ادب کے لئے فرصت کے لمحات نکال لیتا ہوں: محمود شام

محمود شام پاکستان کے نامور مفکر، صحافی اور شاعر ہیں۔تقریباً48سال سے وہ صحافت سے وابستہ ہیں۔پاکستان کے جنگ اخبار کے گروپ ایڈیٹر کی حیثیت سے انہوں نے نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔محمود شام پاکستان کے تقریباً ہر بڑے اخبار جیسے نوائے وقت،اخبار جہاں، مساوات،معیار وغیرہ  سے منسلک رہے ہیں۔ فی الوقت وہ اے آر وائی ڈیجیٹل گروپ سے وابستہ ہیں۔گزشتہ دنوں وہ ہندوستان کے دورے پر تھے، اسی دوران چوتھی دنیااردوانٹرنیشنل ویکلی کی ایڈیٹر محترمہ وسیم راشد نے شام صاحب سے ہندوپاک سے وابستہ مختلف موضوعات و مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔ گفتگو کے اہم اقتباسات نذر قارئین ہیں۔
سوال: وطن عزیز میں آپ کااستقبال ہے۔ سب سے پہلے ہمیں یہ بتائیے کہ آپ کی پیدائش کہاں ہوئی؟
جواب:میری پیدائش ریاست پٹیالہ کے راجپورہ میں ہوئی۔اس کے بعد ہم پاکستان کے جھنگ میں چلے گئے،جو مغربی پنجاب میں ہے۔میں اس وقت 5برس کا تھا جب ہمارے خاندان نے ہندوستان سے پاکستان ہجرت کی۔
سوال:تقسیم کا سانحہ آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔یہ بتائیے کہ کیا آپ کا خاندان پاکستان صحیح سلامت پہنچ گیا یا پھر کوئی حادثہ آپ کو بھی پیش آیا تھا؟
جواب:62سال کے بعد تقسیم کی یادیں کافی پریشان کن ہیں۔ہم اس وقت انبالہ چھاؤنی میں تھے اس لیے بچ گئے ورنہ راجپورہ پٹیالہ میں ہمارا باقی خاندان شہید ہو گیا۔ہم یہاں سے لاہور اور ایک دو شہروں میں رہتے ہوئے آخر کار جھنگ میںپہنچے اور مستقل رہائش اختیار کی۔
سوال:آپ کی تعلیم کہاں سے ہوئی؟
جواب:میری ابتداسے لیکر گریجویشن تک کی تعلیم جھنگ میں ہوئی ۔اس کے بعد ایم اے گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا۔
سوال:یہاں سے جانے والے لوگ پاکستان میں مہاجر کہلاتے ہیں۔کیا یہ مسئلہ آپ کے سامنے بھی آیا ؟
جوب:جو لوگ پنجاب گئے تھے ان کے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ شروع شروع میں تھا کہ وہاں کے مقامی لوگ ہمیں پناہ گیر کہتے تھے اور ہم انہیں جنگلی کہتے تھے۔اس لیے کراچی اور حیدرآباد کے علاوہ یہ کوئی مسئلہ نہیں تھا۔کراچی اور حیدرآباد میں اس لیے مسئلہ آیاکیوں کہ مقامی آبادی سے زیادہ یہاں مہاجرین آگئے۔
سوال:اس وقت آپ جرنلزم کے بادشاہ ہیں۔اپنے صحافتی سفر کے بارے میں کچھ بتائیے۔
جواب:میں1967میں اخبار جہاں سے وابستہ ہوا۔اس کے بعد 1994میں جنگ کا ایڈیٹر بنا۔ اس کے بعد 2000میں گروپ ایڈیٹر بن گیا۔1975میں اپنا رسالہ معیار شروع کیا تھا۔ 1982 میں جنگ لاہور کا خصوصی نمائندہ بن گیا۔جنگ کو اس معیار پر لانے میں کئی نسلوں کی کوششوں کا دخل ہے۔اس وقت میں اے آر وائی سے وابستہ ہوں ۔اے آر وائی اب اردو کا ایک اخبار نکالے گا جس میں بہت سارے صحافیوں کو روزگا ر ملے گا۔اس اخبار کی خاص بات یہ کہ اسے وہ گروپ نکال رہا ہے جو پہلے سے ہی کئی چینل چلاتا ہے ،اس سے پرنٹ میڈیا کو تقویت ملے گی۔
سوال:آپ نے ایسے وقت میں جنگ گروپ کو چھوڑا ہے جب وہ اپنے عروج پر ہے۔ایسے میں کیا یہ جنگ گروپ کے ساتھ اور خود آپ کے ساتھ نا انصافی نہیں ہوگی؟
جواب: پنجابی میں ایک کہاوت ہے کہ میلہ اسی وقت چھوڑنا چاہئے جب وہ بھرا ہوا ہو۔کسی ادارے کو کسی ایک فرد کے جانے سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔جب میں جنگ میں نہیں تھا تب بھی جنگ چل رہا تھا اور جب میں آگیا ہوں تب بھی جنگ چل رہا ہے۔میں جب تک وہاں رہا میں نے مقدور بھر کوشش کی۔نئی ٹیکنالوجی کے چیلنجز تھے۔اس وقت پیلے کاغذ ہوتے تھے۔اس وقت ہم فخر کر سکتے ہیں کہ اردو تمام ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔ ایسے میں اگر ہمارا تجربہ کسی نئے ادارے کو مل جائے اور نئے لوگوں کی تربیت کریں تو یہ بھی ہمارے لیے قابل فخر بات ہے۔ہمارے دوستوں نے ہمیں مبارک باد دی ہے کہ اس عمر میں بھی ہم چیلنجز کا سامنا کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔آپ بھی دعا کریں اور آپ کے قارئین بھی دعا کریں۔
سوال:اے آر وائی کے بارے میں بتائیے؟
جواب:اس وقت پاکستان میں کئی اخبار چینل نکالتے ہیں۔ٹی وی والے پرنٹ والوں سے اپنے کو برتر سمجھتے ہیں۔اس کا عملی مظاہرہ بھی ہم جنگ میں دیکھ چکے ہیں ۔باہر امریکہ وغیرہ میں تو اب کنورڈ جرنلزم کا زمانہ آگیا ہے۔اس میں ایک سب ایڈیٹر رپورٹر کو تربیت دی جاتی ہے کہ وہ اخبار کے لیے بھی کام کرے اور ویب سائٹ اور ٹی وی کے لیے بھی۔اے آر وائی گروپ کا مطلب ہے عبدالرزاق یعقوب۔ان کا پورا نام حاجی عبدالرزاق یعقوب ہے۔ ان کا اصل کاروبار سونے کا ہے۔وہ سونے کے کام سے چینل کی طرف آئے ہیں۔اے آر وائی جویلری بھی ہے۔اے آر وائی لندن سے شروع ہوا ہے۔ اے آر وائی ڈجیٹل ہے،کیو ٹی وی ہے،ایچ بی او ،نک ،ذوق ،اے آر وائی نیوز ہے۔
سوال:غالب انسٹی ٹیوٹ کا یہ سالانہ ایوارڈ فنکشن اور سیمینار ہے اور اس سیمینار کا معیار ہمیشہ سے بین الاقوامی سطح کا رہا ہے۔پاکستان سے ہمیشہ ہی ادیبوں اور شاعروں نے اس میں شرکت کی ہے۔لیکن سنا گیا ہے کہ اس بار 13ادیبوں اور شاعروں کو مدعو کیا گیا تھا مگر ویزا صرف 3لوگوں کو ملا۔ایسا کیوں؟
جواب:دونوں ممالک کا ایک خاص پس منظر ہے۔انہیں ماضی کی تلخیاں ہمیشہ گھیرے رہتی ہیں۔جو ادارے اس طرح کے پروگرام کرتے ہیں انہیں اپنی منسٹری کے ذریعہ ایمبیسی میں درخواست دینا چاہئے۔ورنہ ہائی کمیشن میں بیٹھے ہوئے لوگ اپنی مرضی چلاتے ہیں ۔ اگر ان کے پاس  10 درخواستیں آتی ہیں تو وہ ان میں سے 4یا 5 کو منظور کرتے ہیں باقی کو نا منظور کر دیتے ہیں۔جبکہ صنعتکاروں کو اس طرح کی پریشانی نہیں آتی ہے۔ جولائی میں مجھے اڑیسہ کی یونیورسٹی نے چیف گیسٹ کے طور پربلایا تھا لیکن مجھے ویزا نہیں ملا۔
سوال:آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ صحافی اور ادیب کو ویزا ملنے میں زیادہ پریشانی پیش آتی ہے۔
جواب:صحافی کو خاص طور سے اس کے بعد ادیب و شاعر کو۔کیوں کہ یہ لوگ نظریں کھلی رکھتے ہیں۔ میں سب سے پہلے 1972میں شملہ معاہدہ میں ہندوستان آیاتھا۔پھر بے نظیر بھٹو صاحبہ کے ساتھ ۔پھر پرویز مشرف کے ساتھ جولائی 2001میں انڈیا آگرہ معاہدہ کے درمیان آیا ہوں۔اس کے بعد سے مسلسل  آرہاہوں۔اس وقت بھی ،جب دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات نہیں تھے اور سوئٹزر لینڈ والے ویزا دیتے تھے۔اس وقت میں نے اندرا گاندھی کا انٹرویو کیا تھا۔
سوال:آپ نے دنیا کے کن کن بڑے لیڈران کا انٹرویو کیا ہے؟
جواب:یاسر عرفات،ذوالفقار علی بھٹو،اندرا گاندھی،شیخ مجیب الرحمن،گیرالڈ فورڈ،ہینری کسنجر،بے نظیر بھٹو،جنرل پرویز مشرف،خان عبدالغفار خان،جی ایم سید خان ،عبدالولی خان اور الطاف حسین وغیرہ۔
سوال:اگر دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات بہتر ہو جائیں تو کیا کچھ خرابی ہوگی؟
جواب:آپ کے تعلقات سرکاری سطح پر جتنے بہتر ہوں گے ،اس سے عوام کو فائدہ ہوگا۔تجارتی تعلقات بہتر ہونگے ۔لوگوں کا آنا جانا بڑھے گا ۔دونوں ممالک میں منقسم خاندان سب سے زیادہ ہیں۔خاص طور سے کراچی میں منقسم خاندان زیادہ ہیں۔ان کو ویزا کے لیے اسلام آباد آنا پڑتا ہے۔اسی طرح ہندوستان میں کہیں کا بھی رہنے والا ہو اسے دہلی آنا پڑتا ہے۔یہ سب چیزیں غیر مہذب لگتی ہیں۔ہونا یہ چاہئے کہ ہر بڑے شہر میں ویزا آفس کھولنا چاہئے۔غریب آدمی جو صرف اپنے اعزاء واقارب سے ملنے جانے کا خواہشمند ہے وہ اتنا پیسہ کہاں سے لائے گاکہ راولپنڈی ،کراچی یا لاہور سے اسلام آباد جائے اور کلکتہ ،ممبئی ،بنگلور یا دوسرے شہروں کا رہنے والا دہلی ویزا کے لیے آئے وہ بھی اسے امید نہ ہو کہ ویزا ملے گا بھی یا نہیں۔یہ ایک جہالت کا تصور ہے کہ اگر کوئی شخص دوسرے ملک جائے گا تو وہ جاسوسی کرے گا ۔ایک ایسے وقت میں جب سیٹلائٹ کے ذریعہ گاڑی کی نمبر پلیٹ کی تصویر بھی لی جا سکتی ہے۔یہ بات مضحکہ خیز ہے۔
سوال:آپ نے بحیثیت صحافی دونوں ممالک کے عوام کو ملانے کے لیے کیا کام کیا؟
جواب:جب میں 1974میںہندوستان آیا تو اس وقت دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات بھی نہیں تھے،خط وکتابت بھی نہیں ہوتی تھی اور ٹیلی فون کی سہولت بھی نہیں تھی۔جب میں آیا تو اپنے ساتھ سیکڑوں خطوط بھی ان لوگوں کے لایاجن کے رشتہ دار یہاں ہندوستان میں رہتے ہیں۔ باقی میں نے اپنی تحریروں میں بھی دونوں ملکوں کے عوام کو ملانے کا کام کیا اور ہمیشہ ہی دونوں ملکو ںکے تعلقات میں نرمی ہو ،ویزا میں نرمی ہو اس کے لیے کوشاں رہا۔
سوال : آپ مشہور شاعر بھی ہیں۔ایک مصروف صحافی کو اتنا وقت کہاں سے مل جاتا ہے کہ وہ اتنا کچھ تخلیق کر سکے؟
جواب:میں رات کو کوئی ادبی رسالہ یا کتاب پڑھے بغیر نہیں سوتا ہوں ۔شاعری تو چلتے پھرتے بھی ہو جاتی ہے ۔ نثر کے لیے پڑھنا پڑتا ہے۔خاص طور سے جب ایئر پورٹ پر فلائٹ کا انتظار کررہے ہوتے ہیں تو وہ وقت مطالعہ کے لیے بہت اچھا ہوتا ہے۔اس کے علاوہ لمبی فلائٹ اور ٹریفک جام میں بھی پڑھنے کا موقع مل جاتا ہے۔بشرطیکہ کوئی ملنے والا نہ ملے۔
سوال:اب تک آپ کی شاعری کی کتنی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں؟
جواب:اب تک میری 5 کتابیں آچکی ہیں۔پہلی کتاب 1970میں چھپی تھی۔اس کے بعد ایک آخری رقص،جس میں نظمیں اور منظوم تراجم ہیں ،چہرہ چہرہ اور اس کے بعد نوشتہ دیوار،قربانیوں کا موسم،محلوں میں سرحدیں وغیرہ۔
سوال۔اپنا کچھ کلام ہمارے قارئین کے لیے بھی عطا کیجیے۔
جواب:
پھول بن کر تری ہر شاخ پہ کھلتا میں تھا
خوشبوئیں تجھ میں اترتی تھیں مہکتا میںتھا
عہد رفتہ تھا ادھر اور ادھر آئندہ
دونوں وقتوں کو ملاتا ہوا لمحہ میں تھا
شور تھا جیسے سمندر میں وہ گرتا دریا
اور جب غور سے دیکھا تو اکیلا میں تھا
آنکھ رکھتا تھا کھلی اور طبیعت موزوں
تجربے دوسرے کرتے تھے سنبھلتا میں تھا
سوال:غزل اور نظم میں سے آپ کی محبوب صنف کون سی ہے؟
جواب:غزل کی طرف زیادہ مائل ہوا۔غزل کے ایک شعرمیں جو آپ مضمون باندھتے ہیں وہ ایک نظم سے زیادہ گہرا ہوتا ہے۔شاید اسی لیے۔
سوال:ہندوستان اور پاکستان کی صحافت میں کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟
جواب:ہمارے یہاں چونکہ پابندیاں زیادہ رہی ہیں اس لیے وہاں کے صحافیوں نے جدوجہد بھی زیادہ کی ہے اور انہیں زیادہ مشکل مراحل سے گزرنا پڑا ہے۔جیلوں میں بھی گئے ہیں۔کئی تحریکیں بھی چلیں۔آپ کے یہاں چونکہ شروع سے جمہوریت رہی ہے اس لیے میڈیا آزاد رہاہے،لیکن دونوں طرف کے میڈیا نے ابھی تک سوسائٹی کے استحکام میں وہ رول ادا نہیں کیا جو یوروپین میڈیا نے ادا کیا ہے۔
سوال:ہندوستان کے اردو اخباروں کا مستقبل کیسا ہے؟
جواب:یہاں ہندی کا حلقہ اردو کے مقابلے بڑھتا جا رہا ہے اس لیے اردو کے لیے بحر حال چیلنجز ہیں۔مگر خوشی ہے کہ کئی اردو اخبارات بہت اچھا کر رہے ہیںاور آپ کا ’چوتھی دنیا‘ تو واقعی میںایک بین الاقوامی سطح کا اخبار ہے۔ہر صفحہ لائق تحسین ہے۔میں نے اردو اخبار کی آج تک اتنی خوبصورت طباعت،گیٹ اپ اور کاغذ نہیں دیکھا،ساتھ ہی اتنے جرأت آمیز سیاسی مضامین ۔آپ کا بیرونی دنیا کا صفحہ بیحد جاندار لگا۔اس کے ساتھ ہی ادب میں آپ نے نامور ہستیوں کو جوڑ لیا ہے۔اتنے کم وقت میں اتنے ادیبوں ،شاعروں،مفکروں اور کالم نویسوں کو جوڑنا لائق تحسین ہے۔

Share Article

One thought on “ادب کے لئے فرصت کے لمحات نکال لیتا ہوں: محمود شام

  • January 22, 2011 at 1:53 pm
    Permalink

    پھول بن کر تری ہر شاخ پہ کھلتا میں تھا
    خوشبوئیں تجھ میں اترتی تھیں مہکتا میںتھا
    عہد رفتہ تھا ادھر اور ادھر آئندہ
    دونوں وقتوں کو ملاتا ہوا لمحہ میں تھا
    شور تھا جیسے سمندر میں وہ گرتا دریا
    اور جب غور سے دیکھا تو اکیلا میں تھا
    آنکھ رکھتا تھا کھلی اور طبیعت موزوں
    تجربے دوسرے کرتے تھے سنبھلتا میں تھا
    boht acha lga Mahmood sham kay sath kee huee bat cheet .
    waqyiii main is main koi shak nahi kee india main urdu waloon urdu akhbarat ko jooo chalenges ka sumna hai
    aur sath main unhoo nay joo zikar kya hai kee unhoo نے sahfat kooo kis adnda main payaish kya hai
    boht acha lga
    khair allah ان کو تندرستے دے
    میں ان کی تصویر اڑی aKbar keee apni فکےbook پر بھی اپلوڈ کی ہے
    ان ka مکبلا نہیں
    aaj kay door میں
    shukria

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *