یہ پاکستان کےلئے ماتم کا وقت ہے

میگھناد دیسائی
لاہورایک تاریخی شہرہے۔ یہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کی جائے پیدائش ہے۔ لاہور میں ہی راوی کے ساحل پر جواہر لعل نہرو نے کانگریس کارکنان کو ہندوستان کی آزادی کے لئے حلف دلایا تھا۔ لاہور ہی وہ جگہ تھی، جہاں جناح نے اپنا تاریخی خطبہ دیا تھا، جس میں پہلی بار پاکستانی نام کے ایک ملک کا تصور ابھرا تھا۔ حالانکہ اس خطاب میں پاکستان لفظ کا ذکر نہیں تھا۔ یہ 1940کا وقت تھا۔
اس واقعہ کو 70سال گزر چکے ہیں۔ آج پھر سے وہی لاہور ہے، جہاں پاکستانی نام کے ایک ملک کا وجود خطرے میں ہے۔ برباد ہو جانے کا خطرہ اس کے سر پر منڈلارہا ہے۔اصل میں سلمان تاثیر کا قتل ہم سب کے لئے چیلنج ہے۔ ہندوستانیوں کے لئے یہ وقت پاکستان کی بدحالی پر خوشیاں منانے کا نہیں ہے۔ ایک جدید لبرلر جمہوری پاکستان کو زوال سے بچانے کی ذمہ داری جتنی پاکستانیوں کی ہے، اتنی ہی ہماری بھی ہے۔ 26/11اور دیگر دہشت گردانہ حملوں کے بعد بھی پاکستان کا ایک غیر اسلامی قوم کی شکل میں بچے رہنا ہندوستان کے مفاد میں ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آج پاکستان کیوں مسلسل کمزور ہوتا جا رہا ہے؟ ہمیشہ کی طرح ہی اس تباہی کی جڑیں بھی ماضی اور تاریخ سے وابستہ ہیں۔ تقسیم کو لے کر کانگریس کے نظریہ کو نظر انداز کردیں۔ پاکستان کا تصور ایک مذہبی ریاست کے طور پر نہیں کیا گیاتھا۔ جناح کو کانگریس پر بھروسہ نہیں تھا۔ وہ یہ ماننے کے لئے تیار نہیں تھے کہ کانگریس اقلیتوں کے اختیارات کے خلاف کثیر ہندوئوں کے دبائوجھیل پائے گی۔ اس لئے انھوں نے برٹش انڈیا کے بعد ایک الگ ملک کا مطالبہ کیا۔
جناح نے کبھی بھی ایک اسلامی جمہوریت کے بارے میں نہیں سوچا تھا ۔ وہ ایک جدید مسلم کثیر جمہوری قوم چاہتے تھے،جس میں دیگر اقلیتی فرقوں  کے لئے بھی جگہ ہو۔ پھر بھی ان کے پاس جس چیز کی کمی رہ گئی تھی، وہ تھی عوام کے درمیان مقبول سیاسی جماعت۔ مسلم لیگ اتر پردیش بہار کی پارٹی تھی، نہ کہ سندھ پنجاب کی۔ ایسی حالت میں جمہوریت کا مستحکم ہو پانا ناممکن تھا۔ آزادی کے کچھ ہی وقت بعد پاکستان نے جناح اور لیاقت علی کو کھو دیا۔ اس طرح پاکستان رفتہ رفتہ فوجی حکومت کے زیر اثر ہوتا چلا گیا۔ ہاں، درمیان میں کبھی ایک کمزور جمہوری حکومت ضرور آتی رہی۔ پاکستان کے ساتھ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ کبھی بھی ایک قوم کے طور پر خود کو پہچان نہیں سکا، ایک قوم کی شکل میں اپنی شناخت یقینی نہیں کر سکا۔ ایک ایسی قوم کی کیاد بنیاد ہو سکتی ہے، جہاں کی اقلیت ہی اکثریت ہو؟ اردو کو قومی زبان بنا دیا گیا، جو آگے چل کر بنگلہ دیش کی شکل میں پاکستان کی تقسیم کی وجہ بنی۔ مہاجر لفظ نے یہ باور کرا یا کہ مقامی لوگوں نے ہندوستان سے آئے مسلم پناہ گزینوں کو کبھی بھی پاکستانی شہری تسلیم نہیں کیا۔ ایسی حالت میں پاکستان کی کیا تعریف ہو سکتی ہے؟
شاید پاکستان کے پاس اب ایک جدید جمہوری قوم بننے کا موقع تھا، جب ذو الفقار علی بھٹو وزیراعظم تھے، لیکن ان کے بعد یہ راستہ بھی بند ہو گیا۔ ضیا الحق نے پاکستان کی اسلام پرستی کا راستہ منتخب کیا۔امریکہ اس کے لئے ضیا الحق کو حمایت دینے کو تیار تھا، کیونکہ انہیں افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف پراکسی جنگ کے لئے پاکستان کی ضرورت تھی۔ اس سب کا نتیجہ طالبان اور اسامہ کی شکل میں نکلا۔ 9/11کے بعد امریکہ بیدار ضرور ہوا، لیکن جب تک جن بوتل سے باہر نکل چکا تھا۔ جنرل پرویز مشرف نے کوشش ضرور کی، لیکن وہ شر پسند طاقتوں کو نہیں روک پائے۔ بے نظیر کی پاکستان واپسی کا جو حشر ہوا، اس سے ایک بار پھر ہمیں پاکستان میں آصف علی زرداری کی شکل میں ایک اور کمزور جمہوری حکومت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ہم جانتے ہیں کہ زرداری پاکستان کی اسلام کاری کو روکنے میں نا اہل ہیں اور شاید خواہش مند بھی نہیں ہیں۔سلمان تاثیر کا قتل اور ان کی تدفین کے تئیں پی پی پی کے ذریعہ دکھائی گئی غیرمعمولی دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے۔
پھر بھی پاکستان میں کچھ ایسی طاقتیں ہیں، جو ایک اصلاح پسندجدید جمہوریت چاہتی ہیں اور اس کے لئے کچھ کر گزرنے کی خواہش بھی رکھتی ہیں۔ دو سال پہلے مشرف کے خلاف اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی حمایت میں ہوئے مظاہرہ اس بات کی گواہی دیتے ہیںکہ جمہوریت کو لے کر پاکستان کی چاہت کو کبھی ہندوستان کی جانب سے مثبت حمایت نہیں ملی۔ یہ شرمناک ہے۔جب اس ملک میں پوری طرح سے شر پسند طاقتوں کا قبضہ ہو جائے گا، تب ہمیں جمہوریت کی چاہ رکھنے والے ایک ملک کی شکل میں پاکستان کی کمی کھلے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *