پی اے کے سبھی اتحادیوں کا ساتھ چھوڑ کر اکیلے ہی اپنی لڑائی لڑے۔
ٓٓآخر کار ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ منموہن سنگھ کے بعد کون ؟راہل گا ندھی ابھی بھی تیار نہیں ہیںاور شاید خواہش مند بھی نہ ہوں۔اگر کانگریس ڈاکٹر سنگھ پر عہدہ چھوڑنے کا دباؤ بنا تی ہے تو کچھ ایسے نتیجے نکلیں گے جو یقینی ہیں۔مثلاً دوپہر تک سنسیکس 5000پوائنٹس نیچے گر جائے گااور اس سے ہندوستان کی ساکھ کو دھکا پہنچے گا۔یقیناً دوبارہ بحالی ہوتے ہوتے ایک لمبا وقت لگ جائے گا۔ کانگریس 2014 سے پہلے اس سوال کا جواب دینے کے لیے بہتر سوچ سکتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *