کہیں گمراہ نہ ہو جائے نوجوانوں کی فوج

سروج سنگھ
پوری دنیا کی ایک چوتھائی نوجوان آبادی ہندوستان میں بستی ہے۔اس ملک کے دو تہائی سے زیادہ شہریوں کی اوسطاً عمر 27سال سے کم ہے۔ انسانی وسائل کی شمسی توانائی سے لبریز یہ انڈین سورس دنیاکی کسی بھی عظیم طاقت کو حسد کا احساس کرانے پر مجبور کر سکتی ہے۔ یہ ہے بھی فطری ، نوجوا ن دماغ نا ممکن کو ممکن کے سانچے میں ڈھالنے کی صلاحیت جو رکھتا ہے۔ تبھی تو کہا گیا ہے کہ جوانی کے جوش میں آدمی پتھر کو بھی پانی بنا ڈالتا ہے۔جواں دلوں کے جذبے کے بھروسہ ہی بالو سے تیل نکالنے کا افسانہ بھی گھڑا گیا۔
لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ ہندوستان اپنی اس سب سے بیش قیمتی امانت کا مناسب استعمال نہیں کر پا رہا ہے۔ بلکہ، یہ سب سے بڑی طاقت ہی اس کے گلے کی ہڈی بنتی جا رہی ہے۔گمراہ ہوئی نوجوان طاقت ملک کے لئے بددعا کی شکل اختیار کررہی ہے۔ اس کی بے ہدف ہلچل سماج کے درمیان زلزلہ کا احساس کرا دیتی ہے۔مثلاً کشمیر میں پتھر باز نوجوانوں کی پرتشدد مزاحمت، انتہا پسندلیفٹ سے متاثر نوجوان شدت پسندوں کی سرخ دہشت گردی، ممبئی میں راج ٹھاکرے کی مہاراشٹرنو نرمان سینا کے رنگ رٹوں کا پردیسیوں پر حملہ اور سیمی کے خوفناک کارنامے اور شمال مشرق کی پہاڑی ریاستوں میں علیحدگی پسند طاقتوں کی سب سے بڑی طاقت وہاں کے نوجوانوں کی مایوسی ہی ہے۔اس احساس کمتری کو دور کرنے کی منشاء کا سب سے زیادہ فقدان پالیسی سازوں میں نظر آتا ہے۔ بے پناہ مواقع  والے اس وسیلے کو ملک کی مین اسٹریم سے جوڑنے کی مضبوط پہل کا بھی سخت فقدان نظر آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سوائے زبانی جمع خر چ کے علاوہ کوئی بھی مثبت قدم نہ اٹھانے کی قسم کھا رکھی ہو۔ کانگریس کے سب سے طاتور لیڈر راہل گاندھی بھی براڑی کے کانگریس کنونشن میں ہندوستانی نوجوان آبادی کی شکل میں موجودہ انسانی وسائل کے عظیم ذخیرہ کے بیجا استعمال کی بات کو کافی سنجیدگی سے اٹھاتے ہیں۔ وہ انسانی وسائل کے اس منفرد ذرائع  کو اس دور کا ایندھن قرار دیتے ہیں۔ اسے ترقی کے انجن سے جوڑنے کی ضرورت کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔وہ مانتے ہیں کہ اگر اس طبقہ کو موقع نہیں ملا تو یہ بوجھ بن جائے گا لیکن نوجوان طبقہ کے ایک بڑے طبقہ میں راہل گاندھی کے تئیں بھی بے اطمینانی کے آثارنمودار ہونے لگے ہیں۔ ان لوگوں کی رائے ہے کہ گزشتہ چھ سال سے راہل گاندھی ملک اور حکومت کی صورت اور سمت طے کرنے میں لگے ہوئے  ہیں، لیکن یو پی اے حکومت کے دوسرے دور اقتدار میں بھی نوجوانوں کے لئے کوئی خاص پالیسی نہیں بنوا پائے ہیں۔ ملک کے اس سب سے بڑے طبقے کے مسائل اور ضروریات کے مطالعہ اور ان کی فلاح کے لئے کمیشن بنانے کی زحمت اٹھانے کی ضرورت کا احساس بھی نہیں ہوا۔ جبکہ برادری اور فرقہ کی بنیاد پر کئی کمیشن بن گئے۔ بہار ریاستی یوتھ کانگریس کے پہلے منتخب صدر للن کمار کے مطابق کانگریس ہی نوجوانوں کی سب سے بڑی خیر خواہ ہے۔ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی نے اٹھارہ سال کے نوجوانوں کو حق رائے دہی دے کر نئے دور کے آغاز کا اشارہ دیا تھا۔ وہیں راہل گاندھی نے پارٹی کی یوتھ اینڈ اسٹوڈنٹ یونٹ میں جمہوریت قائم کر کے نوجوان سیاست کو نئی راہ دکھائی ہے۔کانگریس نوجوانوں کے حق و انصاف کے لئے جدو جہد کرنے کے لئے پر عزم ہے۔ اس کی قیادت میں نئی پیڑھی کی ترقی اور فلاح کے لئے یقینی طور پر مستقبل میں یوتھ کمیشن اور یوتھ پالیسی بھی بنائے جائے گی۔حالانکہ، بھارتیہ یوا جن مورچہ کے جنرل سکریٹری اور ممبر اسمبلی نتن نوین یوتھ کمیشن کی ضرورت کو ہی بے معنی قرار دیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ کمیشن تو دبے کچلے طبقات کے لئے بنایا جاتا ہے۔ نوجوان طبقہ تو آگے آ کر قیادت کرتا ہے۔ وہ بھی نوجوانوں کی بدحالی کے لئے کانگریس کو قصوروار مانتے ہیں۔ کانگریس نے ملک میں پانچ دہائیوں تک حکومت کی ہے۔ اس دوران وہ نوجوان طبقہ کو صرف سنہرے خواب کر ٹھگتی رہی ہے۔نتن نوین کانگریس کے جنرل سکریٹری راہل گاندھی پر بھی حملہ کرتے ہیں۔ کالج، یونیورسٹیز میں طلبا و طالبات سے کتابیں لے کر وہ یوتھ آئکون بنتے ہیں، لیکن پارلیمنٹ میں ایک بار بھی نوجوانوں کے ایشو پر انھوں نے اپنی زبان نہیں کھولی۔ نیشنل کانگریس پارٹی کے نائب صدر کے جے جوسمن اس سے اتفاق نہیں رکھتے ۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نوجوانوں کے مسائل کا تفصیلی مطالعہ اور انہیں  مین اسٹریم میں لائے بغیر ملک کی ترقی ممکن نہیں ہے۔ جوسمن مسلسل نوجوان طبقہ کے ایشوز پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ان کے مطابق یوتھ کمیشن، راشٹریہ یوا وکاس پریشد تشکیل کرنے اور انہیں روزگار کے و سائل مہیا کرواکر ہی اس طبقہ کو ملک کی مین اسٹریم سے جوڑا جا سکتا ہے۔بہار میں یوتھ پالیسی اور بے روزگاری الائونس کے سوال پر مسلسل جدو جہد کرنے والے ایل جے پی کے جنرل سکریٹری روہت کمار سنگھ کی رائے میں اس طبقہ کا صرف استعمال کیا جاتا ہے۔اس کی فلاح کے لئے کھلی سوچ کا سخت فقدان ہے۔ برادری پر مبنی کمیشن کی تشکیل کے لئے ہوڑ مچی ہے لیکن ذات ، طبقہ کی تنگ ذہنیت سے آزاد نوجوان طبقہ اس دوڑ میں نظر انداز ہے۔کوئی بھی حکمراں اس کے تئیں ذمہ دار ی نبھانے کو پر جوش نہیں ہے۔ ہندی پٹی کی ریاستوں مثلاًاتر پردیش اور بہار میں دہائیوں سے اسٹوڈنٹ یونین کا الیکشن تک نہیں کروایا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی نوجوانوں سے سیاست میں آگے آنے کی مسلسل اپیل کرتے ہیں لیکن طلبا او رنوجوانوں کی پہلی سیاسی انجمن پر ہی تالا لٹکا دیا گیا ہے۔بدقسمتی تو یہ ہے کہ بہار میں گزشتہ دو دہائیوں سے طلبا سیاست کے سورما رہے لالو پرساد، نتیش کمار اور سشیل کمار مودی اقتدار کے اسٹیج منیجر بنے ہیں۔جے ڈی یو کے نوجوان لیڈر چھوٹو سنگھ اسے جھٹلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ پورے ملک میں صرف بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار ہی نوجوانوں کی امیدوں کا واحد مرکز ہیں۔ انھوں نے بہار میں نیا انقلاب پیدا کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہار کے نوجوانوں نے انہیں دوبارہ گدی پر بٹھایا۔ ان کا اسکولی طلباء کو سائیکل دینے کا منصوبہ مستقبل کے نوجوان امپاورمنٹ کی ہی علامت ہے۔ جے ڈی یوکے قدآور لیڈروں کے دعووں کی قلعی کھولتے ہوئے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے نوجوان لیڈر اوپیندر یادو کہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو نوجوانوں کی فکر ہوتی تو وہ بہار میں بند بے روزگاری الائونس شروع کرواتے۔ یہاں کا پلاننگ ٹارگیٹ تک ٹھپ ہے۔نتیش کمار دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد اپنی برادری کے ووٹ بینک کی مضبوطی کے لئے اپر کمیشن تو بنا رہے ہیں، لیکن یوتھ کمیشن بنانے کی زحمت اٹھانا انہیں گوارانہیں ۔
غور طلب ہے کہ ملک میں نوجوانوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ دنیا کا یہ سب سے نوجوان ملک ہے، لیکن بین الاقوامی کھیلوں میں یہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ایک ارب سے زائد آبادی والا یہ ملک اولمپک کھیلوں میں ایک تمغے کے لئے بھی ترس جاتا ہے۔ حال ہی میں اختتام پذیر ہوئے ایشیاڈ کھیلوں میں بھی ہندوستان کئی چھوٹے ممالک سے کافی پیچھے رہ گیا۔نوجوان ملک کی اس تھکی ہوئی کارکردگی کے لئے یہاں کی نوجوان نسل ذمہ دار نہیں ہے۔بلکہ مختلف حکومتوں کا نوجوانوں اور کھیلوں کے تئیں دوئم درجہ کے برتائو کے سبب قدرتی ٹیلنٹ بھی کند ہو کر رہ جاتا ہے۔وجہ ہے، ملک کا نوجوان اور کھیل معاملات کی وزارت ہاتھی کا دانت ہے۔ مرکزی حکومت میں انتظامی خدمات سے ریٹائرافسر ایم ایس گل کو اس وزارت کا ذمہ سونپا گیا ہے۔ کانگریس میں یوتھ برگیڈ کی لمبی چوڑی فوج ہونے کے باوجود اس بزرگ کو یہاں بٹھانا نوجوانوں کے تئیں ان کی خطرناک لاپروائی کو ہی نمایاں کرتا ہے۔ایسا بھی نہیں ہے کہ ایم ایس گل کو کھیل کے تئیں کو ئی خاص لگائو ہے۔ حال ہی میں اولمپک میڈلسٹ پہلوان سشیل کمار کے کوچ کے ساتھ ان کی شرمناک بدسلوکی سرخیوں میں رہی تھی۔ مرکزی حکومت میں ہی نہیں، ریاستی حکومتوں کا رخ بھی اس سے بہتر نہیں ہے۔بہار میں سال 2005میں نتیش کمار کی قیادت میں تشکیل شدہ حکومت کے بعد اس محکمہ کی ذمہ داری جناردن سنگھ سگریوال کو دی گئی تھی۔ تب وہ کافی کم وسائل میں اپنی ہنرمندی کی بنیاد پر نتیش حکومت کے کامیاب وزراء میں شمار کئے جاتے تھے لیکن وہ بھی سیاست کا شکار ہو گئے۔ وزارتی کونسل کے پھیر بدل میں انہیں باہر کا راستہ دکھا دیا گیا۔اس کے بعد رینو دیوی اور انتخابات کے بعد سکھدا پانڈے جیسی بزرگ خاتون ممبر اسمبلی کو اس محکمہ کا چارج دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں بہتر نتائج کی امید کرنا بے معنی ہے۔سچ ہی کہا گیا ہے کہ جس طرف جوانی چلتی ہے، اس طرف زمانہ چلتا ہے لیکن ملک کے محافظین کو اس کے گمراہ ہونے کی کوئی فکر نہیں ہے۔

کس نے کیا کہا

کانگریس ہی نوجوانوں کی سب سے بڑی خیرخواہ ہے۔ کانگریس نوجوانوں کے حق و انصاف کے لئے جدوجہد کرنے کے لئے پرعزم ہے۔اسی کی قیادت میں نئی نسل کے عروج کے لئے یوتھ کمیشن اور یوتھ پالیسی مستقبل میں یقینی طور پربنائی جائے گی۔
للن کمار

اتر پردیش اور بہار میں دہائیوں سے اسٹوڈنٹ یونین کا الیکشن تک نہیں کرایا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی نوجوانوں سے سیاست میں آگے آنے کی مسلسل اپیل کرتے ہیں لیکن طلبا اور نوجوانوں کی پہلی سیاسی انجمن پر ہی تالا لٹکا دیا گیا ہے۔
روہت کمار

نوجوانوں کے مسائل کا تفصیلی مطالعہ اور انہیں مین اسٹریم میں لائے بغیر ملک کی ترقی نہیں ہو سکتی ہے۔ یوتھ کمیشن، نیشنل یوتھ ڈیولپمنٹ کونسل تشکیل دے کر اور انہیں روزگار کے و سائل مہیا کرا کر ہی اس طبقہ کو ملک کی مین اسٹریم سے جوڑا جا سکتا ہے۔
کے جے جوسمن

پورے ملک میں نتیش کمار ہی نوجوانوں کی امیدوں کے ایک مرکز ہیں۔ انھوں نے بہار میں نئے انقلاب کو جنم دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بہار کے نوجوانوں نے انہیں دوبارہ اقتدار سونپا۔ ان کا اسکولی طلبا کو سائیکل دینے کا منصوبہ مستقبل کے جوانوں کی طاقت کی علامت ہے۔
چھوٹو سنگھ

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *