اتنے سے ہی خوش ہیں جنیلیا

بالی ووڈ میں کچھ کامیاب فلمیں کرنے کے بعد بھی جنیلیا ڈسوزا کو گلیمر انڈسٹری میں خاص مقام حاصل نہیں ہو پایا ۔بالی ووڈ میں ان کی موجودگی کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ یہاں ایک فلم کرنے کے بعد انہیں واپس جنوبی فلم انڈسٹری کی یاد آ ہی جاتی ہے۔حال ہی میں ریلیز ہوئی ان کی تمل فلم ’’اورینج‘‘ہے۔ یہ فلم نوجوانوں کے درمیان اتنی مقبول ہو ئی کہ تھیٹر میں آنے سے پہلے ہی اس کے سارے ٹکٹ فروخت ہو چکے تھے۔اس فلم میں جنیلیا کا ساتھ رام چرن تنیجا نے دیا ہے، جو پردۂ سیمیں پر پہلی بار نظر آئے۔ اسی سال آئی ان کی فلم ‘‘ہک یا کروک‘‘ کچھ خاص اثر نہیں دکھا پائی، لیکن اس سے جنیلیا کی امیدیں کچھ کم نہیں ہوئی ہیں۔ انھوں نے اپنی پرانی عادت کے مطابق پھر سے جنوبی فلم انڈسٹری کی جانب رخ کر لیا ہے۔ جنوب کی فلموں سے ان کا پریم جگ ظاہر ہے اور یہ جائز بھی ہے، کیونکہ تیلگو، تمل، ملیالم اور کنڑ فلموںمیں کام کرکے جنیلیا نے خوب شہرت حاصل کی ہے، تب جا کر انہیں ہندی فلموں کے آفر ملنے شروع ہوئے۔ان کی فلم ’’مجھے میری قسم‘‘ کے لئے آفر خود راموجی رائو کی طرف سے آیا تھا، جس سے ان کے لئے ہندی فلم انڈسٹری کے راستے کھلے تھے۔جنیلیا کو خود کو اس انڈسٹری میں نہ چل پانے کا افسوس نہیں ہے، بلکہ انہیں یہ سوچ کر خوشی محسوس ہوتی ہے کہ چار زبانوں کی فلم انڈسٹری میں انہیں بہتر مقام حاصل ہوا۔ انگلینڈ سے تعلق رکھنے والی ہندنژاد اس اداکارہ کے بارے میں شاید ہی لوگوں کو معلوم ہوگا کہ یہ سیاستی سطح کی ایتھلیٹ رہی ہیں اور باسکٹ بال اور والی بال بھی کھیلنا بخوبی جانتی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *