سب مرے چاہنے والے ہیں مرا کوئی نہیں

وسیم راشد
ہفتہ روزہ اخبار کی پریشانی یہ ہے کہ وہ موضوع جس پر آپ بڑے جوش و خروش سے قلم اٹھاتے ہیں، وہ روزنامہ کے مقابلے پرانا ہوجاتا ہے۔ مگر کچھ موضوعات ایسے ہوتے ہیں، جن پر بے اختیار لکھنے کو دل چاہتا ہے۔ 3خبریں یہ کالم لکھتے وقت میری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ اتفاق کی بات تینوں ہی اردو زبان و ادب کے فروغ سے متعلق ہیں، جس میں ایک خبر یہ ہے کہ قومی اردو کونسل کی سالانہ اراکین کی کانفرنس میں مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل کپل سبل صاحب نے اردو کے فروغ کے لیے ایک نئے روڈ میپ کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ دوسری خبر بھی ساتھ ساتھ ہی لگی ہوئی ہے، جس کے تحت معلم اردو سندیافتگان کو بحیثیت اردو اساتذہ تقرری کے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف یوپی سرکار نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔
5جنوری 2011کو سپریم کورٹ میں داخل کی گئی چیلنج کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس بھنڈاری اور دیپک ورما کی 2رکنی بنچ نے محمد نسیم اور ان کے ساتھ پیروی کرنے والی آل انڈیا اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن سے کیا ہے کہ وہ جوابی حلف نامہ دو ہفتہ کے اندر داخل کریں۔ یکم اکتوبر 2010کو الٰہ آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ معلم اردو سند یافتگان کو اردو اساتذہ کی تقرری کے لیے تسلیم کیا جائے۔ 2005میں یہ معاملہ مسٹر محمد نسیم کی جانب سے اٹھا تھا، جس کے تحت یہ مانگ کی گئی تھی کہ معلم اردو کو بی ٹی سی کے مساوی سمجھا جائے اور ان کو بھی سرکاری نوکریوں میں جگہ دی جائے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے 2رکنی بنچ کے جسٹس سنیل امبوانی اور جسٹس کے این پانڈے نے یوپی حکومت کی اس پٹیشن کو خارج کردیا، جس کے تحت اردو ڈپلوما کرنے والے اس لائق ہیں کہ پرائمری اسکولوں کے لیے بحیثیت اسسٹنٹ ٹیچر کے ان کا تقرر ہو۔
پرائمری اسکولوں کے لیے(لائق ہیں) اسسٹنٹ ٹیچر کی حیثیت سے ان کا تقرر ہو۔
تیسری خبر اردو اخبار کے مدیران سے متعلق تھیں، جس میں آل انڈیا اردو ایڈیٹرز فورم کا ایک وفد ملائم سنگھ یادو سے ملا اور اردو اخبارات کو سرکاری اشتہارات نہ ملنے اور اقتصادی زبوں حالی پر کافی تفصیل سے بات چیت کی۔ سب سے پہلے بات کرتے ہیں کپل صاحب کے ان وعدوں کی، ان باتوں کی جو کروڑوں اردو بولنے والوں کے لیے باعث مسرت ہے۔ کپل صاحب نے اردو تعلیم کو روزگار سے جوڑنے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ اس وقت تعلیمی میدان میں تیزی سے ترقیاں و تبدیلیاں ہو رہی ہیں تو اردو زبان کو بھی اور ان کے طلبا کو بھی عصری تعلیم اور ٹیکنیکل تعلیم سے جوڑنے کی ضرورت ہے اور اسکولوں میں اساتذہ کی کمی پر بھی ان کا جواب بہت ہی مثبت تھا کہ اگر حکومت ان سے کہے گی تو وہ فوری طور پر 100اساتذہ ان کی وزارت مہیا کراسکتی ہے۔ ایک اور بات ان کی بڑی اہم تھی کہ رائٹ ٹو ایجوکیشن کے تحت اردو اکثریت والے علاقوں میں نئے اردو میڈیم اسکول قائم کیے جائیںگے اور سی بی ایس سی بورڈ کے تحت تمام اسکولوں میں اردو بحیثیت مضمون پڑھائی جائے گی۔
یہ سب وعدے اگر کاغذ تک محدود ہو کر نہ رہ جائیں تو واقعی میں اردو کی ترقی و ترویج کے لیے بڑا کام ہوگا۔ اردو کو روزی روٹی سے جوڑنے کی بات بہت عرصے سے کہی جارہی ہے۔ مگر نہ جانے کیوں میرے ذہن میں بار بار ایک بات آتی ہے کہ اگر صرف اور صرف اردو زبان میں تعلیم حاصل کی جائے تو وہ اتنی کارگر ثابت نہیں ہوگی، جتنا کہ انگریزی تعلیم کے ساتھ اردو زبان پر فوقیت حاصل کرنے سے مل سکتی ہے۔ انگریزی اس وقت ہر اسکول کالج میں پڑھائی جارہی ہے اور ساتھ ساتھ جس طرح سہ لسانی فارمولے کے تحت انگریزی میڈیم میں پہلی زبان انگریزی اور ہندی میڈیم میں پہلی زبان ہندی اور اردو میڈیم میں پہلی زبان اردو ہے، وہ ٹھیک تو ہے، مگر ہندی اور اردو میڈیم میں بھی میرے حساب سے انگریزی کی تعلیم پہلی زبان کی حیثیت سے ہی دی جانی چاہیے تاکہ ہمارے بچے آنے والے وقت میں ہر طرح کے مقابلہ جاتی امتحانات میں بیٹھنے کے لائق بن سکیں۔ اردو میڈیم کے اسکول کھولنا یقینا خوش آئند قدم ہے، مگر ان اسکولوں میں انگریزی کی تعلیم کا بھی برابر سے انتظام ہونا چاہیے۔ ایک اور بات اس ضمن میں اہم ہے اور جو مجھے بار بار ہر جگہ کہنی پڑتی ہے کہ انگریزی میڈیم اسکولوں میں اردو زبان پڑھانے کا بھی انتظام ہونا چاہیے، چاہے وہاں مسلم بچے پڑھتے ہوں یا نہیں، کیوں کہ جس طرح اردو کو صرف مسلمانوں کی زبان بنا کر اس کے دائرہ کار کو محدود کردیا گیا ہے، اس کو اب ہم بھی ماننے لگے ہیں کہ ہاں بھئی یہ مسلمانوں کی زبا ن ہے۔ مگر ان اسکولوں میں کیا پتہ کہ کچھ غیر مسلم بچے بھی اردو پڑھیں، جس طرح وہ فرنچ، جرمن، جاپانی وغیرہ پڑھتے ہیں تو وہ بھی ایک طرح سے زبان کا فروغ ہی ہوگا۔ دہلی میں اس وقت صرد دہلی پبلک اسکول متھرا روڈ میں اردو بحیثیت مضمون پڑھائی جاتی ہے۔ پہلے یہ آٹھویں جماعت تک تھی، مگر اب دسویں جماعت تک کردی گئی ہے۔ اس کا جواب بھی سب کے پاس ہے کہ اس اسکول کے پرنسپل مسلمان ہیں، اس لیے یہاں اردو ہے۔ ہمیں اس جواب پر بے حد افسوس ہے۔ چلئے اس موضوع پر اور کیا بات کرنی، بس اتنا ہی کہنا ہے کہ دہلی میں ہی جب ہندوستان کو دوسری سرکاری زبان بنانے کی بات کہی گئی اور وہیں پر اسکولوں میں اردو زبان پڑھانے کا بند و بست نہیں ہے تو اردو کیا ترقی کرے گی۔ ہم اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ زبان وہی پنپتی ہے جسے اسکولوں سے ہم سیکھ کر آتے ہیں۔
نوجوان نسل کواردو اس لیے نہیں آتی کیوں کہ اسکولوں میں اردو پڑھانے کا سسٹم نہیں ہے اور جب دارالخلافہ میں نہیں ہے تو باقی ہندوستان میں تو ہم کیا امید رکھیں، پھر تو زبان کی بقا کا دار و مدار صرف اور صرف مدرسوں پر ہی رہ جاتا ہے، سبل صاحب کے تمام اقدامات اور فیصلے لائق ستائش ہیں، مگر تبھی جب عملی ہوں اور ان کو باقاعدہ نافذ کیا جائے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا اپنا کوئی بڑا میڈیا ہاؤس نہیں ہے جو بھی اردو کی بقا کے لیے کام کر رہے ہیں اتفاق سے وہ سبھی میڈیا ہاؤس ان کے ہیں جن کی مادری زبان اردو نہیں ہے۔ ہمارے بڑے بڑے صنعت کار چاہیں تو زبان کی بقا اور فروغ کے لیے پیسے لگاسکتے ہیں، مگر افسوس صد افسوس کہ اردو کا نعرہ لگانے والے اردو کا حق ادا نہیں کر رہے ہیں۔ چلئے دوسری خبر پر بھی آجاتے ہیں، جس میں ادیب ماہر، ادیب کامل کو پرائمری ٹیچر کے مساوی تسلیم کیے جانے کا معاملہ ہے۔ ہم اس ضمن میں بس اتنی ہی بات کہنا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے بچپن میں دیکھتے تھے کہ گھر میں بیٹھنے والی خواتین گھر میں بیٹھے ہی بیٹھے ادیب ماہر اور ادیب کامل کا امتحان دیدیا کرتی تھیں۔ جن کو زیادہ اردو نہیں آتی تھی وہ بھی اس کورس کو بہ آسانی کرلیا کرتی تھیں، مگر وہ دور دوسرا تھا، آج جب کہ زمانہ بہت آگے بڑھ چکا ہے اور اس دوڑتی بھاگتی زندگی کا ساتھ دینے کے لیے ہمارے بچوں کو ہر طرح کے مضامین میں مہارت ضروری ہے، وہاں یہ ادیب ماہر اور ادیب کامل کے کورس کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی نہیں کی جانی چاہیے۔ یہ کورس آج بھی خواتین کے لیے چھوڑ دینا چاہیے، وہ بھی ان کے لیے جو اس کورس کے بعد پرائمری سطح پر ہی درس و تدریس سے وابستہ ہونا چاہیں اور جو کسی مجبوری کے سبب آگے نہ پڑھ سکیں۔ اب جب کہ بے شمار کورس، بے شمار مضامین اور بے شمار ٹیکنیکل کورسز کی بھرمار ہے، وہاں ادیب ماہر اور کامل کی اہمیت اس حد تک ہے، جب کوئی کچھ نہ کرسکے تو اس میں اپنا کریئر بنالے۔ ہم ہرگز اس کورس کی اہمیت سے انکار نہیں کر رہے ہیں، مگر آج کے تناظر میں اس کے مقابلے میں بیسک اور بی ایڈ کو ہی زیادہ اہمیت دی جائے تو بہتر ہوگا۔
تیسری خبر سے متعلق ہم بس اتنا ہی کہنا چاہتے ہیں کہ آج بھی اردو اخبار اپنی بقا کے لیے جد و جہد کر رہے ہیں۔ جب بھی کوئی نیا اردو اخبار نکلتا ہے تو یہ سوال ضرور ذہن میں اٹھتا ہے کہ یہ کب تک نکل پائے گا؟ یہ بند تو نہیں ہوجائے گا۔ ہمارے ہفت روزہ ’’چوتھی دنیا‘‘ سے متعلق بھی ہم سے یہی سوال ہوتا ہے کہ آپ اس کو بند تو نہیں کردیںگے یا پھر اگر کسی کو 2ہفتے یہ اخبار نہیں مل پاتا تو ان کا فون آتا ہے کہ کہیں یہ اخبار بند تو نہیں ہوگیا۔ یہ بے اعتباری، یہ خوف اسی وجہ سے ہے کہ اردو اخبارات کو کہیں سے فنڈنگ نہیں ملتی اور نہ ہی اشتہارات۔ ایسے میں اخبار نکالنا بے حد مشکل کام ہے۔ وزارت ریلوے کے اردو مخالف رویے کا اگر ذکر کریں تو 90فیصد اردو اخبارات کو بجٹ ملتا تھا، وہ بھی ختم کردیا گیا ہے۔ اس حکومت کا اردو مخالف رویہ یقینا ناقابل برداشت ہے اور اس کے لیے سبھی کو مل کر آواز بلند کرنی چاہیے۔ ہمیں بھلے ہی اس ایڈیٹرز فورم کا حصہ نہ بنایا گیا ہو، مگر ’’چوتھی دنیا‘‘ ہر طرح سے اس لڑائی میں ان کے ساتھ ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *